اولیائے کرام کا اندازِ تربیت

فرحان منہاج

پران کے کنارے حضرت بہاؤالدین زکریا ؒنے قیام اور ریاضت،  مجاہدہ اور امت کی رہنمائی اور تربیت کا سامان کرنے کی بہت جدوجہد کی. 

آپ کے حوالے سے ایک کہاوت مشہور ہے کہ ایک دن آپ مجلس میں بیٹھے تھے تو آپ کے ساتھ آپ کے مرید جن میں علماء،  خلفاء،  فقراء شامل تھے بیٹھے تھے.  جب کھانے کا وقت ہوا تو آپ  سب مریدین سے مخاطب ہوئے اور انہیں کھانے کی دعوت دی.  مرید بہت خوش ہوئے کہ آج وہ اپنے پیر ومرشد کی صحبت میں کھانا کھائیں گے جو کہ یقیناً ان کے لیے باعث خیر و برکت ہوگا.  جب سب نے آپ کی دعوت قبول کی تو آپ نے کہا کہ میری کھانے کی دعوت کے ساتھ ایک شرط ہے سب نے ادب سے عرض کیا جی پیرو مرشد فرمائیے. 

آپ نے کہا کہ جس ہاتھ سے آپ کھانا کھاتے ہو اس ہاتھ پر لکڑی کا ٹکڑا بازو تک باندھنا ہوگا. مریدوں نے پیر و مرشد کی بات پر لبیک کہا اور   شرط کے مطابق  وہ ٹکڑا اپنے بازوں میں باندھ لیا جب انہوں نے ایسا کرلیا تو اب ان کا ہاتھ ان کے منہ تک نہ جائے جس سے وہ  کھانے کا لقمہ اپنے منہ تک لیجاسکیں اور کھانا کھا سکیں. 

مجلس میں موجود فقراء نے اسکا حل یہ نکالا کہ وہ آمنے سامنے بیٹھ گئے اور ایک شخص لقمہ اٹھائے اور سامنے والے کے منہ میں ڈال دے اور دوسرا شخص لقمہ اٹھائے اس کے منہ میں ڈالے اس طرح مریدوں نے ایک دوسرے کو کھانا کھلا کر اپنا اپنا پیٹ بھرا.

اس سارے عمل کا درس حضرت بہاؤ الدین ذکریا یہ دینا چاہتے تھے کہ اپنے منہ میں لقمہ تو سب ڈالتے ہیں مگر دوسرے کے منہ میں اپنا لقمہ ڈالنا بڑا کام ہے خود بھوکا رہ کر دوسرے کو سیر کرنا بہت بڑی نیکی ہے.  یہ آپس میں محبت رواداری اور بھائی چارے کا درس ولیوں کی صحبت اور کردار کا خاصا تھا جو آج ہم میں ناپید ہوگیا ہے. 

آج بھی حضرت بہاؤالدین زکریا رح کے مرید اس عمل کو ”روٹ“  کہتے ہیں اور اس سنت کو دہراتے ہیں.  روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اس میں شکر،  گڑ، چینی یا کوئی سالن  ملاکر بڑھے سے تھال میں ڈال کر ایک دوسرے کے منہ میں لقمہ ڈال کر اس واقعے کی یاد تازہ کرتے اور آپس میں محبت رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں

#ضرب_تحریر


افکار و نظریات: اولیائے کرام کا اندازِ تربیت