ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹلی اور مجبور مریض

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

لوگ واویلا کر رہے ہیں، ایم ایس  کو اونچا سنائی دیتا ہے، ڈاکٹر لوگ تو مرضی کے بادشاہ  ہیں، مجھے اب تک سینکڑوں ای میل  موصول ہوچکی ہیں، ہر ای میل میں ایک ہی نوحہ ہوتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹلی کا بجٹ کہاں جا رہا ہے، مریضوں کو دوائیوں کے بجائے پرچیاں تھمائی جاتی ہیں  اور کہا جاتا ہے کہ باہر سے جاکر  جہاں سے مرضی دوائیاں خریدو، ہسپتال میں مریضوں کی پرچیوں پر کوئی نمبر نہیں ہوتا جس کا مقصد سفارشی لوگوں کو اولیت دینا  ہوتاہے، ہسپتال کے وارڈوں سے ٹوائلٹس کی بدبو  اور سڑاند دور دور تک پھیلی ہوئی ہے، پانی کا نام و نشان تک نہیں، لوگ ڈاکٹروں کی انتظار میں  تین تین گھنٹے لائنوں میں لگے رہتے ہیں اور ڈاکٹر بادشاہ یاتو ڈیوٹی پر ہوتے ہی نہیں ، یا خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور یا پھر  تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹروں کی چائے کا وقفہ چلتا رہتا ہے۔

دن ہو یا رات یہاں جیسے وقت رُک سا گیا ہے ، کسی کو گولی لگے، ایکسیڈنٹ ہو، ہارٹ اٹیک ہو، کسی بھی قسم کی ایمر جنسی ہو کسی کی کہیں بھی کوئی  شنوائی نہیں ہوتی۔

راقم الحروف نے بہت زیادہ ای میل موصول ہونے کے بعد ضلع کوٹلی آزاد کشمیرکے مقامی لوگوں اور اپنے سورس کے ذریعے مکمل تسلی کی ہے کہ ہسپتال کی صورتحال اس قدر دگرگوں ہے کہ اب تو اصلاح کی امید بھی ناممکن نظر آتی ہے، چونکہ  معززین علاقہ ،سوشل میڈیا پر ایکٹو افراد اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بار بار کے احتجاج سے مایوس ہوکر وزیر اعظم پاکستان اور انسانی حقوق کی تنطیموں سے  بھی متعدد بار اس مسئلے پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے لیکن کوئی بھی اس مسئلے پر توجہ نہیں دے رہا۔

یاد رہے کہ یہ ضلع  بھر کا مرکزی ہسپتال ہے اور ضلع بھر سے مریض یہاں آ کر کراہتے اور ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں  لیکن  ہسپتال کا عملہ کا نہ صرف یہ کہ مریضوں کے ساتھ منفی برتاو کرتا  ہے بلکہ میڈیا کے افراد کو بھی رپورٹنگ کرنے سے دھمکایا جاتا ہے ، اس وقت ہسپتال کی تازہ ترین صورتحال کو جاننے کے لئے آپ اس میڈیا رپورٹ کا خود سے مشاہدہ کریں:

https://youtu.be/GTmxfGBtvEs

 

ہسپتال کے عملے کی غفلت اور بدتمیزی پر حکومت کے اس سکوت اور جمود کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ  عوام کو مایوس ہونے کے بجائے  پورے ملک میں اور خصوصاً آزاد کشمیر کے لوگوں کو پر امن احتجاجات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے، عوامِ علاقہ کو دنیا بھر میں موجود کشمیری کمیونٹی سے رابطے کرنے چاہیے اور  ہر ملک میں پاکستانی ایمبیسیوں کے سامنے احتجاج کرنا چاہیے  خصوصاًپاکستان سے باہر بھی انسانی حقوق کے اداروں کے ہاں اپنے  اس احتجاج کو ریکارڈ کروانا چاہیے۔

 ہمیں اپنی جدوجہد اس عزم کے ساتھ آگے بڑھانی چاہیے کہ ظلم کی رات طویل تو  ہوسکتی ہے لیکن سویرا ضرور ہوتا ہے۔ عوام کے دکھوں کو محسوس کرنا اور ان کی مشکلات  کے  ازالے کےلئے کوشش کرنا یہ ہر باشعور انسان کی زمہ داری ہے۔


افکار و نظریات: ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹلی اور مجبور مریض