سانحہ آزادکشمیر ، ایف آئی آر کس کے نام ہو!

کشمیر جنت نظیر ہے ، اس جنت نظیر کو اس کی تنگ سڑکوں  اور پرانے پُلوں نے جہنم  بنا دیا ہے۔ آئے روز ٹریفک کے حادثات اور پُلوں کے گرنے کی وجہ سے معصوم شہری لقمہ اجل بنتے رہتے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

بے حس حکمرانوں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ کشمیر میں سیاح دور دراز کے علاقوں سے تشریف لاتے ہیں اور عموماً وہ تنگ سڑکوں کے پیچ و خم اور پرانے پُلوں کی خستہ حالت سے ناآگاہ ہوتے ہیں چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ سڑکوں کی کشادگی اور پُلوں کی مرمت  کے ساتھ ساتھ  جگہ جگہ سیاحوں کی رہنمائی کے بورڈ بھی آویزاں کئے جائیں۔

آج  بھی وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل کے ٹوٹنے کی وجہ سے کچھ افراد دریا میں ڈوب گئے ہیں جوکہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو چاہیے کہ وہ ان حادثات پر خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلیں اور قاتل حکمرانوں کے خلاف مقتولین کی ایف آئی آر درج کروائیں۔اس سانحے کو سانحہ آزادکشمیر کے نام سے یاد رکھا جانا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق  مظفر آباد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے پچیس افراد  نالہ جاگراں میں گرگئے۔اتنی بڑی تعداد کا پل پر جمع ہونا ہی پل ٹوٹنے کا باعث بنا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ  عوام کو خبردار کرنے کے لئے مذکورہ پل پر کسی شخص کو تعینات کیا جاتا یا پُل کو مضبوط کیا جاتا۔

اسی طرح پورے آزاد کشمیر سے آئے روز تنگ سڑکوں کے باعث حادثات کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں۔ یہ آزادکشمیر کے باسیوں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو خواب غفلت سے بیدار کریں اور مقتولین کی ایف آئی آر غافل حکمرانوں کے نام درج کروائیں۔

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com


افکار و نظریات: سانحہ آزادکشمیر, ایف آئی آر کس کے نام ہو