شیطانی مثلث

محبوب اسلم

آپ نے امریکی صدر ٹرمپ کا ایرانی نیوکلیئر معاھدے کو یکطرفہ طور پر کالعدم کرنے کافیصلہ تو سناھوگا لیکن یہ تو اس بھیانک پلان کی پہلی کڑی ھے جو امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ملکر کھیل رھے ھیں۔ بہت جلد امریکہ اب کوئی بھی بہانہ بنا کر ایران پر چڑھ دوڑیگا۔اور امریکہ بہادر یہ گھناٶنا کام کوئی پہلی بار نہیں کر رھا۔

1960 کے ابتدائی دنوں میں امریکی ٹاپ ملٹری کمانڈ نے آپریشن نارتھ وڈز کے نام سے کیوبا جیسےچھوٹے ملک پر قابو پانے کیلئے ایک سازش تیار کی جسکا مقصد امریکہ کو کیوبا پر حملے کا جواز فراھم کرنا تھا۔ اس سازش کے تحت امریکہ میں دھشت گردی کے واقعات کرواۓ جاتے اور انکا ملبہ کیوبا پر ڈالا جاتا۔ لیکن اسوقت کے امریکی صدر جان کینیڈی نے پچھلے سال  ھی کیوبا کے علاقے ”بے آف پگ“ میں ایک اور امریکی سازش کی ناکامی کی بدولت آپریشن نارتھ وڈز کی اجازت نہ دی۔ یاد رھے کہ امریکہ نے اپنے یہاں موجود کیوبن نژاد شہریوں کو ملٹری ٹرینگ دیکر کیوبا کے علاقے بے آف پگ پر بد نام زمانہ چھاپہ مار کاروائی کی تھی جسے کیوبا کے عوامی لیڈر فیڈل کاسترو نے  بذات خود میدان جنگ میں حصہ لیتے ھوۓ ناکام بنایا دیا تھا۔

اسی طرح امریکہ کے پڑوس، یعنی لاطینی امریکہ میں شاذ ھی کوئی ملک بچاھو جہاں امریکی سامراج نے اپنی جارحیت سے وھاں کے عوام کا قتل عام نہ کیا ھو اور اپنے کٹھ پتلی حکمران نہ بیٹھاۓ ھو۔ مثال کے طور پر 1973 میں چلی میں جمہوری صدر سلواڈور ایندے کو ھٹانے کیلئے امریکہ نے جنرل آگسٹو پینیشے کی کھل کر حمایت کی جس نے صدر سلواڈور ایندے کو قتل کردیا اور اگلے سترہ سال تک چلی میں ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کیں۔   

دوسری طرف نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے سے پہلے امریکہ کے دائیں بازو کے شدت پسند سیاسی لیڈروں اور ملٹری قیادت پر مشتمل ایک تھنک ٹینک پراجیکٹ فار نیوامریکن سنچیری کا ایک پالیسی پیپر سامنے آیا جس نے امریکہ کو دنیا کی اکیلی سپر طاقت بنانے کا خیال پیش کیا۔ اور خاص طور پر مشرق وسطی کے حوالے سے پلان پیش کیاکہ کسطرح وھاں حملہ کر کے ایک ایسے نئے جغرافیے کی بنیادرکھی جاۓ جواسرائیل اور امریکہ کے طابع ھو۔ یہ امریکی تھنک ٹینک مزید لکھتا ھے کہ مشرق وسطی پر امریکی حملے کا جواز امریکہ میں کسی دھشت گردی کی ازخود کاروائی کر کے بڑے آرام سے حاصل کی جاسکتی ھے۔ اور یوں کچھ سالوں بعد امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ھوتاھے اور دو بلندوبالا عمارتیں جو کہ طاقتور سٹیل کے ڈھانچے پر مشتمل تھیں تمام تر سائنسی اصولوں کے برخلاف عمودی طور پر زمین بوس ھوجاتیں ھیں۔ آج متعدد امریکی سائنسدان اور تفتیشی رپوٹرز ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارتوں کی تباھی کسی ھوائی جہاز کے ٹکرانے کی بدولت نہیں بلکہ ایک کنٹرولڈ ڈیمولیشن کا نتیجہ گردانتےھیں۔ یوں بین اسی شرمناک پالیسی پیپر  کے تحت مشرق وسطی میں امریکی جارحیت کی بنیاد فراھم کی گئی۔ مزید براں 1953 میں  ایران میں محمد مصدق کی جمہوری حکومت کو بھی امریکہ اور برطانیہ نے اسی طرح کرایے کے احتجاجی مظاھروں سے گرایا۔الغرض امریکہ یہ گھناٶنا کھیل بہت سالوں سے کھیلتا آرھا ھے۔

یوں یہ کوئی انہونی بات نہیں ھے کہ اب امریکہ اور اسکے اتحادی خاص طور پر اسرائیل اور سعودی عرب ملکر ایران کی حکومت کو گرانے پر تلے بیٹھے ھیں اور ایٹمی معاھدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا اس سلسلے کی پہلی کڑی ھے۔ دوسری کڑی میں اسرائیل یا پھر شام میں کوئی کاروائی کر کے اسکا ملبہ ایران پر ڈالا جائیگا اور ایران پر حملہ کیا جائیگا۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ یہ سارے یورپی ممالک جو نام نہاد جمہوریت کے دعویدار ھیں اس گھناٶنے پلان کا کتنا ساتھ دیتے ھیں۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے خیر کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ھو گا۔ 

اس سلسلے میں عالمی طاقت کا توازن قائم رکھنے کیلئے روس، چین، ترکی اور پاکستان کچھ مٶثر کردار ادا کر سکتے ھیں۔ لیکن کیا یہ ممالک اور خاص طور پر روس اور چین ایک خاص حد سے آگے بڑھ پائینگے؟ یہی معاملہ ترکی کیساتھ ھے اور اسے فی الحال کردوں کی علحیدگی پسند تحریک میں الجھایا جا رھا ھے۔

ان تمام معاملات میں سعودی عرب کا کردار بہت ھی مایوس کن ھے۔ سعودی عرب کا ولیعہد محمد بن سلمان پورے طور پر امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کرتے ھوۓ علاقے میں ان کے ھاتھ کھلونا بناھوا ھے۔ 

پاکستان کا بھی کم و بیش یہی حال ھے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے افغانستان، انڈیا اور اسرائیل کے گماشتے میدان میں اتر چکے ھیں اور پاکستان کو اندرونی خلفشار میں الجھایا جا رھا ھے۔ بلوچستان میں بھی غیر ملکی طاقتیں اسی ایجنڈے پر کام کر رھی ھیں۔ پاکستان کی پیشہ ور آرمی کے خلاف پراپگنڈے کو بتدریج ھوا دی جارھی ھے۔ اگلے کچھ دنوں میں خطے میں بہت زیادہ تباھی اور بربادی کا سامان نظر آ رھا ھے۔

 پاکستان کی قیادت اور بالخصوص پاکستان آرمی کو خطے میں بہت زیادہ احتیاط اور ھوشیاری سے معاملات کو دیکھنا ھوگا۔ روس، چین اور ترکی کیساتھ قریبی اور دور رس تعلقات پر سنجیدگی سے ڈائیلاگ کا آغاز کرنا ھوگا۔ ملک کی سیاست میں کسی مس ایڈونچر سے پرھیز کرنا ھوگا۔ بلوچستان اور پشتون تحفظ موومنٹ جیسی پاکستان مخالف تحریکوں پر کڑی نظر رکھنا ھوگی اور عوام کو ان کی اصل حقیقت سے آگاہ کرنا ھوگا۔ شیعہ سنی اتحاد پر پہلے سے زیادہ توجہ کی ضروت ھے اور خاص طور پر ھزارہ شیعہ برادری کوتحفظ فراھم کرنے کی اشد ضرورت ھے۔ خاص طور پر فاٹا اور بلوچستان میں حکومت کی رٹ بڑھانے پر فوری توجہ دیناھوگی اور وھاں کی عوام کے جائز مطالبات کو فوری حل کرنا ھوگا۔ لاپتہ افراد کے بارے میں واضح پالیسی ترتیب دیناھوگی۔ جن افراد کیخلاف جرم ثابت ھوجاۓ ان کو سپیشل عدالتوں میں لائیں اور قرار واقع سزا دیں۔ اس سلسلے میں نئی قانون سازی کریں۔ امریکہ میں آج دھشتگردی کو بنیاد بنا کر ملزم کو اپنے خلاف موجود ثبوتوں تک کو دیکھنےکی اجازت نہ دینے والا کالا قانون نافذ ھے۔ ملک میں بڑھتی دھشت گردی ھماری بھی بقا کا مسئلہ ھے اور اس کے خلاف لاپتہ افراد کے مسئلے پر قانون سازی کر نے کی اشد ضرورت ھے۔ اور سب سے بڑھکر ھمیں اپنے ایٹمی اثاثوں کی نہ صرف حفاظت کرنا ھوگی بلکہ انھیں اور زیادہ مٶثر بھی بنانا ھوگا کیونکہ آج کی دنیا میں جرم ضیعفی کی سزا صرف موت ھے!!!


محبوب اسلم

 

 


افکار و نظریات: شیطانی مثلث