پانی کی کہانی 

محمد اسلم خان

پنج دریاوں کی دھرتی پینے کے صاف پانی کو ترسے اور صرف 7 برس بعد 2025 میں ہم پنجابی بوند بوند کے لئے تشنہ لب مارے مارے پھریں گے۔ہمارے مصائب اور دکھ درد بیچ کر لوٹ مار جو رقص وحشت بپا کیا گیا تھا اس کی چند جھلکیاں اچھے خاصوں کو حواس باختہ کر دیتی ہیں پنجاب کے لئے دیہاتیوں کے پینے کا پانی تو صاف نہ ہوا البتہ قومی خزانہ دل بھر کر صاف کردیاگیا۔ پنجاب حکومت نے مارچ 2014ءمیں صاف پانی کمپنی قائم کی۔ مجوزہ بجٹ 70 ارب روپے تھا جو بتدریج 190ارب روپے تک جاپہنچا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پنجاب کے دیہی علاقوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا تھا۔

 اقوام متحدہ کے سروے سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ پنجاب کی 80 فیصد آبادی جو پانی پی رہی ہے، اس میں سنکھیا پایا جاتا ہے جو پینے کے لائق نہیں۔ حکام نے زیرزمین پانی کی جانچ پرکھ کے لئے سروے کرانے پر دو ارب روپے لگا دئیے۔ یہ خطیر رقم جرمنی کی فشنر (Fitchner) اورجاپان کی ٹیکنو کے نام پر دو غیرملکی کمپنیوں کو ادا ہوئی حالانکہ سروے کا یہی کام (PCWR) اور (PCSIR) جیسے ملکی ادارے سے کہیں کم سرمائے پر ہو سکتا تھا‘ لیکن مقصد زیادہ سے زیادہ سرمایہ خرچ کرنا ٹھہراتھا۔

 ایک ثبوت اولین(CEO) کے طالب علم بیٹے کی پراجیکٹ منیجر کے طورپر تقرری بھی ہے۔ صاحبزادہ لمز میں زیرتعلیم تھا لیکن پراجیکٹ منیجر کے طورپر اڑھائی لاکھ روپے ماہوار کا مستحق بھی قرار پایا۔ عنایات کا عالم یہ تھا کہ جرمن کمپنی کے سی ای او کو کنسلٹنسی کے علاوہ تیس لاکھ روپے ماہانہ اعزازیہ کا بھی مستحق قرار دیاگیا۔ دفاتر الگ سے عطا ہوئے۔ ان کمپنیوں میں چپڑاسی سے لے کر اعلی ترین عہدوں تک تقرریاں بس اسی طرح ہوئیں۔

پنجاب کے 12اضلاع میں اس کا آزمائشی منصوبہ مرتب کیاگیا اور اپنی محرومیوں سے سسکتے بہاولپور کو ایک بار پھر چناگیا جہاں 84پلانٹ لگانے کا فیصلہ ہوا۔ پسماندگی میں سب سے نیچے قرار پانے والے بہاولپور کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نام پر ڈرامہ کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ ایک فلٹریشن پلانٹ غریب قوم کو ایک کروڑ27لاکھ روپے میں پڑا۔ ’نادرپلانٹ‘ کی اس قیمت میں 60لاکھ روپے کا سولر پینل بھی شامل تھا یعنی سورج سے بجلی پیدا کرکے یہ پلانٹ چلائے جانے تھے۔ اس کہانی کا اندازہ صرف اس امر سے بخوبی ہوسکتا ہے کہ دانیال نے اپنے حلقے میں ٹیوب ویلوں کی تنصیب کے لئے جو سولر پینل حاصل کئے، ان کی قیمت پانچ لاکھ روپے تھی۔

اسی طرح پانی کو صاف کرنے کے لئے جو طریقہ کار اپنایا گیا یعنی ریورس آسموسس اور ہائیپر فلٹریشن ٹیکنالوجی سے کیا گیا، اس کی عام مارکیٹ میں قیمت پانچ سے دس لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پندرہ لاکھ مالیت کا پلانٹ غریب قوم کو ایک کروڑ میں فروخت ہوا۔ خریداری کے لئے حکومتی ضابطہ جسے پیپرا رولز کہتے ہیں، کو کھوہ کھاتے ڈالا گیا کیونکہ اس عمل کو اختیار کرنے میں نو ماہ تک کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن یہاں جنگی بنیادوں پر یہ کام انجام دیاگیا۔

اس منصوبہ کو چلانے میں ناکامی اور اس کے دیگر نقائص سامنے آنے پر پھر ایک اور پینترا بدلا گیا اور اسے B.O.T کی شکل دے دی گئی۔ یہاں سے ایک اورداستان شروع ہوتی ہے۔ چن چن کر ایسے نابغے جمع کئے گئے جن کا کام صرف قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر نوش فرمانا رہا۔ فنی اور تکنیکی پہلوﺅں کے کسی ماہر کو اس قابل نہ سمجھا گیا کہ اس کی خدمات لے لی جاتیں۔

ڈوبتے منصوبے مشہور زمانہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ جو اب پاکستان ایڈمنسٹریٹر گروپ کہلاتا ہے کے افسر وسیم اجمل کے حوالے کردیاگیا۔

موصوف نے 12جنوری 2017ءکو دو روزہ بین الاقوامی سیمینار لاہور کے پانچ ستارہ ہوٹل میں کرایا جس پر تین کروڑ روپے خرچ کئے گئے لیکن اس منصوبہ کے لئے غیرملکی سرمایہ کے حصول کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوا۔

ڈی سی او ناروال کے طورپر چوراسی کروڑ کے مبینہ گھپلے میں ملوث سید نجف اقبال کی زوجہ محترمہ شبنم نجف کو لاہور ڈیپوٹیشن پر لاکر اس اہم منصوبے کا چیف آف پروکیورمنٹ مقررکردیاگیا۔ کرنل طاہر مقبول عرف کرنل بلّا کو جی ایم پراجیکٹ اینڈسروسز تعینات کیاگیا۔ منصوبہ سے منسلک افسران پر کس طرح غریبوں کا پیسہ ل±ٹایاگیا اس کی مثال اس امر سے لگائیے کہ سابق بیوروکریٹ اے زیڈ کے شیردل کے فرزند ارجمند خالد نے دوصفحات کا جادوئی پالیسی پیپر تحریر کرنے پر اپنے کسی وفادار کو ساٹھ لاکھ روپے عطا کئے۔ موصوف نے آٹھ لگژری گاڑیاں خریدنے پر سرمایہ ا±ڑایا اور جاتے ہوئے ایک لگژری گاڑی گھر لے گئے جو ابھی حال ہی میں موصوف سے واپس لی گئی۔

بیل پھر بھی منڈھے نہ چڑھی تو نئی ترکیب سوجھی کہ کمپنی کو نارتھ اور ساﺅتھ دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ کمائی کے اس نئے ذریعے کے تحت نبیل جاوید کو ساﺅتھ اور کیپٹن عثمان کو نارتھ کا سی ای او بنادیاگیا۔ یاد رہے کہ ان میں سے کسی کا بھی اس شعبے میں کوئی فنی یا تکنیکی تجربہ یا مہارت نہ تھی لیکن لاکھوں روپے ان کی جیب میں چلے گئے۔

پھر کیپٹن عثمان کا دور شروع ہوتا ہے۔ نئے تجربے کے تحت کیپٹن صاحب کو صاف پانی کمپنی کا سی ای او نارتھ لگانے کے ساتھ ساﺅتھ کا بھی اضافی چارج دے دیاگیا۔ نارتھ کے سی ای او کے طورپر پندرہ لاکھ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ساﺅتھ کمپنی کے اضافی چارج پر چالیس فیصد مزید ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کل پچیس لاکھ میں یہ افسرماہانہ بنیادوں پر قوم کی خدمت کے لئے میسر آیا۔

پنجاب کے 25 ہزار دیہات کے لئے یہ منصوبہ تھا۔ لوٹ مار کے اس منصوبے میں گھپلوں پر بائیس افراد کے خلاف پرچہ ہوچکا ہے اور پانچ گرفتار ہوچکے ہیں۔ انسداد رشوت ستانی یعنی اینٹی کرپشن محکمہ نے جو کام شروع کیاتھا، اب قومی احتساب بیورو(نیب) آگے بڑھارہا ہے۔ یہ ایک کمپنی کا پوسٹ مارٹم ہے۔

 پنجاب میں ایسی 56کمپنیاں ہیں۔ اندازہ آپ خود ہی لگالیں۔ ’روک سکو تو روک لو‘۔

فراست اقبال مرحوم ایک نیک نام افسر بتائے جاتے تھے جنہوں نے بہاولپور میں اسّی سے زائد فلٹریشن پلانٹ لگانے میں اصل کردار اداکیاتھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے بعد یہ منصوبے محض کمائی اور قومی دولت سے رشتہ داروں، چہیتوں کو نوازنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا۔ کیپٹن (ر) عثمان اب عدالت عظمی میں خود اعتراف کررہے ہیں کہ صاف پانی کمپنی کے امور صاف نہیں رہے۔ سابق چیف سیکریٹری پنجاب کیپٹن زاہد سعید بھی تصدیقی مہر لگارہے ہیں کہ چار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود شہریوں کوایک قطرہ صاف پانی نہ مل سکا۔ وسیم اجمل سرکاری مال پر دوست پروری کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ کیمپس والی نہر کے کنارے گارڈن ٹاﺅن کی جدید بستی کے احمد بلاک میں دفتر کرائے پر لیا گیا جس کا 5 سال کا کرایہ یک مشت پیشگی ادا کردیا گیا۔ اندھا ریوڑیاں بانٹ رہا تھا اور زمانہ تماشا دیکھ رہا تھا۔یہ چیف جسٹس پاکستان ہیں جنہوں نے ’شرافت‘ کے نام پر جاری بدعنوانی کے عریاں رقص کو بند کرایا ورنہ کسے پتہ چلتا کہ کیپٹن (ر) عثمان کے بعد کرتادھر طاہر مجید آٹھ لاکھ ماہانہ بھی لے رہاتھا اور پرائیویٹ کمپنی بھی چلارہاتھا۔ کمپنی کا چیف ٹیکنیکل افسر اپنی پرائیویٹ کمپنی واٹر 2000بھی ساتھ ساتھ جاری رکھے ہوئے تھا۔کسے پتہ چلتا کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبائی وزیر کے بھائی عاصم قادری کی اہلیہ عظمیٰ قادری بھی بورڈ کی رکن بنادی گئیں۔ اسی صوبائی وزیر کا نام غیرملکی ماہرین کی کمپنی کے لئے خدمات کے حصول میں بھی آرہا ہے۔چیئرمین صاف پانی کمپنی انجینئر راجہ قمرالاسلام اور CEO وسیم اجمل اب نیب کی حراست میں ہیں۔ 84 غیرقانونی واٹرفلٹریشن پلانٹس زیادہ نرخوں پر من پسند افراد میں بانٹنے کے الزام کا انہیں سامنا ہے۔ ان میں 56 ریورس آسموسیس اور28 الٹرافلٹریشن پلانٹ تھے جو حاصل پور، منچن آباد، لودھراں اور خان پور سمیت چار تحصیلوں میں نصب ہونے تھے۔ سابق ترجمان پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر زعیم قادری کو بھی نیب نے پوچھ پڑتال کے لئے طلب کرلیا ہے۔ ان کے بگڑنے کی وجہ بھی اب سمجھ آرہی ہے کہ اصل میں چکر کیا ہے۔گاجریں کھانے والوں کے پیٹ میں اب درداٹھ رہا ہے۔

آخر میں نیب کا شب گذشتہ جاری ہونے والا پریس ریلیز ملاحظہ فرمائیں جس میں دریا کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔نیب نے سابق چیئرمین صاف پانی کمپنی ملزم انجینئر راجہ قمر الاسلام اور سابق سی ای او صاف پانی وسیم اجمل کو گرفتار کر لیا۔ ملزم انجینئر قمر الاسلام راجہ پر 84واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر مہنگے داموں دینے کا الزام ہے ۔واٹر پلانٹس میں 56ریورس اساماسز پلانٹس تھے جبکہ 28الٹرا فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں۔واٹر پلانٹس چار تحصیلوں میں لگائے جانے تھے، جن میں حاصل پور، منچن آباد، خان پور اور لودھراں شامل ہیں۔ملزم انجینئر قمرالسلام راجہ نے بڈنگ کے کاغذات میں مالی تخمینہ بڑھا کر ظاہر کیا،ملزم کی جانب سے کے ایس بی پمپس نامی کمپنی کو مہنگے داموں ٹھیکہ دیا گیا ۔