شناخت امام حسینؑ کی اہمیت

محبوب اسلم

امریکہ میں رھتے ھوۓ میرا واسطہ بیسیوں دفعہ چے گوئیرا کے پوسٹر سے پڑا اور متعدد بار میں نے استحصالی حکومتی نظام کیخلاف جدو جہد کرنے والے شہریوں کو چے گوئیرا کی تصویر والی شرٹ زیب تن کرتے حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے دیکھا۔

چے گوئیرا سرمایہ داری نظام کے استحصال کیخلاف لاطینی امریکہ میں ایک گوریلا لیڈر کے طور پر جانا جاتا ھے۔ وہ ساٹھ کی دھائی میں کیوبا میں ھونے والےعوامی انقلاب کا حصہ رھا اور کیوبا میں کامیابی کے بعد وہ بولیویا کیطرف روانہ ھوا اور آخر کار 1967 میں وہ سرمایہ داری نظام کیخلاف لڑتے لڑتے امریکی سی آئی کے ھاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیکن آج بھی جہاں جہاں سرمایہ داری نظام کیخلاف آواز اٹھتی ھے کوئی دل جلا چے گوئیرا کی تصویر یا بینر اٹھاۓ ضرور نظر آتا ھے۔

اب اگر چے گوئیرا ریاستی ظلم اور استحصال کیخلاف مزاحمت کا ایک استعارہ بن سکتا ھے تو پھر ھمارے اپنے جلیل القدر امام حسین کی عظیم قربانی کو کیوں اجاگر نہیں کیا جاتا؟ یہ شیعہ سنی کی تفریق اس عظیم انسان کی قربانی کوکم نہیں کرسکتی کہ انکی لازوال قربانی کسی ایک فرقے کیلئے نہیں تھی بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے تھی اور اس سے بھی بڑھکر انکی قربانی پورے عالم انسان کیلئے تھی کہ کیسے ایک ظالمانہ نظام کے سامنے ثابت قدمی سے سینہ سپر ھوا جاتا ھے اور حق کیلٰئے جان کا نذرانہ بھی دینا پڑتا ھے۔

انکی شہادت اس بات پر گواہ ھے کہ ظالم جیت کر بھی ھار جاتا ھے اور بے شک باطل حق کی مقابلے میں نرا بودا ثابت ھوتا ھے اگرچہ کہ وقتی طور پر باطل بہت ھی طاقتور دکھائی دیتا ھے۔ لیکن حق کے چاھنے والوں کیلئے امام حسین نے یہ لازوال پیغام چھوڑا ھے کے حق کی آبیاری اپنے خون سے کرنا پڑتی ھے اور زبانی جمع خرچ سے باطل پیچھے ھٹنے والا نہیں ھے۔

کون نہیں جانتا کہ جو سیاسی کشیدگی حضرت عثمان رضی اللہ کے دور میں عبداللہ بن صباح جیسے سابق یہودی، منافق اور فتنہ انگیز شخص نے بنو امیہ اور بنو قریش کے حق حکومت کے حوالے سے پیدا کی وہ دونوں جلیل القدر خلفاۓ راشدین حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھما کی شھادت پر منتنج ھوئی۔ اور یوں تاریخ اسلام میں طرز حکومت میں طاقت کا پہلو روشناس ھوا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے طاقت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کیا۔

اسوقت بھی یہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا بڑا پن تھا کہ انھوں نے مسلم امہ کے بیچ مزید خونریزی سے بچنے کیلئے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے معاھدہ کیا۔ لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ یہاں اس بات پر بھی زوردیتا چلوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آل وسلم کے اصحاب کی تعظیم ھمیں ملحوظ رکھنی چاھئے لیکن انکے غلط عمل کی نشاندھی اور اس پر تنقید ایک جائز عمل ھے۔ یوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا طرز عمل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں زیادہ احسن تھا۔ لیکن اسلام میں حکومت کو باھمی مشاورت سے نکال کر طاقتور کے زیر اثر لانے کی قبیح بنیاد رکھ دی گئی۔

اس قبیح روایت کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسوقت مزید گہرا کردیا جب انھوں نے اپنے بیس سال کے دور حکومت کے وسط میں ھی اپنے بیٹے یزید کیلئے ولیعہدی کی بیعت لے لی۔ اسوقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ھوچکی تھی لیکن اگر وہ زندہ ھوتے تو وھی کرتے جو فرزندان حضرت عمر اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنھما نے کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر اور امام حسین رضی اللہ عنھما نے اس بیعت سے صاف انکار کر دیا۔

لیکن قریباً دس سال بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید کی خلافت کا سوال اٹھا تو حضرت عبدالرحمن اسوقت تک انتقال کر چکے تھے۔ لیکن باقی رہ جانے والوں میں سے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرح امت مسلمہ میں خونریزی کے پیش نظر اس بیعت کو بادل نخواستہ قبول کر لیا۔

لیکن یہاں وہ موقعہ آتا ھے جہاں حضرت حسین علیہ اسلام اپنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے نسبت کے ھاتھوں مجبور ھو جاتے ھیں۔ اب یہاں مسئلہ صرف اسلام میں بادشاھت کو طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرنے کا نہیں ھے بلکہ بادشاھت کو مورثیت کی شکل دینےکا ھے۔ یزید کی اخلاقی پستی بھی ملحوظ خیال آتی ھے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کی اساس خطرے میں ھے اور استحصالی قوتیں طاقت کے بل بوتے پر عوام کو جھکنے پر مجبور کر رھیں ھیں۔دین اسلام کے احیاؑ کا سوال ھے اور یوں امام حیسن علیہ اسلام حضرت اسمعیل کی سنت پر عمل کرتے ھوۓ اس عظیم قربانی کیلئےسر تسلیم خم کرتے ھیں۔

اسلام زندہ ھوتا ھے ھر کربلا کے بعد۔۔۔

امام حسین علیہ اسلام کی قربانی اسلام میں ایک نئی روح پھونک گئی۔ یزیدی قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب رھیں لیکن آنے والے دنوں میں انھیں ھزاروں ایسے مسلمانوں کا سامنا کرنا پڑا جو اپنے اندر یہی حسینی جذبہ رکھتے تھے اور اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ ظلم اور استحصال کے نظام کےسامنے کسطرح جوانمردی سے کھڑا ھوا جاتا ھے اور کیسے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے جاتےھیں۔

آج نہ صرف امت مسلمہ بلکہ تمام انسانیت انھیں یزیدی طاقتوں کے پیروکاروں کے ظلم وستم کا سامنا کر رھی ھے۔۔۔آج پھر طاقت کے بل بوتے پر کمزور کا استحصال جاری ھے۔ آج پھر ھمیں جذبہ حیسنی کی ضرورت ھے۔۔۔آج امام حیسن علیہ اسلام کی شھادت کو اجاگر کرنے کی جتنی ضرورت ھے وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی!

اے قوم! وھی پھر ھے تباھی کا زمانہ
اسلام ھے پھر تیرِ حوادث کا نشانہ

کیوں چپ ھے اٌسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جا ئے گا مردوں کا فسانہ

مٹتے ھوۓ اسلام کا پھر نام جلی ھو
لازم ھے کہ ھر فرد حسین ابن علی ھو!!!

والسلام


افکار و نظریات: شناخت امام حسینؑ کی اہمیت