اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات نئے کابل میں پرانے طالبان سانپ اپنی کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔ آمو ٹی وی کے مطابق طالبان حکومت نے امیدِ سبز شہرک سے تقریباً 500 رہائشی یونٹس اور 6,000 باشندوں کو بے دخل کر دیا ہے۔ بے دخل ہونے والے رہائشیوں کو فلسطینیوں کی طرح اب یہ تشویش لاحق ہے کہ آگے ان کے ساتھ نجانے کیا ہوگا۔ افغانستان کی تاریخ ایسے اجڑے ہوئے گھروں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے کہ جن کی رونقیں اب کبھی نہیں پلٹیں گی۔ کبھی بامیان کی وادیوں میں ہزارہ شہریوں کا خون بہا، کبھی کابل کی کسی مسجد، مدرسے یا تعلیمی مرکز میں دھماکہ ہوا، کبھی کسی ایک بستی اور کبھی کسی دوسری بستی کے مکینوں کو اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم ملا اور کبھی کسی مذہبی یا علاقائی اقلیت کے لیے اپنی شناخت کا اظہار بھی باعثِ خوف بن گیا۔گزشتہ دہائیوں میں کئی مرتبہ افغانستان میں ظلم قانون کی مسند پر براجمان ہو گیا، جبر و استبداد نے نظم و نسق کا لباس پہن لیا اور طاقت نے جموریت کا گلا گھونٹ دیا۔ لمحہ فکریہ ہے کہ طالبان جو آج تک اپنے لوگوں پر رحم نہیں کرتے وہ کسی مشکل کے آنے پر پاکستانیوں پر کیا رحم کریں گے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو

ڈاکٹر نذر حافی
آج کا کابل بظاہر بدل چکا ہے۔ اقتدار کے ایوان بدل گئے، پرچم بدل گیا، وزارتیں قائم ہوئیں، عدالتیں بنیں اور طالبان نے اپنے اقتدار کو ایک باقاعدہ ریاستی نظم میں ڈھالنے کا دعویٰ کیا۔ یہ سب ہو گیا لیکن طالبان کا اصلی مزاج اور سوچ نہیں بدلی۔ طالبان کی بنیاد چونکہ پاکستان میں پڑی ہے لہذا ہماری طرح طالبان کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ریاست کی عظمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب طاقتور قانون کے سامنے جواب دہ ہو اور کمزور قانون کے سائے میں محفوظ۔ حکومت کی پائیداری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شہری خوف سے نہیں، اعتماد سے ریاست کے ساتھ کھڑا ہو۔ افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی، آزاد صحافت پر قدغن، مخالف آوازوں کی گرفتاری، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی رویہ اور شہری آبادیوں کی بے دخلی ایسے اقدامت ہیں کہ جنہیں دیکھ کر بے ساختہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ سانپ اپنی کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔
کابل میں امیدِ سبز ٹاؤن شپ، جسے حاجی نبی ٹاؤن شپ بھی کہا جاتا ہے، کا تنازع اس حقیقت کی ایک تازہ مثال ہے۔ کابل کے ڈسٹرکٹ 6 اور 13 میں واقع اس علاقے کی تقریباً 1,500 جریب زمین کو طالبان کی وزارتِ انصاف نے زبردستی سرکاری ملکیت قرار دیا ہے۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں افغان خاندان آباد ہیں۔اس فیصلے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے گھروں، املاک اور مستقبل کے بارے میں طالبان کو کسی قسم کی کوئی پرواہ نہیں۔
انسانی احساسات و جذبات سے تو طالبان ویسے ہی عاری ہیں۔ انہیں یہ ادراک ہی نہیں کہ زمین انسان کے لیے صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی۔ زمین میں نسلوں کی یادیں، گھروں کی رونقیں، بزرگوں کی قبریں، بچوں کا بچپن اور آنے والی نسلوں کے خواب دفن ہوتے ہیں۔ گھر چھن جائے تو صرف چھت نہیں جاتی، ایک پوری زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ آبادی اجڑ جائے تو صرف مکانات نہیں گرتے، رشتے ناطے بکھر جاتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ ریاست کو زمین کی ملکیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اختیار کے ساتھ امانتداری بھی ضروری ہے اور امانتداری کے ساتھ جواب دہی بھی۔ کسی شہری کی ملکیت سے متعلق فیصلہ شفاف ریکارڈ، غیر جانب دار سماعت، مؤثر اپیل اور آزادانہ عدالتی عمل کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ قانون کا مقصد حکمران ٹولے کی دھاک بٹھانا نہیں ہوتا بلکہ کمزور کو طاقتور کے چنگل سے چھڑوانا ہوتا ہے۔
امیدِ سبز کا تنازع اس امر کی دلیل ہے کہ افغانستان میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی کوئی ضمانت نہیں۔ طالبان کے ہاتھوں افغانیوں کی بے دخلی کا یہ مسئلہ زمین کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں میں افغانی قبائل نے دہشت گرد حملوں، مذہبی تعصبات، جائیداد کے تنازعات اور جبری بے دخلیوں کے متعدد واقعات برداشت کیے ہیں۔ داعش خراسان کے حملوں نے ان کی جان و مال کو سنگین خطرات سے دوچار کیا۔ ریاست کی ذمہ داری یہاں دوگنی ہو جاتی ہے، دہشت گردی سے شہریوں کی جان بچانا بھی لازم ہے اور ریاستی اداروں کے ہاتھوں امتیاز سے شہریوں کے حقوق محفوظ رکھنا بھی۔
ریاست کی نظر میں شہری کی قدر اس کے مذہب، نسل، زبان یا مسلک سے متعین نہیں ہونی چاہیے۔ شہری مساوات ریاستی وحدت کی بنیاد ہے۔ یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو قومی یکجہتی کا محل بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ اسی تناظر میں محرم و عاشورا کے اجتماعات، مذہبی علامتوں اور شیعہ مذہبی شناخت کے اظہار سے متعلق پابندیوں نے اقلیتوں میں بے چینی کو بڑھایا ہے۔ مذہب کو ریاستی نظم کا بنیادی حوالہ بنانے والی حکومت کے لیے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔دوسرے مذاہب کے ساتھ جابرانہ برتاو، دینِ اسلام کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ دین انسان کے ضمیر کو روشنی دیتا ہے، ریاستی طاقت اسے خوف کی تاریکی میں بدل دے تو دین کا اخلاقی پیغام اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے۔افغانستان میں آزاد صحافت کا دائرہ بھی مسلسل سُکڑ گیا ہے۔ صحافیوں کی گرفتاریاں، میڈیا اداروں پر دباؤ اور اختلافی آوازوں کی سرکوبی نے اظہارِ رائے کے ماحول کو مسدود کر رکھاہے۔جون 2026 میں کابل میں تمادون ٹی وی کے دفتر کی بندش نے اس صورتِ حال کو مزید نمایاں کر دیا ہے ۔ یہ ادارہ ہزارہ شیعہ برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی مواد کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کی بندش نے میڈیا کی آزادی اور مذہبی اظہار دونوں کے بارے میں طالبان کی اصلی شکل و صورت ساری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔ریاست کو اپنے مؤقف کی سچائی پر یقین ہو تو تنقید سے خوف پیدا نہیں ہوتا۔ آزاد صحافت حکومت کے لیے خطرہ نہیں، آئینہ ہوتی ہے۔ آئینہ توڑنے سے چہرہ نہیں بدلتا، صرف عکس غائب ہوتا ہے۔طالبان کے دور کی سب سے نمایاں ناانصافی افغان خواتین اور بچیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی پالیسیوں میں دکھائی دیتی ہے۔ لاکھوں بچیوں کی ثانوی تعلیم رک چکی ہے۔ خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے راستے بند ہیں۔ روزگار اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔یہ پابندیاں صرف آج کی عورت کو محدود نہیں کرتیں، آنے والے افغانستان کی علمی، معاشی اور سماجی حیثیت پر بھی اثر انداز ہونگییں۔
جو بچی آج اسکول کے دروازے سے واپس لوٹتی ہے، وہ کل کو ڈاکٹر، انجینئر، استاد، محقق یا سائنس دان بننے کا موقع کھو دیتی ہے۔ جو معاشرہ اپنی خواتین کی صلاحیتوں کو مقید کرتا ہے، وہ اپنی نصف انسانی قوت کو معطل کر دیتا ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنے سے ایک نسل نہیں رکتی، پورا مستقبل پیچھے رہ جاتا ہے۔افغانستان کو ہنرمند ڈاکٹروں، قابل اساتذہ، ماہر انجینئروں، اہل منتظمین اور صاحبِ علم خواتین کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کا راستہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے گزرتا ہے۔ جو قوم اپنی بیٹیوں کے ہاتھ سے کتاب چھین لیتی ہے، وہ اپنے مستقبل کے ہاتھ باندھ دیتی ہے۔
طالبان کے نظام میں اختلافِ رائے کی بھی گنجائش نہیں۔ صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، سابق سرکاری اہلکار، دانش ور اور ناقدین گرفتاری، تشدد اور طویل حراست کے خطرات سے دوچار ہیں۔ حالیہ چند برسوں میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، تشدد اور من مانی گرفتاریوں سے متعلق متعدد واقعات درج کیے گئے ہیں۔ یہ ساری دنیا کی ذمہ داری ہے کہ طالبان کو یہ سمجھایا جائے کہ ریاست کا اصل امتحان اپنی مذہبی رِٹ قائم کرنے کے بجائے اپنے مخالفین کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔
اختلاف کو غداری کا نام دینے سے ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ سوال کرنے والے کو دشمن قرار دینے سے حکومت مضبوط نہیں ہوتی۔ تنقید کو جرم بنانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے ۔خوف خاموشی پیدا کرتا ہے، اعتماد استحکام پیدا کرتا ہے۔ جبر اطاعت پیدا کر سکتا ہے، وفاداری نہیں۔ بندوق راستہ خالی کرا سکتی ہے، دلوں میں راستہ نہیں بنا سکتی۔ اس وقت افغانستان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ طالبان کا رویّہ انتہائی معاندانہ ہے۔ ہزارہ شیعہ، اسماعیلی اور دیگر اقلیتیں اپنے مذہبی تشخص، سلامتی اور اجتماعی حقوق کے حوالے سے مختلف نوعیت کے شدید دباؤ کا سامنا رہی ہیں۔
یہ درس ہر ریاست کیلئے ہے کہ ریاست کی قوت اس بات میں ہے کہ مختلف شناختوں کو ایک مشترک شہری شناخت کے اندر تحفظ دیا جائے۔ زبانیں جدا رہ سکتی ہیں، مسالک جدا رہ سکتے ہیں، ثقافتیں جدا رہ سکتی ہیں ، سب جدا رہ کر بھی متحد رہ سکتے ہیں بشرطیکہ ریاستی انصاف سب کے لیے یکساں ہو۔یہی حقیقی قومی وحدت ہے یعنی رنگا رنگی میں ہم آہنگی، اختلاف میں اتفاق اور تنوع میں اتحاد۔طالبان کے سامنے آج اصل چیلنج اقتدار پر قابض رہنا نہیں، اقتدار کو اقدار میں بدلنا ہے۔ بندوق سے شہر فتح کیے جا سکتے ہیں، معاشرے نہیں۔ جبر سے خاموشی پیدا کی جا سکتی ہے، وفاداری نہیں۔ جیل کے دروازے کسی شخص کو قید کر سکتے ہیں، اس کے خیالات کو نہیں۔حکمرانی کا کمال یہ نہیں کہ لوگ حکومت سے خوف زدہ رہیں، حکمرانی کا کمال یہ ہے کہ شہری حکومتی اداروں پر بھروسہ کریں۔موجودہ حالات میں تاریخ اور سوشل سائنسز کا یہ پیغام طالبان کیلئے بھی ہے، پاکستان کیلئے بھی اور آزاد کشمیر کی حکومت کیلئے بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں پر بھی حکمران ٹولہ سانپ کی مانند اپنی کینچلی بدلتا ہے لیکن فطرت نہیں۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں