آ بیل مجھے مار۔۔۔

محبوب اسلم

پاکستانی قوم مذھب شدت پسندی اور لبرل مادر پدر آزادی کے بیچ درمیانی راستے پررھنا چاھتی ھے۔۔۔لیکن ڈونکی راجا کو لبرل ایجنڈے کے گھوڑے پر سوار کرایا جا رھا ھے۔ کہاں ترکی ماڈل کی مثالیں دیتے دیتے یہ ڈونکی راجا مصر ماڈل میں جا گھسا؟؟؟

ڈنڈے کے زور پر مذھبی طبقے کو وقتی طور پر دبایا تو جاسکتا ھے لیکن اس کیلئے مصر جیسا جغرافیہ بھی درکار ھے۔۔۔

اور ظاھر سی بات ھے کہ پاکستان مصر نہیں ھے۔یہ نقطہ سمجھنے کیلئے کہ پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ ھے پاکستان کے جغرافیے اور اسکی تاریخ کے پس منظر کو سامنے رکھتے ھوئے آپ کا افلاطون ھونا لازم نہیں ھے۔ ادنی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے شہری پر بھی عیاں ھوگا کہ پاکستان کےبالکل بغل میں افغانستان میں اسوقت امریکہ اور انڈیا کا گٹھ جوڑ ایک کٹھ پتلی افغان حکومت کیساتھ ملکر پاکستان کے علاقائی مفادات پر کاری ضرب لگانے کو ھمہ وقت تیار بیٹھا ھے۔ دوسری طرف پاکستان کے اپنے قبائیلی علاقے میں پشتون تحفظ تحریک کی صورت میں ایک ناسور پیدا کیا گیا ھے جو ایک مناسب وقت پر اپنے غیر ملکی آقاٶں کے حکم پر مادر وطن کو بیچنے پر تیار بیٹھا ھے۔ بلوچستان میں امریکہ اور انڈیا بلوچ علحیدگی پسندوں کو بڑھاوا دیئے ھوئے ھیں۔ کشمیر میں اب اسرائیل کی مدد سے بالکل غزہ کے طرز پر بربریت جاری ھے اور باڈر پر آۓ دن دشمن کی گولہ باری جاری ھے۔ ان حالات میں ملک کے اندر مذھبی طبقے کیخلاف پرشدت ایکشن صرف اور صرف ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ ھے!

لیکن اسطرح کا ایکشن مصر کی فوج تو شاید اخوان مسلمین کیخلاف زیادہ عرصہ کیلئے جاری رکھ سکے لیکن ھماری جغرافیائی اور عالمی سیاسی صورتحال اس طرح کی پالیسی کی متحمل نہیں ھوسکتی کیونکہ ھمارے دشمن اس صورتحال کا بیتابی سے انتظار کر رھے ھیں کہ کب ھم اندرونی خلشفار کا شکار ھو اور انھیں کھل کھلینے کا موقعہ مل سکے۔ جب آپ اپنے لوگوں پر سیدھا فائر کھولیں گے تو دشمن ان کے سر پر ھاتھ رکھ کر ایک مسلح جدوجہد کا نہ ختم ھونے والا سلسلہ شروع کر سکتا ھے۔۔۔اپنے کراۓ کے ٹٹوں بھی استعمال کر سکتا ھے۔۔۔کیونکہ پاکستان مصر نہیں ھے بلکہ ھم جغرافیائی اور سیاسی طور پر دشمنوں میں گھرے ھوئے ھیں۔

تو جو بھی لبرل ازم کی شراب پی کر بد مستی میں یہ مشورے ڈونکی کنگ کو دےرھا ھے وہ یا توعقل سے بالکل ھی پیدل ھے یا جانتے بوجھتے پاکستان کو اس آگ میں دھکیل رھا ھے۔ کچھ ھوش کے ناخن لیں اور راہ پڑی لکڑی سے پنگا نہ لیں؟؟؟

کچھ دور اندیشی پیدا کریں۔۔۔اسوقت سے پہلے کہ جب آپ کواپنے ازلی دشمنوں سے بلاآخر گھٹنے ٹیک کر مذاکرات کرنا پڑ جائیں۔۔۔آج اپنوں سے باوقار طریقے سے معاملات کو سنوار لیں۔۔۔یہ جو چھوٹے لوگ بڑے بڑے انا کے بت لئے گھوم رھے ھیں انھیں لگام ڈالیں۔ جو معاملات طے ھوچکےتھے ان پر اکتفا کریں اور آئندہ آنے والے حالات پر قابو رکھیں۔

 

یہ اسرائیل کو قبول کرنے والی خرافات بند کریں۔۔۔ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے قوانین پر چور دروازےسے ضرب نہ لگائیں بلکہ قوم کو اعتماد میں لیکر ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کیلئےقانون سازی کریں۔۔۔پاکستان کی اکثریت نہ تو مادر پدر آزاد لبرل ھے اورنہ ھی مذھبی شدت پسند۔۔۔لیکن آپ اس کو طاقت کے بل بوتے پر دیوار سے نہیں لگا سکتے۔۔۔مانا کہ آپ نے ایک ڈونکی راجا چنا ھوا ھے جسکی لگام آپ کے ھاتھ میں ھے لیکن قوم کو ایک معتدل راہ پر زندگی گذارنے دیں۔۔۔لبرل ایجنڈے کو ذرا پرے رکھیں؟؟؟

اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ آمین


افکار و نظریات: آ بیل مجھے مار۔۔۔