استشراق ، تاریک اور تاریخ

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

ترجمہ،تحقیق کا متبادل نہیں ہوسکتا۔تالیف، تصنیف کی جگہ نہیں لے سکتی اور پراگندہ مطالب کسی سکول آف تھاٹ(مکتب) کے مقابلے میں پیش نہیں کئے جا سکتے۔ چنانچہ ہم نے مستشرقین کے حوالے سے کسی مقالے کا ترجمہ پیش نہیں کیا یا کسی مارکیٹ میں پڑی ہوئی کتاب کو اٹھا کر اس کے حوالے نہیں دئیے بلکہ ہم نے حوزہ علمیہ قم کی بات کی اور اس حوزے میں گروہ مستشرقان و قرآن کی طرف سے کی جانے والی جدیدترین تعریف بھی قارئین کے لئے پیش کی ۔

ہم نے یہ راستہ بھی کھلا رکھا ہے کہ اگر کوئی دوسرا محقق اپنے سکول آف تھاٹ کا تعارف کرائے اور اپنے مکتب میں ہونےوالی تحقیق کی روشنی میں تازہ ترین تعریف یہاں پیش کرے تو ہم خوشی کے ساتھ اس کی تحقیق کا استقبال کریں گے۔ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کروائے دیتے ہیں کہ کسی غیرمسلم کے توسط سے اسلام شناسی کا انجام پانا استشراق کہلاتا ہے اور ہم نے اپنی تحقیقات کے دوران یہ بھی بتایا ہے کہ استشراق ِسیاسی و استعماری میں مغرب اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں مثلا ایم آئی سکس اور سی آئی اے وغیرہ کے وہ اہلکار بھی شامل ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں شدت پسندی اور قتل و غارت کی خاطر طالبان اور القاعدہ جیسے گروہوں کو تشکیل دیا۔

یہانتک دو باتیں ہمارے قارئین کوذہن نشین ہوجانی چاہیے، ایک یہ کہ مستشرق غیر مسلم ہوتا ہے اوردوسری یہ کہ یہ غیر مسلم جب مسلمانوں کی جاسوسی کرتا ہے اور ان میں تفرقہ و شدت پسندی ایجاد کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا ہے تو اسے مستشرق سیاسی و استعماری کہتے ہیں۔

باعرض معذرت ہم ا یک مرتبہ پھر یہ عرض کرتے چلیں کہ یہ انٹرنیٹ سے اٹھا کر کسی مقالے کا ترجمہ نہیں کیاگیا بلکہ ایک زندہ اور علمی مکتب کی رائے آپ کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ داعش، القاعدہ اور طالبان کو بنانے والے سی آئی اے اور مغربی خفیہ ایجنسیوں کے غیر مسلم کارندے اور جاسوس، مستشرقینِ سیاسی و استعماری کے زمرے میں نہیں آتے تو اسے بھی اپنے مکتب کی جدید ترین تحقیقات کو حوالہ جات اور اساتذہ کے نام کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

جیساکہ ہم اپنے ادعا کے ثبوت میں اپنے دو محقق اساتذہ قبلہ ڈاکٹرمحمد حسن زمانی اورقبلہ ڈاکٹر محمد جواد اسکندر لو کے نام پیش کر چکے ہیں اور ان دونوں محقیقین کاتعلق گروہ مستشرقان و قرآن سے ہے۔

مکتب کے تعارف، تازہ ترین تحقیقات اور اساتذہ کا نام لکھنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے قارئین کو پتہ چلتاہے کہ یہ تحقیق مستشرقین سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے انجام دی ہے یا کسی کی شخصی رائے اور غیر مکتبی مقالہ ہے۔

گروہ مستشرقان و قرآن کی تحقیقی کتاب شرق شناسی واسلام شناسی غربیان کے مطابق مستشرقینِ سیاسی و استعماری میں سرِ فہرست لارنس آف عریبیہ [1] کا نام آتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے صفحہ ۲۰۷تا ۲۱۴۔ ان سات صفحات میں بطورِ نمونہ سولہ ایسے مستشرق جاسوسوں کا تعارف کروایا گیا ہے کہ جنہوں نے جہانِ اسلام کا نقشہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگر کوئی ان جاسوسوں کو مستشرقین استعماری کہنے سے انکاری ہے تو اس کے لئے مد مقابل میں ایک علمی مکتب کا نظریہ لانے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر کسی تحقیقی و علمی مکتب کے مقابلے میں کسی کا ذاتی تخمینہ یا مقالہ ، کوئی وزن نہیں رکھتا۔

اب ہم بھی آپ کے سامنے اس وقت صرف تین مستشرق جاسوسوں اور ان کے طریقہ واردات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ آپ کو مستشرقین سیاسی و استعماری کی فعالیت کا قدرے اندازہ ہو سکے۔

۱۔لارنس آف عریبیہ

لارنس آف عریبیہ کا مکمل نام تھامس ایڈورڈ لارنس تھا، مارچ ۱۹۱۶ میں جب دجلہ کے ساحل پر برطانوی فوج کو ترکوں سے دندان شکن شکست ہوئی تو انگریزوں نے خلافت عثمانیہ سے میدان جنگ میں لڑنے کے بجائے مسلمانوں کو آپس میں لڑاو اور ان پرحکومت کرو کا منصوبہ تیار کیا۔اس منصوبے کو عملی کرنے کی ذمہ داری تھامس ایڈورڈ لارنس کو سونپی گئی۔خلاصہ تحقیقات یہ ہےکہ لارنس نے ترک خلافت کے خلاف عربوں میں نفرت کو ابھارنے کے لئے اس نظریے کوعام کیاکہ عرب عربوں کے لئے ہے۔

اس نے اس مقصد کے لئے حاکم مکہ شریف حسین اور اس کے بیٹوں کو مرکزی حکومت کے خلاف اکسایا کہ وہ ترکوں کے ساتھ ٹکرانے کے لئے عرب قبائل سے مخفیانہ بیعت لیں۔اس مقصد کے لئے اس نے خوب رقم خرچ کی اور اس کے نقشے کے مطابق کچھ ہی عرصے میں عرب قبائل ترکوں کی خلافت کے خلاف کمر بستہ ہو گئے ۔

پہلی جنگِ عظیم 28 جولائی 1914 سے 11 نومبر 1918 تک جاری رہی۔ 14 جولائی 1915ء کواہلِ عرب، قوم پرستی کو لے کر ترکوں کے خلاف کھلے عام باغی ہوگئے ۔اس بغاوت میں حاکم مکہ شریف حسین اور نجد کے حکمرانوں یعنی آ ل سعود نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جس کے بعد عرب مناطق ترکوں کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔جس طرح لارنس آف عریبیہ حاکم مکہ کی مدیریت کررہا تھا اسی طرح جان فیلبی نجد کے حکمرانوں (آل سعود) کی سرپرستی کرنے میں مشغول تھا۔ [2]

جب ۱۹۱۸ میں پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو سلطنت عثمانیہ بھی روبہ زوال تھی۔ بالآخر کمال اتاترک نے3مارچ1924ء کو خلافت عثمانیہ کوبالکل ختم کرنے کا اعلان کر دیا، خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد آل سعود نے حاکم مکہ سے بھی سلطنت چھین لی، یوں وقت کے ساتھ ساتھ عرب بھی اور ترکی بھی مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ کے لئے اہلِ مغرب اور امریکہ کے محتاج ہوکر رہ گئے۔عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد لارنس آف عریبیہ واپس برطانیہ چلا گیا اور اس نے وہاں جاکراپنے تجربات کی روشنی میں درس و تدریس اور نئے افراد کی تربیت کاکام شروع کر دیا جوکہ اس کی موت تک جاری رہا۔

۲۔جان فیلبی

جان فیلبی ،ایک برطانوی لکھاری،محقق اور مشاور تھا، اس نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور حرمین شریفین پر آل سعود کے قبضےمیں بنیادی کردار ادا کیا۔ شاہ عبدالعزیزاپنے تمام امور میں اس سے مشورہ کرتا تھا، جان فیلبی کا کہنا ہے کہ میں شاہ عبدالعزیز کی زندگی کے چھتیس سال اس کے ہمراہ رہا اور اس کی زندگی کے آخری تئیس سالوں میں ہمیشہ اس کے ہمراہ رہا اور ہمارا تعلق کبھی منقطع نہیں ہوا۔[3]

۳۔کارل ہینرش بیکر

یہ ایک جرمنی کامستشرق جاسوس تھا جوکہ جرمنی میں مجلۃ الاسلام کا بانی بھی تھا۔یہ استعماری منصوبہ سازی میں جرمنی کا خادم تھا،۱۸۸۵-۸۶ میں اسے افریقہ پر جرمنی کے تسلط کو قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، اس نے اپنے نقشے کے مطابق افریقہ کے اسلامی ممالک کو اس طرح جرمنی میں ضم کیا کہ ۱۹۱۸ تک وہاں جرمنی کا تسلط قائم رہا۔

آخرمیں یہ عرض کرتے چلیں کہ مستشرقینِ سیاسی و استعماری کی تاریخ جتنی طویل ہے اتنی ہی تاریک بھی۔ اس تاریکی کو تحقیق سے روشن کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر کوئی وطنِ عزیز میں صوبائی، علاقائی ، نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب برتے ،کسی کو مشتعل کرے یا کسی کے کہنے میں آکر مشتعل ہو جائے،کسی کی تکفیر کرے یا کسی کے قتل پر آمادہ ہو جائے، خود کش حملہ کرے یا کسی اسٹریٹ لائٹ کو توڑ دے، اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے واقعات خود بخود وقوع پذیر نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے انسانی دماغ فعال ہوتا ہے اور ماہر منصوبہ ساز بیٹھے ہوتے ہیں۔لہذا ہمیں اپنی تاریخ کے کسی بھی گوشے کو بغیر تحقیق کے تاریک نہیں چھورنا چاہیے۔دشمن ہمیشہ تاریکی سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور سب سےخطرناک تاریکی عدمِ آگاہی، عدمِ تحقیق اور جہالت کی تاریکی ہے۔

[1] T. E. Lawrence

[2] جون فیلبی و البلاد العربیة السعودیة فی عهد الملک عبد العزیز بن سعوداز الدکتور صبری فالح الحمدی

[3] ، بریطانیا و ابن سعود: العلاقات السیاسیة و تأثیرها علی المشکلة الفلسطینیة،از محمد علی سعید، ص38 تا 43.


افکار و نظریات: استشراق, تاریک و تاریخ