کشمیر سے ہمارا رشتہ

 ہم مسلمان ہیں اور ہمارے نبیﷺ کی تعلیمات کے مطابق  مَن اَصبَحَ وَ لَم یَهتَمَّ بِاُمورِ المُسلِمینَ فَلَیسَ بِمُسلِم

جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ مسلمانوں کے امور  کا اہتمام نہ کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ کشمیری اور فلسطینی دنیا کی واحد قوم ہیں کہ آج بھی جو شہدا کے خاندانوں سے ہیں اور یا  مہاجرین کے خاندانوں سے۔آپ کو کوئی ایسا کشمیری نہیں ملے گا جس کا کوئی عزیز شہید نہ ہوا ہو اور یا مہاجر نہ ہو۔

یاد رہے کہ یہ ایسے شہید ہیں جو صریحی طور پر کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں اور انہوں نے مسلمہ کفار کے خوف سے ہجرتیں کی ہیں۔

تقسیم ہند کے وقت بٹوارے کے اصولوں کی رو سے تمام ریاستوں کو پاکستان و بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا تھا۔ کشمیریوں کی اکثریت الحاق پاکستان کا نعرہ لگا چکی تھی مگر کشمیری راجہ ہری سنگھ نے انگریزوں کے گٹھ جوڑ سے کشمیری قوم کی دلی امنگوں کا خون کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ27 اکتوبر1947 کو اتحاد کرلیا۔

اس جبری الحاق کو کشمیریوں نے کبھی قبول نہیں کیا۔تقسیم بر صغیر سے آج تک بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری تسلط قائم کیے ہوئے ہے۔

ہر لحظہ مظالم کی نئی داستان رقم کر ہی ہے۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں تسلسل کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ، عزتیں لٹ رہیں ہیں ، ظلم و جبر کا بازار گرم ہے ، ہر طرف دھمکایا جا رہا ہے ، الغرض جدھر بھی نگاہ اٹھا ئیں مظلومیت کی تصویر دکھائی دیتی ہے، جدھر بھی دیکھیں مظلوم کشمیریوں کا ہی خون ارزاں دکھائی دیتا ہے۔

قابض بھارت نے کشمیریوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ، ان کو نیزوں برچھیوں پر آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے۔ جان و مال تو پہلے ہی محفوظ نہیں، عزتوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے۔ تعصب کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور انہیں شہید کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور مندروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

 انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیریوں پر ہونے والے منظم جبرو تشدد کے بارے میں تفصیلی رپورٹس تیار کی ہیں۔ان رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج نوجوان کشمیری مسلمانوں کو مختلف نوع کے تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں۔خواتین کی بے حرمتی اور اجتماعی عصمت دری کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔بچوں کو زندہ جلانے کے واقعات بھی عام ہو رہے ہیں۔

ہم نے آج تک مسلمان ہونے کے ناتے کشمیریوں کے لئے کیا کیا ہے!؟ کیا ہمارے پیارے نبیﷺ ہم سے یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتے!کیا ہمارے نبیﷺ کا ہم پر اتنا بھی حق نہیں کہ وہ ہم سے یہ گلہ کریں کہ جب میری امت کی بیٹیوں کی عزتیں ہندو لوٹ رہے تھے، بچوں کو شہید کر رہے تھے، جوانوں کو شکنجے دے رہے تھے۔۔۔ تو تم کن نعروں میں مشغول تھے۔

 


افکار و نظریات: کشمیر سے ہمارا رشتہ