احساس  اور نظامِ تعلیم

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

کتے کی موت پر اداسی، جنگلات کے کٹنے پر احتجاج، ماحول کی آلودگی کے خلاف ریلی،جانوروں کی نسل کشی کے خلاف مقالات یہ آج کے مہذب مغربی معاشرے کا ایک چہرہ ہے جبکہ اس کا دوسرا چہرہ یہ ہے کہ  بوسنیا، یمن، افغانستان، عراق  اور شام  میں کسی انسان کی موت پر کوئی اداسی اور دکھ نہیں،فلسطین اور کشمیر میں انسانوں کے کٹنے پر کوئی احتجاج نہیں،غزہ کی آزادی کے لئے کوئی ریلی نہیں اور متعدد ممالک میں متعدد موقعوں پر ہونے والی مسلم کشی کے خلاف کوئی مقالات یا آواز نہیں۔

ایسا اس وجہ سے ہے کہ جس معاشرے میں بچے بورڈنگ ہاوس میں پلتے ہوں، جوانیاں مفاد اور پیسے کی پرستش میں صرف ہوتی ہوں ، بڑھاپا اولڈ ہاوس کی نظرہوجاتا ہو، تعلیمی اداروں میں صرف پروڈکشن اور پیسہ کمانا سکھایا جاتا ہو  اور ساتھ ساتھ معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان کو درہم برہم کر دیا گیا ہو ، وہاں انسان مشینوں کے ہمراہ مشین بن کر جینے پرمجبور ہوجاتا ہے اوروقت کے ساتھ ساتھ  اس کے سینے سے حقیقی محبت، عطوفت، پیار اور ہمدردی جیسے جذبات مٹ جاتے ہیں۔

جب انسان محبت، عطوفت، پیار اور ہمدردی جیسے جذبات سے عاری ہوجاتا ہے تو پھر وہ مصنوعی طریقوں سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ پھر وہ  مرحوم  کتے  کی یاد میں موم بتیاں تو جلاتا ہے لیکن اولڈہاوس میں اپنے باپ کے بڑھاپے پر اسے رحم نہیں آتا، وہ شادی اور خاندان جیسے مقدس بندھن کی تو اہانت کرتا ہے لیکن جنسی ہیجان کے بے لگام اظہار کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔وہ جانوروں کی نسل کشی پر تو آنسو بہاتا ہے لیکن اپنے مفادات کے لئے بڑے سکون اور آرام کے ساتھ انسان کشی کرتا ہے۔یہ دوسروں پر تو ایٹم بم بنانے کے نام پر پابندیاں لگاتا ہے اور خود ایٹم بم سے لیس  ہوتاہے۔

احساسات و عواطف سے عاری یہ انسان پتھر کے زمانے کا انسان نہیں ہے بلکہ آج کے جدید عہد کا انسان ہے اور عہد جدید میں ممالک میں حکومتوں کی گردش، کرنسی کا اتار چڑھاو، ٹیکنالوجی کی تعلیم اور علم کا میدان یہ سب کچھ اسی بے حس انسان کے ہاتھوں میں ہے۔

اس جدید مگر بے حس انسان نے پہلی عالمی جنگ میں ۱۹۱۴سے ۱۹۱۸ کے دوران  نو ملین انسانوں کو  موت کے گھاٹ اتارا ، بائیس ملین افراد معذور ہوئے اور ۲۵ملین افراد لاپتہ ہو گئے،یہ جنگ ۱۵۶۵دن تک جاری رہی اور اس پر اس وقت چار لاکھ ملین ڈالر خرچ ہوا۔ماہرین کے مطابق اس رقم کے ساتھ انگلستان، آئرلینڈ،اسکاٹ لینڈ،بلجیم،روس،امریکہ جرمنی کنیڈا، اور آسٹریلیا کے ہر معزز کاندان کے لئے تمام آسائشات کے ساتھ ایک ایک گھر بنایا جا سکتا تھا۔

دوسری جنگ عظیم 1939ء سے شروع ہوئی اور 1945ء تک اس  میں ۳۵ ملین افراد قتل ہوئے، بیس ملین معذور ہوئے،۱۲ملین حمل ساقط ہوئے، ۱۳ہزار پرائمری و مڈل سکول،۶ ہزار یونیورسٹیاں،،۸ ہزار لیبارٹریاں برباد ہوئیں۔ اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین اس جنگ سے متاثر ہوئی۔

روس کے 1710000000 شہر اور قصبے۔ 70000 گاؤں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000 اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔

۱۹۴۵میں امریکہ نے پہلا ایٹم بم ہیروشیما پر پھینکا جس نے اناً فاناً ستر ہزار انسانوں کو معدوم کردیا ، تین دن بعد دوسرا ایٹم بم ناگاساکی پر پھینکا جس میں بغیر کسی تاخیر کے چالیس ہزار افراد صفحہ ہستی سے مٹ گئے.

یاد رہے کہ آج جو موجود ایٹم بم ہیں ان میں سے ہر ایٹم بم ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے پانچ ہزار گنا طاقتور ہے اور اسی طرح ایک ہائیدروجن بم ، ایٹم بم کی نسبت پانچ ہزار گنا مزید طاقتور ہوتا ہے۔

آج کے دور میں جنگیں فوجی چھاونیوں یا عسکری قلعوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ جنگوں میں سڑکوں،پلوں، فیکٹریوں،کارخانوں اور بازاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔چونکہ اس سے دشمن کو تجارتی و اقتصادی طورپر کمزورکرنا مقصود ہوتا ہے۔تجارتی و اقتصادی مفادات کی خاطر امریکہ و مغربی ممالک ہر سال لاکھوں ٹن گندم سمندر میں پھینک دیتے ہیں تاکہ گندم کی قیمت کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور دوسری طرف یمن جیسے متعدد قحط زدہ  ممالک میں بچے بھوک سے بلک بلک کر مر رہے ہیں۔

آج پوری دنیا اسی مغربی نظامِ تعلیم و تربیت کے ہاتھوں میں گھوم رہی ہے، جس میں فقط مادہ پرستی سکھائی جاتی ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی مسائل حل ہونے کے بجائے مسلسل جنگ و جدال کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور انسانی سرمایہ، انسان سازی کے بجائے اسلحہ سازی اور اسلحے کی خرید و فروخت پر خرچ ہو رہاہے۔آج جنگ کو ایک معاشرتی ضرورت بنا دیا گیا ہے اور اس پیغام کو روزبروز عام کیا جا رہا ہے کہ  مارو نہیں تو مار دئیے جاو گے۔

اسلحے ، جنگ اور طاقت سے اپنے مفادات حاصل کرنا، نیز کمزور ممالک کا استحصال، ضعیف اقوام کے حقوق کی پامالی، اور قیدیوں کا قیمہ بنانایہ امریکی و مغربی دنیا کا معمول ہے۔

آج کی دنیا تشنہ ہے ایک متبادل نظامِ تعلیم کے لئے ، جس میں پروڈکشن  اورٹیکنالوجی کے ہمراہ انسانی عواطف، اخلاقی جوہر اور دینی تعلیمات کا عنصر بھی پایا جاتا ہو۔جب تک انسان مادیت کے چنگل سے نکل کر توحید کے سائے میں علم و ٹیکنالوجی سےآراستہ نہیں ہوتا اس وقت تک بچے بورڈنگ ہاوسز میں اور والدین اولڈ ہاوسز میں گھلتے رہیں گے جبکہ مخلوق خدا بھوک سے مرتی رہے گی اور گندم سمندروں میں پھینکی جاتی رہے گی۔

 


افکار و نظریات: احساس  اور نظامِ تعلیم