سانحہ ساہیوال اور مسقل مزاجی

تحریر,,,,,,,,,, گلزار حسین فکشن رائٹر

اس بات پہ قوم مبارک کی مستحق قرار پاتی ہے کہ قوم سانحہ ساہیوال ہو یا سانحہ پشاور یا پھر گلشن پارک لاہور یا سانحہ باچا یونیورسٹی تمام سانحات میں قوم یکجا کھڑی دکھائ دی ہے, 
اس طرح کے اندوہناک واقعات وقوع پزیر ہونا انسانیت کی تاریخ میں کوئ نئ بات نہیں,آغاز آفرینش سے دیکھا جاۓ تو ھابیل اور کابیل کا واقعہ بھی سوچنے پہ مجبور کرتا ہے, اور یہیں سے انسانیت کو ایک رخ ملتا ہے جینے کا سلیقہ مرتب ہوتا ہے, دونوں آدم کے بیٹے تھے ایک قاتل اور ایک مقتول ٹھرا, 
جو مقتول بنا اس کے کردار کی مہک ہر سو اگلوں کےلیۓ باعث اوج کمال بنی اور جو قاتل بنا اس کےلیۓ باعث ننگ وعار, 
سانحہ ساہیوال کوئ ایسا سانحہ بھی نہیں کہ اسے آخری کہا جاۓ اور یقیناً پہلا بھی نہیں, پہلا اور آخری نہیں تو بھلایا جانے والا بھی نہیں, ہر احساس والی آنکھ نم دکھائ دیتی ہے چاہے کوئ بھی سانحہ ہو, 
ان سانحات کے وقوع پزیر ہونے کے بعد کسی قوم یا معاشرہ کی سوچ کس نہج پہ چلی جاتی ہے اصل معاملہ یہ ہے, کہ عوام سانحات کے بعد ایسے جوشیلے نعرے لگا کر سیاستدانوں کا مزید ساتھ دے کر ظلم روا رکھنے میں مزید معاونت کرتی ہے یا رو کر چلا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے, 
یقیناً اسی عوام میں پڑھا لکھا تعلیم یافتہ طبقہ بھی شامل ہے جو اس وقت موجودہ تلخ حقیقت کا سامنا کررہا ہے,,,,,,,,,
تعلیم یافتہ طبقہ میں آپ جیسے لوگ شامل ہیں جو کالم, افسانے, کہانیاں, ناول پڑھتے ہیں اور ملک و ملت سدھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں, 
ایک طبقہ ان مزدوروں کا ہے جو پاکستان کی تعمیر میں اپنے خواب بنتے ہیں اور پھر اسی عمارت تلے دوران تعمیر سسک سسک کر مر جاتے ہیں پھر مجھ جیسوں کو لکھنے کےلیۓ کوئ کہانی دے جاتے ہیں کوئ سانحہ ہو نہ ہو یہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور مجھ جیسے گفتار کے غازی لکھتے اور بولتے جاتے ہیں, ان کےلیے سانحہ ہونا کوئ بڑی بات نہیں ہے کیونکہ ان کے اکابرین نے ملک پاکستان کی تعمیر میں اپنی جانیں اپنے خواب اور اپنی عزتیں بوئ ہوتی ہیں,
یہ وہ مزدور ہیں جن کے اکابرین نے اس گلشن کی آبیاری اپنے, اور اپنے پیاروں کے لہو سے کی ہوتی ہے, 
مجھے کہا جاتا ہے کہ تم اپنا دردلکھتے ہو !
سچی بات ہے میں اپنا ہی درد لکھتا ہوں یہ ملک میرا ہے اس کا ہر شہری چاہے وہ جس طبقہ و مسلک و مذہب سے ہے اس کا درد میرا درد ہے, 
یاد رہے ہمیں دشمن ایسے واقعات میں الجھا کر ترقی کی منازل طے کرنے میں رخنہ ڈالنا چاہتا ہے. سی ٹی ڈی کے ادارے کو دہشت گرد قرار دینا بھی کوئ عقل کا کام نہیں اس طرح تو ہم سی ٹی ڈی کے ان ایماندار اہلکاروں کی ایمانداری کی تذلیل کررہے ہیں, یہ واقعہ اگر ہوا ہے تو اس کا انجام بھی ہوگا, اس حوالہ سے حکومت اب سنجیدہ دکھائ دیتی ہے اس لیۓ ایسے بیانات جس سے اداروں میں موجود ایماندار افراد کی دل ازاری ہو سے پرہیز کرنا چاہئے اور اللہ پہ بھروسا رکھنا چاہیۓ, یہ نہیں کہ پورے ملک کو جام کردینا یا ایسی انتشاری کیفیت کو جنم دینا جس سے نازک دل کے لوگ دل کے صدموں کا شکار ہونے لگیں, 
آپ کو اور مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انتشاری کیفیت کا ماحول کتنا نقصان دہ ہے اور اسے گھٹیا ترین سوچ کی سطح قرار دیا جاسکتا ہے, اپنے سینوں کے اندر یہی درد رہنے دیں کہ شاید الیکشن کے وقت کام آسکے,,, 
میرا آپ سے سوال ہے کہ سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول کے پھولوں کا جنازہ آپ کیوں بھول گۓ,باچا یونیورسٹی اور گلشن پارک لاہور کے شہداء کو کیوں بھلایا گیا, 
افسوس کے ساتھ کہ ہم قوم ہی ایسی ہیں کہ چند منٹس کا اشتعال پھر ہماری غیرت پہ برف جم جاتی ہے ایک دو ہفتوں میں سب بھل بھلا کر نۓ واقعہ کے منتظر ہونگے, 
ہماری سوچ اس وقت من حیث القوم انتہائ پستی کی طرف جاچکی ہے ہم ملک پاکستان میں رہتے ہوۓ اسے بدنام کرنے پہ تلے ہیں, دنیا کو روز نیا تماشہ دکھاتے ہیں دنیا کو کیچڑ اچھالنے میں مدد فراہم کرتے ہیں, کیوں نہ ہم اپنا کام کریں, 
کیوں نہ ہم اپنا فرض نبھائیں, 
ان مزدوروں کی طرح جو دکھائ تو نہیں دیتے جو پریس کانفرینسیں تو نہیں کرتے مگر اس ملک کو چلاتے ہیں کیونکہ تیرا میرا تو کچھ نہیں لگا ان کے گھر لٹے ان کی عزتیں لٹیں اور ان کا لہو اس ملک کی بلڈنگ کے ایروں میں لگا ہے محنت کی سیمنٹ لگی ہے, سوال یہ بھی ہے کہ آپ اور میں نے کیا ہی کیا ہے سواۓ اپنے پیٹ پالنے کے, 
حزن و ملال تو اسے ہونا چاہئے جس نے قربانی دی ہو, ہم تو قربانی دینے نہیں لینے والے ہیں, اسی مزدور کے بچوں کا حق کھاتے ہیں جو ہمارے پاس کسی کام کی غرض سے آتا ہے, اسی مزدور کو لوٹا جاتا ہے جب یہ پولیس والے کے پاس جاۓ, ڈاکٹر یا لینڈ ریکارڈ دفتر یا مسجد نماز پڑھنے جاۓ, ٹریفک وارڈن ہو شریف عدالت کا جج, کلرک ہو یا چپڑاسی سب اسے لوٹتے ہیں یہ پھر بھی کسی سے گلے شکوے نہیں کرتا سب کچھ لٹوا کر راکھ سر میں ڈال کر کہتا ہے میں نے کام پہ جانا ہے, 
اس نے ھابیل اور کابیل کے واقعہ سے یہی سیکھا ہے کہ مقتول بننے میں ہی مزہ ہے شان و شوکت کی موت اس زندگی سے بہتر ہے جس پہ صدہا لعنتیں ہوتی رہیں, مرنا تو ہے پھر کیوں نہ جی کے مرا جاۓ,, 
کسی ادارے کو گالیاں دینے سے بہتر ہے حوصلہ سے کام لیا جاۓ.
پگڑیاں اچھالنا باشعور قوم کا کام نہیں, 
ہمیں چاہیۓ اس مزدور کی طرح اپنا کام جاری و ساری رکھیں تاکہ ہم بہت جلد ترقی کے زینے طے کرتے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکیں, 
اللہ پہ بھروسا رکھنے اور اپنے اندر کام کا جزبہ پیدا کرنے کی ازحد ضرورت ہے, جو کام چور ہیں وہ اسی معاملے کو تماشا بناۓ رکھیں گے, ہمیں ہر بات ایسی کہنی ہے جس سے ہماری اور ہمارے ملک پاکستان کی شان میں کمی نہ ہو, 
ہم تعلیم یافتہ طبقہ سے ہیں تو اللہ کا کرم ہے اس لیۓ خوف اور انتشاری کیفیت کو مزید نہ پھیلنے دیا جاۓ, 
حقائق پہ بات کی جاۓ, سوشل میڈیا پہ اکثر خبریں جھوٹ پہ مبنی ہیں ان پہ اعتبار نہ کیا جاۓ, تصدیق شدہ خبر پہ بات کی جاۓ اور خود کو بااعتماد اور ملک پاکستان کا باہوش شہری بنایا جاۓ, 
اللہ پاک ساہیوال واقعہ میں مقتولین کے ورثاء کو صبر جمیل عطا کرے, اور ہمیں اس واقعہ سے آگے دیکھنے کی ہمت عطاء کرے تاکہ ہماری سوچ کو زوال نہ آۓ,,,,اس لیۓ اس قوم کو مبارک بھی کہ سب ساتھ کھڑے ہیں سب مقتولین کے خاندان کو انصاف دلانا چاہتے ہیں, 
امید واثق ہے کہ یہ قوم اسی طرح مستقل مزاجی سے اس درد کو سانحہ پشاور یا باچا یونیورسٹی کے سانحہ کی طرح بھولے گی نہیں, 
انشاء اللہ ملک پاکستان ترقی کررہا ہے اور کرے گا,,,,,

 


افکار و نظریات: سانحہ ساہیوال اور مسقل مزاجی