نذر حافی

پاکستان مختلف مسالک کاحسین گلدستہ ہے،اس کے بنانے میں مسلمانوں کے باہمی اتحاد کا نمایاں کردار ہے، پاکستانی مسلمانوں کی نظریاتی بنیادیں اتنی گہری اور ٹھوس ہیں کہ ایشیا، یورپ، افریقہ نیز  کشمیر، فلسطین، یمن و بحرین،سوڈان،مصر، عراق اور شام سمیت جہاں بھی  کوئی اسلام کے نام پر تحریک چلتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے مسلمانوں میں ضرور نمایاں ہوتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ اب پاکستان میں بسنے والے بعض دینی مسلک  اور پارٹیوں کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان  انہی کے رنگ میں رنگا جائے اور پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی بھی انہی کے مفادات اور عقائد کے تابع ہو۔پاکستان کے حوالے سے یہ جنونی لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان بنانے میں سارے مذاہب و مسالک برابر کے شریک ہیں اور پاکستان ایک مستقل ریاست ہے، اس کی اپنی جغرافیائی حدود، بین الاقوامی حیثیت اور عالمی مقام ہے۔ ہم میں سے بعض ایسے بھی شدت پسند ہیں کہ وہ پاکستان کی آبادی، جغرافیائی حیثیت،  اور درپیش چیلنجز کے قطع نظر پاکستان کو اپنے مخصوص مسلک کا گڑھ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہر سچ و جھوٹ، خشک و تر  نیز حق و باطل کو ملا کر رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن مجید کا صریح حکم ہے کہ  اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلے کرآئے توتحقیق کر لیا کروکہ کہیں تم کسی گروہ کو لاعلمی سے کوئی نقصان ( نہ ) پہنچادوپھرجوکچھ تم نے کیاہواُس پرپشیمان ہو جاؤ۔[1]

ایسے فاسق عناصر، پاکستان کے ہرشعبے میں پائے جاتے ہیں  جوکہ اپنے فرقے اور مسلک پر  پورے پاکستان کو قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں، یہ اتنے سازشی اور مکار ہیں کہ سوشل میڈیا پر  اپنی منافقانہ پوسٹس کے نیچے پاک فوج زندہ باد اور آئی ایس آئی زندہ باد لکھ کر لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارا یہ موقف پاک فوج اور آئی ایس آئی یا حکومت پاکستان کا ہے۔انہیں اس بات سے کوئی غرض ہی نہیں کہ ہمارے اس جھوٹ کا اور اس جھوٹ کے نیچے پاک فوج یا آئی ایس آئی کا نام لکھنےسے پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر کیا اثر ات مرتب ہونگے۔

یہ ہمارے ملکی و قومی اداروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور ساکھ کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ قانون ایسے لوگوں کو بلا امتیاز اپنی گرفت میں لے جواپنے مذموم مقاصد کے لئے ریاستی اداروں کے نام کو استعمال کرتے ہیں۔ایسے افراد ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور فرصت ملتے ہی پاکستان کی سلامتی پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میں جب  ہندوستان اور پاکستان کی جنگ شروع ہوئی تو پاکستان کواندرونی  وحدت  اور بیرونی مدد کی ضرورت تھی ،اس نازک موقع پر منافقین نے یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ  ایران بھی پاکستان پر ایک بڑا حملہ کرنے لگا ہے اور اس وقت ہندوستان کے جنگی طیارے ایران میں لینڈ کر رہے ہیں ،یعنی بھارت اور ایران مل کر پاکستان پر حملہ آور ہیں۔انہوں نےانتہائی حساس لمحات میں پاکستان کی اندرونی وحدت اور بیرونی سلامتی  پر کاری ضرب لگانے کی بھرپورکوشش کی جوکہ سراسر ملک و ملت سے غداری ہے۔

بعد ازاں مفتی تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ  اس حملے کے پیچھے ایران ہے اور حملہ آور شیعہ ہیں، حالانکہ مفتی صاحب اور ملکی ادارے  موجود ہیں، یہ موقف نہ ہی تو مفتی صاحب کا ہے اور نہ ہی ہمارے سرکاری اداروں کا۔حقیقت حال یہ ہے کہ ان شدت پسند عناصر کو مفتی صاحب یا پاکستان اور پاکستان کی سلامتی سے کوئی دلچسپی ہی نہیں بلکہ  ان کاہدف اور مقصد  فرقہ وارانہ بنیادوں پر پاکستانیوں اور  ایران و پاکستان کے درمیان بغض، حسد ، نفرت، تعصب اور عداوت  کے بیج بونے ہیں۔یہ اپنے مسلکی فوائد کوحاصل کرنے کے لئے اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ  سعودی عرب کے مقابلے میں ایران کا چہرہ خراب کرنا اور ایران کو سعودی عرب کے برابر کھڑا کرنا ان کے ایمان اور عقیدے کا جزو ہے۔حالانکہ اب بچہ بچہ جانتا ہے کہ سعودی عرب کیا ہے اور ایران کیا ہے!؟

جب دنیا امریکہ و اسرائیل کی غلامی پر سعودی عرب کو ملامت کرتی ہے تو یہ مخصوص لوگ  پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں کہ ایران اب اسرائیل  سے اسلحہ خرید رہا ہے، ان سے پوچھئے کہ ثبوت کیا ہے؟ تو ان کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ فلاں نے نے یہ راز میرے کان میں کہا ہے اور میرے ساتھ شئیر کیا ہے۔ یاد رکھئے بعض اوقات وہ فلاں کوئی مرحوم بھی ہو سکتا ہے۔یہ ایران و پاکستان کے درمیان خلیج ڈالنے کے لئے اس قدر جھوٹ  بولتے ہیں کہ یہانتک دعویٰ کرتے ہیں کہ  ایران میں کوئی سنی مسجد ہی نہیں۔جو جھوٹ بولنے میں زیادہ پختہ اور ماہر ہو جاتے ہیں وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایران کی پارلیمنٹ میں سولہ یہودی نمائندے ہیں اور ایک بھی سُنی نمائندہ نہیں۔

یہ فاسق  و مفسدعناصر ، ہمارے ملک میں شدت پسندی کے سرپرست اور سہولتکار ہیں۔یہ اپنی مسلکی برتری کے لئے پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کے حربوں پر عمل پیرا ہیں۔یہ پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ لگانے کے بعد پاکستانی و ایراانی عوام کے درمیان بھی فرقہ واریت کی دیواریں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔جہاں ان سے ہوشیار و بیدار رہنے کی ضرورت ہے وہیں ہماری ایران کے اعلیٰ حکام سے بھی یہ اپیل ہے کہ  ایران جہاں پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی بات کرتا ہے وہیں ایران میں بھی دہشت گردوں کے سہولتکاروں پر ہاتھ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔دہشت گردی چاہے پاکستان میں ہو یا ایران میں، ہمارا موقف یہ ہے کہ  دہشت گردوں کے سہولتکاروں کے بغیر دہشت گردی کی کوئی کارروائی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

دمِ تحریر کوئٹہ کی سبزی منڈی میں دھماکہ ہوا ہے، سولہ بے گناہ پاکستانی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں، اب یہ بیانیہ مسترد ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،ہمیں دہشت گردوں کی مکمل شناخت کے ساتھ ہی ان کے سہولتکاروں پر ہاتھ ڈالنے ضرورت ہے۔جہاں پرریاستی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے قاتلوں کو اُن کی مذہبی، مسلکی، سیاسی، سماجی اور حقیقی شناخت کے ساتھ بے نقاب کریں اور کیفرِ کردار تک پہنچائیں وہیں یہ ہر  محب وطن پاکستانی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں اپنے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔آج  ہم سب کو فرقہ واریت سے بلند ہوکر فاسقوں کی خبروں کی تحقیق کرنے اور  پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

nazarhaffi@gmail.com

 


[1] سورة الحجرات ،آیت ۶


افکار و نظریات: پاکستان کے خلاف فاسقوں کی جنگ