اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قندہاری ملا صاحب صاحبزادہ عتیق خان نورزئی موجودہ بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت اور مرکزی شہر کہلانے والا کوئٹہ اپنی ایک الگ تاریخی اور جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔ زمانہ قدیم سے کوئٹہ ہر دور میں ابھرتی طاقتوں اور قوتو ں کا مرکز نگاہ بنا رہااور اس شہر نے اب تک کئی عروج و زوال دیکھے ہیں تاہم زمانہ قدیم سے یہاں کے لوگ مذہبی عقائد کے حامل رہے ہیں یہاں کامل اولیاء و صوفیاء گزرے ہیں جن کا ذکر تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہے اور اب بھی ان کا نام نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کوئٹہ کے مشہور پیر، بزرگ، اولیاء اور صوفیائے کرام کا جب بھی تذکرہ ہو تو ”قندھاری ملاصاب“ کا ذکر خیر ضرور ہوتا ہے۔ قندھاری ملاصاب کانام صاحبزادہ امین اللہ مگر آپ کے اصل نام جو آپ کے والد نے رکھا وہ عبدالقیوم تھاتاہم آپ کے عقیدت مندوں اور اہلیان کوئٹہ نے آپ کو ”قندھاری ملا صاب“کا لقب دیا اور یہ اس قدر مشہور ہوگیا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے اصل نام کی بجائے آپ کو قندھار ی ملاصاحب کے عقیدت بھرے نام سے آج تک پکارتے ہیں۔ آپ صاحب طریقت و کرامات تھے جن کے علم و زہد کا چرچا اس وقت دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ کا تعلق صوفیائے کرام کے مشہور سلسلے طریقہ نقشبندی سے تھا اور قبائلی حوالے سے آپ کا تعلق نورزئی قبیلے کی اہم شاخ جمالزئی سے تھا۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ نورزئی بن پنچپائی بن ابدال(درانی) درانی سے ہے نورزئی کے دو بیٹے جن میں درزئی اور داودزئی جمال نیکہ جو داود کے بیٹے تھے جن کا شاخ جمالزئی سے پہچانا جاتا ہے جمال نیکہ بھی بڑے پیران اور بزرگان میں سے ایک ہیں اور اس وقت سپین بولدک میں مدفون ہیں جہاں ان کا اپنامقبرہ ہے پاکستان اور افغانستان کے دور دراز علاقوں سے آپ کے عقیدت مند آپ کے مزار کی زیارت کے لئے آتے اور فیض پاتے ہیں۔ صاحبزادہ امین اللہ نقشبندی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے کہ صاحبزادہ حاجی امین اللہ نقشبندی بن صاحبزادہ عبیداللہ نقشبندی(آغا مومن) بن آغا عبدالرحیم بن بوستان آغا(آغا گلستان)بن عبیداللہ (صالح محمد)بن مولانامحمد یعقوب بن مولانا محمد ادریس بن صراف الدین بن شراف الدین بن جمال نیکہ (جمالزئ)بن داودزئ بن نورزئی۔ روایات کے مطابق آپ کی پیدائش افغانستان کی ہے جہاں کے شمال مغربی صوبے فراہ میں ہوئی۔ فرا، جس کا پرانا نام فریدون تھا اور فرا صوبے کے ضلع پرچمن خار گاؤں جو دوخار کے نام سے بھی مشہور ہے آپ وہاں ایک علمی دین صاحبزادہ عبید اللہ نقشبندی کے ہاں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم بزرگ انسان اور صوفی اور علمدین تھے اور آپ کے والد بھی نقشبندی طریقت سے تھے صاحبزادہ حاجی امین اللہ نقشبندی کے دو صاحبزادے بڑے بیٹے کا نام صاحبزادہ حاجی احمد سعید اخنداور دوسرے کانام صاحبزادہ حاجی جانان نقشبندی ہے۔ صاحبزادہ امین اللہ نقشبندی علم کے دلدادہ تھے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ دینی علوم کے حصول کے لئے دور دورا زحتیٰ کہ ہندوستان تک گئے۔ علم کے حصول کے لئے آپ ہندوستان گئے تو آپ کے ساتھ آپ کے بھائی صاحبزادہ عبداللہ اور آپ کے ایک بیٹے صاحبزادہ جانان نقشبندی بھی ہمراہ تھے مگر صاحبزادہ عبد اللہ واپسی پر کوئٹہ میں مقیم ہوگئے اور کچھ عرصہ یہاں قیام کرنے کے بعد واپس افغانستان چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے 1920ء کے لگ بھگ افغانستان سے ہندوستان کی جانب ہجرت کی یہ وہ وقت تھا جب برصغیرپر انگریزوں کی حکمرانی تھی۔ کوئٹہ میں باقاعدہ قیام سے پہلے آپ گلستان آئے اور کچھ عرصہ وہاں قیام کرنے کے بعد کوئٹہ چلے آئے جو کچھ عرصہ قبل ہی قندھار سے علیحدہ ہوا تھا قندھار سے آنے والے صوفیائے کرام،بزرگوں اور صاحب عقیدت لوگوں کو مقامی لوگ قندھار سے آئے بزرگ کہتے اسی وجہ سے آپ کو بھی قندھاری ملاصاحب کہا جانے لگا جو اس قدر مشہور ہوا کہ اب بہت کم لوگ آپ کا اصل نام جانتے ہیں البتہ ان کے سامنے قندھاری ملاصاب کا نام پکاراجائے تو وہ فوراً جان جاتے ہیں کہ آپ کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ کوئٹہ میں قیام سے قبل ہی آپ کی شہرت کوئٹہ تک پہنچ چکی تھی آپ نے کوئٹہ آکر موجودہ کاسی روڈ پرقیام کیا جہاں تھوڑے ہی عرصے میں آپ کے عقیدت مند آپ کے گرد اکھٹے ہوگئے لوگوں اپنے علاج معالجے اور پریشانیوں کے حل کے لئے آپ کے پاس آتے آپ ان کے حق میں دعا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی پریشانیاں دور فرمادیتا۔ علم کے حصول کے لئے آپ دارلعلوم دیوبند بھی گئے جو اس دور میں نہ صرف برصغیر میں دینی علوم کا سب سے بڑا مرکز تھا بلکہ بین الاقوامی شہرت کا بھی حامل تھا جہاں دنیا بھر سے مسلمان طالبعلم آتے اور فارغ التحصیل ہوتے دینی علوم کے تمام درجے مکمل کرکے آپ واپس اپنے شہر کوٹہ یعنی کوئٹہ آئے اور یہاں آپ نے کا سی روڈ کے علاقے میں قیام کرکے مخلوق خدا کی خدمت شروع کرتے ہوئے انہیں دین کی جانب راغب کرنے لگے کاسی روڈ پر جامع مسجد قندھاری کی بنیاد بھی آپ نے ڈالی اور یہاں مسجد قائم کرکے اس کی امامت سنبھال لی۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم انگریز یعنی عیسائی اور ہندو بھی آپ کے پاس آتے اور فیض پاتے۔آپ بڑے بزرک وعالم دین اور خیر خواہ انسان تھے۔حج بیت اللہ کی سعادت بھی متعدد بار حاصل کی۔ 1971 ء فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ اپنے وطن پاکستان پہنچے اور کوئٹہ آگئے اور اسی سال دنیا سے رحلت فرماگئے آپ کو قندھاری مسجد جامع کاسی روڈ میں سپردخاک کیاگیا۔ قندھاری ملاصاب نے حضرت مولانا سیدعبد الحق آغانقشبندی کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی جو کہ افغانستان کے فراہ دلارام سے ہیں۔ آپ کے حوالے سے کافی روایات مشہور ہیں کہتے ہیں کہ ایک بار قندھاری ملاصاب اپنی سائیکل ایک دکان کے باہر کھڑی کرکے اندر گئے ابھی آپ سامان خرید رہے تھے کہ دکاندار نے انہیں متوجہ کیا کہ ملا صاحب ایک شخص آپ کی سائیکل لے جارہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ملا صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے کہا کہ وہ سائیکل چوری نہیں کرسکتے۔ دکاندار نے باہر آکر ایک عجیب منظر دیکھا کہ جیسے ہی چور سائیکل کے قریب جاتا اور اسے ہاتھ لگاتا ہے سائیکل اسے دور پھینک دیتی ہے۔ ایک بار ایک بوڑھی عورت جن کے سرمیں ہمیشہ درد رہتا تھا اس نے کافی علاج معالجہ کرایا لیکن مرض برقرار رہا۔مذکورہ خاتون کے والد بھی ایک مولوی تھے صحتیاب ہونے کے بعد بوڑھی عورت خود قصہ سناتی کہ میرے والد جب مجھے پر دم کرتے تو گھر میں آگ لگ جاتی یا کوئی عذاب آجاتا پھر کسی نے میرے والد کو قندھاری ملاصاحب کا بتایا جب ہم گھر سے نکلے تو میرے سر میں شدید قسم کا درد ہے اور ہم جار ہے ہیں پیر صاحب کے پاس جب پیر صاحب کی خانقاہ پر پہنچے اور ابھی پیر صاحب کے دربار میں حاضرہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سر اچانک ٹھیک ہوگیااور اس کا درد اس طرح غائب ہوا کہ پھر ساری زندگی مجھے سر میں تکلیف نہیں ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ایک بار ایک شخص کو قتل کرنے کے ارادے سے آپ کے پاس آیا اس نے آپ پر بندوق نکال کر تھان لی اور ابھی فائرکرنے والا تھا کہ ملاصاحب نے نظریں اٹھا کر پہلے اسے پھر بندوق کو دیکھا۔ اچانک بندوق اس شخص کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔اس پر کپکپی طاری ہوگئی اور وہ شخص خود قندھاری ملا صاحب کے پاس آیا اس کے ہاتھ چومے اور معافی مانگی آپ نے اسے معاف کردیا۔ یہ اللہ پاک کے حکم سے وہ کرامات ہیں جو اولیاء اللہ کی نسبت سے دیکھنے میں آتے ہیں۔ افغانستان، ایران، ہندوستان اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں قندھاری ملا صاحب کے شاگرد اور مرید بستے ہیں جو ہر سال دور دراز علاقوں سے آپ کے مزار پر آتے اور آپ کے صاحبزادوں سے دعا کراتے ہیں۔ قندھاری ملا کے جانے کے بعد آپ کے بیٹے صاحبزادہ مولوی حاجی جانان نقشبندی (جانا ن آغاصاحب)نے ان کی گدی سنبھالی اور فیض بانٹنے لگے۔ صاحبزادہ جانان کا اصل نام ابو سعید اخندزادہ تھا آپ بھی نقشبندی طریقت سے تھے اورحضرت مولاناسید شمس الحق آغا نقشبندی بن حضرت مولانا عبدالحق آغا نقشبندی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ آپ کے والد صاحب کے جانے کے بعد ان کے مرید آپ سے بیعت کرتے آپ کو لوگ آپ کے والد کے لقب سے قندھاری ملا سے پکار تھے اور آپ جانان آغا عرف سے بھی مشہور تھے۔ صاحبزادہ جانان نقشبندی بھی بڑے کرامات والے بزرگ تھے آپ بھی انسانوں کے خیر خواہ اور ہمیشہ دعوت دین میں مصروف رہے آپ کا انتقال 1998ء میں رمضان المبارک کی آخری رات (چاند رات) کو ہوا۔ صاحبزادہ جانان نقشبندی کے بعد ان کے بڑے بیٹے صاحبزادہ حاجی حمیداللہ جان نقشبندی نے آپ کی گدی سنبھالی آپ بھی نقشبندی طریقت سے ہیں اور لوگ آپ کو آپ کے داد ا قندھاری ملاصاحب یا آغا صاحب کے نام سے پہچانتے ہیں۔ صاحبزادہ حمیداللہ جان کے پیر حضرت مولانا سید عبدالصمد جان آغا صاحب نقشبندی ہیں جو کچلاک میں رہتے ہیں اور صاحبزادہ حمیداللہ جان نقشبندی کوئٹہ میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ آپ کا تعلق جس خانوادے سے ہے ان کے چاہنے والے دنیا بھر میں ہیں اس لئے آپ کے پاس نہ صرف کوئٹہ اور اندرون بلوچستان بلکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک سے بھی لو گ آتے اور اپنے حق میں دعا کراتے ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو
افکار و نظریات: قندہاری ملا صاحب
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں