مزمل سہروردی کے ایک  کالم کا آپریشن

محمد حسن جمالی

چند دن قبل ایکپیرس نیوز کے کالم نگار مزمل سہروردی کا ایک کالم نظروں سے گزرا جسے پڑھ کر تعجب ہوا کہ ہمارے ہاں فکری نابالغ افراد قلمکاری کی دنیا میں تجزیے کے نام سے کس حد تک من گھڑت تاویلات کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، ان کی تحریر کے اہم حصے آپ بھی پڑھ کر ہمارے ساتھ حیرت کی دنیا میں داخل ہوجائیں! وہ شروع میں لکھتے ہیں: ( پاکستان نے ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہے۔اس پر آج کل بحث و مباحثہ ہو رہا ہے بلکہ شاید ایک ایشو بن گیا ہے۔ میری رائے میں اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اتنا برا نہیں تھا، جتنے برے طریقے سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔) یعنی ان کی نظر میں اس اہم کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ہی اشتباہ تھا! جب کہ وہ اس کانفرنس کے اہداف جاننے کی ذرا سی کوشش کرتے تو وہ ہرگز یہ لکھنے کی جرات نہ کرتے پھر وہ لکھتے ہیں کسی کانفرنس میں کسی ملک کا شریک نہ ہونا کوئی بہت بڑا ایشو یا مسئلہ نہیں ہوتا)۔ لگتا ہے محرر کی نظر میں وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی جیسی چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں، اس کے علاوہ پاکستان کی سفارتی سطح پر ہونے والی سبکی اور پاکستان پر سے اٹھنے والا اعتماد کوئی معنی نہیں رکھتے وہ آگے لکھتے ہیں (سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کو عرب ممالک سے اپنے تعلقات کی نوعیت کا اندازہ نہیں تھا؟ کیا ہمیں معلوم نہیں تھا کہ خوشحال عرب ممالک نے اگر کشمیر پر ہمارا ساتھ نہیں بھی دیا تو انھوں نے مشکل اقتصادی حالات کے دوران پاکستان کی غیرمعمولی انداز میںمالی مدد کی ہے۔ کیا ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم ان سے ادھار تیل بھی لے رہے ہیں) ۔ اس سے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ موصوف کی نظر میں مسئلہ کشمیر سے ذیادہ پیٹ بھری کا انتظام اہم مسئلہ ہے، ان کے بقول سعودی عرب نے ہمیں قرضہ دیا، تیل ادھار پر دیا پس ہمیں اس کی پوری اطاعت کرنی چاہئے، اس کا غلام بن کر ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے! جب کہ کشمیر کا ایشو عالمی مسائل میں سرفہرست شمار ہوتا ہے، خصوصا آج کل ظالم مودی حکومت کے کارندے کشمیری اور ہندوستانی مسلمانوں کو طرح طرح کے مظالم کا شکار کرکے دنیا والوں کو حجاج یوسف سقفی اور یزید وآل یزید کے مظالم یاد تازہ کررہے ہیں کیا یہ عوام گمراہی نہیں؟ وہ مذید لکھتے ہیں: (یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ او آئی سی چاہے کمزور ہی سہی لیکن پھر بھی ہم او آئی سی کو چھوڑنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ یہی وہ فورم ہے جہاں سے ہمیں زبانی ہی سہی خارجہ محاذ پر کچھ نہ کچھ مدد ضرور مل جاتی ہے۔۔) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے پر یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ او آئی سی ایک ناتواں پلیٹ فارم ہے، وہ زبانی دعوے سے ہٹکر عملی میدان میں کوئی کارنامہ دکھانے کی سکت نہیں رکھتی، جناب والا جو تنظیم عملا کارنامہ دکھانے سے قاصر ہے اس کے دامن سے متمسک رہنے کا پاکستانی قوم کو کیا فائدہ؟ کیا اسے چھوڑ کر امت مسلمہ کے مفاد میں بننے والی تنظیم کے حوالے سے قائم ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کو شرکت کرکے اپنے حصے کا دیا جلانا دانشمندی نہیں تھا؟ ذراسوچئیے !

آخر میں وہ لکھتے ہیں:

( قوموں کی برادری میں باہمی تعلقات قائم رکھنا ایک آرٹ ہوتا ہے۔ ہمیں ایسی خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کر بھی لیتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا اور اگر نہ بھی کرتے تو تب بھی کسی کو کوئی بات کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ ) مزمل سہروردی کی اس تحریر کو جب میں نے اپنے ایک معتبر گروپ میں تبصرہ کے لئے شئیر کیا تو ہمارے احباب کالم نگار جناب طاہر شہزاد اور جناب سعید راجپوت نے اس پر بہت عمدہ تبصرہ لکھا طاہر شہزاد صاحب کا تبصرہ یوں تھا : رائٹر خود اپنی بات پر شش و پنج کا شکار نظر آرھا ھے اس کالم میں

شاید رائٹر کو کوالامپور سمٹ کی اہمیت کا اندازہ نہیں , جبکہ او-آئی-سی اپنی اہمیت کھو چکی ھو .کیونکہ او-آئی-سی اب بھارت , امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا ترجمان بن چکا ھے – اس لیے ایک نئے بلاک کی ہمیں بہت ضرورت تھی آج کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے . مگر افسوس ہم نے صرف بھیک ملنے کی امید پر اپنے قومی مفادات کو تحس نحس کر ڈالا . افسوس بذدل سپاہ سالارز اور بذدل اور معذور حکمرانوں نے اپنی نا اہلیوں سے قوم کی امیدوں اور خوابوں کے پل توڑ ڈالے جن قوموں کے سپاہ سالارز اور حکمران معذور اور نا اھل ھوں ان قوموں کا مقدر غلامی ھی ھوتا ھے ؟

اور سعید صاحب کا تبصرہ یہ تھا: ہماری خارجہ و داخلہ پالیسی میں بھی اس لئے جان نہیں چونکہ ہمارا قلمکار اور کالم نگار معلومات کے بجائے جذبات و احساسات اور ذاتی تعلقات یا رنجشوں کی بنیاد پر قلم چلاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ متوازن اور معتدل نہیں ہوتا، اسی لئے دانشمند معاشرے کا ددماغ ہوتا ہے جب دانشمند غیر متوازن ہوتا ہے تو معاشرہ ، لوگ اور پالیسیاں سب غیر متوازن ہوتی ہیں۔ یہ کالم بھی ایک غیر متوازن دانشمند کی سوچ کا عکاس ہے۔