بسم الله الرحمن الرحیم

منیجمنٹ اور آخرت

حافظ سید شرافت حسین

انسان کا سب سے بڑا کارنامہ اس وقت ابھر کر سامنے آتا ہے جب انسانی سوچ  میں نظم اور نسق کار فرما ہوتا ہے، انسان پیدایشی   طور پر اپنے ساتھ جو عناصر لے کر آتا ہے Management کے علم کے نقطہ نظر سے انہیں Maslow's hierarchy of needs کہا جاتا ہے ، وہی عناصر  آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں۔

مکتب فکر، مذہب وہی کامیاب ہوتا ہے جو انہی ضروریات کی تکمیل کے لئے کوئی اعلی plan تیار کرسکے جو سماجی تضاد کو گھٹانے میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکے۔مازلو تھیوری کے نقطہ نظر سے انسان کی تیسری بنیادی ضرورت احترام(Esteem) ہے لیکن اسلام کے آفاقی اور عالمگیر مذہب میں اور نبی کریم کے لائے ہوئے پیغامات میں انسان کی پہلی حاجت ، عزت اور تعظیم ہے رسالت ماب کی تبلیغ کے ابتدائی مراحل میں جو چیز اسلام پھیلنے  اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا سبب بنی وہ اسلام کی یہی تھیوری تھی اگر انسان فقر ،مفلسی  اور ناداری کے عروج پر ہو لیکن اسے احترام مسلسل ملتا رہے تو  اس کی روحانی غذا جسمانی بھوک پر بھی  غالب آجاتی ہے۔ نبیؐ کے ہاتھوں میں اسلام قبول کرنے والے افراد کے سبق بھرے معتبر تاریخی واقعات ہر مسلمان کے سامنے ہیں اوریہی  اس دعواے کی  کھلی دلیل بھی ہیں۔

اتفاق ملت اور امت سازی کی کامیابی کا حصول دوسری حاجت یعنی be in the public eye  کی پائمالی سے موصول ہوتا ہے ، معلوم ہوا کہ اتحاد ملت کا نتیجہ احترام میں مضمر ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ عوامی ذہنوں کو جذبہ احترام سے معمور اور خود غرضی اور خود پسندی سے خالی کیا جائے ،یہ احساس بیدار کیا جائے کہ ہمارے کسی بھی فعل اور عمل کا نگران اللہ ہے، وہ سب دیکھ رہا ہے اور انجام کار اسی کے سامنے جواب دہ ہونا ہے، آخرت پسندی کا یہی احساس اسے اس بات پر رضا مندکرے گا کہ وہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کیلئے بڑے سے بڑا نقصان برداشت کرلے اور اس بات پر تیار ہوجائے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا کوئی حکم سامنے آجائے تو ان کی گردنیں جھک جائیں اور وہ سرتابی کی جرأت نہ کرسکے۔

اسی طرح  امت میں اتحاد اپیلیں کرنے سے نہیں بلکہ شعور سے تشکیل پاتا ہے، اتحاد امت کوئی سادہ چیز نہیں کہ وہ محض اپیلیں کرنےسے حاصل  ہو جائے، اتحاد کیلئے بے شمار قربانیوں کی ضرورت  ہوتی ہے۔ مثلا ً رائے کی قربانی یعنی اگر آپ کی رائے مجموعی رائے سے الگ پڑجائے تو انتہائی خوشدلی سے پیچھے ہٹ جانا ، اسی طرح کامیابیوں کی دوڑ میں خود کو پیچھے کرلینے کی قربانی، دوسروں کے مشوروں کو قبول کرلینے کی قربانی۔۔۔

 سماج میں سکون Selfishness خود غرضی کو کم کر نے سے دستیاب ہوتا ہے، حضرت علی ع نے معاشرتی نظم و انصرام کی خاطر 25 سال تک صبر کیا،یہ صبر منیجمنٹ ہی تو ہے۔ آپ  کے اسی کردار نے دنیا کی ساری مادی تھیوریوں کو پاش پاش کر دیاہے۔اصلاح امت کا کام انتہائی مشکل ہے لیکن کسی مفید نتیجے کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں۔

_ارشاد رب العزت  ہے کہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بنا دیتے ہیں جو زمین میں بالادستی (جلوہ گری) اور فساد پھیلانا نہیں چاہتے اور (نیک) انجام تو تقویٰ والوں کے لیے ہے۔   سورہ قصص آیت83_

 


افکار و نظریات: منیجمنٹ اور آخرت