خاندان کی تشکیل

قسط۔۔۲

تحریر: ناصر رینگچن

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔تشکیل خانوادہ نہ صرف ایک جوان کی روح و قلب کو سکون و آرام پہنچاتا ہے بلکہ ایک معاشرے کی تشکیل اور ترقی پر بھی اس کا بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ ازدواج کے ذریعے دو دلوں کے علاوہ کئی خاندان بھی آپس میں مل جاتے ہیں جس کی وجہ سے آپس میں انس و محبت بڑھ جاتی ہے اور ایک مستحکم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔۔۔

 ہم نے گزشتہ مقالہ میں خانوادے کی ضرورت و تشکیل اور ہدف و اہمیت کے بارے میں مقدماتی طور پر بحث کی تھی۔ اس مقالہ میں ہم قارین محترم کے سامنے تشکیل خانوادہ کی اہمیت اور اور حکمت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ تفصیلی بحث کرینگے۔

۱۔ تشکیل خانوادے کی اہمیت

الف)  تشویق تشکیل خانوادہ

باقی مذاہب کی نسبت ہمیں اسلام میں ازدواج کی اہمیت اور اس کی تشکیل کے لئے تشویق زیادہ نظر آتی ہے ۔ چوں اسلام دین فطرت ہے اور حکم خدا انسانی ضرورت و مفاد کے مطابق ہوتا ہے جس میں انسانیت کی بھلائی ہے۔ ازدواج معاشرے کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور جس معاشرے میں ازدواجی نظام صحیح معنوں میں قائم ہوتا ہے وہاں دوسرے معاشروں کی بنسبت خوشحالی، محبت و الفت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے اور معاشرے میں فسق و فجور اور جرائم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لہذا خآنوادہ کی تشکیل سے انفادی و اجتماعی طور پر بہت سے فایدہ موجود ہیں اسی لئے اسلام نے اس کی تاکید کی ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: " چار موقوں پر رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور ان میں سے ایک موقع ازدواج ہے"۔

ایک اور روایت میں پیغمبر اکرم (ص) مسلمانوں سمیت دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " ہر کوئی جو میری دین یا آئین داود و سلیمان و ابراھیم کو تسلیم کرتا ہے، اگر شادی کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ضرور شادی کرے۔"

۔   برکت ازدواج

ازدواج کے برکات میں سے ایک اہم برکت خدا کی طرف سے اجرو ثواب ہے۔ حضرت محمد (ص) فرماتے ہیں: " شادی شدہ مرد کی دو رکعت نماز افضل ہے غیر شادی شدہ شخص کی اُس عبادت سے کہ دن کو روزہ رکھے اور راتوں کو شب زندہ داری کرے۔"

۔   تزویج اولاد

آج کل کے معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض والدین اپنی اولاد کی شادی میں کوتاہی کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ابھی عمر ہی کیا ہے شادی کی، کچھ عرصہ ان کو پڑھنے اور لائف انجوائی کرنے دیجئے پھر آرام سے شادی کر لیتے ہیں۔ اور بعض اوقات شادی میں تاخیر کی وجہ سے بچے غلط راستے پر نکل پڑتے ہیں اور اُس وقت والدین کے پاس افسوس کے سواء کچھ نہیں بچتا۔ اسی حوالے سے آخری پیامبر ص کا فرمان ہے:

"اگر کسی کی اولاد شادی کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ شادی کرانے کی استطاعت رکھتا ہو (لیکن وہ اس کام کو انجام نہ دے) اور اس کی اولاد سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ گناہ اُس کے گردن پر ہے"

پیامبر خدا ص فرماتے ہیں: "جو بھی اپنی بیٹی کے لئے شوہر تلاش کرتا ہے، قیامت کے دن اُسے خداوند تاج شاہی عطا کرے گا"

۔   بیوہ عورتوں کی شادی کرانا

پیامبر خدا ص فرماتے ہیں: "کوئی شخص اگر کسی دو مومن کے لئے راہ ازدواج فراہم کرتا ہے یا اس کے لئے کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ کامیاب ہوتا ہے، خداوند ہزار حورالعین اُس کے لئے خلق فرماتا ہے، ہر حورالعین دُر و یاقوت سے آراستہ ہونگی اور اس راہ پر اٹھنے والے ہر قدم یا ہر کلام  کے بدلے ایک سال کی عبادت جس میں راتوں کو نماز میں گزارا ہو اور دنوں میں روزہ رکھآ ہے لکھ دیتا ہے۔"

قرآن کریم سورہ نور آیہ نمبر ۳۲ میں پروردیگار عالم ارشاد فرماتا ہے:

وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

"اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے۔"

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل ہے کہ "کوئی شخص اگر کسی بیوہ کو شوہر دیتا ہے، وہ اُن لوگوں میں سے ہوگا جن پر روز قیامت خداوند عالم کی خاص نظر ہوگی"۔

۔   شادی نہ کرنے کی مذمت

اکثر لوگوں سے ہم سنتے ہیں کہ شادی کر کے کیا کرنا ہے، شادی کے بعد انسان کی آزادی ختم ہو جاتی ہے، ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، اور ہم نہ اپنی مرضی سے کہیں جاسکتے ہیں نہ آسکتے ہیں، شادی کر کے پچھتانے سے بہتر ہے شادی ہی نہ کرو وغیرہ۔۔

شادی سے کترانے اور تنہا زندگی کرنے کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں حضرت محمد ص فرماتے ہیں: "خدا لعنت کرتا ہے ان مردوں اور عورتوں پر جو مجرد (سنگل) ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کرینگے۔"

ایک اور جگہ پر پیغمبر ص سے حدیث نقل ہوئی ہے جس میں آپ ص فرماتے ہیں: " کوئی شخص اگر شادی کی استطاعت رکھتا ہو اور شادی نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔

ب)  حکمت تشکیل خانوادہ

۔   تسکین روحی و روانی

جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا مرد و عورت ہر ایک ذاتی طور پر ناقص ہے اور مکمل ہونے کے لئے ایک دوسرے کے محتاح ہیں۔ خداوند متعال نے انسانوں کی خلقت کو اپنی قدرت کی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اور یقینا صاحب عقل کے لئے یہ بڑی نشانی ہے۔ اسی بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔ روم - الآية 21

"اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) تسکین حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔"

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا۔۔۔

"وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔۔۔"

کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں امام صادق علیہ اسلام سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں امام حضرت آدم و حوا کی خلقت کے بارے میں فرماتے ہیں اس حدیث کا خلاصہ کچھ یوں ہے: "جب خدا وند عالم نے آدم کو مٹی سے خلق فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔۔۔ اُس وقت حوا کو خلق فرمایا۔۔۔ جب آدم کی نگاہ حوا پر پڑی تو دیکھا کہ زیبائی اور شکل شمائل میں خود جیسی ہے مگر وہ مادہ ہے۔ آدم نے حوا سے بات کی اور حوا نے بھی اُنہیں کی زبان میں جواب دیا، آدم نے پوچھا کون ہو تم؟ جواب دیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میں مخلوق خدا ہوں خدا نے مجھے خلق فرمایا ہے۔

اسی لمحہ حضرت آدم نے خدا سے سوال کیا کہ خداوندا یہ جو خوبصورت مخلوق میرے کنارے بیٹھی تھی جو میرے لئے اُنس کا موجب بنی کون تھی؟

پروردگار عالم نے فرمایا: اے آدم یہ حوّا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ یہ ہمشہ تمہارے ساتھ ہمدم و ہم خواہ بن کے رہے اور تمہارے دستورات پر عمل کرے؟

آدم نے ہاں میں جواب دیا اور فرمایا جی میرے مالک، جب تک میں زندہ ہوں میں آپ کا شکرگزار رہوں گا۔"

امام علی علیہ اسلام سے ارشاد ہوا ہے: "تین چیزیں اُنس کا ذریعہ ہے، اچھی بیوی، نیک اولاد اور دوست"

۔   اخلاقی و اجتماعی فساد سے روک تھام

ازدواج اخلاقی و اجتماعی فساد و فتنہ کو روکتی ہے۔ کیونکہ معاشرے میں رونما ہونے والی برائی اور فسق و فساد میں سے اسی (۸۰) فیصد کا تعلق نفسانی خواہشات سے ہے۔ جب انسان اپنے نفس پر کنٹرول کھو دیتا ہے اور ہوس پرستی کی جانب گامزن ہوجاتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت شیطان کا بہترین دوست اور ساتھی بن جاتا ہے اور وہ شخص آسانی کے ساتھ اسلامی حدود کو پامال کردیتا ہے۔ اسی لئے روایت میں نقل ہوا ہے کہ جب کوئی جوان شادی کرتا ہے تو شیطان کی چیخ نکل جاتی ہے کیونکہ شادی کے ذریعے وہ جوان اپنے نصف ایمان کو محفوظ کر لیتا ہے اور اخلاقی و اجتماعی برائیوں سے اپنے آپ کو بچالیتا ہے۔

 پیغمبر اسلام ص سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ فرماتے ہیں: "جس کسی نے بھی شادی کی گویا اس نے نصف ایمان کو محفوظ کر لیا، باقی نصف کے لئے تقوی الہی کو اختیار کرے۔"

قرآن کریم سورہ بقرہ آیہ ۱۸۷ میں خداوند متعال فرماتا ہے: "وہ (عورتیں) تمھارے لئے پردہ پوش ہیں اور تم ان کے لئے"

 

۔   دین اسلام کی اشاعت

خداوند عالم انسانوں کے ہی صلب سے انبیاء و صالحین کو خلق فرماتا ہے، انسانوں ہی کی نسل سے ایسی پاک و پاکیزہ ہستیاں اور خدا کے مقرب و محبوب لوگ دنیا میں آتے ہیں جو خدا کے نام کو اور خدا کے دین کو انسانوں تک پہنچاتے ہیں اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعات کی ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں، ان سب کے وجود میں آنے کا ایک سبب ازدواج ہے۔ قران کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

 "اللہ نے آدم، نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو منتخب کرلیا ہے۔ یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور جاننے والا ہے۔ " (سورہ ال عمران، ۳۳-۳۴)

حدیث پیغمبر خدا ص ہے کہ فرماتے ہیں: "ایک مرد مومن کے لئے شادی کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ شاید پروردیگار عالم اُس کے لئے ایسی ااولاد عطا کرے جو زمین کو لا الہ الا اللہ سے بھر دے۔"۔۔۔۔۔۔ جاری


قسط ایک پڑھنے کیلئے کلک کریں