نظریہ ارتقاء اور مذہبی ردعمل ۲

دوسری اور آخری قسط   

میم ۔ نون ۔ خان

اگر اس موضوع پر ہم اپنی پہلی تحریر کا خلاصہ کریں تو یہ تھا کہ نظریہ ارتقاء یا تکامل ممکن ہے درست ہو، لیکن اس سے سوئے استفادہ کرنے والے منکرین خدا جو نتائج نکالتے ہیں وہ نتائج چونکہ علمی منطقی فلسفی اعتبار سے غلط ہیں اس لیے ان نتائج کو قبول نہیں کیا جا سکتا موجودہ تحریر میں ہم نظریہ تکامل کے اثبات میں فلسفہ ، سائنس، قرآن و حدیث سے ادلہ پیش کریں گے ، لیکن پہلے پچھلی تحریر میں ایک پوائنٹ  فاقد شئی معطی نہیں ہو سکتا پس نیچر جو فاقد حیات ہے کیسے حیات دے سکتی ہے  اس پر ایک دوست کا علمی لیکن سادہ اعتراض اور اپنا جواب عرض کرنا چاہوں گا،اسکا کہنا ہے کہ جس طرح گاڑی اور اسکے تمام پرزہ جات، انجن، پیٹرول وغیرہ ان سبکے اندر بذاتہ حرکت موجود نہیں ہے لیکن یہ سب جب مل جاتے ہیں تو حرکت کو ایجاد کرتے ہیں،اسی طرح تمام مواد اولیہ اور مادہ میں خود حیات نہیں لیکن جب یہ تمام مواد اولیہ آپس میں مل گئے تو حیات وجود میں آ گئی،ہم نے عرض کیا کہ یہ مواد اولیہ مادہ گیسز وغیرہ کس نے بنائی، کس نے انکو اکھٹا کیا اور انکے اندر یہ طاقت رکھی کہ جب یہ ملیں تو حیات ایجاد ہو جائے، جس نے یہ کام کیا وہی خدا ہے ،اگر غور کیا جائے تو ملحدین کے خدا کو انکار کرنے کی ایک وجہ علت کا درست معنی نہ سمجھنا ہے، آپ غور فرمائیں:🤔

 علت کے 4 بڑے معانی  ہیں

1️⃣ فاعل یا بنانے والے کے بغیر کسی چیز کا وجود میں آنا یعنی علت فاعلی کا انکار،

2️⃣ فاعل یا بنانے والا تو ہے لیکن فاعل نہ تو کوئی شعور رکھتا ہے نہ ہی مقصد  یعنی کسی چیز کا وجود میں آنا بغیر علت غائی ( شعور و ہدف) کے  جیسے پہاڑ کی چوٹی سے پتھر کا گرنا۔

3️⃣فاعل یا بنانے والا بھی ہے با شعور بھی ہے لیکن ہدف نہیں رکھتا تھا جیسے اچانک پہاڑ کھودتے ہوئے خزانے کا مل جانا۔

4️⃣ ایک اچھے انسان سے اچانک کسی برے فعل کا انجام پانا، یہاں منکرین خدا سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ علت کے پہلے اور دوسرے معنی کو آپس میں خلط یا ملا دیتے ہیں،وہ کائنات میں تمام ہونے والے واقعات کو دوسرے معنی یعنی ہدف وشعور کا نہ ہونے کو لیتے ہیں زمین سورج چاند سب گھوم رہے ہیں بغیر شعور و ہدف کے جیسے پہاڑ کی چوٹی سے بغیر شعور و ہدف کے پتھر گرتا ہےجبکہ کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس لیول پر (یعنی علت کا شعور و ہدف نہ ہونے) کو مان بھی لیا جائے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس سے اوپر والی سطح یعنی علت فاعلی( خدا ) بھی ہدف نہ رکھتا ہو ، اگر نیچر ہدف نہیں رکھتی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ نیچر کو بنانے والا بھی ہدف و مقصد نہیں رکھتا ،اسی طرح اگر تصادف کو مان بھی لیا جائے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ تصادف کرنے والا نہیں ہے،اگر منکرین خدا کی یہ بات قبول بھی کر لی جائے کہ جہان میں موجود علت مادی بغیر غایت، ھدف، علم و شعور کے سب کچھ کام کر رہے ہیں یعنی سورج اپنا سارا کام کر رہا ہے لیکن اسکو پتہ نہیں کہ کیا کر رہا ہےتو اسکا نتیجہ بھی خدا یا خالق کا انکار نہیں نکلتا، کیونکہ ممکن ہے کہ خدا نے انکو ایسا بنایا کہ یہ بغیر شعور کے سب کچھ کر رہے ہیں، جیسا کہ جب آپ قلم کے ساتھ لکھ رہے ہیں تو ممکن ہے کہ قلم کاغذ و سیاہی کو شعور نہ ہو کہ کیا کر رہے ہیں لیکن آپ لکھنے والے کو علم و شعور ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے  🎯

پس یہاں بھی آپکی دلیل اخص از مدعا یعنی آپکی دلیل جہان مادی میں شعور کا نہ ہونا آپکے دعویٰ خدا کے نہ ہونے کے مطابق نہیں ہے،اب آئیے نظریہ تکامل کی تائید میں موجود سائنسی فلسفی قرآنی و حدیثی دلائل کو دیکھتے ہیں:

      🔥   نظریہ تکامل کے دلائل   🔥

1️⃣ نظریہ تکامل کے  4  بنیادی اصول ہیں اور تکامل پر محکم ترین دلیل بھی جسکو رد کرنا دنیا کے کسی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں

1 -  انتخاب طبیعی selection  💯

جسکی ملموس مثال ایک پتنگا (moth) کی دی جاتی ہے کہ اس کا رنگ پہلے سفید تھا لیکن یورپ میں صنعتی انقلاب کیوجہ فیکٹریوں کے دھوئیں کیوجہ سے جب درخت سیاہ میلے ہو رہے تہے تو اس سفید پتنگا کی تعداد ختم ہونے لگی کیونکہ انکو آسانی کے ساتھ دوسرے پرندے سیاہ درختوں پر پہچان لیتے اور کھا جاتے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد سیاہ رنگ کے پتنگے سامنے آ گئے جو کہ دراصل وہی سفید پتنگے تہے جنہوں نے طبیعیت کے مطابق اپنے آپکو دوسرے رنگ میں بدل لیا۔

2 -  وارثت inheritance  جو کہ جینز کے ذریعے پہلی نسل کی خوبیاں اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہیں

3 -  تبدیلی یا دگرگونی variation

4 -  زمان time

 یہ سب کچھ ایک لمبے عرصے لاکھوں سالوں میں ہوا،

مثلا آپ احباب کو سمجھانے کیلئے عرض ہے کہ چونکہ انکے مطابق حیات کی ابتدا سمندروں کی تاریکیوں میں موجود پانی سے ہوئی جہاں 1 سلول مخلوق وجود میں آئی جو آھستہ آھستہ مچھلی اور پھر یہ مچھلی تاریکیوں سے سمندر کی اوپر والی سطح یعنی روشنی کی طرف حرکت کی اسکے بعد ساحل سمندر کی طرف اور ساحل سے خشکی کی جانب، 🐟

اب پانی سے خشکی کا سفر اس طرح طے ہوا کہ سب سے پہلے ایک مچھلی نے خشکی کی جانب حرکت کی تو اتفاقی طور پر 1 سیکنڈ کے لیے خشکی پر آئی اور پھر واپس چلی گئی  اسکے اندر یہ قوت پیدا ہوئی کہ 1 سیکنڈ کیلئے خشکی پر رہ سکتی تھی اسکے بعد والی نسل 5 سیکنڈ، نسل بعدی 10 سیکنڈ اور یوں نسل در نسل سلسلہ جیننز کے ذریعے وارثت میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ مچھلی کی ایک خاص قسم اپنی غذا حاصل کرنے کیلئے ایک دن تک خشکی پر رہنے کے بعد پانی میں جانا شروع کیا، یوں نسل در نسل سلسلہ چلتا رہا اور ایک ایسی مخلوق وجود میں آئی جو خشکی اور پانی دونوں جگہ رہ سکتی تھی جیسے آجکل مگرمچھ یا سانپ 🐊🐍 دونوں جگہ رہ سکتے ہیں پھر آھستہ آھستہ فقط ایک جگہ خشکی کے ساتھ مخصوص ہو گئی

2️⃣  انفجار عظیم ( Big bang)  جو کہ ایک پاور فل ذرہ سے شروع ہوا اور مسلسل وسعت کثرت، تنوع اور تکامل کی طرف بڑھ رہا ہے

اگرچہ کچھ مسلمان قرآن کی آیت وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا  لَمُوسِعُونَ   سے بھی اسکی تائید لیتے ہیں دوسری جانب اگر ہم حرکت جوھری کے نظریہ کو دیکھیں تو کافی زیادہ اس سے مشابہت ملتی ہے کہ اصل عالم ہیولا واحد سے شروع ہوا حرکت کیوجہ سے مسلسل کثرت تنوع اور تکامل کی طرف حرکت کر رہا ہےاگرچہ big bang اور حرکت جوھری مکمل طور پر ایک نہیں ہیں لیکن مشابہت ہے

3️⃣  فاسلز سے شواہد  💯

 انسان سے پہلے انسان ہی کی طرح کی مخلوق( نیندرتھال ) کے فاسلز ڈھانچے دنیا کے 40 مختلف مقامات سے مختلف ممالک کے سائنسدانوں کو مل چکے ہیں

 بدن کی ساخت کا علم anatomize

زمین پر رہنے والی من جملہ انسان میں بعض ایسی چیزیں جنکی ہمارے بدن میں تو کوئی خاص ضرورت نہیں لیکن مچھلی کیلئے اسکا ہونا واجب ہے یا انسانی بعض اعضاء جیسے سامنے کے دونوں اطراف میں چوتہے بڑے دانت(کینائن دانت) جو گوشت چبانے کیلئے آج بھی چیتے بلی میں واضح موجود ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسان گوشت خور تھا انسان کی دم  ریڑھ کی ہڑی کے آخری 4 مہرے انسانی دم کی باقیات ہیں، کان کا ابھار  جو آج فقط 10 فی صد انسانوں میں باقی ہے جبکہ بندروں میں آج بھی واضح موجود ہے 🐒

  پتھروں کی تہہ در تہہ بستر Bed rock ledge  سب سے نیچے 1 سلول اسکے اوپر چند سلول پھر ایک جگہ رہنے والی مخلوق مچھلی پھر اسکے اوپر دو جگہ پانی خشکی میں رہنے والی مخلوق مثلاً مینڈک پھر پرندہ کے فاسلز کے ننشان اس طرح ملے ہیں کہ تکامل کو رد کرنا ناممکن ہے۔

4️⃣  مختلف براعظموں میں مختلف حیاتیاتی سسٹم  💯

اس جہان میں اگرچہ ایشیا یورپ آفریقہ آپس میں ملیں ہوئے ہیں لیکن  آسٹریلیا، مڈاگاسکر یا امریکہ کو دیکھیں جو ان سے جدا ہیں تو وہاں ہم ایسا حیاتیاتی سسٹم ملتا ہے جو باقی جگہوں پر نہیں مثلاً ایسے جانور جو پستان دار بھی ہیں اور انڈے بھی دیتے ہیں، پس ہر جگہ طبیعیت کے مطابق تکامل ہوا

         🌷  دلائل قرآن و حدیث  🌷

1️⃣  إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ  ✅

جس طرح ابراہیم اور آل عمران کو مثلاً ہزاروں افراد میں سے منتخب کیا اسی طرح آدم کو بھی ہزاروں میں سے انتخاب کیا.

2️⃣  وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ  ✅

نظریہ تکامل بھی مخلوق کی ابتداء پانی سے کرتے ہیں

اور یہاں کچھ معترضین کے اس اعتراض کا بھی جواب آ جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں 75 فی صد پانی 20 فی صد کاربن آکسیجن ہائیڈروجن آئرن وغیرہ جبکہ مٹی تو شاید  5 فی صد بنتی ہے جبکہ قرآن نے کہا کہ ہم نے آدم کو مٹی سے بنایا، کیونکہ قرآن نے مٹی کے ساتھ ساتھ پانی کا ذکر بھی کیا جو کہ 75 فی صد ہے

3️⃣  قَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً   ✅

اطوار یعنی مرحلہ بالاتر، آپکی خلقت کے اطوار تہے مرحلہ بہ مرحلہ، پہلے والے مرحلہ سے بعد والا مرحلہ کامل تر ہے

1️⃣ امام محمد باقر خصال شیخ صدوق جلد 2 صفحہ 159

خداوند نے جب سے زمین بنائی سات دورہ مخلوق کو خلق کیا جو انسان تہے علم و شعور رکھتے تہے درحالیکہ فرزندان آدم نہیں تہے خداوند انکو پوست زمین سے ہی پیدا کیا انکو زمین میں ساکن کیا ایک کے بعد دوسرے کو پھر اسکے بعد آدم کو بنایا جو کہ موجودہ انسان کے باپ ہے. 🌹

2️⃣  تفسیر قمی جلد 1 صفحہ 36 امیر المومنین نے فرمایا کہ خداوند نے 7000 سال بعد از جن و نسناس ( Homo neanderthalensis

  ) موجودہ انسان حضرت آدم کو خلق کیا 🌷

یہاں یہ تذکر دینا لازمی سمجھتا ہوں کہ ایسا قطعا نہیں کہ دین مکمل طور پر نظریہ تکامل کی تائید کرتا ہے اور ان آیات و روایات کی تفسیر کسی دوسری طرح ممکن نہیں،

بلکہ عرض یہ ہے کہ جس طرح نظریہ تکامل کے حق میں موجود آیات و روایات کی کسی دوسری طرح تاویل کرنا ممکن ہے اسی طرح نظریہ تکامل کی مخالفت میں موجود آیات و روایات کی کسی دوسری طرح تفسیر کرنا ممکن ہے

البتہ ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ نظریہ تکامل اور دین کے درمیان تساوی کی نسبت ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ خواہ مخواہ اس نظریہ کو شجرہ ممنوعہ نہ سمجھا جائے افراط و تفریط نہ کیا جائے، اگر ملحدین ارتقاء سے غلط نتائج نکال کر زیادتی کرتے ہیں تو دوسری طرف کچھ دیندار افراد بھی بغیر کسی دلیل قطعی برھانی عقلی و نقلی کے اس نظریہ کے مخالفت کرتے ہیں ، ہاں یہ درست ہے کہ بعض دینی منابع تکامل کی نفی کی جانب ظہور رکھتے ہیں لیکن اگر بعض دوسرے دینی ادلہ کو دیکھیں تو تائید بھی ممکن ہے 🤷‍♂️

سب سے اہم بات یہ کہ اس نظریہ کی خواہ مخواہ مخالفت بُرے آثار رکھتی ہیں کیونکہ دنیا میں مختلف ملکوں، ملتوں، ادیان و مذاہب کے منانے والے ہزاروں سائنس دان جب بغیر تعصب کے خالص علمی بنیادوں پر جب اس نظریہ کو درست سمجھتے ہیں اور پھر کسی مذہبی لیڈر سے سنتے ہیں کہ دین نظریہ تکامل کو باطل سمجھتا ہے تو یہ سائنس دان ان مذہبی افراد یا حتی دین کو باطل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں

💯  فلسفی اعتبار سے تکامل یا ارتقاء

اب آخر میں ہم اگر فلسفی اعتبار سے دیکھیں تو ارتقاء اور تکامل کے نزدیک مطالب ملتے ہیں جیسے حکمت متعالیہ کے مطابق ہر مرتبہ بالاتر نیچے والے مرتبہ کیلئے روح ہے اور ہر نیچے والا مرتبہ اوپر والے کیلئے جسم ہے بدن مثالی اگرچہ خود جسم ہے لیکن بدن مادی کیلئے روح ہے عالم مادہ بدن عالم مثال جبکہ عالم مثال روح عالم مادہ ہے،

 یعنی حرکت جوہری کے مطابق ہر مرتبہ جو فعلیت میں تبدیل ہوجاتا ہے وہ مرتبہ بعدی کے لئے مادہ واقع ہوجاتا ہے اور جب یہ مرتبہ فعلیت میں تبدیل ہوجاتا ہے پھر یہی مرتبہ بعدی کے لئے مادہ قرار پاتا ہے۔اسی طرح سے حرکت جوہری اپنا سفر تکامل طی کرتی ہے۔ البتہ جسم شی کبھی روح نہیں بنتا بلکہ روحِ اشیا ابتداۓ خلقت مادی ہوتی ہے اور حرکت جوہری کی برکت سے تجرد کی طرف ارتقا کرتی ہے۔

ہاں البتہ ملاصدرا اور امام خمینی کی مطابق جسم مادی انسان بھی تکامل کرتا ہے اور اسی مادی جسم کے باطن میں اس جسم کی ارتقاٸی و تکاملی شکل و صورت یعنی جسم برزخی موجود ہوتا ہے اور بدن بزرخی کا تکاملی و ارتقاٸی مرتبہ بدن اخروی ہے۔

پہلی قسط کیلئے کلک کریں

┏━━━━━━ ✨✨✨✨━━━━━━┓

Meemnonkhan@gmail.com

          🌷  989125121412    🌷