ریاستی کردار اور رحجانات 

آغا سفیرحسین کاظمی 

قارئین !قلم کی کاٹ تلوار کی دھار سے بھی تیز ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ اس لئے ’’بہت احتیاط‘‘کی تاکید کی گئی ہے ۔ صاحب بصیرت و نظرلوگ ہمیشہ کہتے ہیں ’’بات تمیزسے اعتراض دلیل سے کرو‘‘ یہاں تک کہا گیا ہے ’’مسلمان وہ ہے جسکے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہوں ‘‘ایک اور مقام پر وارد ہوا ’’زبان ایسا درندہ ہے جسے کھلاچھوڑ دیا جائے تو یہ پھاڑکھائے ‘‘ایک مقام پر خاتم المرسلین ،رحمۃ العالمین صحابہ کرام سے گفتگو فرما رہے ہیں کہ دو چیزوں کی ضمانت تم دو ،جنت کی ضمانت میں (محمد)دیتا ہوں ،صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ کون سی دو چیزیں ۔ ۔ ۔ فرمایا ایک وہ جو تمہارے جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان ،اور دوسری تمہارے ٹانگوں کے درمیاں یعنی شرمگاہ ۔ ۔

آج ہم جس دور پُر فتن میں جی رہے ہیں یہاں صرف دوسروں کو مسلمان بنانے کا رحجان ہے ،اور خود بمطابق دین و انسانیت کیسی زندگیاں گزاری جارہی ہیں ،دیکھنے کاتکلف نہیں کیا جاتا ۔

جب بھی دماغ تعصب و تنگ نظری ،شر و شرارت میں مُبتلا ہوگا،جب بھی انھی تعصبات میں ڈوبا قلم حرکت میں آئیگا ۔ نفرتوں و کدورتوں کو ہی ہوا ملے گی اوریہی فطرت کا اُصول ہے’’ابھی گزرے کل ہی کی بات ہے کہ ایک بگڑے ہوئے قلمکار نے کسی کی خوہش پر ایسی خبرسازی کی جس میں اہل تشیع مسلک کے مالیاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

شاید آج کئی اخبارات میں مذکور ہ خبر نما خواہش شاءع بھی ہوچکی ہوگی‘‘قبل ازیں بھی ایسی مشقت دیکھنے میں آتی ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر’’ریاست کہاں ہے تعصب کو کوئی نام دیا جائے مگر ہوتا تو ایک چنگاری ہے جسے شعلوں میں بدلنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے ریاست صرف انتخابی سیاست کی فیوض و برکات نے یرغمال بنادی ہوتو اور بات ۔ ۔ ورنہ ایسی کوئی بھی خبر سازی ،جس سے کسی نوعیت کے تعصب و تنگ نظری ،شروشرارت کو ہوا ملتی ہو ۔ روکنا ’’ریاست ‘‘کی اولین ذمہ داری ہے ۔

اور اگر متعلقہ چینل صرف وقتی حاکمیت کی ضرورتوں کی جانب متوجہ رہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ ’’دانستہ یا نادانستہ‘‘جو کچھ بویا جائے وہی کاٹنا پڑتا ہے فرق اتنا ہے بونے والے کسی خاص مائنڈ سیٹ سے متعلق ہوسکتے ہیں ۔ مگر کاٹنے والوں میں پوری ریاست ہوتی ہے ۔ اس لئے ایک ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ حساس کہلانے والے معاملات کو اپنے طریقے سے دیکھے ۔

چہ جائیکہ ’’کسی کو اُٹھانے ،کسی کو گرانے‘‘کا کھیل پروان چڑھتا رہے ۔ تمام مسالک میں گروپ بندیاں ہیں کچھ ظاہری علامتی ،اور کچھ بظاہر نظر نہ آنیوالی ۔ ۔ لیکن کیا ایک دوسرے کو اگر کچھ لوگ پسند نہین کرتے ، ۔ یا اُنکے مفادات کے ٹکراءو نے ’’اندھا ‘‘کردیا ہے ۔ صورت کوئی بھی ہو ۔ یہ حق تو بہرحال کسی کو حاصل نہیں کہ وہ ’’ذاتیات‘‘ میں مسالک اور اجتماعیت کا لبادہ اوڑھ لے ۔ 

میرا بھی ایک مسلک ہے ،میرا بھی ایک عقیدہ و نظریہ ہے ،میرا بھی ایک قبیلہ ہے ۔ میری بھی ایک سیاسی وابستگی ہوسکتی ہے ۔ میرے بھی سماجی تعلقات ہیں ۔

سب کچھ ویسے ہی ہے جیسا کسی دوسرے کا ہوسکتا ہے ۔ لیکن میرا مسلک ،میرا قبیلہ ،میرا نظریہ ،میری سوچ ،میرا اپنامعاملہ ہے ۔ جو دین اسلام کے تصور ’’اجتماعیت‘‘کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوتے ۔ ایک قلمکار کو سب سے زیادہ دینی و ایمانی ،اخلاقی و سماجی اقدار و تقاضوں کو شعار بنانا چاہیے کہ ایک بگڑا ہوا قلمکار’’اجتماعیت‘‘کوناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتاہے ۔ اور اُسکا کردار( سماج کی کشتی میں ) سوراخ کرنیوالے کی مانند ہے ۔ اور معمولی ساسوارخ ہوتو کشتی میں پانی بھر جائیگا ۔ اسوقت جو مسلکی سوچ کا اظہار ہورہا ہے ۔

اظہار کرنیوالے عام سہی ،مگر جو خاص یعنی جید علمائے کرام ہیں ۔ وہ تاریخ اسلام سے منسلک تمام واقعات و جہت سے بخوبی آشنا ہیں ۔ اور اُنھیں ادراک ہے ۔ کہ کس معاملہ میں کیا صورتحال ہے ۔ لیکن ا’صول اور فروع کے معاملات میں علمی کردار ،فکری اعتدال و توازن کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ کسی دھونس ،دباءو ،شرو شرارت کی ۔۔ ۔ کیونکہ جب تکلیف ہوتی ہے تو کسی مذہبی مسلکی و دوسرا امتیاز سے قطعی نظر دُنیا کا ہر انسان ایک جیسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔

اس لئے ’’پُرامن معاشرے ‘‘کا بھرم ٹوٹنا نہیں چاہیے ۔ ظاہر ہونیوالے روئیے اجتماعیت کے تصور اور سماج کی کشتی میں سوراخ کی مانند نہیں بننے چاہیءں ۔ کیونکہ قدرت کا اُصول ہے کہ کشتی تب تک ہی محفوظ رہتی ہے جب وہ پانی پر رہے ۔ جب پانی کشتی میں چلا جائے تو کشتی ڈوبنے لگتی ہے ۔ اور اگر ہمارا’’پُرامن ماحول و معاشرے‘‘کا بھرم ٹوٹ گیا تو بتانے کی ضرورت نہیں کہ نتاءج کیا ہوسکتے ہیں ۔ مجھے حیرانگی ہے اس بات کی ۔ ۔ کہ کس طرح اب بے ساختہ و بے لگام ’’خبر سازی ‘‘کا رحجان تقویت پانے لگا ہے ۔ 

یہاں آزادکشمیر میں کسی بھی مذہبی مقام کو نشانہ بنائے جانے کی پہلی مکروہ حرکت سے متعلق کچھ تفصیلات کیساتھ آگے بڑھنا ہے تاکہ منزل تک پہنچنا آسان ہوجائے ۔ ۔

یہ’’2009کی بات ہے ،شب عاشور ہے ،اُسوقت تقریباََدوہزار عزادار امام بارگاہ ،احاطہ اور باہر موجود ہوتے ہیں ۔ کہ اچانک’’سکیورٹی حصار‘‘کی موجودگی میں ایک طرف سے ایک مشکوک شخص امام بارگاہ کی طرف بڑھتا ہے ۔ جسے وہاں موجود رضاکار +پولیس اہلکار چیکنگ کےلئے روکتے ہیں کہ وہ ’’دھماکے‘‘سے پھٹ جاتا ہے ۔ جسکے نتیجے میں متعدد جانیں ضاع ہوتی ہیں ۔

متعدد زخمی ،جن میں (بعدازاں ) عمر کےلئے معذوری کا شکار ہونیوالے بھی شامل ہوتے ہیں ۔ دھماکے کے ساتھ ہی پورا علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے ۔ امام بارگاہ انتظامیہ گیٹ بند کروادیتی ہے ۔ تاکہ کوئی باہر جائے نہ اندر آسکے ۔ لیکن اسی اثناء میں عزاداروں کا جم عفیرسی ایم ایچ روڈ پر نکل آتا ہے ،جو دہشتگردی کیخلاف سخت نعرے بازی کررہا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ دھماکے کی آوازکیساتھ ہی داعی اتحاد بین المسلمین مفتی کفایت حسین نقوی اپنی رہائشگاہ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ،افراتفری کا عالم ہے ۔

اور گیٹ سے باہرموجود اکابرین مفتی صاحب کو باہر نکلنے سے روکتے ہیں ۔ جناب مفتی کفایت حسین نقوی صاحب سخت متفکر اور اضطرابی کیفیت میں کہتے ہیں دیکھو مجھے باہر جانا ہے کیونکہ یہ وقت بہت نازک ہے ۔

کہیں ایسا نہ ہوکہ ’’کوئی شرپسند‘‘عزاداروں کے غم و غصے اشتعال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ’’تشدد،جلاءو گھیراءو‘‘کی راہ پرڈال دے ۔ یاد رکھو یہ شہر ،یہاں کے مکین ہمارے اپنے ہیں ،کہیں ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹنا چاہیے ۔ اس بات پر اکابرین یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم آپکا پیغام عزاداروں تک پہنچادیتے ہیں ۔ اور ایسا کچھ نہیں ہوگا  چنانچہ آزادکشمیر میں کسی مذہبی مقام پر ہونیوالی انوکھی واردات (خودکش دھماکے)کے بعد شہر میں کہیں ایک شیشہ تک نہیں توٹتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسی سانحہ سے منسلک دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ ’’دھماکے کی خبر پھیلتے ہی راقم کو سب سے پہلے صحافی دوست واحد اقبال بٹ صاحب کی کال آتی ہے ۔ اور وہ خیریت دریافت کرتے ہیں کیونکہ دھماکے سے پہلے راقم بھی انھی سے ملتے ہوئے امام بارگاہ کی طرف آیا تھا ۔ بٹ صاحب کا دوسرا سوال ’’کیا نقصان ہوا‘‘ تصاویر بنائی ہیں ٹانگہ اسٹینڈ آیا تو دکھاءوں گا ،ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

میں نے جواب دیا ۔ ۔ ۔ اچھا ہم آپکا انتظار کرتے ہیں ،بٹ صاحب نے جواب دیا ۔ اس طرح تقریباََایک گھنٹے کے بعد خود کش دھماکے سے متعلق تصاویر اور تفصیلات کیساتھ ٹانگہ اسٹینڈ پہنچتاہوں ۔ اگلے دن شاءع ہونیوالے قوی و ریاستی اخبارات میں لیڈ سے لیکر سنگل کالمی خبروں کاواحد ذریعہ تھا ۔

کہیں بھی کوئی ایک لفظ ایسا نہیں ہوتا جس سے مسلکی تعصب ،تنگ نظری کی جھلک ملے ۔ بطور قلمکار تمام کوریج کرتے ہوئے اس امر کا احساس تھا کہ معمولی سی تنگ نظری کانتیجہ کیا ہوسکتا ہے ۔ واقعہ کے بعد کئی ہفتوں تک ہر طبقہ و حلقہ کی نمائندہ شخصیات;47;علمائے کرام بھی’’اظہار یکجہتی ‘‘کےلئے مرکزی امام بارگاہ آتے رہے، میں یہاں یہ بات خصوصی طور پر کرنا چاہوں گاکہ اگر بین المسالک ’’رواداری ،تحمل ،باہمی احترام‘‘کو فروح دینا ہوتو جو بات بند کمرے میں کی جائے ،وہی بات بڑے مجمعے میں بھی ہو تب ’’مثبت روئیے‘‘پروان چڑھتے ہیں ۔

میں نے اپنے بزرگوں زعیم ملت مفتی کفایت حسین نقوی ، بزرگ رہنماء سید شبیرحسین بخاری ،میجر(ر)بشیرحسین کاظمی،مخدوم لیاقت حسین نقوی سید نذیرحسین نقوی سمیت جُملہ اکابرین کو کبھی بند کمرے میں ایسی گفتگو کرتے نہیں پایا جس میں کسی دوسرے مسلک کیخلاف نفرت جھلک رہی ہو ۔ اگربند کمروں میں اور بات اور باہر مجمعے میں اور بات کی جاتی ۔ اس تضاد کا نتیجہ ’’شب عاشور دھماکہ‘‘کے بعدجلاءو گھیراءوکی شکل میں لازمی ظاہر ہوتا ۔ لیکن سب کیساتھ مل بیٹھ کر’’امن و استحکام‘‘کو لاحق خطرات کے مقابلے سے ’’باہمی اعتماد و یقین‘‘سے آگے بڑھنے کے عزم اک اعادہ ریاستی تاریخ کا حصہ بن چکا ۔ ۔ ۔ 

دوسرا واقعہ: وزیراعظم ہاءوس مسجد کے(سابق) خطیب مولانا کس مسلک سے تعلق رکھتے تھے;جانتے ہوئے بھی ایک ایسے وقت مییں رب کریم نے مجھے اُنکا وسیلہ بنادیا ۔ جب وہ سخت مشکل میں تھے ۔ پورے اخلاص کیساتھ اُنکے لئے حاضر رہا اور میرا مسلک آڑے نہیں آیاکیونکہ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ شیعہ سنی مسلکی اختلافات کا تعلق عقیدہ سے ہے جو چودہ سو سال سے موجود ہیں ۔

مگر یہ اختلاف ہ میں ’’اچھائی‘‘سے نہیں روکتے ۔ اُس دوران صورتحال سے واقف میرے بہترین دوست عبدالحکیم کشمیری صاحب نے مولانا کےلئے میرے سلوک کو دیکھ کر کہا تھا’’انسانیت،دُنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے‘‘ ۔ ۔ ۔ اہل بیت عظام اور صحابہ کرام ; کو مدمقابل ظاہر کیا جاناریاست کےلئے ’’انتہائی لمحہ فکریہ‘ہوناچاہیے ۔

پچھلے ایک عرصے سے ریاستی دارالحکومت;47; مظفرآبادڈویژن میں دوچند مقامات پر مسلکی تعصب و تنگ نظری کے مظاہر نمایاں ہوئے ہیں ۔ لیکن ’’ریاست کا کمزور کردار‘‘سامنے آیا ہے ۔

کہیں بھی چند لوگ اکھٹے ہوکر مقامی سطع پر دباءو ڈالتے ہیں اور کسی بھی بھی مسلکی نقطہ نظر سے ’’الزام‘‘دیکر مقدمہ درج کروادیا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ سراسر غلط روش ہے ۔ مثلاََ کسی مقام پر کوئی شخص کسی بھی مسلک کے جذبات سے کھیلنے کی خبر سوشل میڈیا پر آئے تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اورایس ایس پی صاحبان کو فوری طور پر’’براہ راست‘‘تحقیقات کرنی چاہئیں ۔ تاکہ ہر پہلو سے چھان بین کرکے تسلی کرلی جائے کہ الزام کے ’’حقائق ‘‘ کیا ہیں ۔ اسکے بعد مقدمہ درج ہونا چاہیے ۔

اس لئے بہتر یہ ہے کہ ’’ریاست اپنا کردارجاندار بنائے‘‘اسوقت اسلامی نظریاتی کونسل کی شکل میں ایک معقول ادارہ بھی موجود ہے ۔ علمائے کرام کے اجتماعی پلیٹ فارمز بھی موجود ہیں ۔ اسکے باوجود ’’عام فہم‘‘لوگ پریشر گروپ بن کر نفرتیں پھیلاتے ہوں تو مطلب صاف واضع ہے کہ ’’ نفرتوں کی آگ‘‘ بھڑکا کر اپنی’’مفاداتی روٹیاں ‘‘سینکنے والے بھی کہیں موجودہیں ۔

پرانے وقتوں میں حقیقی علمائے دین معاملات پرنظر رکھتے تھے ۔ اور جہاں کہیں کوئی نزاعی صورتحال پیدا ہوتی تو فریقین مناظرے کرکے معاملات نمٹا لیتے ۔ اور علمی اختلافات کو عام فہم مسلمان میں موضوع بحث بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مگر اب ہماری انتخابی سیاست نے ہر جماعت کی ضرورتیں پورا کرنے میں ’’مسلکی گروہوں ‘‘کو بھی ایک اہمیت دیدی ہے ۔

اس لئے مسلمان ریاست کے مسلمان حکمران اُن معاملات میں بھی مصلحت کا شکار رہتے ہوئے ’’مسلکی کرداروں ‘‘ کی خوشنودی ‘‘حاصل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ جن معاملات میں کوئی اقدام تجویز کرنا ،نافذاورعملدرآمد کرنا ’’کُلی طورپر‘‘ریاست کا اختیار ہے ۔

چنانچہ اب مسلکی بنیادوں پر بھی پریشر گروپ کام کرتے ہیں جو معاشرہ میں انتشار و افتراق پیدا کرنے میں ’’ہدف کی تکمیل‘‘چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ جن کےلئے ’’بین المسالک نفرت و انتشار‘‘آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور اگر اس طرح ریاستی مشینری دباءو میں آکر’’ کسی پریشرگروپ کی ایماء پر‘‘ دوسرے مسلک پر کاربند لوگوں کوزیربار کرنے لگی تو اسکے ہمہ جہتی نقصان و نتاءج یقینی ہیں ۔ عام مسلمان ظاہر کردہ صورتحال پر مشتعل ہوکر تشددپر آمادہ ہوگا ۔ لوگ آپس میں لڑیں گے ۔ جبکہ ریاست ایسے نقصانات کی متحمل نہیں ۔

سنجیدہ حلقوں کے نزدیک اب بھی ریاست میں مثبت روئیوں کو باقی رکھنے ،مذید پروان چڑھانے پر توجہ نہ دی گئی ،تو کوئی دوسرا کچھ کرنے نہ کرے ۔ بھارت پیدا ہونیوالی صورتحال سے فائدہ اُٹھانے میں غفلت نہیں کریگا ۔ اور نتیجہ کیا نکلے گا ،سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کہ آگ کسی کی دوست نہیں ہسکتی ‘‘یہی قانون قدرت بھی ہے ۔

اس لئے مسالک کے لبادے میں نفرتوں کی آگ نہیں بھڑکنی چاہیے ۔ اوّل و آخر سب اسی معاشرے کا حصہ ہیں ۔ اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو نفرتوں و کدروتوں کا شکار ہونے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

 


افکار و نظریات: ریاستی کردار اور رحجانات