علمائے کرام کا سابقہ عقیدے سے رجوع

نذرحافی

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے، یہ رونا دھونا کیسا!؟ احتجاج کیوں!؟ کیا سیاہ فام جارج فلائیڈ کی جان زیادہ قیمتی تھی!؟ یہ مذمت بھی کیا مذاق بن گئی ہے!؟ ہمارے ہاں بعض علمائے کرام مذمت نہیں کرتے بلکہ مذمت کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے، انہوں نے کتنی ٹارگٹ کلنگ کروائی، کتنے ہی لوگوں کو اغوا کر کے افغانستان پہنچا دیا، کتنے ہی قیمتی پولیس اور فوج کے افسران کو قتل کروا دیا،کتنے ہی اغوا برائے تاوان کی بھینٹ چڑھ گئے، کتنوں کے گلے کاٹے گئے، انہوں نے عبداللہ شاہ غازیؒ، رحمان باباؒ ، بری امامؒ اور داتا دربار سمیت کتنے ہی مزارات پر دھماکے کروائے، عراق، شام ، مکے اور مدینے سمیت کتنی ہی جلیل القدر ہستیوں کی قبریں مسمار کروا دیں، انہوں نے عرب و عجم میں باقاعدہ مزار گراو تحریک چلائی ، قائداعظم کی ریذیڈنسی سمیت تہذیبی و ثقافتی نیز آثار قدیمہ کے قیمتی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔۔۔

مارکیٹ میں فکشن رائٹرز اور کامیڈین حضرات کے دھندے میں مندے کا رجحان ویسے ہی نہیں، اُن سے زیادہ تو مُلّا حضرات پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں۔ آستینوں تک تو بعض مُلاوں کے بازو بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن آج انہیں بھی سیاہ فام جارج فلائیڈ پر بہت رونا آرہاہے۔ مولویوں کے یوٹرن دیکھ کر انسان سُن ہوجاتا ہے، اور عقل دنگ رہ جاتی ہے،جنہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور کے ننھے منھے بچوں کو نہیں چھوڑا وہ جارج فلائیڈ کی موت پر گریبان پھاڑ رہے ہیں، جنہوں نے اپنے نبیﷺکی بیٹی ؑتک کی قبر کو مسمار کر دیا وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی قبر کی بے حرمتی کا ناٹک رچا رہے ہیں۔جنہوں نے جنت البقیع کی قبور سے لے کر حضرت حجربن عدی ؓ کی قبر کی توہین اور اہانت کے بارے میں کبھی ایک مذمتی بیان نہیں دیا وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی قبر کی جعلی تصاویر بنا بنا کر ٹسوے بہا رہے ہیں۔

یہ مولوی حضرات بھی بہت ہنساتے ہیں، یہ پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کو کافرستان کہتے تھے پھر جب پاکستان بن گیاتو فورا پاکستان کو ایک مسجد کا نام دینے لگےبعد ازاں پاکستان میں لال مسجد کی طرح کی کئی لال اور سُرخ مساجد تعمیر کرکے پھر سےپاکستان کے خلاف ہی مورچہ زن ہوگئے۔ یہ جہاں مسجد نہیں بنا سکتے وہاں مسجد کے نام پر ہی کسی کے پلاٹ پر زبردستی قبضہ کر لیتے ہیں، اِ ن کے ہاں محمد علی جناح تو کافرِ اعظم اور رافضی ہے جبکہ ضیالحق مردِ مومن اور مردِ حق ہے۔اِن کے ہاں دوسروں کے کشف وکرامات اور الہامات یہ سب ڈھونگ ہیں لیکن ان کے اپنے اکابرین کے کشف و کرامات کے قصے تو پتھر پر لکیر ہیں۔

یہ ۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں ایرانی تیاروں سے بھارت پر حملہ کروا دیتے ہیں، یہ اکہتر کی جنگ میں ایران کے پاسداران انقلاب کے ہاتھوں بنگلہ دیشیوں کو ٹریننگ دلواتے ہیں، اِ ن کے مطابق ۱۹۷۱ میں جنرل نیازی نے امام خمینی کے حکم پر بھارت کے سامنے سرنڈر کیاتھا۔۔۔ وہ تو بھلا ہو آئی ایس آئی والوں کا جنہوں نے سانحہ راجہ بازار راولپنڈی سےپردہ اٹھادیا ورنہ ان کا تو دعویٰ تھا کہ ایرانی کمانڈوز نے ہمارا مدرسہ جلادیا اور ہمارے بندے ہلاک کر دئیے ۔

مجھے سیکولر، کیمونسٹ یا اہلِ امریکہ و یورپ سےکیا لینا دیا، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے غیر مسلم ہونے کے باوجود بہت واویلاکیا، اُن کے ذرائع ابلاغ بہت چیخے چلائے،آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے پورا زور لگایا۔۔۔اُن کا کہنا صرف یہ تھا کہ اِ ن قبروں اور آثار قدیمہ کو منہدم نہ کریں، یہ انسانی تمدن کی کھلی کتابیں ہیں ، اور یہ عالمِ بشریت کی تاریخ کے حقیقی صفحات ہیں۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ ان قبروں اور مزارات کو دیکھ کر سماجی ارتقا کے ابواب کھلتے ہیں، ان سے ظالم و مظلوم اورقاتل و مقتول کا پتہ چلتا ہے، ان قبروں سے بہادروں اور بزدلوں، وفاداروں اور غداروں کے شجرے ، افکاراور لشکر معلوم ہوتے ہیں، ان مزارات سے صوفیا کی تبلیغ اور ہجرت کے مختلف زاویے سامنے آتے ہیں لیکن اُس وقت الباکستانیوں نے اپنے آقاوں کے اشارے پر اِسے عقیدے کی جنگ قرار دے کر اسلامی ثقافتی ورثے کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ آج وہی الباکستانی مولوی لوگ اپنے اُسی عقیدے کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ مخالفین کو دبانے کیلئے حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کی قبر کو گرانے کا افسانہ تراش کر صبح ، دوپہر اور شام کو بلاناغہ مذمتی اور تعزیتی بیانات داغ رہے ہیں۔

ایسے میں اِن مولوی صاحبان سے پوچھنا یہ تھا کہ اگر قبریں بنانا اور اُن کی حفاظت کرنا بدعت و شرک ہے تو پھر ایک دم یہ تبدیلی کیسی آگئی!؟ کیا آپ لوگوں پر کوئی نئی آیت نازل ہوگئی ہے یا کوئی نئی حدیث سامنے آگئی ہے جس کے بعد آپ نے اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کرلیا ہے!!!؟؟؟ اور اگر آپ نے واقعی اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر لیا ہے تو ایک مذمتی بیان جنت البقیع کو مسمار کرنے والوں کے خلاف بھی دیدیجئے۔ ایک مہم جنت البقیع کی دوبارہ تعمیر کیلئے بھی چلائیے اور ایک اعلامیہ یہ بھی جاری کیجئے کہ ہم پر اپنے سابقہ عقیدے کا بطلان ثابت ہوگیا ہے لہذا مزاراتِ مقدسہ توحید کی تجلی کے مراکز ہیں، اوراولیائے خدا کے الہامات و معجزات و کشف و کرامات برحق ہیں ۔

nazarhaffi@gmail.com

حضرت مالک بن نویرہ کی مظلومانہ شہادت