بوٹ والے بھائیو!

محبوب اسلم

عمران خان کی تبدیلی کے چورن نے عوام کے ذھن میں اس احساس کو پختہ کیا کہ اس ملک کا بنیادی مسئلہ کرپشن ھے اور اس کرپشن کو ”نوےدن“ کے اندر اندر ختم کرکے عمران خان لٌوٹے ھوئے ”دو سو ارب ڈالروں“ کو بازیاب کروا کر بین الاقوامی مالیاتی ادروں کے منہ پر مارتے ھوئے اس ملک میں شھداور دودھ کی نہریں بہا دیگا۔۔۔

یہ جھوٹ شدت اور بے شرمی سے تو بولا ہی گیا لیکن جس طرح یہ ایاک نعبدو وایاک نستعین کے پاک کلمے کے زیر سایہ بولا گیا وہ منافقت کی نئی حدیں عبور کر گیا!!!

لیکن پھر اس عوام نے یہ بھی دیکھا کہ کرپشن پر صرف زرداری اور نواز شریف کی ہی اجارہ داری نہیں تھی بلکہ عمران خان کی اپنی پارٹی میں کرپشن کی شروعات پارٹی فنڈنگ کے غبن اور چوری سے شروع ھوتے ھوئے جہانگیر ترین، عارف نقوی اور مسرت انیل جیسے دلالوں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ھوگئی اور اس گراوٹ کے سفر میں عمران خان نے جسٹس وجیہ الدین، اکبر شیر بابر ، جنرل حامد خان اور نہ جانے کتنے ھی سینکڑوں با اصول اور نظریاتی ممبران کی بَلی بھی چڑھائی۔۔۔

لیکن حسن نثاراور ھارون الرشید جیسے بھونپوں کپتان کپتان اور ایماندار ایماندار کی گردان جپتے رھے جبکہ وہ ذاتی طور پر عمران خان کی کرپشن سے بخوبی آگاہ تھے!!!

لیکن قانون فطرت حسن نثار اور ھارون الرشید جیسے گماشتوں کے مرھون منت ھرگز نہیں ھے اور جو بویا جاتا ھے وھی کاٹا جاتا ھے۔۔۔آج عمران خان کا ھر ھر کھلاڑی گلے تک کرپشن میں پھنسا نظر آتا ھے۔۔۔اور تو اور وزیر اعلی پنجاب جِسے ” اللہ میاں کی گائے“ سمجھا جارھا تھا وہ بزدار بھی رِنگ روڈ اسکنڈل میں ملک ریاض کیساتھ ملوث ھے۔۔۔دوسری جانب چینی، آٹا، ادویات، پٹرول، بجلی اور اب تعلیم کے میدان میں بھی کرپشن کے قصے زبان زرد عام ھیں اور ملزمان عمران خان کی کیبنیٹ کا حصہ ھیں۔۔۔اگر کچھ بدلا ھے تو نئے چوروں کی انٹری بدلی ھے!!! 

لیکن جو اصل سبق عوام نے عمران خان کی اس کرپٹ حکومت سے سیکھا وہ یہ ھے کہ نا اھلیت کرپشن سے زیادہ بڑی بَلا کا نام ھے۔ عوام پچھلی کرپٹ حکومتوں میں اسقدر دربدر نہ تھےاورملکی معیشت کا یہ حال نہ تھا جو اَب ھے۔۔۔یار لوگوں نے ایک نا اھل شخص کے اقتدار کو لیکر بےچارے کھوتے کی نسبت سے ایک طوفان کھڑا کیا ھوا ھے۔۔۔لیکن ایک فوجی کو ایک کھوتے کو زبردستی سڑک پار کرواتے ھوئے کی تصویر سے بہتر حالات حاضرہ پر کوئی اور تبصرہ مشکل ھی ھے۔ 

اس حکومت کی کس کس نا اھلی کا رونا رویا جائے۔۔۔آپ کو وہ غیر قانونی تجاوازت کے نام پر تباھی کا قدم تو ھی یاد ھوگا کہ کسطرح عوام کےروزگار کو تباہ کیا گیا۔۔۔پھر ٹیکس وصولی کے نام پر کاروبار کا ناطقہ بند کیا گیا۔۔۔پھر روپے کو ڈالر سے آزاد کیا گیا اور روپیہ اس حکومت کی اخلاقی اقدار کیطرح سے گِرتا ھی چلا گیا اور گرواٹ کا یہ سفر اب بھی دونوں جانب جاری ھے۔۔۔پھر آئی ایم ایف کے سامنے سَپر ڈالدی گئی اور عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دئیے گئے۔۔۔ پھر ملک کے چینی، آٹے اور پٹرول کے مافیا کے سامنے ھتیار ڈالدئیے گئے۔۔۔کرونا وائرس کو لیکر لاک ڈاؤن اور نو لاک ڈاؤن کیساتھ آنکھ مچولی کھیلی گئی...اور پی آئی اے کیساتھ جو کیا گیا وہ کوئی دشمن بھی نہ کرے۔۔۔یوں اس سب نا اھلیت کا جنازہ ملکی معیشت کی سیدھی نوز ڈائیو میں نکلا جو اب بد قسمتی سے منفی سطح پر براجمان ھے!!! 

اب آئیے اس حکومت کی تیسرےستون(اگر خباثت پڑھا جائے تو زیادہ مناسب ھوگا) جو سراسر فاشزم یا فسطائیت پر مشتمل ھے۔۔۔اور جس کا مظاھرہ آپ نے کل ھی دیکھا جب حکومت کے نقاد صحافی مطیع اللہ جان کو دن دھاڑے حکومتی اداروں نے ”اغوا“ کرلیا۔۔۔جی حکومت اداروں نے گرفتار کیا ھوتا تو یہ مہذھب طریقہ کار ھوتا۔۔۔

لیکن جسطرح اس صحافی کو ”اٹھایا“ گیا وہ اس حکومت کی فسطائیت کا منہ بولتا ثبوت ھے۔اور یہ سب ”بوٹ والے بھائیوں“ کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں جو اس حکومت کی فسطائیت کی اصل طاقت ھے۔۔۔جو حکومت پر تنقید کرے اسکا سانس لینا محال کر دو؟؟؟

میرا خیال ھے کہ وہ وقت اب آیا چاھتا ھے کہ یہ حکومت اپنے ان تین بوسیدہ ستونوں سمیت گرنے والی ھے اور یہ کوئی مائنس وَن یا مائنس آل والی تھیوری نہیں ھے بلکہ سیدھی سادھی بات ھے کہ اسٹیبلیشمنٹ یا نو اسٹیبلیشمنٹ یہ تین خباثت کے ستون جس پر یہ حکومت کھڑی ھے وہ زیادہ عرصے تک کسی بھی حکومت کو سہارا نہیں دے سکتے۔۔۔اور جسٹس مقبول باقر نے سعدرفیق کیس میں اسی طرف اشارہ کیا ھے!!!

لیکن اس حکومت کے گِرنے سے پاکستان کے حالات بہتر نہیں ھوسکتے جب تک کہ جمہوریت کو چلنے نہ دیا جائے اور ھمارے بوٹ والے بھائی صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ عوام کی اصل رائے کو پولنگ بوتھ پر پیسے یا زور زبردستی سے نہ بدلا جاسکے اور ملک میں عدالتیں کھلا اور بلا امتیاز احتساب کر سکیں۔۔۔دوسرے لفظوں میں ملک میں اداروں کو پنپنے دیں۔۔۔ جہاں اصل احتساب عوام کی ووٹ کی طاقت کیطرف پلٹ سکے اور سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی پر اقتدار کے اھل ھو سکیں۔۔۔بوٹ والے بھائی یہ بات جتنی جلد سمجھ جائیں اتنا ہی جلد اس ملک کی قسمت بدل سکتی ھے۔۔۔وگرنہ آپ کتنے کھوتوں کو سڑک پار کروائینگے؟؟؟

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔۔۔آمین۔ 

 


افکار و نظریات: بوٹ والے بھائیو