علامہ طالب جوہری ؒ ، یادیں اور باتیں
تحریر :سید ذہین علی کاظمی


علامہ  نے حوزہ علمیہ نجف اشرف سے تحصیل کے بعد بر وقت اور درست فیصلہ کر کے ایک ایسی مثال قائم جسکی نظیر طول تاریخ میں نہیں ملتی ۔ علامہ رحمہ اللہ کا شمار نجف اشرف کے ہونہار و قابل طالبعلموں میں تھا  اور آپ اپنے زمانے کے شہرہ آفاق فقہاء جیسے استاد الفقہاء آقائ خوئی قدس سرہ کے بارز شاگردوں میں تھے ۔
  مرحوم علامہ رح نے 1965 میں جب پاکستان واپسی کا رخ کیا تو وہ مخصوص علمی اصطلاحات کو بظاہر نجف اشرف ہی چھوڑ کر گئے اور  کلموا الناس علی قدر عقولھم  (لوگوں سے انکی عقل کیمطابق گفتگو کرو) کے آسان اور انتہائی سادہ ترین انداز گفتگو کے ذریعے خود کو مومنین کی خدمت کے لیے وقف کیا ۔ ۔  علامہ صاحب نے یہ طے کیا کے اس وقت کی صحیح ضرورت کیا ہے ۔ اس کے لیے میدان خطابت کو اپنا اولین وسیلہ قرار دیا  ۔ وقت نے ثابت کیا نصف صدی سے قبل علامہ طالب جوہری قدس سرہ کا فیصلہ درست تھا کے اس وقت خطابت کی راہ کا انتخاب کیا جس کے ذریعے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی ہدایت کا وسیلہ بنے بلکہ دونوں جہانوں کی بھلائیاں پا لیں۔
درحالانکہ علامہ ایک بہترین خطیب بہترین مدرس، بہترین محقق ہونے کیساتھ ساتھ مخلتف علوم و فنون پے گرفت رکھتے تھے ۔ منبر پے مخصوص انداز گفتگو کے ذریعے عامتہ المسلمین سمیت مومنین کے دلوں میں گھر کیا  آیت در آیت اور روایات آئمہ اطہار علیہم السلام کے سائے میں مختصر و جامع انداز گفتگو میں قبلہ اپنی مثال آپ تھے ۔ 
راقم کو قبلہ رح کیساتھ مختصر وقت گزارنے کا موقع اس وقت ملا جب قبلہ آخری بار زیارات مقدسہ سے مشرف ہوئے  ۔ کربلاء معلی میں انکے ایک خاص چاہنے والے آقائ طباطبائی کے نام سے معروف بزرگ شخصیت کی دعوت پے مخصوص نشت کا موقع ملا  ۔ صاحب دعوت آقائ طباطبائی کے جذبات کو قلمبند کرنا واقعی ایک مشکل کام ہے کے جب علامہ رح جناب طباطبائی کے ہاں پہنچے تو عجیب جذبات کا ملاحظہ کیا گویا ایسا محسوس ہو رہا تھا کے نجانے اس شخص کے گھر ایسی کون سی شخصیت آ گئ کے خود کو بہت خوش نصیب تصور کر رہا ہے  ۔  بہرحال آقائ طباطبائی نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ ایسے الفاظ میں کیا کے یہ وہ شخصیت ہے کہ جس کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں لوگ غم آل محمد علیہم السلام بالخصوص غم حسین علیہ السلام گریہ کیا۔ اس مرد مجاھد کی وجہ سے کتنے لوگ محب اہلبیت ع بنے  ۔میں کیوں نہ خوش ہوں کے آج میرے گھر امام حسین علیہ السلام کا حقیقی خادم مہمان بن کے آیا ۔ یہانتک کہا کے اگر آج میرے گھر بڑے سے بڑا آدمی آتا اتنا خوش نہ ہوتا جتنا اس بات پے خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں کے میں علامہ طالب جوہری قدس سرہ جیسی شخصیت کا میزبان ہوں ۔
واقعی جو لوگ مظلوم کربلاء امام حسین علیہ السلام کی اخلاص سے خدمت کرتے ہیں کسی نام و لالچ اور دنیا و سلطنت کمانے کی غرض سے  خدمت نہیں کرتے تو پھر خدا امام حسین علیہ السلام کے طفیل ایسی شخصیات کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے ۔
 علامہ طالب جوہری قدس سرہ کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کے قبلہ ہمیشہ اس بات پے فخر کرتے تھے کے میں ذاکر امام حسین علیہ السلام ہوں ۔
یقینا آج علامہ رح ہمارے درمیان نہیں مگر انکی روح اور انکی یادیں ہمارے ساتھ ہیں  ۔ ہم ایام عزاء حسینی کے ابتداء میں قبلہ کے تمام چاہنے والوں بالخصوص قبلہ کے خانوادے کی خدمت میں انکی تعزیت اور خراج عقیدت کے کلمات کیساتھ مرحوم علامہ طالب جوہری قدس سرہ کی روح کو امام حسین علیہ السلام کی دلسوز شہادت کے استقبالی ایام پے تسلیت اور پرسہ پیش کرتے ہیں  ۔ اس یقین کے ساتھ کے یقینا عالم برزخ میں آپ آئمہ اطہار علیہم السلام کی خدمت میں پیش پیش ہونگے جہاں ملائکہ اور پاکیزہ ارواح کے جھرمٹ میں مجلس حسینی سے ضرور خطاب کرینگے  ۔
یقینا اس عالم میں بھی آپکے یہ الفاظ گونجتے ہوں گے تم گریہ کیا اور مجلس تمام ہوئی ۔😭
اور شاید اب دامن وقت میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ آپ مزید چند دن ہمیں اپنی مجالس سے مستفید کرتے یہانتک کے خدا نے اپنی امانت کو اپنی بارگاہ میں بلا لیا ۔
آخر پے انکے ایک چاہنے والے کا جملہ عرض کرتا چلوں کے  علامہ رح ہمیشہ کہا کرتے تھے کے جب بھی کربلاء جانا تو میں طرف سے مولا عباس علیہ السلام کے در پے ناک رگڑنا ۔ 
میں نے بہت سوچا کے آخر یہ کیا راز ہے  ۔ ۔ ؟ آخر اس نتیجے پے پہنچا کہ  ایسی بات طالب جوہری قدس سرہ جیسا بندہ ہی کر سکتا ہے ۔ جو ہر جانے والے کو در عباس علیہ السلام پے ناک رگڑنے کی التماس کر رہے ہیں ۔ ناک رگڑنا یعنی بارگاہ عباس علمدار علیہم السلام میں خود کو بالکل جھکانا حقیر و کمتر جاننا ۔ ۔  یقینا وہ اپنے دور میں خود بھی تو اس در پے ناک رگڑتے ہوئے ہوں گے ۔  در عباس علیہ السلام پے ناک رگڑنے سے ہی اتنا بلند مقام نصیب ہو سکتا ہے کے ساری زندگی مولا عباس علیہ السلام کے آقا امام حسین علیہ السلام کی خدمت کا عظیم شرف پاکر امر ہو گئے ۔
خدا وندا کریم بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام مرحوم علامہ طالب جوہری قدس سرہ کے درجات بلند فرمائے اور امام حسین علیہ السلام کی شفاعت خاص نصیب ہو ۔

 

 


افکار و نظریات: علامہ طالب جوہری ؒ, یادیں اور باتیں