11 محرم 

شھادت "دولھا دریا خان"
تحریر۔ محمد صفدر ٹھٹوی

سندھ کی سر زمین ہمیشہ سے ہی دلیر، بھادر، جرئتمند اور سپہ سالاروں کا مرکز رہی ہے۔ ان میں دولھا دریا خان ایک محب وطن اور غیرت مند شجاعت تھا۔ اس کی شخصیت کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔ اس کی قابلیت، اھلیت اور وفاداری کو دیکھتے ہوئے سندھ کی نامور حکمران جام نظاالدین نے اپنا بیٹا قرار دیا تھا۔  اس زمانے میں دریا خان کو اعلی تعلیم و تربیت دلائی۔ دریا خان نے اپنے جوہر  ذاتی سے غیر معمولی ترقی کی۔ اور رفتہ رفتہ عہ اپنی استعداد و قابلیت سے ترقی کرتے ہوئے جام نندا کے وزیر دلشاد سے بھی آگے نکل گیا۔ آخر وہ مدار المہام (وزیر اعظم) اور امیر الامرا کے عہدے پر فائز ہوا۔ اور " مبارک خان " کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ 
تاریخ فرشتہ  کے مطابق شاہ بیگ ارغون نے 890ھ میں سندھ پر پہلا حملہ کیا۔ شاہ بیگ ارغون نے قندھار سے آکر قلعہ سیوی کو فتع کیا۔ اس قلعہ پر جام نندا کا امیر بہادر خان مقرر تھا۔ شاہ بیگ نے اس کو محصور کرکے اپنے جبر و قہر سے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ اور وہاں کی حکومت اپنے چھوٹے  بھائی سلطان محمد کے سپرد کرکے خود واپس قندھار چلا گیا۔ اس حملے کی خبر جام نندا کو ہوئی تو اس نے اپنے سپہ سالار دریا خان کو سلطان محمد کے مقابلے کے لئیے لشکر دیکر کر بھیجا۔ اس دونوں لشکروں میں کئی مرتبہ بڑی جنگ لڑی گئی۔ دریا خان کے لشکر نے بڑی شجاعت کے ساتھ جنگ لڑی۔ آخر سلطان محمد مارا گیا۔ اس کے بعد ارغونوں کو جام نظام الدین عرف جام نندا کے وقت میں پھر کھبی سندھ کی جانب دیکھنے کی ہمت نہ ہوا۔ اس دور میں سندھ کی سرحدوں کی نگرانی بھارد دلیر دریا خان کے سپرد تھی۔ جس نے کسی غیر کو سندھ فتح کرنے نہ دی۔ اس کی شجاعت کی داستان دنیا بھر میں مشہور تھی۔  
 جام نندو کے دربار میں اور بھی کئی باصلاحیت امیر موجود تھے لیکن نوجوان دولہا دریا خان اپنی ذہانت کے سبب ان سب پر بازی لے گیا۔ جام نندو کا صاحب زادہ جام فیروزالدین ، ولی عہدی کا امیدوار تھا لیکن جام نندو نے اپنی حکومت دریا خان کے حوالے کردی۔

دریا خان نے اپنی بہادری اور جنگی حکمت عملی سے ملتان سے لے کر قندھا اور مکران سے کچھ تک کا علاقہ اپنی مملکت میں شامل کرلیا اور حکومت کا ایسا نظم و نسق قائم کیا کہ ہر جگہ جام نندو کی کامیاب حکومت کے چرچے مشہور ہوگئے جب کہ دولہا دریا خان کی بہادری کے کارنامے بھی زبان زد عام ہوگئے۔

1508 میں جام نظام الدین نے وفات پائی تو اس کے بیٹے جام فیروز نے تخت سنبھالا کم عمری کے باعث معاملات کی نگرانی دریا خان کے پاس تھی جو بیوہ ملکہ مدینہ کو پسند نہ تھی۔ نتیجتاً اسے نظرانداز کیا گیا بلکہ بے اختیار بھی۔ جام نظام سے محبت اور سلطنت سے وفاداری کے عہد کے باعث دریا خان نے بغاوت کی نہ کوئی انتقام لیا بلکہ اپنے آپ کو سہون کی جاگیر گاہو میں گوشہ نشیں کرلیا جو سلطنت جام نظام نے تلوار کے برتے پر قائم کر رکھی تھی وہ جام فیروز کی عیش پسندی اور غفلت کے باعث کم زور ہوئی تو جام صلاح الدین نے سلطان مظفر گجراتی کی حمایت سے لشکرکشی کرکے ہتھیالی۔ جام فیروز نے کوئی مزاحمت نہ کی جام صلاح الدین کا عرصہ اقتدار بمشکل آٹھ ماہ بیان کیا جاتا ہے۔

کہتے ہیں سمہ گھرانے کے جام سنجر کے بیٹے جام صلاح الدین کو سندھ کے بعض امرائے سلطنت کی درپردہ حمایت بھی میسر تھی۔ سلطنت ہاتھ سے گئی تو ملکہ مدینہ اور جام فیروز نے گاہو جاگیر پہنچ کر دریا خان سے ملاقات کی اور اپنے گذشتہ رویے پر معذرت چاہی۔ جام صلاح الدین کی حکم رانی سے نالاں دریا خان نے بکھر، سیہون اور ہالانی و دیگر علاقوں سے سپاہی بھرتی کیے جنگی اسباب جمع کیا اور بڑی جنگ کے بعد جام فیروز کے مخالفوں کو شکست دے کر اسے پھر تاج پہنایا اور تخت پر بٹھایا، لیکن ماضی کی طرح جام فیروز نے اس کی قدر نہ کی اور یہاں تک ہوا کہ شاہ بیگ ارغون حاکم قندھار کو سندھ پر حملے کی دعوت اس لیے دی گئی کہ دریا خان سے جان چھڑائی جاسکے۔

یہ وقت سندھ پر بڑی تکلیف اور مصیبت کا دور تھا۔ خوشحال سندھ پر بار بار حملے کئیے جا رہے تھے۔ ارغونوں نے سندھ پر فتح حاصل کرنے کے لئے غدار بھی پیدا کئے۔ ان کو چاکر رند کی صورت میں اپنا ایک طاقتور ایجنٹ مل گیا۔ بعد میں کچھ بلوچ قبائل بھی اس نے اپنے ساتھ ملا لئیے۔ جام۔نظام الدین کے دور میں سندھ منظم تھی اس لئے حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کو خاص کامیابی نہ مل سکی۔ مگر جام فیروز کی ناتجربہ کاری اور عیاشی کی وجہ سے ایجنٹ خوش ہوئے۔ شاہ بیگ نے سندھ پر حملہ کردیا۔ دریا خان سندھ دھرتی کو غیروں کے ہاتھوں جانے سے بچانے کے لئے اپنے لشکر کے ساتھ شاہ بیگ کے سامنے آیا۔ دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی۔ شاہ بیگ کو یقین ہو چلا کہ وہ دریا خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ شاہ بیگ ارغون کو یقین ہوگیا کہ وہ دولہا دریا خان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تو اس نے مکروہ فریب کا ہتھیار استعمال کیا اور اچانک میدان جنگ میںاس نے خودصلح کا پرچم لہرادیا۔ اس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ خوں ریزی کے خاتمے اور لڑائی بند کرانے کے لیے پہل کررہا ہے۔ یہ دیکھ کر دریا خان نے اپنی سپاہ کو جنگ بند کرنے کا حکم دیا۔ 

 جنگ بند ہوتے ہی مرزا ارغون بیگ نے سازش کا جال تیار کیا اور دولہا دریا خان کو دھوکے سے پکڑ کر قتل کردیا۔ ایک روایت کے مطابق دریا خان کی طرف سے جنگ بندی ہوتے ہی دریا خان صلح نامے کی شرائط طے کرنے کے لیے مرزا ارغون کے لشکر کی جانب روانہ ہوا کہ اسی دوران اس کے اشارے پر اس کے کسی سپاہی نے تیر پھینکا جو دریا خان کی گردن میں پیوست ہوا اور وہ جاں بحق ہوگیا۔

دریا خان کی ہلاکت سندھ کی تاریخ کا افسوس ناک واقعہ شمار کیا جاتا ہے۔ دولہا دریا خان کی ہلاکت کے بعد اس کی فوج میں بددلی پھیل گئی اور وہ پسپا ہوگئی ۔ دریا خان کے مرتے ہی مرزا شاہ بیگ نے فتح کا نقارہ بجوایا جسے سنتے ہی گردونواح کی بستیوں میں ہل چل مچ گئی۔ لوگ ارغون کے لشکر کے ہاتھوں تباہی و بربادی سے بچنے کے لیے مختلف علاقوں کی جانب بھاگنے لگے ۔اپنی راہ میں حائل دولہا دریا خان جیسے پہاڑ کے ہٹنے کے بعد مرزاارغون بیگ کے لیے ٹھٹھہ تک کا راستہ صاف ہوگیا۔ 
اس کے سپاہیوں نے ٹھٹھہ میں داخل ہوکرٹھٹھہ اور اردگرد کے علاقوں میں9 دن تک لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رکھا۔ ۔دولہا دریا خان کے مرنے کے بعدبیرونی حملہ آوروں کے لیے آخری رکاوٹ دور ہوگئی تھی اس لیے سندھ کے دروازے ہر جارح اور ظالم کے لیے کھل گئے اور وہاں کافی عرصے تک امن قائم نہ ہوسکا اور عوام ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔
 غلام محمد لاکھو نے دریا خان کی شھادت کی تاریخ 11 محرم 927ھ (22 دسمبر 1520ء)  تحریر کی ہے۔ انہوں نے  اس واقعہ کو "خرابی سندھ کے نام سے لکھا ہے۔
دریا خان محض سپاہ سالار ہی نہ تھا، ایک حساس ذہن اور محبت بھرا دل بھی رکھتا تھا۔ اس کے عشق کا قصہ بھی کتابوں میں مرقوم ہے۔ غلام محمد لاکھو نے لکھا ہے کہ ہموں نامی دوشیزہ سے جو راٹھوڑ برادری سے تعلق رکھتی تھی اور جس کا خاندان صحرائے تھر کے جھڈو گودام میں آباد تھا، کسی فوجی مہم کے دوران تالاب پر پانی بھرتے وقت سامنا ہوا اور ابتدائے عشق شادی پر منتج ہوا۔

بتاتے ہیں شادی انتہائی دھوم دھام سے ہوئی اور ہموں نے باقی زندگی مکلی کے قریب واقع قلعہ کی حویلی میں گزاری جو اس کے لیے دریا خان نے بنوائی تھی۔ 

دریا خان کی حویلی اور کوٹ۔

تاریخ کا مطالعہ کرتے اکثر دریا خان کی حویلی اور کوٹ کے بارے میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر احمد حسن دانی کی معروف انگلش کتاب ٹھٹہ کے قدیم اسلامی یادگار مترجم عطا محمد بھنبھرو  اس کتاب کے صفحہ نمبر 13 میں درج ہے مغل عید گاہ ایک دیوار والی مسجد ہے۔ جس کے درمیان محراب بنا ہوا ہے۔ عید گاہ کے ساتھ ایک حویلی کے کھنڈرات موجود ہیں۔ روایتوں کی نشاندھی کے مطابق یہ جام نظام الدین کے وزیر دریا خان کی حویلی ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 208 میں ٹھٹہ ٹھٹہ کی اصلیت نامی تحریر معروف تاریخ دان  ڈاکٹر بنی بخش خان بلوچ نے لکھی ہے۔  عید گاہ کے ساتھ والی ایراضی کو دریا خان کی پہاڑی کہا جاتا ہے۔ دریا خان کی حویلی اور کوٹ یہیں ہیں۔ عید گاہ کے ساتھ پہاڑی پر ان کے تھوڑے سے بکھرے ہوئے آثار موجود ہیں۔ زیادہ تر آثار مٹی میں مل گئے ہیں۔ معروف تاریخ دان  غلام محمد لاکھو اپنی مستند تاریخی کتاب سموں کی سلطنت میں لکھتے ہیں دولھہ دریا خان کی بیھٹک گوپانگ اسٹیشن کے قریب ضلعہ دادو میں واقع ہے جبکہ دریا خان کی حویلی اور کوٹ مکلی میں عید گاہ کی ایراضی کے قریب ان کے بکھرے قدیم آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان آثاروں کے بارے میں سندھ کے مستند تاریخ دان بھیرو مھر چنڈ آڈوانی نے اپنی کتاب سندھ کا سیلانی (1923ء) میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ آڈوانی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ دریا خان نے راٹھوڑوں کی ایک لڑکی ھموں  سے شادی کی تھی۔ راشدی صاحب کی تحقیق کے مطابق دریاخان کے پانچ بیٹے تھے۔ جن کے نام سارنگ، علاوالدین، محمود خان، احمد اور موٹن خان تھے۔ یہ سب ہی دلیر، بہادر اور شجاعت تھے۔ سندھ کے یہ دلیر بیٹے جب تک زندہ رہےکسی غیر لشکر کی نے کھبی سندھ پر حملہ کرنے کا سوچا بھی نہ تھا۔ پھر اندرونی انتشار کے باعث ارغونوں نے لشکر کشی کی۔ یہ جوان شہید ہوئے۔ اور سندھ سے سمہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور سندھ کی بھاگ دوڑ غیروں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ 

سید طاھر محمد نسیانی ٹھٹوی نے اپنی تاریخی آفاقی کتاب تاریخ طاھری کے صفحہ نمبر 357 پر تحریر کرتے ہیں کہ جام فیروز نے عین موقع پر دریا خان کو راضی کر لیا تھا۔ یہ وطن پرست سپہ سالار اسی دلیری، بھادری سے لڑا۔ ٹھٹہ کے اپنے قلعے سے نکل کر ارغونوں سے دوبدو ہوا۔ شجاعت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی دھرتی کی خاطر شہید ہوا۔ یہ آخری لڑائی 11 محرم 927 ھ میں لڑی گئی۔۔ سید حاکم علی شاہ نے دریا خان کی بیٹھک کے حوالے سے ایک تاریخی مقالہ لکھا۔ اس مقالے میں دریاخان کے قلعے، بیٹھک، حویلی اور کوٹ پر بھترین تحقیق کی ہے۔ اس مقالے کے آخر میں حاکم شاہ لکھتے ہیں ان کا مقبرہ ٹھٹہ کی مکلی پہاڑی پر ایک مقبرے میں واقع ہے۔ اس کے ساتھ مکلی پر عید گاہ کے ساتھ ایک تباہ شدہ حویلی کے آثار ہیں۔ ان کی روایت کے مطابق یہ حویلی جام نظام  الدین کے وزیر اعظم دولھہ دریا خان سے منسوب کی گئی ہے۔ یہ یادگار اس جگہ بنے ہوں گے جہاں پہلے آبادی ہو گی۔ جس کی تصدیق  وہاں کے بکھرے آثاروں سے ہوتی ہے۔ یہاں سے ملنے والے برتنوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مغل دور سے بہت پہلے یا پرانے دور کے ہیں۔ دو  گول پتھر جو ان آثاروں کے لگتے ہیں جو ان کی یادگار  کے قریب سے ہی ملے ہیں۔ یہ پرانے دور کے پتھر ہو سکتے ہیں۔ ان میں ایک گول پتھر تقریبا ساڑھے گیارہ انچ موٹا اور چھہ انچ چوڑا ہے۔ اس کی گولائی تقریبا 87 انچ ہے۔ سوالیہ نشان بنا یہ گول قدیم پتھر تین حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک دوسرا سفید رنگ کا پتھر گاڑی کے ٹائر کی طرح ہے اس کا قطر تین فٹ، چھہ انچ ہے۔ اسی جیسی شکل کا ایک پتھر موھن جو دڑو میوزیم میں دکھا جا سکتا ہے۔ 

  معروف محقق  غلام محمد لاکھو نے دریا خان کے نام پر لکھے اپنے مقالے کے آخر میں  دریا خان کی حویلی اور کوٹ کا ذکر کرتے لکھا ہے۔ آخر میں جام فیروز کی ماں نے ارغونوں کو سندھ پر حملے کی دعوت دی۔ سندھ کے سپوت دریا خان اور ارغونوں کے درمیان 11 محرم 927 ھ کو سخت جنگ لڑی گئی۔ جنگ میں دریا خان شھید ہوا۔ مورخوں  نے دریا خان کی دلیری بہادری کی بڑی تعریف کی ہے۔ دریا خان کا  مزار مکلی پر موجود ہے۔ اس کی حویلی اور کوٹ،   مکلی کی عید گاہ کی ایراضی پر اس کے بکھرے ہوئے آثار موجود ہیں۔ ان آثاروں کے بارے میں سب سے پہلے بھیرو مھر  چنڈ آڈوانی لکھا ہے۔ 

سپہ سالار دولھہ دریا خان کے ان گمنام آثاروں کو محفوظ کیا جائے۔ مکلی مغل عید گاہ کی جانب بہت سے قدیم تاریخی آثار موجود ہیں۔ جن میں مسجد، چلہ گاہ، میر مزار قبرستان، درگائیں، قدیم مندر، بندرگاہیں اور دریا خان کی حویلی اور کوٹ کے آثار موجود ہیں، مگر افسوس کہ ان تاریخی آثاروں کی دیکھ بھال اور انہیں محفوظ بنانے کے لئے کھبی کوئی اقدام نہیں کئیے گئے۔ اس تاریخی ورثے کو آئیندہ نسلوں کے لئے محفوظ بنایا جائے۔

تحریر۔ محمد صفدر ٹھٹوی

حوالہ جات۔
1- ٹھٹہ کے قدیم اسلامی یادگار۔ ۔ترجم عطا محمد بھنبھرو 

2- سمن جی سلطنت از غلام محمد لاکھو

3-تاریخ طاھری۔ از سید طاھر محمد نسیانی ٹھٹوی

4- شھید دولھہ دریا خان۔ مرتب ڈاکٹر آزاد قاضی

 


افکار و نظریات: دولھا دریا خان