عبدالستار ایدھی یا بنو امیہ


ایدھی ہمیشہ زندہ رہے گا، ایدھی کو زندہ رہنے کیلئے کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں، ایدھی کا کمال یہ ہے کہ ایدھی نے بے شمار لوگوں کو اُن کی ٹانگوں پر کھڑا کیا ہے، ایدھی نے سادگی سے زندگی گزاری اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے ان پر محبت اور چندوں کی بارش کی، وہ انتہائی معمولی قمیص شلوار پہنتے، ان کے پاس ملیشیا کے سستے ترین کپڑے کے صرف دو جوڑے تھے، ایک میلا ہو جاتا تو دوسرا پہن لیتے جبکہ جوتوں کا ایک ہی جوڑا گزشتہ 20 سال سے ان کے استعمال میں رہا۔
ایدھی سے اُن لوگوں کو تکلیف ہے جو خود بھی چندے پر پلتے ہیں اور پھر ہاتھ میں کشکول لئے ساری عمر اپنے پیٹ کیلئے بھیک مانگتے رہتے ہیں،جبکہ ایدھی کو ماں نے بچپن سے ہی دوسروں کی مدد کرنا سکھایا تھا۔

عبدالستار ایدھی کی ماں اُنہیں روز انہ دو پیسے دیتی تھیں، ایک پیسہ کھانا کھانے کے لیے اور دوسرا پیسہ کسی کی مدد کے لیے۔ ایدھی کی تعلیم واجبی حد تک تھی تاہم اُن کے بقول غم میرے استاد اور دانائی و حکمت کا ذریعہ رہے ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز 1957ءمیں اس وقت ہوا جب کراچی میں بڑے پیمانے پر زکام (فلو) کی وبا پھیلی اور اس موقع پرایدھی صاحب نے مخیر حضرات کی مدد سے کراچی کے قرب و جوار میں مفت طبّی کیمپ لگوائے۔ وہیں انہوں نے ایک زچہ خانہ اور نرسوں کے لئے ایک تربیتی ادارہ قائم کیا۔ وہیں ان کی ملاقات نرس بلقیس سے ہوئی جن سے انہوں نے 1965 ءمیں شادی کر لی، اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ اپنے فلاحی کاموں کا آغاز اس چھوٹے سے مکان سے کرنے والا ان کا ادارہ آج جنوبی ایشیاءکے سب سے بڑے غیر ریاستی فلاحی اداروں میں سے ایک ہے۔

ان کو سیاسی معاملات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکام ہونے پر ان کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جس پر ان کو کچھ عرصے پاکستان سے باہر بھی رہنا پڑا لیکن انہوں نے اپنے مشن خدمت انسانیت کو جاری رکھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن اس وقت بھی وسیع پیمانے پر ایمبولنس سروس، مفت ہسپتال، اور لاوارث بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے لیے دارالامان چلا رہی ہے۔ اس ٹرسٹ نے بیس ہزار سے زیادہ لاوارت نومولود بچوں کی زندگی بچائی، پچاس ہزار سے زیادہ یتیموں کی کفالت کی اور چالیس ہزار سے زیادہ نرسوں کو ٹریننگ دی۔
ملک کے چپے چپے میں ایدھی ٹرسٹ کے کلینک، پناہ گاہیں، بزرگوں اور عورتوں کے لیے گھر اور ایسے ہی بے شمار منصوبے ملیں گے۔اور1957ءمیں ایک پک اپ سے شروع ہونے والی امدادی سروس اب دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بن چکی ہے۔

کوئی حادثہ ہو، قدرتی آفات یا دھماکہ، چند منٹ بعد سائرن بجاتی، اور تیزی سے موڑ مڑتی سفید سوزوکی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچتی ہیں، جیسے کہ وہ اگلی گلی میں اسی واردات کا انتظار کر رہی تھیں۔ تربیت یافتہ عملہ پھرتی سے اتر کر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اس مہارت سے سٹریچروں پر ڈال کر ایمبولینسوں میں منتقل کرتا ہے جیسے وہ سالہاسال سے سے بس یہی کام کرتا چلا آیا ہو۔
ایدھی ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ان کے امدادی مراکز کی تعداد 335 سے زائد ہے۔ سیلاب اور سمندری حادثات کے موقعے پر امداد فراہم کرنے کے لیے 28 کشتیاں اور عملہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن ایئر ایمبولینس کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ ملک کے بڑے شہروں میں کل 17 ایدھی ہومز ہیں، جن کے علاوہ ایدھی شیلٹرز، ایدھی ویلج، ایدھی چائلڈ ہوم، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی اینیمل ہاسٹل، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر بھی کام کر رہے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا بجٹ ڈیڑھ ارب روپے سالانہ سے زائد ہے جس کا بڑا حصہ متوسط طبقے کی جانب سے دی گئی امداد پر مشتمل ہوتا ہے۔

ہم اپنے منصف مزاج قارئین سے صرف یہ ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر یہ بتائیں کہ دنیا میں اسلام کا روشن چہرہ عبدالستار ایدھی نے متعارف کرایا ہے یا متعصب مولویوں اوربنو امیہ نے۔

افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں بنو امیہ کے ظالموں کی ناموس اور حرمت کے نام پر تو پرچے کٹتے ہیں لیکن فخرِ پاکستان عبدالستار ایدھی کو گالیاں دینے اور اُن کی توہین کرنے والوں کے خلاف کوئی ادارہ نوٹس نہیں لیتا۔