وزیر تعلیم اور ان کی عمدہ ٹیم 
 ابو ولی اللہ خان بہاولپور 


صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس صاحب کے ترجمان عمر خیام  سے پچھلے دنوں فون پر رابطہ ہوا، میں نے پنجاب کے اساتذہ کرام جو 6 ماہ سے ذہنی اذیت کا شکار تھے ان کے متعلق عمر خیام صاحب سے بات چیت کی۔ انہوں نے ان اساتذہ کرام کےلیۓ اچھے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی اساتذہ کرام پریشانی کا شکار ہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔
 یاد رہے ایسے ٹیچرز جن کو ملازمت سے فارغ کیا گیا تھا ان کا بی ایڈ کا رزلٹ کورونا وبا کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہا لیکن لاک ڈاؤن ختم ہوتے اور یونیورسٹیوں کے شعبہ امتحانات کے کام کرنے کے بعد ہی نتائج کا اعلان کردیا گیا اور اساتذہ کرام نے ایجوکیشن کے دفاتر میں رزلٹس جمع کروا دیۓ، پالیسی کے مطابق ان اساتذہ کرام نے 5 سالہ کنٹریکٹ پیریڈ میں ڈگری حاصل کرنا تھی لیکن کورونا وبا کی وجہ سے ایسا ہونے میں دو ماہ تاخیر ہوئ، ہر ادارے میں اور عوامی سطح پر بھی کورونا ریلیف فراہم کیا گیا اسی ریلیف کی طلب میں اساتذہ بھی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
 ترجمان صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس واقعی اخلاقی لحاظ سے عمدہ کارکردگی کے حامل ترجمان ہیں اور وزیر تعلیم کی بہترین ترجمانی ادا کررہے ہیں، میں پنجاب کے اساتذہ کرام کی آواز بن کر ان سے رابطہ کر چکا ہوں امید ہے وہ اساتذہ کرام کی آواز کو مراد راس صاحب تک محسوس کروا کے دعائیں سمیٹنے کے حقدار ہوں گے، میں ان اساتذہ کرام جن کا رزلٹ آگیا ہے کو خوشخبری سنا دوں کہ انشاءاللہ بہت جلد ترجمان وزیر تعلیم عمر خیام صاحب بہترین خبر سنائیں گے۔
میں مراد راس صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی ساری ٹیم عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے اور جتنا کام وزیر تعلیم مراد راس صاحب کے دور میں ہوا ہے سابقہ ادوار میں اس کی مثال نہیں ملتی، یقین کریں اساتذہ کرام اور محکمہ تعلیم کا مکمل ریکارڈ ڈیجیٹل کرنا عام بات نہیں، پہلے ٹرانسفر کےلیۓ سیاست دانوں کے پاس چلے کاٹنے پڑتے تھے اور اساتذہ کرام کلرکوں کے گٹے گوڈے پکڑ کر ساگ، دیسی مرغیاں اور جیبیں گرم کرنے کے بعد ٹرانسفر کروا سکتے تھے۔
 میرے خیال میں موجودہ وزیر تعلیم کی تعریفیں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ووٹرز بھی کررہے ہیں، ملک کے حلالی بیٹے وہی ہوتے ہیں جو اپنی عوام کو عظیم جان کر خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر فرائض سرانجام دیتے ہیں، جیسے وزیر تعلیم خود ہیں یقیناً ان کی پوری ٹیم بھی دادوتحسین کی مستحق ہے، میں نے پنجاب کے پریشان اساتذہ کرام کی پریشانیوں کا اظہار جب سیکٹری صاحبہ سے کیا تو قوم کی اس بیٹی نے بھی اساتذہ کرام کو معزز سمجھتے ہوئے مقام دیا اور مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
جب گھر کا سربراہ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہوگا تو اس کی طرح اس کے زیرانتظام عملہ بھی درست سمت میں گامزن رہے گا، سیکٹری ایجوکیشن پنجاب محترمہ سارہ اسلم صاحبہ اساتذہ کرام کےلیۓ ایک حسین احساس رکھنے والی سیکٹری ہیں۔ میری ان سے ایسے ٹیچرز کے متعلق بات ہوئی جو 6 ماہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں انہیں جب معلوم ہوا تو انہوں نے نئ پالیسی ترتیب دے کر چیکنگ کے مراحل تک پہنچادی ہے، ان کے دفتر میں کام کرنے والی نرم لہجہ اور مودبانہ رویہ اختیار کرنے والی میڈم منصورہ صاحبہ ہیں جنہوں نے اساتذہ کرام کے حق میں ذاتی طور پر آواز بلند کی اور اس پر کام شروع کر دیا۔
 میڈم منصورہ نے اساتذہ کرام کی واقعی بہن اور بیٹی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سی او ایجوکیشن سے بھی بات کی کہ اساتذہ کرام کے ساتھ نرم لہجہ اختیار کیا جائے اور مسائل کا شکار اساتذہ کرام کو ذہنی اذیت سے نجات دلائ جاۓ، پنجاب کے اساتذہ کرام کو چاہیے کہ وہ پنجاب ٹیچرز یونین کے مہربان جناب وحید مراد صاحب کا شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے آغاز سے ابھی تک اساتذہ کرام کے حق میں ذاتی طور پر آواز بلند کی اور ابھی تک سیکٹری کے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر جا کر محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 ایسے ٹیچرز جو اب بھی پریشان ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجالیں اور صوبائی وزیر تعلیم کے ترجمان عمر خیام صاحب، میڈم سارہ اسلم صاحبہ، میڈم منصورہ صاحبہ اور وحید مراد صاحب کا شکریہ ادا کریں اور دعائیں بھی دیں۔
 انشاءاللہ چند دنوں میں ایسے اساتذہ کرام جن کو کورونا وبا کے دوران نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا جیسا کہ اب ان کا رزلٹ بھی آچکا ہے، کورونا وبا کی وجہ سے جیسے پاکستان کی عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا اساتذہ کرام کو بھی ریلیف ملنے کی توقع رکھنی چاہیے۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس اور ان کی پوری ٹیم کسی بھی ٹیچر کو تنہا پریشان نہیں چھوڑے گی۔ اس کا منہ بو لتا ثبوت آپ سکولوں میں دیکھ بھی سکتے ہیں کہ کتنے فضول کام اب اساتذہ کرام سے نہیں کرواۓ جارہے اور انرولمنٹ کی سختی بھی ہلکی ہوگئ ہے۔