جی بی انتخابات اور مذہبی پارٹیاں

  منظوم ولایتی

 کل گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والی ایک پارٹی کے ایک سپورٹر ہمارے دوست نے اس شعر کو اپنے وال پر لگایا ہے:

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بٙل چلے

شعر کو پڑھتے ہی میں سوچنے لگا کہ شاعر نے اس شعر کو کب کہا ہوگا؟
 کیا کسی میدان میں خود کے شکست کھانے کے بعد یا نہیں شاعر حقیقت میں کسی بھی متوقع صورتحال کو بیان کرنے کے درپے تھا ، اور یہ شعر سپردِ قرطاس  کرگیا، اللہ اللہ خیر سلاہ۔
لیکن راقم نے جببھی اس شعر کا استعمال ہوتے دیکھا ہے وہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جو کسی میدان یا مہم میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور خود کا یا اپنے کسی چاہنے والے کے مورال کو بلند رکھنا چاہتے ہیں۔

میرے اس  دوست کا اس شعر کو استعمال بھی دوسری قسم کے گروہ میں شامل افراد میں سے تھا۔

 بہرحال بالآخر پاکستان کے شمال میں واقع بے آئین خطہ جسے گلگت بلتستان کہا جاتا ہے، میں کئی مہینوں کی کشمکش اور گہماگہمی کے بعد انتخابات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے۔ جسے میڈیا نے زبردست کوریج دیا اور پورے پاکستان کی نظریں اُس جانب مبذول کروایا۔

فی الحال اطلاعات  یہی ہیں کہ وفاقی میں حاکم پارٹی  بائیس میں  نو سیٹیں جیت کر پہلے نمبر پر آنے میں کامیاب ہوئی ہے۔  قارئین جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے پی پی اور نون لیگ کے دور میں یعنی جس کی وفاق کی حکومت رہی ہے وہی پارٹی نمبر ون آتی رہی ہے، لہذا یہ تحریک انصاف کا میری نظر میں چنداں کمال نہیں !!

یہاں پر راقم الحروف کیلیے یہ بات نہایت ہی شگفتہ انگیز ہے کہ بائیس میں پوری سات سیٹیں آزاد امیدواروں نے جیت لیے ہیں ، اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے اکثر وہ نمائندے ہیں جنہیں تحریک انصاف نے ٹکٹ دینے سے معذرت کرلی تھی!!

میرے نزدیک بلاول بھٹو زرداری کی تین چار ہفتے لگاکر گلگت بلتستان کے چپے چپے میں جاکر کمپئین چلانا فائدہ مند رہا اور نتیجے میں  پانچ  سیٹیں اپنے نام کر لیے، چونکہ 2015ء کے الیکشنز میں پی پی بدترین شکست سے دوچار ہوئی تھی بالکل ایسے ہی جیسے اس دفعہ نون لیگ جو صرف دو سییٹیں مریم بی بی کے نام کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ  ان دونوں پارٹیوں میں ایک اور مماثلت یہ  , بھی ہے کہ جسطرح پچھلے انتخابات میں سابق وزیر اعلی سید مھدی شاہ نے شکست کھائی تھی اسی طرح  اس دفعہ  سابق وزیر اعلی حفیظ الرحمان  بھی اپنی سیٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
 

لیکن میری نظر میں  سب سے بڑھ کر یہ بات گلگت بلتستان کے لوگوں کیلیے شاید مستقبل قریب میں بھی خوش آئند ہو کہ اس دفعہ اکثریت سے ایسے امیدوار جیتے ہیں جو پہلی دفعہ جیت رہے ہیں یعنی پورے گلگت بلتستان میں ایک نئی قیادت سامنے آتے دکھائی دے رہی  ہے جو مجھ سمیت وہاں کے باسیوں کیلیے خوشی اور امید افزاء بات ہے۔

 جہاں تک مذہبی اور دینی پارٹیوں کی بات کی جائے تو اس دفعہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق صرف ایک سیٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں جو کہ گلگت بلتستان کی توانا ترین اور مقبول ترین لیڈر  آغا سید علی رضوی کا ہوم اسٹیشن ہے جہاں سے ایک ولولہ انگیز قیادت سامنے لائی جاچکی ہے، جس کا کریڈت آپ جسے بھی دینا چاہتے ہیں دیجیے  پر میں تو  آغا علی رضوی کے نام  دینا مناسب سمجھتا ہوں!!

 مزید ایں کہ اسلامی تحریک ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی اس بار میدان مارنا تو درکنار پنجہ آزمائی کیلیے  کمپئین کے دوران سے ہی سست اور ڈھیلی ڈھالی دکھائی دیتی رہیں تینوں پارٹیوں کی نہ اعلی قیادت کہیں نظر آئی اور نہ ہی  کہیں بڑا اور کامیاب جلسہ منعقد کراتے نظر آئیں، یہی وجہ ہے کہ عملا شکست سے دوچار ہوئیں۔

  انتخابات میں  تحریک اسلامی کی شکست کی وجوہات سے متعلق یہ تحریر سامنے آئی ہے، ملاحظہ کیجیے:

"تحریک کی شکست کے عوامل۔
1: پورے 5 سال جی بی کے عوامی مسائل  میں مرکزی اور صوبائی عہدہ داروں کی عدم دلچسپی۔
2: تنظیمی عہدہ داروں اور کار کنوں کی فکری تربیت کا فقدان۔
3: علاقے میں سیاسی اور معاشرتی شعبے میں فعالیت کے لئے مالی منابع اور مرکز کی طرف سالانہ سے بجٹ کا نہ ہونا۔
4: مختلف سیاسی اور اجتماعی مسائل میں تحریک کے مرکزی اور صوبائی عہدہ داروں کی جانب سے عوامی امنگوں کے حق میں بر وقت موفق کا نہ آنا۔
5: الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران مرکز اور صوبے میں رابطہ اور ہم آہنگی کا فقدان۔
6: الیکشن میں قحط الرجالی کی وجہ سے غیر نظریاتی , غیر مقبول اور عوام کے لئے نا شناختہ افراد کو ٹکٹ دینا۔
7: گذشتہ ادوار میں تحریک کے ٹکٹ پر جیت کر اسمبلی میں پہچ نے والے افراد نا پسندیدہ حرکتیں , نا مرغوب کارکردگی اور عوامی مسایل میں نا خوشایند موقف۔
8: الیکشن کے آخری ایک دو دنوں میں کچھ نا عاقبت اندیشی پر مشتمل فیصلوں کے نتیجے میں دو حلقوں سے امیدواروں کو پی ٹی آئی حق میں بٹھانے کا  منفی اثر بھی دوسرے حلقوں پر پڑگیا ہے۔
9: اس بار جی بی کےالیکشن کے لئے مرکز نے کم اہمیت دی ۔ مرکز سے الیکشن خرچہ نہ ملنے کی وجہ سے  کہیں ایک بڑا عوامی پاورشو نہیں کر سکے ہیں۔اور الیکشن کمپین کے لئے قائد محترم یا کوئی مرکزی قومی سطح کی شخصیت جی بی میں نہیں گئی جبکہ دوسری پارٹیوں کی تمام شخصیات وہاں پہنچ گئی تھیں۔
یہ چند موٹے عوامل ہیں جن کی وجہ سے آج شکست ہوی"

 بہرحال جیتنے والوں کیلیے نیک تمنائیں اور ہانے والوں کے نام یہ شعر؛

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بٙل چلے