جمہوریت پر ایک نظر

حافظ سید شرافت حسین موسوی

سب سے پہلے ہم جمہوریت کی تعریف کریں گے جو خود  اہلِ جمہوریت کرتے ہیں اور اس میں ذرا بھی خیانت نہیں ہے۔ یعنی " عوام کی حکومت عوام پر عوام کیلئے"  
 Government of the people by the people for the people.


 یعنی انسان حقِ حکومت رکھتے ہیں اور اپنا یہ حق کچھ اور انسانوں کو تفویض کرتے ہیں اور جن کو یہ حق دیتے ہیں،  وہ اُن کی طرف سے  دیے گئے حق کے مطابق حکومت کا حق رکھتے ہیں۔ان کیلئے قانون اور آئین بناتے ہیں اور جن انسانوں نےاُن کو یہ حق دیا ہے وہ اُن کے قانون کی اتباع کرتے ہیں۔اس نظام کو نظامِ جمہوریت کہا جاتا ہے۔ 
ہمارے عقیدے اور نظریے میں جمہوریت مشرکانہ نظریہ ہے۔کیونکہ اس میں خُدا کے حق کو انسان کے حق میں بدل دیا جاتا ہے۔ یعنی جو خُدا کا حق تھا اُس کو انسان اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اور اس حق کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کو تفویض کرتا ہے اور وہ  حکومت کرتا ہے۔ اُن کا نعرہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عام عوام ہیں اور عوام جس کو چاہیں طاقت میں لائیں  اور یہ ربوبیتِ خُدا کےبالکل برعکس ہے ۔یہ نظریہء امامت کے سراسر خلاف ہے۔ اس لیے ہمارے علماء نے اس کو  مشرکانہ نظام کہا ہے۔ اگر ہم اس کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس کی حقیقت خود ہی کُھل کے سامنے آجائے گی۔ یہاں ہم اختصار سے بیان کریں گے۔ اس کیلئے ہمیں سیکولرزم سے پہلے آشنائی کرنا ہوگی اور معلوم کرنا ہوگا کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔
یورپ کا تاریخی پسِ منظر
ایک زمانہ یورپ میں ایسا رہا  ہے جب یورپ میں کلیساء کی حکومت تھی۔ گرجا اور چرچ کی حکومت تھی۔ اگرچہ ضروری نہیں کہ پادری بادشاہ ہو اور ہوتا بھی نہیں تھا، لیکن بادشاہ کلیساء کا غلام ہوتا تھا۔ کلیساء جو حکم جاری کرتا بادشاہ بھی اُس کا پابند ہوتا تھا ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بادشاہت کلیساء کا  ایک ذیلی شعبہ تھا۔ یہ دین کے نام پہ حکومت کرتے تھے۔ کلیساء یعنی دینِ مسیحیت کے پیروکار لیکن یہ پادریوں اور پنڈتوں کا تحریف شدہ دین تھا۔
حبروں اور راہبوں کا بنایا ہوا دین تھا۔ اور وہ کہتے کہ ہم زمین پر خُدا کی حکومت قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور ہم جو چاہیں ہمیں کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ہم کسی آئین کے پیروکار نہیں ہیں ۔بلکہ مطلق العنان  اختیار ہمیں حاصل ہے۔ اور وہ حکومت کرتے تھے جسے سیاست کی اصطلاح میں " تھیوکریسی " کہتے ہیں۔اب یہ دوسرے لوگوں پہ مختلف قسم کے ظلم کرتے تھے۔ ناجائز جرمانے لگاتے اور مالداروں سے دولت حاصل کرتے تھے اور جنت کی ٹکٹیں دیتےتھے۔اگر کوئی گناہ کرتا تو کہتے کہ اتنے پیسے ہمیں دے دو تو ہم تمہارا گناہ معاف کروا دیں گے۔ ورنہ تمہیں سزا ملے گی۔
سائنس، علم اور تحقیق پر پابندی لگا رکھی تھی۔ کوئی نیا سائنسی انکشاف کرتا یا نظریہ دیتا تو اس کو سزا سُنائی جاتی۔ اُنھوں نے کئی سائنسدانوں کو اس بات پر پھانسی دی کہ اُنھوں نے انکشاف کیا تھا کہ زمین گردش کرتی ہے ،نہ کہ سورج۔ یہ نظریہ گلیلیو نے بھی دیا تو انھوں نے پھانسی کی سزا سُنا دی۔جس کی وجہ سے اُنھوں نے اپنے جملے کو بعد میں تبدیل کیا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ زمین گردش کرتی ہے بلکہ گمان ہے کہ شاید ایسا ہو۔ اس طرح اس نے عقب نشینی کی تو اس کی جان بخشی کی گئی ورنہ دوسرے سائنسدانوں کی طرح اس کو بھی پھانسی لگا دی جاتی۔ لوگ  ان سے تنگ تھے اور اُن کا اس کے خلاف قیام کرنا ایک فطری امر تھا۔ اُنھوں نے ایک عرصے تک یہ ظلم برداشت کیا، لیکن جب اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ تو اُنھوں نے تحریک چلائی  کہ اس ظالمانہ حاکمیت کو ختم کیا جائے۔ اُنھوں نے یہ نہیں کہا کہ دین کے نام پہ اس حکومت کو ختم کیا جائے بلکہ کہا کہ دین کو ہی ختم کر دیا جائے چونکہ عوام کیلئے  دین کی تعریف یہی بنی تھی کہ دین جوبے جا لوگوں پر ظلم کرتا ہے ان کے مال میں تصرف کرتا ہے۔ جو اُنھیں سزائیں دیتا ہے۔ عقل پہ پابندی لگاتا ہے۔جو سائنس پہ پابندی عائد کرتا ہے۔لہٰذا اُنھوں نے کہا کہ دین ہی نہ ہو اور ہمیں اس سے نجات دلاؤ۔
اب چونکہ دین مقدس  تھا اور اس تحریک کو غیر مقدس کہا گیا۔ لفظ سیکولرزم کا لفظی مطلب یہی  "غیر مقدس" ہے۔ اس تحریک  کا پورا سفر اور تفصیل ہے جو آپ کو تاریخی کُتب میں سے مل سکتی ہے۔ یہ تحریک رفتہ رفتہ کامیاب ہونا شروع ہوئی، گرجے کی اہمیت کم ہونا شروع ہوئی۔ عقل، سائنس پر پابندی ختم ہوئی۔ سائنسی انکشاف ہونا شروع ہوئے، عوامی اختیار کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا۔ اگرچہ وہ نظام دینی نہیں تھا لیکن دین کے نام پہ تھا۔ اس لیے لوگ دین سے متنفر ہونا شروع ہوگئے۔لوگوں کو اختیار ملا تو اُنھوں نے سرے سے دین کا ہی انکار کر دیا۔ 
جب سائنس اور عقل پر پابندی ختم ہوئی تو مختلف انکشافات ہونا شروع ہوئے ۔جس نے اس منحرف مسیحی عقائد کو غلط ثابت کرنا شروع کردیا۔ اب جب عقائد غلط ثابت ہوئے  تو لوگوں کا پورے دین سے ہی اعتبار اُٹھ گیا۔ ا چونکہ یہ دین حبروں اور راہبوں کا لایا ہوا تھا اور اصل دینِ مسیحی نہیں تھا ۔تو سائنسی انکشافات نے اُن کی کچھ جزئیات کو جلد غلط ثابت کر دیا تو اُنھوں نے پورے دین کا ہی انکار کر دیا کہ یہ دین ایک فساد اور ڈرامہ تھا۔ لہٰذا سرے سے دین کا ہی انکار کردیا۔ 
یہاں مغرب سے جو غلطی ہوئی ہے وہ یہ کہ اب جبکہ یہ راہبوں کا دین غلط ثابت ہوگیا ہے۔ تو یہ تلاش کرنی چاہیئے تھی کہ آیا زمین پر کوئی ایسا دین بھی ہے ۔جوصحیح ہو،  الہٰی ہو یا کوئی بھی ایسا نہیں ہے؟ پر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اُنھوں نے یہ گمان کیا کہ سرے سے دین ہی غلط و فاسد ہے۔ اس لیے انھوں نے اس تحریک کے آخر پہ سرے سے دین کے عملی پہلو کا انکار کیا اور دین کو سیاست، معاشرت و سماج سے باہر نکالا۔اب ان کا دین پہ اعتقاد غلط ثابت ہوچکا اور جب نیا نظام بنایا تو کہیں بھی دین کو نہیں رکھا۔ 
انھوں نے کہا کہ ہم صرف اُس چیز کو مانیں گے جو حواسِ خمسہ میں آسکتی ہے۔ حواسِ خمسہ میں صرف مادہ آسکتا ہے۔ غیرمادہ کیلئے خُدا نے حواسِ خمسہ دیے ہی نہیں ہیں۔ اُس کے وسائل اور ہیں۔ حواسِ خمسہ میں نہ اللہ آتا ہے، نہ ملائکہ آتے ہیں، نہ وحی آتی ہے، نہ جنت و جہنم آتی ہے۔ تو لہٰذا یہ چیزیں حواسِ خمسہ کی پہنچ سے بہت دور ہیں  نتیجتاً اُن کے مفکرین نے ان سب چیزوں کا انکار کردیا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ چونکہ سائنس سے ثابت نہیں ہوتیں اور حواسِ خمسہ میں نہیں آتیں لہٰذا ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ 
وہ اس نتیجے پہ پہنچے کہ اس زمین پہ سب سے بڑی ہستی خود انسان ہے اور انسان سے اوپر کوئی ہستی نہیں ہے ۔چونکہ خُدا کا انکار کر چکے تھے۔ اب کہا کہ انسان کو آزادیاں دی جائیں۔ یہ سیکولر تحریک جب  انجام کو پہنچی تو اب انھوں نے انسانوں کو مختلف قسم کی آزادی دی۔ اُن میں سے ایک اعتقادی آزادی تھی کہ اگر کوئی ذاتی طور پہ عقیدہ رکھنا چاہے، دینِ مسیحیت یا کسی اور دین کو ماننا چاہے تو بے شک مانے۔اگر گرجہ میں جانا چاہے  تو ہم رکاوٹ نہیں ڈالیں گے ۔لیکن اس کا یہ عقیدہ گرجوں تک محدود ہو۔ اجتماعی زندگی میں اس کا کہیں نام و نشان نہیں ہوگا  اور گرجوں کو آبادی سے باہر بنانا شروع کردیا  تا کہ معاشرے کے اندر گرجہ کا اثرو رسوخ کم ہو سکے۔
اُنھوں نے کہا کہ دین انفرادی طور پر قبول ہے، لیکن دین کو اجتماع میں کہیں بھی نہ لایا جائے۔    سیکولر تحریک میں جو ذاتی آزادی کا نعرہ لگایا  اس میں ہر کسی کا حق ہے۔ اگر وہ گرجہ میں جانا چاہے تو جائے۔ لیکن اجتماع میں ایسا نہیں ہوگا۔ اجتماع میں انھوں نے سیاسی  آزادی کا نعرہ لگایا اور اس سیاسی آزادی سے جو نظام وجود میں آیا اُس کا نام"جمہوریت " ہے۔پھر کہا کہ جب تک مالی آزادی نہ ہو سیاسی آزادی بھی نہیں مل سکتی پھر جو مالی آزادی کیلئے نظام بنایا اُس کا نام " کیپٹلزم " کہا گیا۔
پس انھوں نے دیکھا کہ انسان سےبالا تر  کوئی ہستی نہیں ہے۔ اب اس انسان کو حق بنتا ہے کہ یہ خود حکومت کرے۔ اب اس کیلئے کوئی اور قانون نہ بنائے چونکہ یہ خود اعلیٰ ہستی ہے اور خُدا تو حواسِ خمسہ میں نہیں آتا ،اس لیے خُدا کو ہم عملی زندگی میں نہیں لاسکتے۔اس لیے کہا کہ یہ انسان خود قانون بنائے اور  خودحکومت کرے۔ سعادت مند انسان وہ ہوگا جس کی تمام خواہشات پوری ہوں اور جس کی خوہشات پوری نہ ہوں وہ بدبخت انسان ہوگا۔ چونکہ اس انسان کا کوئی ہدف و مقصد تو نہیں تھا۔ لہٰذا کہا کہ جس کی خواہشات پوری ہوجائیں وہ سعادت مند ہے اور یہی ان کا حقوقِ بشر کا نعرہ ہے۔وہ جب بھی حقوقِ بشر کا نعرہ لگاتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی خواہشاتِ نفس کو پورا کیا جائے چونکہ جس کی خواہشات پوری ہوجائیں گی وہ سعادت مند ہے۔جس کی خواہش نفس  پوری نہیں ہوئی وہ بدبخت ہے۔ یہ اُن کا نظریہ تھا کہ انسان خود بخود وجود میں آگیا ہے اور ایک دن خود بخود ختم بھی ہوجائے گا تو اس کی پیدا ہونے سے پہلے کی کوئی تاریج نہیں  ہے۔ نہ مرنے کے بعد اُس کی کوئی منزل ہے۔ پس یہ پیداہونے سے مرنے تک کا مختصر زمانہ ہے تو اس زمانے میں جتنا چاہے کھائے،پیے، شہوتِ جنسی پوری کر لے۔ چونکہ یہی خواہشات پوری کرنا ہی انسان کا مقصد ہے۔ 
یہ بات قطعی ہے کہ جو خُدا اور وحی کا انکار کرے تو وہ اسی نکتے پہ ہی پہنچے گا۔پھر انسان پر ہی ہے کہ اپنا قانون خود بنائے، حاکم خود بنائے اور اپنی خواہشاتِ نفس پوری کرے۔ یہ نظام، نظامِ جمہوریت کہلاتا ہے اور قرآن مجید کے مطابق یہ نظام قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس میں قانون و حاکمیت کا حق انسانوں کو حاصل ہے اور وہ آگے انسانوں کو تفویض کرتے ہیں۔
 اِنِ الۡحُکۡمُ  اِلَّا لِلّٰہِ
(سورہ یوسف آیت 40 )
یعنی حکومت صرف اللہ کا حق ہے اور جو حق اللہ کا ہے تو وہ حق ایک انسان دوسرے انسان کوکیسے دے سکتاہے ؟ جبکہ وہ اس کا حق ہی نہیں ہے۔ 
"وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ" 
یعنی "وہ لوگ جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ کا نازل کردہ ہے پس یہی لوگ کافر ہیں۔" 
(سورہ مائدہ آیت 44  )
خُدا کے ہاں کسی کو حق حاصل نہیں کہ اپنی مرضی  سے قانون بنائے۔لہٰذا جو خدا کے بجائے انسان کے بنائے ہوئے قانون کو اپنائے تووہ کافر ہے۔ اس بنیاد پر یہ نظامِ شرک ہے چونکہ اس کی بنیاد میں ہے کہ پہلے انھوں نے خُدا کی ہستی اور خُدا کے حکم کا انکار کیا اور پھر انسان کو اعلیٰ ہستی قرار دیا اور کہا کہ انسان سےبالاتر کوئی نہیں ۔لہٰذا انسان قانون اور حکمران بنائے۔ اس کی بنیاد شرک پر ہے۔ 
جب تک آپ خُدا کا انکار نہ کریں جمہوریت کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہوتی۔ پاکستان میں لوگ مغربی نعروں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور جمہوریت کے ڈھونگ میں آجاتے ہیں لیکن اگر اس کی بنیادوں کو پڑھیں تو اُنھیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس قدر فاسدنظام ہے اور یہ نظام کس طرح لوگوں کو گمراہی و ہلاکت کی  طرف لے جاتا ہے۔
انسان حکومت کر سکتا ہے یا نہیں  ؟قرآن کی نظر میں
وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِى الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ​ؕ
" اگر آپ نے زمین میں اکثریت کی پیروی کی تو  یہ آپ کو راہ خدا سے ہٹا دیں گے"  (گمراہ کردیں گے)۔
( سورہ انعام آیت 116 )
          پس یہ نصِ قرآن ہے کہ جو بھی اکثریتِ کی پیروی کرے گا راہ خدا سے ہٹ جائے گا۔ جمہوریت میں اکثریت کی پیروی کی جاتی ہے اور ہر ایک کو برابر حق حاصل ہے۔ جو اکثریت چاہیں گے، وہی قانون بنے گا ۔وہی آئین بنے گا۔ لہٰذا جمہوریت میں "جس کی لاٹھی اُس کی بھینس " کا قانون ہے۔ اکثریت جو چاہیں گے وہ ہوگا ۔جبکہ قرآن نے اکثریت کی پیروی سے منع کیا ہے۔ 
خُدا نے اکثریت  کی پیروی سے کیوں منع کیا ہے؟
 تو اسی آیت میں خُدا آگے فرماتا ہے کہ
  اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ‏ 
"جو روے زمین پر موجود ہیں ان کی اکثریت صرف گُمان کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کے پاس عقل، منطق اور ھدایت نہیں ہے صرف گُمان ہے۔"
 "وان ھُم الیٰ یُخرسون" 
"اور یہ صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں ۔"
یہ اندازوں سے کام لیتے ہیں اس لیے ان کی اتباع نہ کرنا۔ ورنہ ہلاکت و گمراہی ہے۔ چونکہ روئے زمین کی اکثریت کے پاس علم و فہم نہیں ہے۔ان کے پاس حق و ھدایت کا راستہ نہیں ہے ۔بلکہ ان کے پاس اندازے و گُمان ہیں ۔جن کی وجہ سے یہ قانون سازی کرتے ہیں اور جو بھی اندازے سے کام لے گا ،وہ راہِ خُدا سے بھٹک جائے گا۔ اس لیے آپ پارلیمینٹ میں دیکھیں کہ ایک قانون پاس کرتے ہیں اور پھر کُچھ دن بعد اُس کو بدل دیتے ہیں۔ 
یہاں سوال ہے کہ جب قانون بنایا تھا تو صحیح فیصلہ نہیں تھا کیا؟ اگر صحیح تھا تو آج اُس کو بدل کیوں رہے ہو؟ اگر بدل رہے ہو تو وہ غلط تھا۔ غلط اس لیے تھا کہ وہ گُمان تھے۔ اگر دینِ الہٰی ہوتا تو اس کا یہ حشر نہ ہوتا۔خُدا نے انسانوں کیلئے جو آئین بنایا ہے وہ قیامت تک کیلئے ہے اُس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ دین و آئین تبدیل نہیں ہوگا۔چونکہ قرآن تُکے اور اندازوں کا نام نہیں ہے۔ بلکہ خُدا کے علم قطعی سے بنا ہے ۔اس لیے دستور و آئین ہے چونکہ حق و معرفت ہے۔ اور یہ لوگ جو پارلیمنٹ میں آئین بناتے ہیں ان کو خود ہی نہیں معلوم کہ انسان کیلئے کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔ لہٰذا تُکے سے ایک آئین بناتے ہیں پھر وہ غلط ثابت ہو جاتا ہے تو ایک اور تُکے سے پھر نیا آئین بنا دیتے ہیں۔ اور یہ اندازو ں اور تُکوں کا سلسلہ جاری ہے۔
 قرآن کا صریح فرمان ہے کہ زمین6 کی اکثریت کی پیروی نہ کرنا ورنہ یہ آپ کو گمراہ کردیں گے۔ اور آج جو اکثریت جمہوریت کی پیروکار ہے یقیناً خُدا کے راستے سے بھٹکی ہوئی ہے اور خُدا کے راستے کو فراموش کرکے گمراہی و ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اب ہم جمہوریت کی تباہ کاریاں دیکھتے ہیں کہ اس سے انسانیت کوکیا مسائل ہو رہے ہیں۔
خدا ہیمں الہی سیاست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جیسے ہم رسول خدا کے بعد سیاسی رہبریت دین سے جدا نہیں کرتے اور امام کو ہی حاکم مانتے ہیں اسی طرح اپنے موجودہ دور میں بھی اپنے موجودہ امام کی حکومت کےلیے راہ ہموار کریں تاکہ ظھور امام ہو اور حکومت عدل قائم ہو پوری دنیا میں۔ چونکہ امام زمانہ ؑ کی حکومت معجزے سے قائم نہیں ہونی بلکہ موجودہ لوگوں کیساتھ دینے سے قائم ہونی ہے تو خدایا ہمیں توفیق دے کہ امامت کے پرچم کو قائم کرنے میں ہمارا بھی شمار ہو خدایا ایسا نہ ہو کہ جب محشر میں امامت کا سوال ہو تو ہم سر جکھا کر نہ کھڑے ہوں کہ ہم نے تو نظام امامت کےلیے ایک کوشش بھی نہیں کی اور ساری کوشش جمہوریت یا اس طرح کے دیگر نظاموں کےلیے کی تھی ۔خدایا ہمیں اس دن کی شرمندگی سے بچانا.