کورونا! وائرس یا سیاح

حسن نواز چیمہ
دنیا ابھی سہمی ہوئی تھی۔ اسے عالمی جنگوں اور نائن الیون جیسے واقعات لرزا رہے تھے. وہ ابھی ایڈز اور کینسر کا علاج ڈھونڈنے میں مصروف تھی کہ اچانک اس کی ملاقات کورونا نامی ایک وائرس سے ہوئی جو بڑی تیزی سے اسے اپنی زد میں لے رہا تھا.
کورونا وائرس کی نشاندہی سب سے پہلے چین میں ہوئی جس کے بعد کورونا وائرس نے سیاحت کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور ایک محلے سے دوسرے محلے, ایک شہر سے دوسرے شہر,اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی سیر شروع کر دی جس میں میرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی سرِفہرست ہے.

کورونا وائرس کے شوقِ سیاحت نے بےشمار معصوم لوگوں کی ملک الموت سے ملاقات کروا دی. جس پر عالمی ادارہِ صحت نے کورونا کے شوقِ سیاحت کو قدرِ کم کرنے کے لیے کچھ احتیاتی تدابیر بتائی جو کہ بہت کار آمد رہی. جس طرح ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے اسی طرح کورونا وائرس کا شوق سیاحت زوال کا شکار ہو گیا اور کُرہِ ارض پر کورنا وائرس کے مریض پہلے آہستہ آہستہ اور پھری تیزی سے صحت یاب ہونا شروع ہو گئے.
دنیا میں موجود باقی ممالک کے بارے میں بات کرنے کے لیے دنیا میں ماوؤں کے بہت سے سپوت موجود ہیں اس لیے میں اس معاملے پر اپنے وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں بات کروں گا.
جب وطنِ عزیز میں کروناوائرس کا شوق سیاحت عروج پر تھا تو اس نے لوگوں کو بہت تیزی سے اپنی زد میں لینا شروع کر دیا تھا اور ساتھ ہی آج کے مردِ مومن, انسان کامل اور مسلمان کا ایمانی جذبہ پوری دنیا کو دیکھانا شروع کر دیا تھا اور بتا دیا کہ آج کا مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار کیوں ہو رہا ہے. جس کی پہلی مثال یہ ہے کہ اس وطنِ عزیز جس کو اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا میں رمضان کےماہینے میں مساجد پر پابندی لگائی گئی. باجماعت نماز کی ادائیگی کو جرمِ کبیرہ قرار دیا گیا.

ہم کو گھروں میں تراویح پڑھنے کا کہا گیا مگر گرجا گھروں کو کھولا گیا جس پر میرے جیسے دیگر تنقید نگاروں نے کہا کوئی بات نہیں اقلییتوں کے حقوق کے تحفظ کا درس ہمارے نبی نے دیا تھا. اسی طرح میرے ملک کو تعلیم کی آبیاری سے دور کر دیا گیا ہم نے کڑوا گھونٹ پی کر کہا کوئی بات نہیں کچھ ماہینے سکول کالج بند رہیں گے لیکن ہمارے بچے محفوظ رہیں گے جبکہ شاپنگ مالز کو کھولا گیا.

اس کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے اس ناگہانی آفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی میں مسلم دشمن بل پاس کروانے کی بھی کوششیں تا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے. سب سے بڑی بات کے انہی دنوں جب لوگ کورونا وائرس کے خوف کی لپیٹ میں تھے تو حکومت کی جانب سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بیت المال سے رقم خرچ کر کے ایک غیر مسلم عبادت گاہ کی اجازت دے دی گئی.
یہ تو باتیں تھی اسلام دشمنوں کی کورونا وائرس کے شوق سیاحت سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو زک پہنچانے کی اب بات کرتے ہیں اپنی اس حکومت کے کورونا وائرس کے بارے میں کیے گئے فیصلوں کی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے بھی واقعات دیکھے, جب چند مخصوص لوگوں کا کوئی مذہبی یا سیاسی اجتماع ہوتا تو تاریخ گواہ ہے کہ کورونا وائرس کا ایک کیس بھی نہیں بڑھا.

پھر آہستہ آہستہ حکومت کی جانب سے ملک میں لاک ڈاون کو کھولا گیا تو زندگی بھی رفتہ رفتہ معمول کی طرف آنا شروع ہو گئی مگر اچانک سے جس کورونا کے شوقِ سیاحت کو زوال آ گیا تھا پھر سے سر اٹھانے لگا.
کیا آپ لوگوں نے حالیہ ملکی صورتِحال کا جائزہ لیا ہے کہ پندرہ ستمبر کے بعد کروناوائرس کے کیسیز میں حیران کُن اور غیر معمولی اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے. طلبا سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ پندرہ ستمبر کو ملک میں تعلیمی ادارے کھلے تھے شاید کورونا وائرس کو تعلیم سے بہت ہی زیادہ نفرت ہے کہ اسی لیے دوبارہ سے پھیلنا شروع ہو گیا کیونکہ تعلیمی ادارے کھلنے سے پہلے ملک نے جشن آزادی بھی منایا, باشندوں نے سیر گاہوں پر بھی خوب ڈیرے ڈالے لیکن اس وقت کورونا وائرس کو پھیلنا یاد ہی نہیں تھا.

ہم نے گلگت میں الیکشن مہم میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں مگر اس وقت کورونا خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ مگر اللہ جانتا ہے الیکشن کے ختم ہوتے ہی شاید کوورنا نے کوئی خوفناک خواب دیکھا کہ یک دم بڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا اور اس کو طلبا کی صحت اور اساتذہ کے اثاثے یاد آ گئے اور اس نے حکومت پاکستان سے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی درخواست کر دی. پھر 26 نومبر سے لے کر 10 جنوری تک ملک میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے جیسا کہ چند ماہ قبل کیا گیا تھا.
اس ساری صورتِحال نے ایک ناقابلِ جواب سوال کو جنم دے دیا ہے کہ کیا کورونا وائرس کو طلبا کی صحت کا حد سے زیادہ خیال ہے یا پھر تعلیم سے بے حد نفرت ہے؟


افکار و نظریات: کورونا, وائرس یا سیاح