مسیحی سے مسلمان ہونے کی داستان
 

 منظوم ولایتی


انسان بھی  ایک عجیب مخلوق ہے۔  مختلف عوامل کے باعث اس میں  مختلف النوع  تبدیلیاں خطور کرجاتی  ہیں۔ مہاجرت اور سفر ان تبدیلیوں کے عوامل میں سے ہیں۔ جیسا کہ شاعرِ مشرق نے اپنے ایک مکتوب میں علامہ شبلی نعمانی سے فرمایا تھا مجھے یورپی تہذیب نے مسلمان بنادیا۔ ویسے بھی قرآن واحادیث  میں بھی سفرکرنے کی کافی تاکید کی گئی ہے۔ آج میں اپنی اس تحریر میں ایک مسیحی لڑکے کے اسلام قبول کرنے اور اس راہ میں جھیلی جانے والی ان کی مشکلات کا تذکرہ کرناچاہتا ہوں۔
 بات یہ ہے حُسین نام کا ایک افریقی لڑکا میرا رومیٹ ہے۔ حُسین کا تعلق وسطی افریقہ کے  ملک کانگو سے ہے۔ وہ پہلے مسیحی تھے۔ اب  بھی ان کے ماں باپ بہن بھائی رشتہ دار سب مسیحی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بلتستانی عالم ِ دین علامہ زاہدحسین  کے ہاتھوں اسلام قبول کرچکے ہیں۔ حُسین نام بھی ان کا اسی عالم دین نے رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کےماں باپ نے انہیں  گھر سے نکال دیا ۔ وہ اس وقت کانگو یونیورسٹی میں فلسفے کےآخری سمسٹر کے اسٹوڈنٹ تھے۔ باپ نے  آخری سمسٹر کی فیس دینے سے انکار کردیا۔ غصہ یہی تھا کہ تم مسیحیت چھوڑ کر اسلام کی طرف کیوں گئے ہو!!

 تصویر میں سفید غبارے والے  مسٹر حسین ہیں

کہتے ہیں کہ ان کوسمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ وہ نہایت ہی پریشانی کے عالم میں اسی عالمِ دین زاہد حسین کے پاس جن کے ہاتھوں وہ اسلام قبول کر چکے تھے جاتے ہیں، اور ان کو ساری صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔

 اِس کے بعد حُسین کے بقول علامہ صاحب نے  ڈاکٹر حُسین کو ان کی یونیورسٹی کی ساری فیس بھی دی اور رہنے کیلیے اپنے مرکز میں رھائش بھی مہیا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شیخ زاہد حسین کو نہایت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اس کے بعد ڈاکٹر حسین کانگو یونیورسٹی سے فلسفہ غرب کے شعبے میں ماسٹرز کرتے ہیں۔ اسی دوران ان کے اپنے ماں باپ سے بھی  علامہ زاہد حسین کے توسط سے تعلقات  قدرے بہتر ہوجاتے ہیں۔پھر  ان کی ایک مسیحی لڑکی سے شادی بھی  ہوجاتی ہے۔ شادی کے بعد ان کی شریک حیات بھی ڈاکٹر حُسین کے ہاتھوں اسلام قبول کرتی ہیں۔ بیوی بھی یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہیں۔ اِس وقت اُن کے تین بچے ہیں۔
 حسینُ چونکہ کانگو یونیورسٹی میں فلسفہ غرب پڑھ چکے ہوتے ہیں اور فلسفیانہ ابحاث سے شغف رکھتے ہیں۔لہذا وہ  ارادہ کرتے ہیں کہ فلسفہ شرق کو بھی پڑھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایران کی بین الاقوامی  یونیورسٹی "جامعة المصطفیٰ العالمیہ " سے ڈاکٹریٹ کیا جائے۔
حُسین 2015ء میں ڈاکٹریٹ کی غرض  سے  کانگو سے اپنی  شریکِ حیات  کیساتھ ایران آتے ہیں۔ یہاں اُن کی بیوی بھی ان کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھائی شروع کرتی ہیں۔ چہار سال ایران میں تعلیم کے حصول کے بعد حسین کی بیوی اِس وقت ترکی میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ لیکن حُسین فلسفہ اسلامی کے شعبے میں  M.phil  کرچکے ہیں، اور مذید اعلیٰ تعلیم کے لیے شب  و روز مصروفِ عمل ہیں۔
راقم الحروف کو ڈاکٹر حُسین سے آشنائی ہوے  صرف چہار ماہ ابھی ہوئے ہیں۔ چونکہ   جیسا کہ اوپر ذکر کرچکا ہوں کہ وہ میرے رومیٹ ہیں۔ بہت ہی محنتی اسٹوڈنٹ ہیں۔ چونکہ میرا بھی شعبہ فلسفہ ہے لہذا  فلسفہ کا موضوع چھیڑتے ہی  مغربی اور مشرقی دونوں فلسفیوں جیسے ؛ سقراط، افلاطون، ارسطو ،کانٹ، روسو، کارل ماکس ، ھنری کاربن سے لیکر  اسلامی فلاسفہ  ابو نصر فارابی ، بو علی سینا، ملا صدرا  ، علامہ طباطبائی تک پر  زبردست تجزیہ و تبصرہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حُسین فرنچ، ترکش، فارسی، انگلش، عربی اور کانگوی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔
آج 25 دسمبر کو ان کا یومِ پیدائش تھا۔ویسے  بھی آج قائد اعظم محمد علی جناح کی ولادت کادن بھی تھا۔تو ہم رومیٹس نے ڈاکٹر حسین کو وِش کیا اور نیک تمنائیوں سے نوازا۔ اور ایک مختصر کیک پارٹی کا اہتمام بھی کیا۔ڈاکٹر حسین امام خمینیؓ کے عاشق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کانگو میں  انقلاب اسلامی اور امام خمینیؓ کا درست تعارف نہیں ہوا ہے۔ وہ ارادہ رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اپنے ملک میں  امام خمینی ؓ اور اسلام ناب محمدی کے افکار کا زبردست پرچار کریں۔
وہ انقلابی ذھنیت کے مالک ہیں۔ان کے بقول ان کے ملک میں شیطان بزرگ امریکہ کا قبضہ ہے۔  وہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد واپس جاکر  امریکی جارحیت کے خلاف کانگو میں ایک مقاومتی تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مالک ! نائجیریا کے ابراھیم زکزاکی کی طرح کانگو کے ڈاکٹر حُسین کو بھی اسلامی تعلیمات کی ترویج میں کامیابی عطا فرمائے۔