حماس کے یار و انصار ؟
نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

غزہ جل کر راکھ ہو گیا۔ آگ اور بارود کی بارش مسلسل برستی رہی۔ ان دنوں ہماری اصل پریشانی یہی تھی کہ کہیں امریکہ ناراض نہ ہو جائے۔ آئیے کچھ دیر کیلئے امریکہ کی بند گلی سے باہر جھانک کر دیکھتے ہیں۔باہر کی دنیا میں ایک تنظیم ہے اخوان المسلمین ، یہ نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ یہ اہل سنت مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی تحریک ہے۔اس کی بنیاد خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے چھ سال بعد یعنی 1928 کو مصر میں حسن البنا نے رکھی۔ یہ اس وقت قائم کی گئی جب مسلمانوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔اس نے سارے مسلمانوں کو جمع کرنے کیلئے ملت واحدہ کا نعرہ لگایا۔ اس کے نزدیک مسلمانوں کے مسائل کا حل باہم متحد ہونے میں ہے۔یاد رہے کہ وحدتِ اسلامی کا یہ نظریہ عرب قومیت کی سراسر نفی کرتا ہے۔
اخوان المسلمین نے اپنے نظریے کے مطابق مسلمانوں کی دینی،عسکری ،سیاسی و اجتماعی تربیت کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔ جلد ہی اسے عرب ممالک میں پذیرائی ملی اور پھر اس کے خوف سے عرب بادشاہتیں کانپنے لگیں۔ چنانچہ ۱۲ فروری ۱۹۴۹ کو رات کی تاریکی میں حسن البنا کو قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ اخوان المسلمین کے اتحاد کے نعرے سے سب سے زیادہ خطرہ عرب ریاستوں نے ہی محسوس کیا ۔ بعد ازاں ۱۹۵۶ میں مصر کے اندر جمال عبدالناصر اخوان المسلمین کی مدد سے برسرِ اقتدار آیا ۔ اسے بھی اخوان المسلمین کے نظریات اپنے اقتدار کیلئے انتہائی مہلک محسوس ہوئے۔ چنانچہ اس نے عرب بادشاہوں کے درمیان اخوان المسمین کے مقابلے میں عرب قومیت کے تصور کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ اس نے اخوان المسلمین پرپابندی لگا کر اسے کالعدم قرار دیدیا اور اس کے سینکڑوںممبران و قائدین کو پھانسی دیدی ۔تاہم جمال عبدالناصر کی موت کے بعد اخوان المسلمین کی تنظیم مصر سمیت مختلف عرب ممالک میں انتہائی نشیب و فراز کے ساتھ حتی کہ زیرِ زمین جا کر بھی زندہ رہی۔
کئی سالوں کی سخت جدوجہد اورقربانیوں کے بعد ۲۰۱۲ میں مصر میں اخوان المسمین کے محمد مُرسی انتخابات جیت کر صدر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ مصر میں اخوان المسلمین کی سُنی حکومت، سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن گئی۔ اس سے پہلے اہلسنت کی ترجمانی اور سربراہی سعودی عرب کےپاس تھی۔

اس سے پہلے سعودی عرب کی رائے کو ہی اہل سنت کی رائے سمجھا جاتا تھا لیکن ۲۰۱۱میں مصر کو یہ قیادت ملنے والی تھی۔ چنانچہ عرب ریاستوں نے ایک سال کے اندر ہی مُرسی کا تختہ الٹ دیا ۔ یہ ہے اخوان المسلمین اور سعودی عرب کے اختلاف کا پسِ منظر ہے۔
اب آئیے حماس کی طرف۔ لفظ حماس حركة المقاومة الإسلامية کا مخفف ہے۔یہ تنظیم فلسطین میں اخوان المسلمین کی ہی ایک شاخ ہے۔ ۱۹۸۷ میں شیخ احمد یاسین نے غزہ میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔چنانچہ فلسطین کی حماس نامی تنظیم سے سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کو وہی خطرہ ہے جو اُنہیں اخوان المسلمین سے ہے۔
اگلے مرحلے میں ہم ترکی اور حماس کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہیں۔ خلافت عثمانیہ کی وجہ سے اہل سنت کی سربراہی کیلئے ترکی کا پلڑا سعودی عرب کی نسبت بھاری ہے۔ دوسری طرف اخوان المسمین کا یہ نظریہ کہ سارے مسلمان ایک قوم ہیں یہ بھی ترکی کے پلڑے کو بھاری کرتا ہے۔ لہذا ترکی بھی اخوان المسلمین کی ممکنہ حمایت کرتا ہے۔
اب یہاں پر جو لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے وہ ۲۰۲۳ میں ترکی کے اندر خلافت عثمانیہ کا اعلان کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۳ میں ترکی کا معاہدہ لوازان ختم ہو رہا ہے۔ چنانچہ حالیہ دنوں میں ترکی اگر حماس یا فلسطینی مقاومت کی مدد کرے گا تو خلافت عثمانیہ کا احیا خطرے میں پڑ جائے گا۔ لہذاترکی فلسطینیوں کی کوئی بھی عملی مدد نہیں کر سکتا۔
اب ہم یہاں پر یہ عرض کرتے چلیں کہ سوئٹزرلینڈ کےایک شہر کا نام لوزان ہے۔اس شہر میں ۲۴ جولائی ۱۹۲۳کو سرحدوں کے تعین کیلئے ترکی کا برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس کے مطابق ترکی کے ٹکڑے کر کےشام، لبنان،خلیجی ریاستیں، قبرص، اردن اور عراق وغیرہ کو ترکی سے الگ کر دیا گیا تھا۔جب تک ترکی ہے تب تک یہ معاہدہ موجود رہے گا۔ اس کی کوئی مدت میعاد نہیں۔ اس کی مدت ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ الگ ہونے والی ریاستیں اب دوبارہ ۲۰۲۳میں ترکی کا حصہ بن جائیں گی۔ایسا معاہدہ کہیں وجود ہی نہیں رکھتا۔ معاہدہ یہ ہے کہ اس کے بعد فلاں فلاں ریاستیں ترکی سے الگ اپنی مستقل حیثیت رکھتی ہیں۔
اب اگلی بات یہ ہے کہ خود رجب طیب اردگان کا وژن بھی دیکھاجائے کہ وہ ۲۰۲۳ میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔وہ جمہوری اصولوں کے مطابق ۲۰۲۳میں دوبارہ صدر منتخب ہو کر ملک کو مزید ماڈرن کر کے یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اور اُن کا اہم ترین ہدف ملک کو دنیا کی ٹاپ ٹین یعنی دس بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کرنا ہے۔ اگر وہ آج کے اس ماڈرن، سیکولر اور روشن فکر ترکی میں خلافتِ عثمانیہ کے احیا کی باتیں کریں گے تواگلے انتخابات میں عوام اُنہیں ووٹ ہی نہیں دیں گے۔
اسی طرح اس جنگ کے دوران کچھ احباب کا موقف پاکستان کے حوالے سے بھی بڑا حیران کن رہا ۔اُن کی ساری توجہ چندہ جمع کرنے پر مرکوز رہی۔ ایسے احباب کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ اپنی تمنائیں بھی دیکھیں اور ادائیں بھی ۔ ایسے احباب امریکہ و یورپ اور اسرائیل کا دباو مستردکرنا تو دور کی بات ہے یہ تو ان کا چندہ بھی مسترد نہیں کر سکتے۔ انہیں اگر امریکہ و اسرائیل اگر چندہ مانگنے کی اجازت دے دیں تو ایسے حضرات وہاں بھی بخوشی اسی کام کیلئے چلے جائیں گے۔