یہ سب آخر کب تک

محبوب اسلم
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہایت آسان ہے کہ پاکستان کو اسٹیبلیشمنٹ چلا رہی ہے اور اسٹیبلیشمنٹ کاروباری کلاس کے کچھ فوجی جرنیلوں۔۔۔بیوروکریسی کے کچھ کرپٹ بابؤوں، کچھ بے ضمیر ججوں اور کچھ کرپٹ و منافق سیاستدانوں پر مشتمل گروہ کا نام ہے۔ لیکن اسمیں سب سے زیادہ حصہ کاروباری کلاس کے فوجی جرنیلوں کا ہے کہ حصہ بقدر جثہ کے اصول کے تحت یہ انکا حق ہے؟؟؟ 
اس بات پر اگر آپ کو اعتراض ہےتو ہوا کرےلیکن حقیقت یہی ہے۔ پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے اور قائداعظم کی کیا نیت تھی اور اس قوم نے کیاکیا قربانی اس وطن عزیز کو حاصل کرنے کیلئے دی۔۔۔ان سب پر آپ مٹی ڈالیں اور زمینی حالات کو سامنے رکہیں۔ 
آج کے دور میں یا یوں کہہ لیں کہ فادر ملت جناب ایوب خان کے دور سے لیکر یہی اسٹیبلیشمنٹ کے گرکے چہرے بدل بدل کر اس ملک کے اقتدار پر قابض رہے اور ہم بحثیت قوم بادل نخواستہ اقوام عالم میں زندگی گذار رہے ہیں۔۔۔یایوں کہہ لیں کہ وقت ہمیں گزار رہا  ہے۔۔۔کہ ہم تو بس موجود ہیں۔۔۔وقت کے تھپیڑے کبھی ہمیں اسطرف اور کبھی اسطرف الٹ پلٹ کرتے رھتے ہیں۔۔۔کیونکہ ہم بحثیت قوم اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔ ہماری نکیل ان چند طاقتور حلقوں نے اپنے ھاتھ میں لے رکھی ہے۔۔۔اور ہم اونٹ یا پھر بندر کیطرح اس تماشے کاحصہ بننے پر مجبور ہیں۔ اور اگر ہم میں سے کوئی صاحب شعور اور عقل۔۔۔یا یوں کہہ لیں کہ اپنے انسان ھونے پر دلیل دے اور اپنی نکیل اور اسے پکڑنے والےہاتھوں پر سوال اٹھا ئے تو پھر یہ اسٹیبلیشمنٹ اسد طور کی طرح اسکے گھر دو طرح سے حاضری دیتی ہے۔۔۔پہلے اسکی ٹھکائی لگانے کیلئیے کہ ۔۔۔وڈا تو آیا صاحب شعور۔۔۔اور دوسری پھر حزب اختلاف کی صورت میں اسکی مزاج پرسی کیلئے کہ۔۔۔ ڈوبتی ہوئی اپوزیشن کو تنکے کا سہارا ہی بہت ہے۔۔۔وگرنہ یہی اپوزیشن جب اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے اقتدار میں ھوتی ہے تو ایک معمولی بیکری ملازم پر بھی پولیس چڑھا دی جاتی ہے!!! 
اس سارے گورکھ دھندے میں کمال ھشیاری سے اسٹیبلیشمنٹ کے کردار وفاداریاں بدلتے۔۔۔جوڑ توڑ کرتے۔۔۔اپنا اپنا حصہ بچانے اور بڑھانے کیلئے ایکدوسرے سے نبرد آزما بھی رھتے ہیں اور ہم بحثیت قوم ان کے اس کھیل اور ڈرامے کا حصہ نہیں بنتے کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ میوزیکل چئیر والا کھیل انہی میں سے کسی نے جیتنا ہے۔۔۔عوام کی بھلائی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔عوام کے مسائل انہیں خود حل کرنے ہیں۔۔۔یقین نہ آئے تو ملکی انتخابات میں عوام کی واضح اکثریت کی غیر دلچسپی اس کا ثبوت فراہم کر دے گی۔۔۔اگرچہ اسکے کچھ اور عوامل بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر اکثریت اس اقتدار کے کھیل پر چار حرف بھیج چکی ہے اور یوں حالات سے سمجھوتہ کر چکی ہے۔۔۔جو کہ کوئی قابل فخر بات نہیں ہے۔ لیکن فیالحال یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہےکہ اس اقتدار کے میوڑیکل چئیر میں بھی یہ کردار آپسمیں اسقدر دست و گریبان ہیں کہ ہمہ وقت ایک طوفان برپا ہے۔ 
اور اس طوفان میں تین طرح کے عوام دلچسپی رکھتے ہیں۔۔۔ایک وہ جن کا روزگار اس پورے عمل سے کسی نہ کسی کردار کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت سے وابستہ ہے۔۔۔یعنی ملکی مفادات سے انکا کوئی لگاؤ نہیں ہے لیکن انکی کسی نہ کسی اسٹیبلیشمنٹ کے کردار سے وابستگی انکے روزگار کی ضمانت ہے۔۔۔گویا یہ پیشہ ور لوگ ہیں اور یہ اکثر آپ کو اپنے اپنے لیڈران کی پریس کانفرنس پر انکے آگے پیچھے ایکدوسرے کو دھکم پیل کرتے ہوئے نظر آجائینگے۔۔۔اور کچھ کو تو انکے اپنے ”لیڈر“ بہے کہنیاں مارتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
دوسرا عوامی گروہ جو اس ڈگڈگی تماشے کا حصہ ہے وہ ان حضرات پر مشتمل ہے جو اس سارے تماشے کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور دماغی طور پر اس چورن کو  نہ صرف کھانے پر تیار ہیں بلکہ مرنے مرانے پر بھی تلے بیٹہے ہیں۔۔۔مثال کے طور پر وہ واقعی الطاف بھائی کو پیر صاحب۔۔۔عمران خان کو تبدیلی کا نشان، زرداری کو سندھ کا مسیحا اور نواز شریف کو عوامی ووٹ کی حرمت کا محافظ سمجھتے ہیں۔۔۔ان سے منطقی بات کرنے سے بہتر ہے بندہ دیوار پر سر مار دے!!! 
لیکن تیسری عوامی قسم وہ ہے جو واقعی ہی ملکی نظام میں بہتری کی خواہ ہے اور زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے ان تمام کرداروں کی خامیوں کو سمجھتے اور جانتے ہوئے بھی کسی بہتر حل کی تمنا کیلئے اس کھیل کو نہ چاھتے ہوئے بھی وقت دینے کو تیار ہیں اور ساتھ ھی ساتھ ایک متبادل نظام یا عوامی تحریک کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔۔۔لیکن یہ لوگ اول تو ہیں ھی بہت تھوڑے سےاور پھر پہلی دو اقسام گاہے بگاہے انکا روپ دھار کر انکی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں اور یوں انکا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے اور عوامی اکثریت اس سیاسی سرکس پر چار حرف بھیجتے ہوئے دور ہی رہتی ہے۔ 
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلے گا؟؟؟ کب تک اس اسٹیبلیشمنٹ کے یہ محدود کردار اس ملک کی اکثریت کے فیصلے کرتے رہینگے؟؟؟ اسکا جواب بہت سادہ سا ہے۔۔۔جب تک اس ملک کی اکثریت اس اسٹیبلیشمنٹ کے نوسر باز فوجی جرنیلوں، کرپٹ بیو روکریٹس، دلال ججوں اور منافق سیاسی لیڈروں کا احتساب نہیں کرینگے۔۔۔یہ گورکھ دھندا یوں ھی چلیگا۔۔۔پیغام واضح ہے۔۔۔یا تواٹھ کھڑے ھو یا پھر یہ ظلم برداشت کرو!!! 
آخر میں اس حالیہ تبدیلی سرکار کے منافقین اور کاروباری کلاس والے فوجی جرنیلوں سے گذارش ہے کہ کشمیر تو تم نے بیچ ھی دیا ہے۔۔۔لیکن پاکستان میں امریکی اڈوں کا فیصلہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی چکانا پڑیگا۔۔۔کچھ عقل کے ناخن لو اور اپنی سر زمین پاک کو ان ناپاک کاموں سے دور رکھو۔۔۔افغان جہاد کا سودا مت کرو۔۔۔اپنا پیٹ ڈالر کی آگ سے مت بھرو اور اس ملک کی نسلوں کو آگ اور خون کےدریا میں مت دھکیلوں۔۔۔یہ ملک تم چلا رہے ھو۔۔۔اپنی ذمہ داری کو محسوس کرو!!! 
ہم ان معاملات پر آواز ہی اٹھا سکتے ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔۔۔اور کرتے رہیں گے۔ آپ بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔۔۔سیاسی طورپر بھی متحرک ہو اور اس ملک سے اس کاروباری کلاس کے کچھ فوجی جرنیلوں۔۔۔بیوروکریسی کے کچھ کرپٹ بابؤوں، کچھ بے ضمیر ججوں اور کچھ کرپٹ و منافق سیاستدانوں پر مشتمل اسٹیبلیشمنٹ سے چھٹکارے کیلئے متحد ہو۔۔۔کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے!!! 
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
دعاگو
محبوب اسلم