اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات خوابوں کی داستان اس کے خط کا آخری حصہ پڑھ کر میں زار و قطار رو رہی تھی۔جس میں کچھ یوں لکھا تھا۔ مجھ پر پڑی ان ذمہ داریوں کے بوجھ نے مجھے تم سے محبت کا اظہار کرنے سے روکے رکھا۔۔ان حالات میں نہ تمہیں اپنا سکتا تھا نہ ہی تم سے سے زیادہ دیر نبھا سکتا تھا اس لیے میں نے دل پر چپ کا تالا لگا لیا تھا اور اپنے رشتے کو دوستی سے آگے بڑھنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔ ہمیشہ یہی کہتی میں اپنی زندگی کو کسی خاص مقصد کے لئے گزارنا چاہتی ہو ں شادی کرکے میں اپنا مقصد کھونا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاسم کی محبت میرے پورے وجود میں سما چکی تھی۔میں پوری کی پوری اس کی ہوچکی تھی اور اس کی کامیابیوں کے لئے ہمیشہ دعاگو رہتی۔۔۔۔۔۔ چند ہی سالوں میں، میں ایک کامیاب انجیو کی سی۔ ای ۔او بن چکی تھی۔میری اور میری دوست کی دن رات کی محنت کی وجہ سے ہماری این جی او کا شمار ملک کی بڑی اینجیوز میں ہونے لگا۔آٹھ سال کا عرصہ کیسے گزرا مجھے ذرا بھی احساس نہ ہوا۔ایسا لگا جیسے آنکھیں بند کیں ،کھولیں تو آٹھ سال بیت چکے تھے۔میری دوست حسنہ کی ایک دوست تھی جو جاسم کے گھر کے قریب رہائش پذیر تھی۔ کبھی کبھار حسنہ کا اس سے ملنا ہوتا تو جاسم کی خیریت دریافت کر کے مجھے بتا دیتی۔جاسم کے بارے میں میرے دل کی کیا کیفیت ہے وہ اس سے بے خبر تھی۔جاسم کی دوست ہونے کے ناطے وہ مجھے اس کا حال احوال بتا دیتی۔اس نے بتایا کہ کے راشدہ بتا رہی تھی۔ جاسم کا گھرانہ بہت ترقی کر رہا ہے۔اس کی تین بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہو چکی ہے۔دادا ،دادی کا انتقال ہوچکا ہے۔۔۔۔ انہیں سوچوں میں گم چند دن گزر گئے۔ایک دن حسنہ کی صبح صبح کال آئی کے آج ہم دونوں جاسم کے گھر جاکر اس کو سرپرائز دیں گی اس لیے تم گھر سے تیار ہو کر آنا۔میں نے راشدہ سے جاسم کے گھر کا پتہ پوچھ لیا ہے اور اس کو بتا بھی دیا ہے کہ آج ہم دونوں اس کے گھر جائیں گی۔ ۔۔۔ Are u all right Hina?
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو

شازیہ منشاء
یونیورسٹی کے دنوں کو چھوڑو ایک آخری بات کہوں"۔"
پیاری حنا! میرا دل تمہاری چاہت اور محبت سے لبریز ہے۔مگر اپنے کم حیثیت ہونے کی وجہ سے میں تم سے اظہار محبت نہ کرسکا۔ ہمارا رشتہ صرف دوستی تک محدود رہا۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں تم سے محبت کا اظہار کر دیتا شاید تم میری محبت قبول کر لیتی۔مجھے دل و جان سے چاہنے لگتی۔ ہم دونوں شادی کے بندھن میں بندھ بھی جاتے۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی میں تمہیں خوشیاں اور تمہارا وہ حق نہ دے سکتا جو تم ڈیزرو کرتی ۔
میرا تعلق بڑے خاندان سے ہے میری فیملی میں گیارہ افراد ہیں۔ دادی،دادا، امی، ابو چار بہنیں اور تین بھائی ۔میں اپنے گھرکے بچوں میں سب سے بڑا ہوں میری اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد والد صاحب نے بہت سی امیدیں مجھ سے لگا رکھی ہیں۔۔۔۔
تم سوچ رہی ہوگی اب مجھے اچانک کیوں اظہار محبت کا خیال آگیا۔
کچھ دن پہلے میرا جاپان کا ویزا آیا ہے میں چند روز تک جاپان چلا جاؤں گا۔ میرا پورا خاندان میری ترقی پر بہت خوش ہے۔میں گھر والوں کی بہت سی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے جاپان جا رہا ہوں ۔ بس جانے سے پہلے تم سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا کہ کبھی دل میں ملال نہ آئے کہ کاش تم سے محبت کا اظہار کر لیتا۔۔۔۔۔۔میرا جاپان کا سفر نہ جانے کہاں سے کہاں تک مجھے لے جائے گا ۔میں نہ جانے کب واپس لوٹوں گا۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔شاید میری واپسی تک تم کسی کے ساتھ منسوب ہوچکی ہوگئی اور تمہارے دو تین بچے بھی ہونگے۔میرے دل سے تمہارے لئے ہمیشہ دعائیں نکلیں گی۔اللہ پاک کی ذات ہمیشہ تمہیں خوش رکھے۔کوئی غم کوئی دکھ تمہاری زندگی میں نہ آئے"۔۔۔۔۔
محبت کا پہلا اور آخری خط۔
"تمہارا نہ ہونے والا جاسم"
اس کا خط پڑھنے کے بعد میں بچوں کی طرح زارو قطار روتی رہی۔"جاسم تم نے کیوں ایسا کیا"؟
کاش تم مجھ سے محبت کا اظہار کر لیتے۔میں تمہاری ترقی کے لیے دعائیں کرتی اور تمہارے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتی۔تمہاری ہر ذمہ داری کو نبھانے میں تمہارے ہم قدم ہوتی۔مجھے یہ نہیں پتہ کہ مجھے تم سے محبت ہے یا نہیں مگر مجھے تمہاری عادت سی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔عادت سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔
تم غلطی کر چکے تمہارا ازالہ میں کرونگی۔میں تمہاری محبت میں تمہاری واپسی کا انتظار کروں گی۔ میرا وعدہ ہے کہ تمہارے لوٹ آنے تک میں کسی کے ساتھ منسوب ہوں گی اور نہ ہی کسی سے کوئ تعلق بناؤں گی۔ میں تمہاری واپسی کا انتظار کروں گی۔
اس نے کئی بار اس کا خط اور اس کا نام چوما تھا۔
اسٹڈی سے فارغ ہونے کے بعد ایک سال تو بغیر کسی پریشانی کے گزر گیا۔مگر ایک سال بعدمیرے لیے رشتے آنے لگے اور میرے گھر والے سنجیدگی سے میری شادی کے بارے میں سوچنے لگے ۔میں شادی سے انکار کے لئے مختلف حیلے بناتی رہتی ۔
جب کوئی سچے دل سے کسی فیصلے پر ڈٹ جاتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس کے لئے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔مختلف رشتوں سے انکار سن سن کر میرے گھر والے مجھ سے تنگ آ چکے تھے۔ہمیشہ یہی کہتے آخر تم کیا چاہتی ہو ہمیں بتا دو۔ں تاکہ ہم بھی کچھ تمہاری طرف سے سکھ کا سانس لیں۔رشتے داروں میں تو کوئی معقول رشتہ موجود نہ تھا۔باہر سے ہی رشتے آتے مگر میں ہر بار انکار کر دیتی۔"جب مجھے شادی کرنا ہو گی میں آپ کو بتا دوں گی اس لیے آپ تمام لوگ میری شادی کا خیال دل سے نکال دیں۔ہمیشہ ان سے یہی کہتی"۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں ایک دن میری ایک یونیورسٹی کی دوست نے مجھے آفر کی کہ دونوں مل کر ایک اینجیو چلاتے ہیں جس میں ہم نادار، غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کو سہارا دیں گے۔مجھے تو پہلے ہی ایسے موقعے کی تلاش تھی۔ فورا اس کام کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہو گئی۔ہم دونوں نے این۔ جیو چلانے اور اس کی ترقی کے لیے کام کرتے دن رات ایک کر دیا۔یوں رشتے والی بلا مجھ سے ٹل گئی۔
اس کے ابا گھر میں ہی آرام فرماتے ہیں کیونکہ جاسم کی ماہانہ آمدن بہت زیادہ ہے جس سے ان کا گھرانا خوشحال ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی ترقی کا سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی ۔
ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کی ترقی کے پیچھے میرے دل سے نکلنے والی دعائیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں خوش ہو کر اس سے سے ملاقاتوں کا سوچنے لگتی۔ کئ گلے اور شکوے سوچ رکھے تھے جو اس کے ملنے پر اس سےکرنا تھے۔اپنی محبت کی تڑپ اور دل کی بے چینی سے بھی اسے آگاہ کرنا تھا۔صرف اس کے دل میں ہی میری محبت نہیں تھی بلکہ میرے دل میں بھی اس کی محبت کا نہ بجھنے والا دیا جل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن میں اور حسنہ بیٹھے یونیورسٹی کی باتیں کر کے خوش ہو رہی تھیں۔ جاسم کے ذکر پر اس نے بتایا۔۔۔۔۔۔جاسم جاپان سے واپس آ چکا ہے۔ ایسا کرتے ہیں کسی دن ہم دونوں اس سے ملنے اس کے گھر چلتے ہیں۔یونیورسٹی کی یادوں کو تازہ کر لیں گے اور اس سے مل بھی لیں گے۔آخر وہ ہم دونوں کا بہت اچھا دوست رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میری آنکھیں اس کے اس کی بات سن کر چمک اٹھیں اور دل تو جیسے بھنگڑے ڈالنے لگا۔۔۔۔۔خیالوں خیالوں میں ، میں اکثر اس سے ملتی اور پھربہت ساری دل کی باتیں کرتی ہم دونوں ایک دوسرے سے ٹوٹ کر محبت کا اظہار کرتے۔
باتوں باتوں میں شادی کا ذکر چھڑ جاتا۔میں شرماجاتی،وہ بھی اپنے گھر والوں کو میرے گھر رشتہ لینے کے لئے بھیجنے کا وعدہ کرتا ۔۔۔۔۔۔
حنا کے انتظار کی گھڑیاں ختم ھونے والی ہیں وہ خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے بولی۔ تیار ہو کر مسکرائی اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا۔
آج اسے اپنے آپ میں یونیورسٹی والی حنا نظر آئی جو ہمیشہ خوش اور فریش رہتی ۔۔۔۔اس نے اپنا ضروری سامان لیا، کار میں بیٹھی اور اپنی این ۔جی۔ او کی طرف روانہ ہوگئی۔
اپنے آفس میں بیٹھے بےچینی سے حسنہ کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔ دوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ مگر وہ ابھی محترمہ آفس نہیں آئ تھی۔۔ ۔۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔۔۔۔ سوری
اس نے دروازہ کھولتے ہی حناکو کہا۔ سوری یار لیٹ ہوگی وہ ماما کو ہوسپٹل لے کر گئی تھی ان کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی۔اب وہ ٹھیک ہیں میں انہیں گھر ڈراپ کر کے سیدھا تمہارے پاس آئی ہوں۔۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔ ۔۔۔۔ اب چلیں جاسم کی طرف اس کو سرپرائز دینے ۔حنا نے کھڑے ہوتےاسے جانے کے لیے کہا۔ اوہ سوری تمہیں بتانا بھول گئی۔ راشدہ کی کال آئی تھی ۔۔ ۔۔۔آج جاسم کا نکاح ہے۔۔۔۔۔ہم اس کو سرپرائز دینا چاہتے تھے مگر اس کے نکاح نے ہمیں سرپرائز کر دیا۔
اس نے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا۔یہ سن کر میں لڑکھڑا اٹھی۔آسمان شاید مجھ پر گرچکا تھا اور پاؤں سے زمین بھی نکل گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔ میں گرنے ہی والی تھی کہ حسنہ نے بھاگ کر مجھے سنبھالا۔۔
میں نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا
بس ایسے ہی چکر آگیا ۔ اےسی والے کمرے میں ہونے کے باوجود میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔ " میں گھر جانا چاہتی ہوں" مدہم سی آواز میں میں نے حسنہ سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
میرےسارے خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔محبت کی آس دلاکر وہ شاید مجھے بھول بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اس کی محبت کی آس اور اسے پانے کے انتظار میں میں نے آٹھ سال گنوا دیے تھے۔۔۔۔۔جاسم کی ذات سے متعلقہ تمام خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔
میری خیالی محبت کی داستاں صرف خیالوں تک محدود رہ گئی۔
میں اس کا گریباں پکڑ کے اپنے خوابوں کی دنیا کے چکنا چور ہونے کا حساب اس سےمانگنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر اب بے سود۔۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں