خوابوں کی داستان
 شازیہ منشاء

اس کے خط کا آخری حصہ پڑھ کر  میں زار و قطار رو رہی تھی۔جس میں کچھ یوں لکھا تھا۔
یونیورسٹی کے دنوں کو چھوڑو ایک آخری بات کہوں"۔"
پیاری حنا! میرا دل تمہاری چاہت اور محبت سے لبریز ہے۔مگر اپنے کم حیثیت ہونے کی وجہ سے میں تم سے اظہار محبت نہ کرسکا۔ ہمارا رشتہ صرف دوستی تک محدود رہا۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر میں تم سے محبت کا اظہار کر دیتا شاید تم میری محبت قبول کر لیتی۔مجھے دل و جان سے چاہنے لگتی۔ ہم دونوں شادی کے بندھن میں بندھ بھی جاتے۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی میں تمہیں خوشیاں اور تمہارا وہ حق نہ دے سکتا جو تم ڈیزرو کرتی ۔
میرا تعلق بڑے خاندان سے ہے میری فیملی میں گیارہ افراد ہیں۔ دادی،دادا، امی، ابو  چار بہنیں اور تین بھائی ۔میں اپنے گھرکے بچوں میں سب سے بڑا ہوں  میری اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد والد صاحب نے بہت سی امیدیں مجھ سے لگا رکھی ہیں۔۔۔۔

مجھ پر پڑی ان ذمہ داریوں کے بوجھ نے مجھے تم سے محبت کا اظہار کرنے سے روکے رکھا۔۔ان حالات میں  نہ تمہیں اپنا سکتا تھا نہ ہی تم سے سے زیادہ دیر نبھا سکتا تھا اس لیے میں نے دل پر چپ کا تالا لگا لیا تھا اور اپنے رشتے کو دوستی سے آگے بڑھنے نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔
تم سوچ رہی ہوگی اب مجھے اچانک کیوں اظہار محبت کا خیال آگیا۔
کچھ دن پہلے میرا جاپان کا ویزا آیا ہے میں چند روز تک جاپان چلا جاؤں گا۔ میرا پورا خاندان میری ترقی پر بہت خوش ہے۔میں گھر والوں کی بہت سی امیدوں کو پورا کرنے کے لیے جاپان جا رہا ہوں ۔ بس جانے سے پہلے تم سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا کہ کبھی دل میں ملال نہ آئے کہ کاش تم سے محبت کا اظہار کر لیتا۔۔۔۔۔۔میرا جاپان کا سفر نہ جانے کہاں سے کہاں تک مجھے لے جائے گا ۔میں نہ جانے کب واپس لوٹوں گا۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔شاید میری واپسی تک تم کسی کے ساتھ منسوب ہوچکی ہوگئی اور تمہارے دو تین بچے بھی ہونگے۔میرے دل سے تمہارے لئے ہمیشہ دعائیں نکلیں گی۔اللہ پاک کی ذات ہمیشہ تمہیں خوش رکھے۔کوئی غم کوئی دکھ تمہاری زندگی میں نہ آئے"۔۔۔۔۔
محبت کا پہلا اور آخری خط۔
"تمہارا نہ ہونے والا جاسم"
اس کا خط پڑھنے کے بعد میں بچوں کی طرح زارو قطار روتی رہی۔"جاسم تم نے کیوں ایسا کیا"؟
کاش تم مجھ سے محبت کا اظہار کر لیتے۔میں تمہاری ترقی کے لیے دعائیں کرتی اور تمہارے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتی۔تمہاری ہر ذمہ داری کو نبھانے میں تمہارے ہم قدم ہوتی۔مجھے یہ نہیں پتہ کہ مجھے تم سے محبت ہے یا نہیں مگر مجھے تمہاری عادت سی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔عادت سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔
تم غلطی کر چکے تمہارا ازالہ میں کرونگی۔میں تمہاری محبت میں  تمہاری واپسی کا انتظار کروں گی۔ میرا وعدہ ہے کہ تمہارے لوٹ آنے تک  میں کسی کے ساتھ منسوب ہوں گی اور نہ ہی کسی سے کوئ تعلق بناؤں گی۔ میں تمہاری واپسی کا انتظار کروں گی۔
اس نے کئی بار اس کا خط اور اس کا نام چوما تھا۔
اسٹڈی سے فارغ ہونے کے بعد ایک سال تو بغیر کسی پریشانی کے گزر گیا۔مگر ایک سال بعدمیرے لیے رشتے آنے لگے اور میرے گھر والے سنجیدگی سے میری شادی کے بارے میں سوچنے  لگے ۔میں شادی سے انکار کے لئے مختلف حیلے  بناتی رہتی ۔

ہمیشہ یہی کہتی میں اپنی زندگی کو کسی خاص مقصد کے لئے گزارنا چاہتی ہو ں شادی کرکے میں اپنا مقصد کھونا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاسم کی محبت میرے پورے وجود میں سما  چکی تھی۔میں پوری کی پوری اس کی ہوچکی تھی  اور اس کی کامیابیوں کے لئے ہمیشہ دعاگو رہتی۔۔۔۔۔۔ 
جب کوئی سچے دل سے کسی فیصلے پر ڈٹ جاتا ہے تو اللہ تعالی بھی  اس کے لئے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔مختلف رشتوں سے انکار سن سن کر میرے گھر والے مجھ سے تنگ آ چکے تھے۔ہمیشہ یہی کہتے  آخر تم کیا چاہتی ہو ہمیں بتا دو۔ں تاکہ ہم بھی کچھ تمہاری طرف سے سکھ کا سانس لیں۔رشتے داروں میں تو کوئی معقول رشتہ موجود نہ تھا۔باہر سے ہی رشتے آتے مگر میں ہر بار انکار کر دیتی۔"جب مجھے شادی کرنا ہو گی میں آپ کو بتا دوں گی اس لیے آپ تمام لوگ میری شادی کا خیال دل سے نکال دیں۔ہمیشہ ان سے یہی کہتی"۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں ایک دن میری ایک یونیورسٹی کی دوست نے مجھے آفر کی کہ دونوں مل کر ایک اینجیو چلاتے ہیں جس میں ہم نادار، غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کو سہارا دیں گے۔مجھے تو پہلے ہی ایسے موقعے کی تلاش تھی۔ فورا اس کام کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہو گئی۔ہم دونوں نے این۔ جیو چلانے اور اس کی ترقی کے لیے کام کرتے دن رات ایک کر دیا۔یوں رشتے والی بلا مجھ سے ٹل گئی۔

چند ہی سالوں میں، میں ایک کامیاب انجیو کی سی۔ ای ۔او  بن چکی تھی۔میری اور میری دوست کی دن رات کی محنت کی وجہ سے ہماری این جی او کا شمار ملک کی بڑی اینجیوز  میں ہونے لگا۔آٹھ سال کا عرصہ کیسے گزرا  مجھے ذرا بھی احساس نہ ہوا۔ایسا لگا جیسے آنکھیں بند کیں ،کھولیں تو آٹھ سال بیت چکے تھے۔میری دوست حسنہ کی ایک دوست تھی جو جاسم کے گھر کے قریب رہائش پذیر تھی۔

کبھی کبھار حسنہ کا اس سے ملنا ہوتا تو جاسم کی خیریت دریافت کر کے مجھے بتا دیتی۔جاسم کے بارے میں میرے دل کی کیا کیفیت ہے وہ اس سے بے خبر تھی۔جاسم کی دوست ہونے کے ناطے وہ مجھے اس کا حال احوال بتا دیتی۔اس نے بتایا کہ کے راشدہ بتا رہی تھی۔ جاسم کا گھرانہ بہت ترقی کر رہا ہے۔اس کی تین بہنوں اور ایک بھائی کی شادی ہو چکی ہے۔دادا ،دادی کا انتقال ہوچکا ہے۔۔۔۔
اس کے ابا گھر میں ہی آرام فرماتے ہیں کیونکہ جاسم کی ماہانہ آمدن بہت زیادہ ہے جس سے  ان کا گھرانا خوشحال ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی ترقی کا سن کر مجھے بہت خوشی ہوتی ۔
ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کی ترقی کے پیچھے میرے دل سے نکلنے والی دعائیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔میں دل ہی دل میں خوش ہو کر اس سے سے ملاقاتوں کا سوچنے لگتی۔ کئ گلے اور شکوے سوچ رکھے تھے جو اس کے ملنے پر اس سےکرنا تھے۔اپنی محبت کی تڑپ اور دل کی بے چینی سے بھی اسے آگاہ کرنا تھا۔صرف اس کے دل میں ہی میری محبت نہیں تھی بلکہ میرے دل میں بھی اس کی محبت کا نہ بجھنے والا دیا جل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ 
ایک دن میں اور حسنہ بیٹھے یونیورسٹی کی باتیں کر کے خوش ہو رہی تھیں۔ جاسم کے ذکر پر اس نے بتایا۔۔۔۔۔۔جاسم جاپان سے واپس آ چکا ہے۔ ایسا کرتے ہیں کسی دن ہم دونوں اس سے ملنے اس کے گھر چلتے ہیں۔یونیورسٹی کی یادوں کو تازہ کر لیں گے اور اس سے مل بھی لیں گے۔آخر وہ ہم دونوں کا بہت اچھا دوست رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میری آنکھیں اس کے اس کی بات سن کر چمک اٹھیں اور دل  تو جیسے بھنگڑے ڈالنے لگا۔۔۔۔۔خیالوں خیالوں میں ، میں اکثر اس سے ملتی اور پھربہت ساری دل کی باتیں کرتی  ہم دونوں  ایک دوسرے سے ٹوٹ کر محبت کا اظہار کرتے۔
باتوں باتوں میں شادی کا ذکر چھڑ جاتا۔میں شرماجاتی،وہ بھی اپنے گھر والوں کو میرے گھر رشتہ لینے کے لئے بھیجنے کا وعدہ کرتا ۔۔۔۔۔۔

انہیں سوچوں میں گم چند دن گزر گئے۔ایک دن حسنہ کی صبح صبح کال آئی کے آج ہم دونوں جاسم کے گھر جاکر اس کو سرپرائز دیں گی اس لیے تم  گھر سے تیار ہو کر آنا۔میں نے راشدہ  سے جاسم کے گھر کا پتہ پوچھ لیا ہے اور  اس کو بتا بھی دیا ہے کہ آج ہم دونوں اس کے گھر جائیں گی۔ ۔۔۔
حنا کے انتظار کی گھڑیاں ختم ھونے والی  ہیں وہ خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے بولی۔ تیار ہو کر مسکرائی اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا۔
آج  اسے اپنے آپ میں  یونیورسٹی والی  حنا نظر آئی جو ہمیشہ خوش اور فریش رہتی ۔۔۔۔اس نے اپنا ضروری سامان لیا، کار میں بیٹھی اور اپنی  این ۔جی۔ او کی طرف روانہ ہوگئی۔
اپنے آفس میں بیٹھے بےچینی سے حسنہ کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔ دوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ مگر وہ ابھی محترمہ آفس نہیں آئ تھی۔۔  ۔۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔ سوری۔۔۔۔۔۔۔ سوری
اس نے دروازہ کھولتے ہی  حناکو کہا۔ سوری یار لیٹ ہوگی وہ ماما کو ہوسپٹل لے کر گئی تھی ان کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی۔اب وہ ٹھیک ہیں میں انہیں گھر ڈراپ  کر کے سیدھا تمہارے پاس آئی ہوں۔۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔  ۔۔۔۔ اب چلیں جاسم کی طرف اس کو سرپرائز دینے ۔حنا نے کھڑے ہوتےاسے جانے کے لیے کہا۔ اوہ سوری تمہیں بتانا بھول گئی۔ راشدہ کی کال آئی تھی ۔۔  ۔۔۔آج جاسم کا نکاح ہے۔۔۔۔۔ہم اس کو سرپرائز دینا چاہتے تھے مگر اس کے نکاح نے ہمیں سرپرائز کر دیا۔
اس نے مسکراتے ہوئے مجھے بتایا۔یہ سن کر میں لڑکھڑا اٹھی۔آسمان شاید مجھ پر  گرچکا تھا اور پاؤں سے زمین بھی نکل گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔ میں گرنے ہی والی تھی کہ حسنہ نے بھاگ کر مجھے سنبھالا۔۔     
  میں نے  بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا

 

Are u all right Hina?


بس ایسے ہی چکر آگیا ۔ اےسی والے کمرے میں ہونے کے باوجود میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔ " میں گھر جانا چاہتی ہوں" مدہم سی آواز میں میں نے حسنہ سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
میرےسارے خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔محبت کی آس دلاکر وہ شاید مجھے بھول بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اس کی محبت کی آس اور اسے پانے کے انتظار میں میں نے آٹھ سال گنوا دیے تھے۔۔۔۔۔جاسم کی ذات سے متعلقہ تمام خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔
میری خیالی محبت کی داستاں صرف خیالوں تک محدود رہ گئی۔
میں اس کا گریباں پکڑ کے اپنے خوابوں کی دنیا کے چکنا چور ہونے کا حساب اس سےمانگنا چاہتی تھی۔۔۔۔مگر اب بے سود۔۔