اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات بلیک ستمبر اور لاعلم پاکستان نذر حافی nazarhaffi@gmail.com بلیک ستمبر سے شاید اکثر پاکستانی آشنا نہ ہوں۔ یہ اردن کے شاہ حسین کی طرف سے فلسطینیوں کے قتلِ عام کا نام ہے ، یہ قتلِ عام ستمبر 1970 میں شروع ہوا اور جولائی 1971 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی کمر توڑنے کے ساتھ ختم ہوا۔اسی قتل وغارت کو بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جان کر شاید آپ چونک جائیں گے کہ اس قتل و غارت کا گہرا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جون 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ نے عربوں کی کمر توڑ دی تھی۔ اس جنگ کے بعد فلسطینی مغربی کنارے کے بہت سے لوگ اردن بھاگ گئے تھے۔ اس ہجرت سے پہلے بھی تقریبا 650،000 فلسطینی اردن کے اس منطقے میں آباد تھے۔ چنانچہ دنیا اس سے پہلے بھی اس علاقے کو مشرقی فلسطین کے نام سے جانتی تھی۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے 1948 میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اس علاقے کا نام مشرقی فلسطین کے بجائے اردن کر دیا گیا۔ نام تو تبدیل کر دیا گیا لیکن مغربی کنارے کے دو لاکھ سے زائد نئے پناہ گزینوں کے شامل ہونے سے اردن میں فلسطینی ایک بڑا اور مضبوط گروہ بن گئے ۔۱۹۵۹ میں یاسر عرفات اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) نے فلسطین محب وطن لبریشن موومنٹ کے نام سے فتح نامی ایک تنظیم بھی بنائی تھی جس کا مقصد فلسطین کو گوریلا جدوجہد کے ذریعے اسرائیلی کنٹرول سے آزاد کرانا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی فلسطینی مزاحمتی تحریکیں موجود تھیں۔ یہ تنظیمیں اور تحریکیں دریائے اردن کے دوسری طرف سے اسرائیلی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتی رہتی تھیں۔ یہ مہاجر فلسطینی اردن میں اسی طرح آباد تھے جس طرح ہمارے ہاں آزاد کشمیر والے کشمیری ، پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مہاجر فلسطینیوں کی قیادت الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے یاسر عرفات کر رہے تھے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اردن میں فلسطینی مہاجرین کے علاقوں کو مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کی آزادی کے لئے ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔یہ صورتحال اردن کی بادشاہت کو خوفزدہ کر رہی تھی۔ خصوصا یاسر عرفات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک غیرمعمولی خطرہ بن چکی تھی۔ چنانچہ ۲۵ ستمبر کو شاہ حسین نے اردن میں مارشل لاء لگا دیا۔ دو دن تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اردن کی فوج کے مابین داخلی جنگ جاری رہی۔دو دن کے بعد شاہ حسین اور یاسرعرفات کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ ساتھ ہی جولائی 1971 تک اردن کے بادشاہ نے الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے تمام ارکان کو اردن بدن کرتے ہوئے انہیں زبردستی شام کے علاقے کی طرف جلاوطن کر دیا۔ جولائی 1971 میں الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اس کی بیشتر نیم فوجی فورسز کی قیادت لبنان منتقل ہوگئی۔ یہاں پر قابلِ ذکر یہ ہے کہ محمد ضیاء الحق 'جنگی تربیتی مشن' کے کمانڈر کی حیثیت سے 1967 سے 1970 تک اردن میں اردنی فوجیوں کی تربیت کر رہے تھے۔وہاں اردن کے بادشاہ کے اقتدار کو مضبوط کرنے اور ان کے مخالفین کو کچلنے کیلئے ضیاالحق نے اپنے فرائضِ منصبی سے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔وہ بلیک ستمبر کی کارروائیوں میں شریک ہوئے۔ چنانچہ یہ کہاجاتا ہے کہ ایک سال میں ضیاالحق نے جتنے فلسطینی مارے ہیں اتنے آج تک اسرائیل نے نہیں مارے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس ایک سال میں تقریبا بیس ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ 1973 تک ضیاالحق نے پاک فوج کے پہلے بکتر بند یونٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے اردن میں خدمات انجام دیں۔فلسطینیوں کے خلاف ضیاالحق کی مثالی کارکردگی کے اعتراف میں مرحوم شاہ حسین نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کواردن کے اعلیٰ اعزاز ’’ کو کب استقلال‘‘ سے نوازا ۔1975 میں وہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔ ذرائع کے مطابق اردن کے بادشاہ نے اپنے تجربے کی روشنی میں ذوالفقار علی بھٹو کو یہ مشورہ دیا کہ وہ ضیاالحق کو آرمی چیف بنائیں۔ مسٹر بھٹو نے سمجھا کہ ضیاالحق اردن کے بادشاہ کی طرح ان کی بھی مکمل تابعداری کریں گے اور ان کے مخالفین کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۶ میں آٹھ سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ضیاالحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنا لیا۔ تجزیہ نگار اظہر سہیل کے مطابق جنرل ضیاء الحق ،جنہیں بھٹو نے ٨ جرنیلوں کو نظراندازکرکے چیف آف آرمی سٹاف بنایاتھا،انھیں دن میں دومرتبہ مشورے کے لئے بلاتے تھے اور وہ ہردفعہ پورے ادب کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر نیم خمیدہ کمر کے ساتھ یقین دلاتے: سر! مسلّح افواج پوری طرح آپ کا ساتھ دیں گی۔میرے ہوتے ہوئے آپ کو بالکل فکرمند نہیں ہوناچاہیے۔[۱] ضیاالحق کی دین ِ اسلا م اورشریعت کے نام پر ڈرامہ بازیوں کودیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پشاور میں قاضی حسین احمد کوبھی یہ کہناپڑاکہ شریعت آرڈیننس قانونِ شریعت نہیں بلکہ انسدادِ شریعت ہے۔ [۲] اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہی ضیاالحق نے زوالفقار علی بھٹو سے جان چھڑوانے کے لئے عدالتی کاروائی کو استعمال کیا، اس مقصد کیلئے بھٹو کے انتہائی مخالف ججز کولاہور ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا،اس بات کا اعتراف جیوٹی وی پر افتخاراحمد کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی کیا تھا۔ یادرہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کاتعلق ان چار ججوں سے ہے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کو باقی رکھاتھا،انٹرویو میں جسٹس صاحب کا کہناتھاکہ بھٹوکے قتل کا فیصلہ حکومتی دبائوکی بناء پر کیاگیاتھا۔پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے بھٹو کے قتل کے بعد٢١مئی ١٩٧٩ء میں ڈیلی ایکسپریس لندن کو ایک بیان دیا تھاجس کے مطابق بھٹو کو پھانسی سے قبل ہی تشدد کر کے ہلاک کردیاگیاتھا اور پھر اس ہلاکت کو چھپانے کے لئے عدالتی کاروائی سجائی گئی اور بھٹو کی لاش کو سولی پر لٹکایاگیا۔ان کے مطابق بھٹو پر تشددیہ اقبالی بیان لینے کی خاطر کیاگیاتھاکہ میں نے اپنے ایک سیاسی حریف کو قتل کرایاہے۔ اگرآپ ضیاء الحق کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ دیکھیں گے کہ موصوف میکاویلی کے حقیقی معنوں میں پیروکار تھے، یاان سے بھی کچھ آگے ۔جس کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے جب جونیجو حکومت برطرف کی تو کہاکہ وہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے استخارہ کرتے ہیں،اس لئے اسمبلی توڑنے کا جو قدم انھوں نے اٹھایاہے اس کے بارے میں بھی تین دن تک استخارہ کیاہے۔ بہر حال آج کل جب آزاد کشمیر کا نام تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے، مقبول بٹ جیسی شخصیات کو غدار کہا جاتا ہے، سید احمد گیلانی مرحوم جیسے قائدین کی ایک نہیں سُنی جاتی، آزاد کشمیر کو بیس کیمپ کے بجائےپاکستان کا صوبہ بنانے کی مہم چلائی جاتی ہے، کشمیر کو پاکستان کا اٹوٹ انگ اور شہہ رگ کہنے کے بجائے متنازعہ علاقہ کہا جاتا ہے تو ایسے میں مجھے بلیک ستمبر یاد آنے لگتا ہے۔قارئین محترم! تاریخ عبرت کیلئے ہوتی ہے چاہے ضیاالحق کی ہی کیوں نہ ہو، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، کاش ہم بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو سکیں۔ منابع o جنرل ضیاء کے ١١ سال از اظہرسہیل o ضیاکے آخری ١٠سال از پروفیسرغفوراحمد • جنرل ضیاکے آخری دس سال از پروفیسر غفور احمد • اورالیکشن نہ ہوسکے از پروفیسر غفور احمد • بھٹو ضیاء اور میں ازلفٹیننٹ جنرل(ر)فیض علی چشتی
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو


ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں