حسین ابنِ علی ؑ اور احترامِ انسانیت

سید مختار حسین نقوی

 امام حسین  ؑ نے ۲۸ رجب ۶۰ھ میں مدینہ چھوڑا۔ ۸ ذی الحج ۶۰ ھ کو مکے کو ترک کیا۔ اس دوران  کئی شخصیات نے  امام ؑ سے ملاقاتیں کیں۔ انواع و اقسام کے مشورے دئیے گئے۔ کسی نے چپ رہنےکا کہا،کسی نے چھپ جانے کا کہا ، اور کسی نے رک جانے کی نصیحت کی۔ بعض نے یہ بھی پوچھا کہ آخر آپ کا جانا اتنا لازمی کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا امر خدا ہے۔ دین محمدی کو بچانے جا رہا ہوں۔
پھرکربلا میں خاندانِ رسالت پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ ۱۴ سو سالوں سے ہر آنکھ اشک بار ہے۔ اس غم  میں سُنی ،شعیہ مسلم غیر مسلم، ہندو  اور عیسائی ہر طرح کے انسان شامل  ہیں۔ اظہارِ غم کا طریقہ کار کچھ بھی ہو مگر غم  ضرور مناتے ہیں۔کہیں  تلاوت قرآن مجید و محافل و مجالس  ، کہیں مجالس  و جلوس، عزاداری، سبیلیں ، نیازیں ، سیاہ لباس، الغرض طرح  طرح سے محسن انسانیت کی قربانی کی یادمنائی جاتی ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے، عورتیں مرد، بیمار لاچار، غریب فقیر، امیر کبیر ہر طرح کے افراد کی شرکت ہوتی ہے۔
 کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ  امام عالی مقام نے انسانوں کے لئے ایساکیا نفع بخش کام انجام دیا ہے کہ ہر عاقل انسان امام حسین علیہ کی طرف کھچا چلا آتا ہے۔امام حسینؑ کی ایک خوبی جس نے مجھے بہت متاثر کیا ہے وہ ہے آپ کی انسان دوستی۔ چونکہ آپ دوسروں سے محبت کرتے تھے اسی وجہ سے دوسرے بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔
محرم الحرام ۶۱ ھ میں آپ  نے کربلا کی زمین کو بنی اسد سے خریدا  ۔ پھر  بنی اسد کو ہی  وہ زمین بخش دی۔ آپ نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہاں شہید کر دیا جائے گا۔ میرے چاہنے والے بہت ہیں۔ جب  وہ آئیں تو تین دن انکی مہمان نوازی کرنا۔   جب آپ کے گردموت کا گھیرا تنگ ہو چکا تھا اس وقت بھی آپ نے اپنی قبرِ مبارک پر آنے والے مہمانوں کی رہائش اور خوراک کا انتظام کیا۔
اسی طرح عین جنگ کے روز  آپ نے اپنے بیٹے اور بھتیجے سے کہا کہ پہلے اپنی والدہ  اور پھوپھیوں سے جنگ کی  اجازت طلب کرو۔ صلہ رحمی کی  ایسی کئی عظیم   مثالیں آپ نے عاشورکے روز قائم کیں۔ شبِ عاشور یا روز عاشور کو آپ نے اپنے عزیزو اقارب  اور  اصحاب کو جمع  کیا۔ یہ ایسا وقت تھا جب ہر لیڈر کو اپنے طرفداروں میں اضافے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی حمایت کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ امام عالی مقام نے فرمایا"  جس کی گردن پر حق الناس ہو وہ میرے ساتھ اس جنگ میں شریک نہ ہو ، وہ  مجھ سے دور چلا جائے۔ پہلے حق الناس ادا کرے اور پھر شہادت کیلئے آئے۔  کتب میں ایسا بھی ملتا ہے کہ امام ؑ نے بعض افراد کا  حق الناس ادا کرنے میں خود مدد کی ۔
 امام حسین علیہ السلام کی نگاہ میں انسان کی اتنی اہمیت ہے کہ آپ نے دوسرے انسانوں کے حقوق کو اپنی مدد پر مقدم کیا۔  امام ؑ کا یہ کہنا کہ  چلے جاو یعنی امام زمانہ سےجدا ہو جاو۔  کیونکہ یزید پہلے ہی بہت حد تک حق الناس پامال کر چکا تھا۔ امام نہیں چاہتے تھے کہ حق الناس ادا نہ کرنے والے حق الناس پامال کرنے والے کے ساتھ میری طرف سے جنگ کریں۔ 
 امام عالی مقام نے پر لمحے انسانیت کو احترام بخشا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے انسانوں نے بھی آپ سے عشق کیا ہے۔ آپ نے  اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے کر پیغام یہ دیا کہ کوئی ظالم کسی انسان  پر ظلم نہ کرے۔ انسانیت کا شرف ، انسانوں کا مسلمہ کا حق  ہے۔ امام حسین ع کے بعد آپ کی رسول خدا ص کے گھر کی خواتین و بچوں کو اسیر کر کےابن زیاد ملعون اور یزید لعین کے بازاروں اور درباروں میں لے جایا گیا۔ ان اسیروں کے بارے میں عوام کو بتایا یہ گیا تھا کہ یہ حکومت کے باغیوں کا قافلہ ہے۔ وہ حکومت خاک میں مل گئی لیکن لوگ آج بھی عشقِ حسینؑ میں ۲۰ صفر المظر کو پا پیادہ  قبرِ امام حسینؑ کی زیارت کو جاتے ہیں۔ہر سال چہلمِ امام حسینؑ کے موقع پر نجف اشرف سے کربلا کی طرف پیدل اسی (80) کلو میٹر کا یہ سفر دیدنی  ہوتا ہے۔ اپنے محسن کی یاد میں دنیا بھر سے مہمان آتے ہیں۔ یہ مہمان نوازی کا دنیا میں سب سے بڑا سلسلہ ہے۔ پورے راستے میں مسافروں  امام حسین ع کی تعلیمات و نظریات سے آگاہی ملتی  رہتی ہے۔ 
ہم کربلا جائیں یا اپنے ملک میں چہلم منائیں لیکن یاد رہے امام حسین علیہ السلام کو حق الناس بہت عزیز ہے۔ ایک سوال بار بار ذہن میں آرہا ہے۔ آپ بھی سوچیں کہ جب  امام حسین علیہ السلام تو انسانی حقوق، انسانی شرف، انسانی کرامت اور انسانی آزادی و خود مختاری کیلئے قربان ہوگئے تو پھر  حق النّاس غصب کرنے والوں کو حسینی تو نہیں کہا جا سکتا۔ غاصب شیعہ و سنی سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن حسینی نہیں ہو سکتا۔

 

 


افکار و نظریات: امام