شعور اور ڈگری میں فرق
تحریر: محمد حسن جمالی

تعلیم ہی ہے جو انسان کو باشعور بنادیتی ہے- شعوری زندگی گزارنے سے ہی لوگ کمال کی منزل پر قدم رکھ سکتے ہیں،اس کے بغیر کمالات کا حصول خواب بن کر رہ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کادور دورہ ہے،ان میں سب سے ذیادہ تعلیمی شعبےکو ترجیح حاصل ہے۔تعلیم وتعلم کے سلسلےمیں وہ پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں -چھوٹے بچوں سے لیکرنوجوان اور جوانوں کی تحصیل کے لئے وہ اچھے مواقع پیدا کرتے ہیں،حصول علم کے لئے ضروری تمام لوازمات کو فراہم کرتے ہیں،اس راہ میں کانٹاثابت ہوسکنے والے تمام موانع ورکاوٹوں کودور کرتے ہیں، تشویق ،ترغیب اور حوصلہ افزائی کرکے بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے پر وہ بھر پور توجہ دیتے ہیں۔
تعلیم ہی پیشرفت کارمز وراز ہونے پر ترقی یافتہ اقوام مکمل باور رکھتی ہیں -چنانچہ آج وہ پورے انہماک سےاپنے ملک کے جوانوں کو زیور علم سے آراستہ کررہی ہیں، دنیا بھر کے ذہین جوانوں کو وہ اپنی طرف مائل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کررہی ہیں۔وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ دنیا کے ممالک کو اپنا غلام بناناخود انہیں کے جوانوں کی استعداد سےاستفادہ کئے بغیر ممکن نہیں-اسی ہدف کے پیش نظر آج امریکہ،چین سمیت یورپی ممالک پاکستان،ہندوستان اوردیگر ملکوں کے ذہین طلبہ و طالبات کو اسکالر شب دے کر اپنے ہاں بلاتے ہیں،وہاں ان کو تعلیم کے ساتھ اپنی ثقافت کا دلداہ بنادیتے ہیں اورروشن فکری کے نام پر وہ ان کو اپنے من کے مطابق فکری غزا سے سیراب کراتے ہیں-
جب ایک عرصہ اس ماحول میں رہتے ہیں تو غیر محسوس طریقے سے وہ انہیں کے رنگ وشکل اختیار کرتے ہیں-لباس خوراک سے لیکر رہن سہن اور بول چال میں وہ انہی کی مکمل تقلید کرتے ہیں،مادری و قومی زبان کو وہ یکسر فراموشی کے سپرد کردیتے ہیں اور انگریزی بولتے ہوئے ان کا سر فخر سے اٹھ جاتا ہے۔اسکالر شب لےکر یورپی ملکوں میں جانے والے افراد اسلامی تعلیمات کے مطالعے سےتہی ہوں،ان کا ذھن دینی معلومات سے خالی ہو تو یقین کیجئے ایک مدت ان ممالک میں رہنے کے بعد ان کا دین سے بیزار ہونے میں دیر نہیں لگتی،تب ان کے ہاں اسلامی تعلیمات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی، وہ صوم وصلات اورحجاب کی پابندی کو انسان کی آذادی کے منافی سمجھتے ہیں،سوال وجواب قبر اور حشر کے حساب وکتاب سمیت جنت اور جہنم جیسے اعتقادی مسائل کو وہ لغو اور دقیانوسی فکر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں۔
توجہ رہے کہ یورپی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے باصلاحیت افرادکی استعداد بھی یکساں نہیں ہوتی-ان میں سے بعض تو بہت بااستعداد ہوتے ہیں، جن کو وہ اپنے ہاں ہمیشہ کے لئے رکھتے ہیں اور وہ ان کی استعداد سےبھر پور استفادہ کرتے ہیں-چنانچہ ایسے افراد اپنی زندگی کے لمحات کوانہی کی خدمات میں گزار کر موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں- وہ افراد جو ان کے معیار پر پورا نہیں اترتے وہ ظاہر ہے تعلیم کا ایک مرحلہ طے کرکے اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں-البتہ ان میں سے اکثریت کو وہ اپنے مفاد کے لئے کام کرنے پر مامور کرکے واپس بھیج دیتے ہیں- یہ لوگ واپس آتے ہیں اور اپنے وطن کے مختلف اداروں میں گھس کر اپنے آقاوں کے احکامات کی تعمیل کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں-
کیا ہم نے کھبی سوچا ہے کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں اسلامی زرین قوانین ناپید کیوں ہیں؟اس کے بڑے اور چھوٹے اداروں میں انصاف وعدالت جیسی عظیم اقدار کی رنگ وبو تک مفقود کیوں ہے؟اس ملک پر مٹھی بھر اشرافیہ کی حکمرانی کیوں رہتی ہے؟اس ملک میں پاکستان کی پاک فوج،عدلیہ اور حکمرانوں کو برا بھلا کہتے ہوئے مسلمانوں کی تکفیر کرنے والے آذاد دندناتے کیوں پھر تے ہیں؟ اس ملک میں بہت سارے بے گناہ غریبوں کوبلا وجہ اٹھا کر غائب کیوں کیاجاتا ہے؟اس ملک کے میڈیا مالکان شب وروز فحاشیت کی ترویج کو ہی اپنی پہچان بنانے پر ایک دوسرے پر سبقت کیوں لے رہے ہیں؟اس ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی مختلف پروگرامز کے عنوان سے عریانیت کو پروان چڑھانے کی کوشیش کیوں کی جارہی ہے؟سیر وسیاحت کے نام سے آنے والی عیاش پرست پدر مادر آذاد لڑکیوں کے ذریعے گلگت بلتستان جیسے مہزب معاشرے کو خراب کیوں کیا جارہا ہے ؟ ثقافت کے نام سے گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں ڈھانس کی محفلیں کیوں سجائی جارہی ہیں؟مختلف این جی اوز کی وساطت سے ہمارے جوانوں کے شاداب اذہان کو دینی اقدار سے متنفر کرنے والے پروگرامز کیوں منعقد کئے جارہے ہیں ؟ اور ہزاروں سوالات۔۔۔۔ان تمام مسائل کے ایجاد میں انہی افراد کا بنیادی کردار ہوتا ہے جو اسلامی تربیت سے تہی بظاہر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، بڑی ڈگریاں رکھتے ہیں مگر وہ فکری طور پر اغیار کے غلام ہوتے ہیں،شعور کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اوران کے اشارے کے مطابق وہ پاکستان کے مختلف اداروں میں گھس کر سرگرم رہتے ہیں-
پاکستانی معاشرے کو مہزب بناکر اس میں رہنے والوں کو سکون سے جینے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ والدین اپنی نسل نو کی فکری تربیت کرانے کا اہتمام کریں،مسلمان ہونے کے ناتے اپنے بچوں کی دنیا وآخرت دونوں کو آباد کرنے کی کوشیش کریں اور ان کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے لانے کے ساتھ اعتقادات،اخلاقیات اور حلال وحرام کے مسائل سکھانے کا انتظام بھی کیا کریں عرصہ دراز اعلی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے باجود انسان شعور کی دولت سے محروم رہ جائے تو اس کی کوئی قدر وقیمت باقی نہیں رہتی، کیونکہ تعلیم یافتہ انسان کی پہچان شعور ہے ڈگری نہیں-