امامیہ کمیونٹی کی پہلی شہید خاتون
سیدہ ارم زہرا


اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، بہت ہی کم لوگ بولتے ہیں اور نہ ہونے کے برابر لکھتے ہیں۔ وہ تاریخ کا ایک ایسا سر بستہ راز ہے جس میں آنے والی نسلوں کے لیے بہت سے راز پوشیدہ ہیں۔ اُس نے کہا تھا کہ "راستوں کی ویرانیوں اور جلتی ہوئی دھوپ سے ڈرنے والے کبھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔وہ اکثر گریان نظر آتا، اداس رہتا اور مغموم دکھائی دیتا اور جب منزل پر پہنچتا تو زیادہ تر خاموش رہتا۔ ایک دفعہ اُس کے گھر کوئی  دوست آیا تو وہ پانی کے جگ کے ساتھ ایک گلاس اور ایک چائے کا کپ لے  آیا، دوست نے پوچھا ناصر بھائی گھر میں کوئی اور گلاس نہیں رکھا کیا۔۔؟ تو وہ بولا ہماری ضرورت دو ہی گلاس ہیں، ایک آپ کی بھابی سے گر کر ٹوٹ چکا تو دوسرا آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ 
جی یہ شہید ناصر صفوی کی بات ہو رہی ہے۔ لوگ جب ان کی  زندگی پر بات کرتے ہیں تو  ان کی  بیوی کی خدمات و کوششوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔اُن کی بیوی  شہیدہ بتول کو امامیہ کمیونٹی کی پہلی شہید  خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
شہیدہ بتول  کی روزمرہ کی زندگی میں دینی تعلمیات سے لگاو نمایاں تھا۔ اُ ن کی  ازدواجی و اجتماعی زندگی اپنی مثال آپ تھی،شوہر کے حقوق ،بچوں کی تربیت ،رشتہ داروں کے حقوق و فرائض ،حجاب ،تقوی و پرہیز گاری ،خلوص و ایمانداری پر وہ بہت  زور دیا کرتی تھیں۔ان کی مصروفیت درس و تدریس ہی تھی۔ 
شہیدہ بتول نے 25 نومبر 2000 کی شب ایک بجے چاروں طرف سے گولیوں کی آوازیں سنیں۔قاتلوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔  انہوں نے آگے بڑھ کر حاملہ حالت میں اپنے سینے پر گولی کھائی اور سیدہ کونین فاطمہ الزہرا ؑ کی سنت پر عمل کیا۔۔۔
 شہید ناصر اور ان کی اہلیہ کی شہادت سے مزاحمتی خواتین کو ایک درس ملتا ہے کہ ایک خاتون چاہے تو بہت بڑے معرکے انجام دے سکتی ہے۔ شہید ناصر صفوی کی اہلیہ موجودہ دور کی خواتین کے مقابلہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھیں، نہ ہی ان کے پاس آج کی خواتین کی طرح وسائل میسر تھے ہاں مگر  استقامت، بصیرت اور اطاعت گزاری یہ وہ عناصر ہیں کہ کوئی بھی خاتون ان  عناصرکو اپنا کر تاریخ میں ایک نیا باب  رقم کرسکتی ہے۔