سانحہ سیالکوٹ 

محمّد شہزاد بھٹی

Shehzadbhatti323@gmail۔com 


ایک شخص جس کا نام عمران خان ہے اس نے کہا تھا جب ہماری حکومت آئے گی باہر سے لوگ یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے جب وہ سلیکٹ ہو کر وزیر اعظم بنا تو لاقانونیت اتنی بڑھ گئی جو باہر سے یہاں نوکری کر رہا تھا اسے زندہ جلا دیا گیا۔ اب کیا کوئی خاک آئے گا یہاں نوکریاں کرنے پاکستان کو پستی میں دھکیلنے والی حکومت نے جو بیج کچھ سال پہلے ایک منتخب حکومت کے خلاف دھرنے، جلسے، جلوس، گھراؤ جلاؤ کرنے کے لیے بویا تھا آج تناور درخت بن چکا ہے اس درخت کی جڑیں اسٹیبلشمنٹ کی نرسری اور شاخیں پورے ملک میں پھیل چکی ہیں جن سے اب کوئی محفوظ نہیں۔ ‏مردان میں مشعال کو توہین رسالت پر قتل کیا مگر الزام ثابت نہ ہوسکا خوشاب میں بنک مینیجر کو گارڈ نے توہین مذہب  پر قتل کیا الزام ثابت نہ ہوا۔ قصور میں قرآن کی توہین پر ایک جوڑے کو قتل کیا مگر الزام ثابت نہ ہوا۔ اب اسی الزام پر ایک انسان کو جلا دیا گیا، یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں کس سے شکایت کریں؟ کیا بس چپ رہیں انسانیت لہو رو رہی ہے درندے گھوم رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی روکنے والا نہیں، قاتلوں کو اسلام کی آڑ نہ لینے دیں، قتل کی مذمت کیجئے، اسلام کے نام پہ درندگی کی مذمت کیجئے، اسلام امن و محبت کا دین ہے، شدت پسندی کا نہیں ہے۔ اب دلائیے باقی دنیا کو یقین کہ اسلام امن کا دین ہے اور یہاں کے مسلمان اعتدال پسند لوگ ہیں مذہب کی توہین کے نام پر انسانیت کی توہین کرنے والے درندوں نے پاکستان کا نام رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سری لنکن شہری کو سیالکوٹ میں بے دردی سے قتل کرنے اور اسکی لاش جلانے کا واقعہ اس جنونی معاشرے کے چہرے پر جو کالک مل گیا ہے اسکے اثرات بہت دیر تک بھگتنے پڑیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہدایت کی دعا مانگنے کو بھی دل نہیں کرتا جو پلک جھپک میں کسی کی جان لینے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ میرے پیارے نبی کی تعلیمات ایسی تو ہرگز نہ تھیں۔ کاش! 2017 میں لاہور سے چلنے والے جتھے جنہوں نے لوگوں کی گاڑیوں کو جلایا دیہاڑی دار لوگوں کے موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا، دکانوں کے شیشے توڑ کر مال لوٹا ان کو سزائیں دی جاتی اور قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوتا، گجرانوالہ کے نوجوان کانسٹیبل کو مار مار کر کھیتوں میں پھینکنے والوں کو سزا ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ آج پاکستان کی رسوائی پوری دنیا میں نہ ہوتی آج ہم تاریخ کے اس دوراہے پر نہ کھڑے ہوتے ان جنونیوں کو پتا ہے نہ ان کو سزا ہونی ہے نہ ان پر کوئی مقدمہ چلنا ہے اس لیے وہ کسی بھی  مخالف پر ختم نبوت کا الزام لگا کر کے مار مار کر جان سے مار دیتے ہیں اور پھر آگ بھی لگا دیتے ہیں ان وحشیوں کو تو سزا ہونی ہی چاہیے لیکن جنہوں نے یہ وحشی بنائے ہیں جب تک ان کو سزا نہیں ہو گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ نرسری ہی ختم کی جائے جہاں پر اس طرح کے بیج بوئے جاتے ہیں جو تناور درخت بن کر پاکستان اسلام اور عوام کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

 

 


افکار و نظریات: سانحہ سیالکوٹ