سانحہ مری پر نثری مرثیہ 
محمود اختر 

انسانوں کے اجتماعی رویے ہی اصل میں ان کی قومی شناخت ہوتے ہیں ۔ خوشی ، غمی،  حادثے ، سانحے ہماری فکر و مزاج اور رجحانات کو رویوں کی شکل میں ڈھال کر ہمارے قومی تشخص کو اجاگر کرتے ہیں ۔  جو ہمارے میلانات کے عکاس ہوتے ہیں ۔  یوں تو ہر وقت ہمارے اردگرد تماشے ہوتے رہتے ہیں ۔ جن کا دائرہ اس قدر وسیع نہیں ہوتا کہ وہ غالب آبادیوں کو متاثر کر سکیں ۔  لیکن کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجاتا ہے جو ہمارے چہروں سے نقابیں اتار کر ہمیں ننگا ہی کر دیتا ہے ۔
 سانحہ مری بھی ہماری اسی فکری تنزلی، سطحی سوچ اور موقع پرستی پر دلیل ہے۔  جو نہ صرف ہر پاکستانی کے لیے شرمندگی کا باعث ہے بلکہ من حیث القوم تف کے لائق ہے۔  جس کی مذمت کا یارا بھی نہیں۔  ۔۔NDMA و  محکمہ موسمیات نے حالیہ موسمی صورتحال،  پہاڑوں پر شدید برف باری سے متعلق پہلے ہی الرٹ جاری کر دیا تھا۔  جس کا تقاضا تھا کہ متعلقہ صوبائی،  ضلعی و تحصیل حکومتیں ان معاملات کے تناظر میں پیش بندی اقدامات اٹھاتیں۔  شہری گنجائش کا تعین کرتیں۔  خدا نخواستہ کسی ناگہانی سے نمٹنے کے لیے روڈ میپ تیار کرتیں۔  اپنے زیر اثر محکمہ جات کو ممکنہ صورتحال کی ہدایات کرتیں۔  اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بناتیں۔  مگر اول تو ریاستی اداروں کے درمیان باہمی تعاون سرے سے مفقود ہو چکا ہے۔  جبکہ دوم شاید اتھارٹیز میں وہ بصیرت ہی نہیں رہی جو بروقت فیصلہ سازی کا محرک بنتی۔
  اس سلسلے کی ایک اور کڑی ہر وقت مادی وسائل کی ہوس کا شکار افسر شاہی بھی ہے۔  جو ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے۔  جب عوام کا لہو چوس کر قطرہ قطرہ جمع ہونے والا ملکی خزانہ ان کے ہاتھ لگے ۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے درجنوں محکموں کے یہ خونخوار جونک منتظر تھے کہ کب موقع ملے اور وہ اپنی حرص پوری کر تے ہوئے اس مال مفت سے مکمل انصاف کر سکیں۔  وگرنہ اس سائنسی دور میں قوم یوں بے دست و پا اشک نہ برسا رہی ہوتی۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ من حیث القوم ہم تمام اخلاقی روایات و اقدار کو تج چکے ہیں ۔  اگرچہ شہری زندگی ، صبح و شام کی مشینیں روٹین ، ذہنی و جسمانی مشقت ، سماجی ماحول و ملکی ناسازگار حالات ہمیں نیم پاگل کیے دیتے ہیں ۔ لیکن ایسا بھی کیا کے محض برف باری کا نظارہ ہمیں تمام تر احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف ایڈونچر میں مبتلا کر دے ۔ بیس ہزار گاڑیوں کا دباؤ برداشت کر سکنے والا علاقہ مری۔  ایک لاکھ سے زیادہ مشینوں کی میزبانی کیوں کر کر سکتا ہے ۔ عام حالات میں بھی یہاں ٹریفک جام معمول رہتا ہے۔  پارکنگ کی جگہ میسر نہیں ہوتی ۔ ہوٹلوں ، گیسٹ ہاؤسز،  سرکاری ریسٹ ہاؤسز، سمیت دیگر رہائشی مکانات،  فارم ہاؤسز میں ایسے مواقع پر تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی۔  جب کہ موجودہ معلوم صورتحال تو ویسے بھی انتہائی خطرناک تھی۔  کہ اندازاً پانچ گنا سے زیادہ گاڑیاں یہاں آن گھسی تھیں۔  ان کا پیک ہو کر رہ جانا بذات خود ایک ڈیزاسٹر تھا ۔
 جو جہاں پہنچا واپسی کا راستہ بند ہوتا گیا ۔ یعنی نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ بھیڑچال ہمارا وطیرہ بن چکی ہے۔  پھر کون اجتناب برتتا ۔ سبھی کو مری جانا تھا جیسے کوئی مذہبی فریضہ ہو۔  جس کی ادائیگی آج ہی ہوگی وگرنہ قیامت۔  یہی وجہ ہے کہ قوم (اگر کچھ تشخص باقی ہے)  آج ہاتھ سروں پر دھرے بین کر رہی ہے اور راقم بھی انہیں مرثیہ خوانوں میں شامل ہے جو بے عقلوں کو لحد میں اتارنے میں مشغول ہیں۔  
سال دو سال قبل آئل ٹینکر حادثے کا شکار ہوا تو بے احتیاط قوم کے درجنوں چھوٹے بڑے شیر دل خواتین و حضرات اس میں جل مرے۔  جب وہ ڈبوں،  بالٹیوں،  گیلنوں،  حتٰی کہ دیگچیوں وغیرہ میں تیل بھر رہے تھے ۔  شاید اس تیل کو ملک کی مشینوں اور گاڑیوں کا ایندھن بننا تھا ۔ مگر ہم نے اسے زندہ انسانوں کی چتاؤں کا ایندھن بنا دیا ۔ ٹرین حادثے میں زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کا قیمتی سامان لوٹنا،  خواتین کے ہاتھوں،  کانوں اور گردنوں سے زیورات اتار لینا ۔  قدرتی آفات ، سیلاب اور زلزلوں کے نتیجے میں آفت زدہ علاقوں میں کھلی لوٹ مار کیا ہمارا شیوہ نہیں رہی ۔  الا ماشاءاللہ ۔  ملک عزیز میں درندوں کی مانند انسانوں کا انسانوں کو کاٹ کھانے کا رواج بہت دیر سے پنپ رہا ہے۔
  اس پرمری سانحے کے دوران مقامی ہوٹلز،  موٹلز،۔ گیسٹ ہاؤسز پر سیزن لگانا کہاں اچھنبے کی بات تھی۔  جہاں انڈا 500 میں فروخت ہو۔  دھکے کا ریٹ مقرر ہو جائے ۔ ایک دن کے قیام پر ستر ستر ہزار مجبوروں سے اینٹھے جائیں ۔  جہاں کھانے پینے کی اشیاء دام بڑھانے کے لئے پس انداز کرکے من مانے نرخوں پر بیچی جائیں ۔  جہاں بلکتے ، سسکتے،  و ٹھٹھرتے معصوم بچوں پر ترس کھانا حرام ٹھہر ے ۔  جہاں پردہ نشین و عفت مآب رسوا ہونے لگیں۔  جہاں گھنی چھاؤں جیسے باپ ، بھائی اور شوہر اپنی عزیز اولادوں اور مستورات کے لئے آسرا نہ تلاش کر سکیں ۔  اور کم مائیگی کی بدولت احساس ندامت سے زمین میں دب جائیں ۔  جس معاشرے میں حادثے و المیے موقع پرستوں کے لئے سیزن کا باعث ٹھہریں ۔  تو ایسی دنیا میں ٹھہرنا ہی نہیں چاہیے ۔ 
 یہ بدبخت تو قوم شعیب سے بھی زیادہ گمراہ نکلے۔  کیا ایسے حالات میں ریاست اور ریاست کے پالتو کہیں بھی ذمہ دار نہیں ۔  کہاں ہیں مقامی انتظامی افسران،  سیاسی شعبدہ باز ، نام نہاد سماج سیوک اور ملک کی سنگدل ونا ہنجار عدلیہ ۔ کہ مجھی میں پھینک دیئے میرے کنارے اس نے ۔
  افسوس ہائے افسوس ۔  ۔۔۔۔گاؤں محلوں کی سطح پر اپنے ورکرز رکھنے کی دعویدار سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے منشور پرستوں کے فکری شعور کو اجاگر کرنے اور ان کی تربیت کا بندوبست کرتی رہیں ۔  مری شہر اگر وطن عزیز کا حصہ ہے تو 70 سالوں سے حصہ بقدر جثہ کے اصول کے تحت چار بڑی سیاسی جماعتوں کے گلی ، محلے و گاؤں سے لے کر تحصیل و ضلع کے لاکھوں نہیں تو ہزاروں ثقہ کارکنان و عہدے داران اس وقت مری میں بنفس نفیس موجود ہوں گے ۔  جن میں PMLN,  PPP،  JUI اورPTI شامل ہیں ۔  لیکن یہ کیا کہ وطن عزیز کی ترقی ۔  اس کے شہریوں کی فلاح و بہبود , خوشحالی اور بہتری کا دم بھرنے والے ان ہزاروں نام نہاد قومی خدمت گاروں کو کم و بیش تین لاکھ سے زیادہ افراد کی زندگیوں کو خطرے میں دیکھ کر بھی کچھ شرم نہ آ سکی  ۔
 30/ 30 گھنٹوں تک گاڑیوں میں محصور پاکستانی ,  کھانے پینے کی اشیاء ناپید,  لہو جمادینے والی سردی ، شدید طوفان باراں و برف باری  میں کہیں آکسیجن کی کمی کا شکار ہو کر مرے ۔  تو کہیں فیول کی کمی سے ۔  کہیں ٹھنڈہ سے تو کہیں خوف سے موت کو گلے لگا بیٹھے ۔  لیکن یہ مقامی سیاسی مداری نرم بستروں سے نہ نکل پائے ۔ اور موت کا رقص پوری آب و تاب سے دو دن تک جاری رہا ۔ رہائش نہیں دے سکتے تھے ،  فیول فراہم نہیں کر سکتے تھے ،  کمبل و گرم بستر نہیں پہنچا سکتے تھے ،  تو کم از کم کچھ کھانا ، چنے و مونگ پھلی جیسے سستے ڈرائی فروٹ ہی سہی ۔  اور چھوڑو ۔ صرف پانی تو میسر کرسکتے تھے ۔  یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا تو کم ازکم مرنے والوں،  پھنس جانے والوں ،  واپس نہ جا سکنے والوں ، فیملیز کے ساتھ اس مقتل گاہ میں آنے کی غلطی کرنے والوں کو ۔ کچھ جھوٹی ہی سہی تسلی تو فراہم کرتے ۔  لیکن کیوں ؟ ان کا تو مسلک،  سیاسی مذہب ، شیوہ ہی دھوکہ دے کر ذاتی مفادات اٹھانا تھا ۔  
یہ دودھ پینے والے مجنوں تھے نہ کہ خون دینے والے ۔  جب کہ وہ مذہبی سیاسی جماعتیں جنہیں وسائل کے بہتے سرکاری دریا سے اشنان کا تو موقع نہ ملا مگر اللہ و رسول کے احکامات کی روشنی ضرور نصیب ہوئی ۔  ان کے کارکنان تہی دست لیکن اپنی سی کوششوں میں مصروف نظر آئے ۔ تحریک لبیک پاکستان و جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان و ذمہ داران اس پرندے کی طرح مصروف کار رہے ۔  جو ابراہیم کے جلائے جانے کے لئے تیار کی گئی آگ پر چونچ بھر بھر پانی پھینک رہا تھا۔  کہ آگ بجھے نہ بجھے میں نے اپنا حق ادا کرنا ہے ۔۔۔۔۔
مصدقہ تین درجن کے قریب تاہم غیرمصدقہ سو سے زیادہ اموات ملک و قوم سمیت اہلیان مری کے چہرے پر بدنما داغ ہی رہیں گی۔  کیونکہ آج مری،  مر ہی گئی بن چکی ہے ۔  جو تادیر ہماری قومی اخلاقی گراوٹ پر نوحہ گری کرتی رہے گی ۔   افسوس میراوطن کتنا تہی دست ، اخلاقی اعتبار سے بنجر،  سیاسی لحاظ سے تھوہر زدہ،  نظریات میں موقع پرست،  قحط الرجال کا شکار اور انسانیت سے عاری ریوڑ کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔  جہاں درد،  آہیں،  سسکیاں،  نوحے،  میتیں،  احساس ، ہمدردی،  احترام  و دلبری سب کچھ جنس بازار ہے ۔  جہاں لاشیں زندہ اور ضمیر زیر زمین ہیں ۔ اے اللہ شہیدان مری کی ارواح کو راحت نصیب فرما ۔  (آمین)