اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ہٹلر کی جموریت
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو

تحریر : راجہ منیب (Raja Muneeb)
RajaMuneeb5@gmail.com
جمہوریت کا لفظ جمہور سے بنا ہے جو اکثر کا معنی دیتا ہے اور جمہوریت سے اکثریتی رائے مراد لی جاتی ہے ،جمہوریت کو انگریزی زبان میں Democracy کہا جاتا ہے جو یونانی زبان کے دو الفاظ سے مل کر بنا ہے جس کے معنی عوام اور طاقت کے ہیں اس لحاظ سے جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کے منشاء کے مطابق حکومت فرائض انجام دیتی ہے۔26 جنوری 1950 کو ہندوستان کے آئین کا نفاذ کیا گیا اور ہندوستان ایک رپبلکن یونٹ بن گیا اوراس دن کو بعدازاں ”یوم جمہوریہ“ کا نام دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ بھار ت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ مگر آج بھی حالات سب کے سامنے ہیں ۔بھارت کے اسی آئین تلے مقبوضہ کشمیر میں 1952ء میں نام نہاد انتخابات کروائے گئے اور یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری عوام نے مرکزی دھارے میں شمولیت کی خاطر نہ صرف بخوشی سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا بلکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ووٹ بھی ڈالے۔ وقتی طور پر بھارت یہ جھوٹ بولنے میں کامیاب ہوگیا لیکن جلد ہی اسے اس وقت سخت ہزیمت اٹھانا پڑی جب نہتے کشمیریوں نے بھارت کے خلاف بندوق اٹھالی۔ کشمیری عوام انتخابات کے خلاف تھے۔ انکی ایک ہی خواہش تھی کہ کشمیر میں استصواب ِ رائے کروایا جائے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا ازخود فیصلہ کرسکیں۔ استصواب ِ رائے کے نتائج کا بھارت کو بخوبی علم تھا، اس لیے اُس نے ایسا اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔ جب کبھی عالمی برادری کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا‘ تو بھارت ہمیشہ ایک ہی جملہ کہہ کر اپنی جان چھڑاتا رہا کہ ”استصوابِ رائے کیلئے حالات سازگار نہیں“۔جس آئین کے تحت کشمیر میں انتخابات کا ڈھونگ رچاتے ہوئے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا علم بردار قرار دیا گیا‘ کشمیریوں نے اس حقیقت کو طشت ازبام کرنے کیلئے بھارت کے یوم جمہوریہ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پرمنانا شروع کردیا۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ دن بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جارہاہے۔ اس دن صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں‘ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری زبردست احتجاج کرتے ہیں۔ مظاہروں‘ جلسے جلوسوں اور سیمینارز کے ذریعے عالمی برادری کو باور کروایا جاتاہے کہ بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر عالمی برادری کو بے وقوف بنارکھا ہے۔ وہ آئے دن کشمیریوں پر نت نئے مظالم کے حربے آزماتے ہوئے انہیں اپنے ازلی اور پیدائشی حق سے محروم رکھنے کی کوششیں کررہاہے۔ کشمیری صرف اور صرف بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ انہیں آزادی سے کم کوئی چیز قبول نہیں۔
کئی سال سے بھارت کشمیریوں کی تحریکِ حریت کو مکمل طور پر کچلنے کے لئے روح فرسا اقدامات کررہاہے۔ کئی اقدامات ایسے ہیں جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مثلاً پچھلے کچھ سالوں سے کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا استعمال کررہی ہے۔ اس گن سے نکلنے والے چھرے جسم کے اندر تک پیوست ہو کر دھیرے دھیرے زہر پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ چھرے جسموں پر ایسے نشان چھوڑ جاتے ہیں جن کا مندمل ہونا ممکن نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ چھرے آنکھ کے اندر دھنس کر بینائی ختم کردینے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ پچھلاسال اگرچہ کشمیریوں پر ماضی کی طرح آسیب بن کر چھایارہا اور ان کے زخموں سے خون کی پھوار مسلسل بہتی رہی لیکن اس کے باوجود ان کے عزم اور حوصلے میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ توانا جذبوں کے ساتھ اپنی تحریک آزادی کی آبیار ی میں مصروف عمل ہیں۔
ہندوستان کے37ویں یوم جمہوریہ پر بھارتی شہری اپنی شناخت تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ مودی نے لاکھوں اقلیتوں کو پناہ گزین بنا کررکھ دیا ہے۔اس یوم جمہوریہ کے موقع پر عام ہندوستانی سوال کر رہے ہیں کیا یہ نہرو اور گاندھی کا سیکولر ہندوستان ہے یا آرایس ایس کا ہندو راشٹرا؟ یہ شائننگ انڈیا ہے یا ریپستان کہ جہاں غیر ملکی سیاح بھی محفوظ نہیں؟مودی نے لاکھوں مسلمان کو ہندوستانی ریاست سے بے دخل کرکے پناہ گزین بنا دیا ہے۔ ہندوستان کی خدمت کرنے والے سائنسدان، شعرا اور آرٹسٹ اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔اقلیتیں ہوں یا مقبوضہ وادی، کسان احتجاج ہو یا طلبہ بھارت میں موجودہ حکومت سے آزادی کے نعرے گونجنے لگے ہیں۔اس یوم جمہوریہ کا سورج ایک ایسے ہندوستان پر طلوع ہوا کہ جس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے۔ بھارت کا 73واں یوم جمہوریت اس مرتبہ بیشتر بھارتیو ں کےلیے یوم سیاہ ہے۔آج مودی کے ہندو راشٹرا میں مذہبی اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہو چکی ہے۔ مودی کے آمرانہ اوریکطرفہ فیصلوں کے باعث ہندوستان میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے۔بھارت کے اندر اور باہرسکھ اپنے ساتھ بڑھتے تعصب اور ناانصافی پر آگ بگولہ ہیں۔ کسانوں کی احتجاجی تحریک 120لاشیں اُٹھا کر بھی پورے زور شور سے جاری ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں یہ دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مگر اس کی کم تشہیر ہوتی ہے۔ انڈیا کی دیگر ریاستوں کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں لوگوں کو جو پہلے سے تاریخ کی طویل ترین پابندیوں کی زد میں ہیں،کریک ڈائون اور ناکہ بندیوں، گرفتاریوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔ انہیں ان کے گھروں میں بند رکھ کر اور سخت محاصرے میں پریڈوں کا بندو بست کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ہوتی ہے۔ بھارتی فورسز ہفتوں پہلے ہی بخشی اسٹیڈیم اور اس کے نواحی علاقوں پر قبضہ جما لیتے ہیں، سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ رہائشی عمارتوں پر بھی جبری قبضہ کرکے چھتوں پرمورچہ بندی کی جاتی ہے۔ بخشی اسٹیڈیم کے نزدیک لعل دید چلڈرن ہسپتال کے مریضوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔مریض اور ان کے تیماردار گرفتار کئے جاتے ہیں۔ آج بھی یہی حال ہے۔ کشمیری عوام بھارتی پابندیوں اور ناجائز قبضے کے خلاف اور آزادی کے حق میں مکمل ہڑتال پر ہیں۔ دن کو یومِ سیاہ اور رات کو مکمل بلیک آئوٹ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کشمیری عوام بھارتی جبری قبضے اور نسل کش پالیسی و مظالم کے خلاف اپنے سخت ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ لوگ کرفیو کو توڑ کر احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ جگہ جگہ سیاہ پرچم لہراتے ہیں اور ہندوستانی پرچم کو اور بھارتی حکمرانوں کے پتلوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کشمیری جنگ بندی لائن کے آرپار اور دنیا بھر میں ہندوستانی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ کشمیری ہر روز بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔دنیا کی ایسی جمہوریت کا جشن جس نے کشمیر ہی نہیں بلکہ شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں کروڑوں عوام کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ بھارت کا73واں یوم جمہوریہ بیشتر بھارتیوں کے لیے سیاہ دن ہے، جہاں ہندو توا کا چوپٹ راج ، اقلیتوں کی بدحالی اور قائد اعظم کی بصیرت کو صحیح ثابت کرتی نظر آتی ہے۔مودی کےآمرانہ ون پارٹی رول سے بھارت میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے،ہندو اکثریت کی اجارہ داری کے ریلے میں نام نہاد سیکولر ازم خاشاک کی طرح بہہ گیا بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بھارت کے بدصورت اور اصلی چہرے کو چھپانے کے لیے مودی حکومت نے کچی آبادیوں کو دیواریں کھڑی کرکے اور گندے دریا میں میٹھا پانی ڈال کر چھپا دیا۔ بھارت کو خواتین کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بالی ووڈ کی فرضی کہانیوں کے ذریعے خود کو فیمنسٹ ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات نے دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مسئلے کو امریکہ کے سامنے اجاگر کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ بابری مسجد کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی عدلیہ حکومت کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہے۔بھارت اسے ایک آزاد پریس اور آزاد عدلیہ والے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا میڈیا مکمل طور پر حکومت کے زیر کنٹرول ہے۔ میڈیا کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حقیقی ہندوستان نسل پرست ہندوتوا، انتہائی غربت اور انتہائی بدعنوان ہے۔حکومت نے ایک قانون بھی پاس کیا جس کے تحت پہلی بار ہمسایہ ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے رسمی طور پر ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے مذہب کو ایک معیار بنایا گیا ہے۔ اس سب کے پیچھے امت شاہ کا ہاتھ ہے۔مودی کے دور میں کشمیریوں کا زندہ رہنا ناممکن ہو گیا، جسمانی تشدد کو چھوڑ دیں کشمیریوں کے ذہنوں پر نفسیاتی اثرات کئی دہائیوں تک رہیں گے۔کشمیر میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی صحرا میں پانی کی بوند کی طرح ہے۔ دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد سے مودی زیادہ سے زیادہ مہلک ہوتے گئے، گجرات 2002 کے ڈراؤنے خواب بھارت کے کئی حصوں میں لوٹ آئے۔ مودی بھارت میں ایک انتہا پسند اور فاشسٹ گروپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے کو اکساتا اور پھیلاتا رہا ہے۔مودی مسلمانوں کی لاشوں پر ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی رہنما مودی سے ان 200 خواتین کے بارے میں پوچھیں جنہیں کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے عصمت دری اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیر کے حوالے سے موجودہ منظر نامے پر ایک نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ یہ بھارت نریندر مودی کے مظالم اور بربریت کی وجہ سے جل رہا ہے۔ سیکولر ہندوستان کا اصلی چہرہ یہ ہے کہ وہاں دنیا میں سب سے طویل فاشسٹ تحریک چل رہی ہے۔انڈیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 16 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ’ریپ‘ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔اگرچہ ریپ کیسز میں نئی دہلی سب سے آگے ہے تاہم خواتین کے خلاف تشدد، استحصال اور بعض جرائم کے کچھ واقعات میں ممبئی سرفہرست ہے۔مسلمان عورتوں کو قبروں سے نکال کر ریپ کرنا چاہیے۔‘ جی ہاں یہ فتویٰ کسی عام شخص کا نہیں بلکہ 2007 میں یوپی میں سدھارتھ نگر کے مقام پر ویرات ہندوستان نامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما نے دیا تھا۔اس ریلی کی صدارت یوگی ادیتیہ ناتھ کر رہے تھے جو اب بھارت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس پر سخت تنقید کے بعد بھی یوگی نے کبھی اس بیان کی مذمت نہیں کی۔ ہندوستانی معاشرہ ہوس کا کتنا پجاری اس کے لیے آپ کے سامنے صرف ایک مثال رکھتا ہوں۔انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گوگل پر’کشمیری لڑکیاں‘ سرچ کرنے میں کیرالہ پہلے نمبر پر، جھار کھنڈ دوسرے اور ہماچل پر دیش تیسرے نمبر پر تھا۔ یہاں یہ واضح کرنا لازمی ہے ریاست کیرالہ 96.2 فی صد شرح خواندگی کے ساتھ بھارت میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جنسی ہوس کا تعلق تعلیم یا جاہلیت سے نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے میں رس بس چکی ہے۔اسی طرح ’کشمیری لڑکیوں سے شادی‘ کو گوگل سرچ کرنے میں بھارت کی راجدھانی دہلی پہلے نمبر پر جبکہ مہاراشٹر اور کرناٹک کا بالترتيب دوسرا اور تیسرا نمبر تھا۔آئین کی شق 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد بھارت میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے بہت سے رہنماؤں نے، جن میں ایم ایل ایز و ایم پیز بھی شامل ہیں، یہ تک کہہ دیا تھا کہ اب ہماری موج ہو گی، کشمیر کی گوری لڑکیوں سے شادی کریں گے۔ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر کا بیان ’جموں و کشمیر کی لڑکیوں کو اب بہو بنائیں گے‘ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔یہ کام ایک سازش کے تحت کروایا گیا تھا تاکہ جموں و کشمیر کے اندر مذہبی ہم آہنگی کو توڑ کر مذموم سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ ابھی حال میں اتر پردیش میں ایک پجاری نے مندر میں ایک عورت کے ساتھ ریپ کیاـ اتر پردیش کے لئے ایسے حادثے کوئی نئے نہیں ہیں، ہاتھرس ، بلرام پور اور بیشتر شہروں میں ایسے حادثے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ـ لیکن انصاف کون کرےگا ؟ وہ شخص جس نے وزیر اعلی بننے سے قبل یہ بیان دیا ہو کہ مسلم عورتوں کو قبر سے نکال کر ریپ کروـ میں اس بیان پر کچھ دیر ٹھہرنا چاہتا ہوں ـ ایک مردہ عورت جو قبر میں دفن ہے، وہ جس قوم کی بھی ہو ، مگر اب وہ مر چکی ہے اور قبر کی تنہائیوں میں آرام کر رہی ہےـ کیا ایسی فکر رکھنے والا انسان ہو سکتا ہے ؟ ایسی سوچ رکھنے والا تو بھیڑیا اور جنگلی جانور بھی نہیں ہو سکتا،مگر ایک فاشسٹ تنظیم نے اتر پردیش جیسی بڑی ریاست اس کے سپرد کر دی اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے شخص نے جب بھی بیان دیا ، مسلمانوں کے خلاف بیان دیاـ آر ایس ایس نے اس جاہل ڈھونگی کو وزیر اعلی کی کرسی دیتے ہوئے یہ ضرور غور کیا ہوگا کہ اسی جاہل شخص نے اپنی تقریر میں مسلمان عورتوں کو قبر سے نکال کر بلاتکار کرنے کو کہا تھا، جو مسلمانوں کو قبرستان بھیجے وہ وزیر ا علیٰ،جو قبر سے نکال کر ریپ کرنے کو کہے ، اسے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تحفے میں دی جائے، ملک غارت ہوا ، کوئی آواز نہیں، ملک تباہ ہوا، کوئی آواز نہیں، کروڑوں کے روزگار گئے ، کوئی آواز نہیں ـ کسانوں کو کمزور کرنے کے لئے قانون آیا ، کوئی آواز نہیں،مسلمان سڑکوں ، شاہراہوں ، گلیوں میں مارے جاتے رہے اور اب ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے بد تر ہوئے جا رہے ہیں ـ حکومت کی فسطائی منطق کے سامنے بے بس اور مجبور ہیں۔نریندرا مودی/بی جے پی/آر ایس ایس حکومت نے اپنے نازی فاشسٹ نظریے کے مطابق دہشت گردی اور وحشیانہ قتل و غارت کا راج شروع کیا ہے۔ کشمیری عوام ہٹلر (ہٹلر دوئم یا مودی کے نام سے دوبارہ جنم لینے والے) کے ہاتھوں تازہ ترین ہولوکاسٹ کا شکار ہیں۔ ہرسال بھارت کے یوم جمہوریہ پرمقبوضہ کشمیر میں قابض سیکیورٹی فورسز کی پیشگی کارروائیوں سے ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز بیگناہ کشمیریوں کو گرفتار کرنا شروع کردیتی ہیں جس کے باعث وادی میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی اتر آتی ہیں اورکئی کئی روز تک وادی کی کٹھ پتلی حکومت نے انٹرنیٹ اورموبائل فون رابطوں پر پابندی عائد کردیتی ہے۔ بھارتی جمہوریت کے پیروکاروں نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو صرف اس لیے شہید کیا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ نئی دہلی کے حکمران مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم و ستم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ انکی آزادی سلب کر کے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ منا کر دراصل جمہوریت کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی بھارت جانتا ہے کہ اگر وہ آٹھ کی بجائے پندرہ سولہ لاکھ بھی فوج کشمیر بھیج دے تو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوگی۔ آج تک کشمیری قوم بھارتی فوج کے ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں ہر سال کئی ہزار نئی قبروں کا اضافہ ، جن پر شہداء کے نام اور پتے درج ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے دعویدار کی حیثیت سے بھارت کا فرض تھا کہ وہ کشمیر کا مسئلہ جمہوری انداز سے حل کرتا لیکن اس نے ہمیشہ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ سری نگر سمیت متعدد علاقوں میں جگہ جگہ بھارتی یوم جمہوریہ کے جشن کے بائیکاٹ کی اپیل والے پوسٹرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کشمیریوں سے گھروں، دکانوں اور دیگر عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرانے کی اپیل کی ہے۔اس دن کی مناسبت سے جہاں ایک طرف سارے بھارت میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ثابت کرنے کیلئے مختلف تقاریب کاا نعقاد کیا جاتا ہے تو وہاں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ کے لگ بھگ فوجی اور نیم فوجی دستوں کی بندوقوں اور ٹینکوں کے سائے تلے خطہ کشمیر کو متحدہ بھارت کا حصہ قرار دینے کیلئے تقریب منعقد کی جاتی ہے جب کہ اس موقع پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی کال پر مقبوضہ و آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ کو “یوم سیاہ” کے طور مناتے ہیں۔
افکار و نظریات: ہٹلر کی جموریت
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں