5 فروری کے بعد
تحریر: حسن اقبال 

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم

5 فروری کو دنیا  بھر میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ دن  کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مخصوص ہے ۔ اس دن پاکستان سمیت دنیا  بھر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ان اجتماعات میں حصہ لیتا ہے ۔ حکومتی سطح پر بھی  مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے اور یوں اپنا پیغام یوری دنیا تک اور خاص کر عالمی اداروں تک پہنچایا جاتا ہے ۔ میرے خیال میں کشمیر کے حوالے سے فقط زبانی وعدے ، بیانات اور نعرہ بازی کافی نہیں  بلکہ عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔ ہم پانچ فروری کو چند نعرے لگانے کے بعد خوابِ خرگوش میں مست ہو کر سو جاتے ہیں۔
اسی مناسبت سے ایک واقعہ بیان کرتا جاو ں۔ ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام میں جب محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے محل کے دروازے پر پرانا اور باریک لباس پہنے ایک نگہبان کو دیکھا جو پہرہ دے رہا تھا ۔ بادشاہ نے اس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور  دربان سے پوچھنے لگا ۔ سردی نہیں لگتی ؟ بزرگ نے جواب دیا " بہت سردی لگتی ہے مگر کیا کروں گرم وردی نہیں ہے اسلئے برداشت ہی کرنا پڑتا ہے ۔ بادشاہ سلامت نے وعدہ کیا کہ میں ابھی محل کے اندر جاکر کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں ۔ دربان نے خوش ہوکر بادشاہ سلامت کا شکریہ ادا کیا لیکن جیسے ہی بادشاہ سلامت گرم محل میں داخل ہوئے تو  دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گئے ۔ صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلی سے لکھی ہوئی تحریر بھی ۔ بادشاہ سلامت میں کئی سالوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا مگر کل رات آپ کے گرم  لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی ۔ پس  کشمیر ڈے  کے حوالے سے ہماری صورتحال بھی ایسی ہی ہے ۔ صرف کشمیر ہی کیا  پاراچنار ، کوئٹہ ، گلگت بلتستان ، ڈی آئی خان وغیرہ کے  لوگ بھی اپنے حکمرانوں کے وعدے پورے ہونے کے منتظر ہیں ۔بطور نمونہ میں پارا چنار کے حوالے سے ذکر کرتا چلوں ۔ اہلیانِ پاراچنار کے ساتھ کچھ وعدے ہوئے تھے جو آج تک پورے نہ ہوسکے ۔ وہاں کے ذمہ دار شخصیت سے میں نے سنا کہ آرمی چیف اور سی ایم نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ پاراچنار ہاسپٹل کو upgrade کیا جائے گا لیکن آج تک نہ ہوسکا ۔ یاد رہے وہاں کے تقریبا 8 لاکھ آبادی کیلئے صرف ایک ہیڈ کوارٹر سرکاری ہسپتال  ہے ۔ جس میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ چھوٹی سی  بیماری کیلئے بھی مریضوں کو پشاور منتقل کیا جاتا ہے ۔ پشاور وہاں سے دور ہونے کے باعث اکثر مریض راستے کی سختیوں کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کا وعدہ ہوا تھا لیکن ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔ وہاں کے جوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنا علاقہ چھوڑنا پڑتا ہے ۔ بہت سارے جوان اسی مشکل کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ متعلقہ بریگیڈئر نے ایک ریونیو سٹاف آنے کا وعدہ کیا تھا کہ وہ پاراچنار کے سارے زمینی تنازعات حل کریں گے لیکن افسوس آئے روز وہاں زمینی تنازعات میں بے گناہ لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ میں نے صرف چند نمونے پیش کئے ہیں۔ ہمارے بڑوں کی اکثر تقریریں وقتی وعدوں پر ہی مبنی ہوتی ہیں ۔ ۵ فروری کو  کشمیر ڈے کا بھی صرف نام ہی دیا گیا ہے۔کشمیری کئی سالوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کی فریاد کو کوئی نہیں سنتا ۔ عرب تو ویسے ہی اسرائیل کی غلامی میں چلے گئے ہیں ۔ ان کی آواز تو گلے میں دب گئی ہے لیکن میرے اقبال کے دیس کو کیا ہوا ۔ وہ اقبال  جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو شاہین بننے  کا درس دیا تھا لیکن ہم  شاہین تو کیا بنتے  پتا نہیں کیا بن گئے ہیں۔ہمیں جمہوریت بھی پسند آئی تو آمریت کی پروردہ جمہوریت ۔ دعا ہے کہ خدا ہمیں اپنے اس رویے پر نظرِ ثانی کی توفیق دے  جو ہم نے کشمیریوں کے ساتھ اپنایا ہوا ہے۔