اظہارِ تعزیت

صوتی تاثرات 

✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ
میری ایک ماں وہ تھی جو میری روح کو اس دنیا میں لے کر آئی، اور وہ پچھلے سال اسی مہینے فروری کی 12 تاریخ کو ہمیشہ کے لئے مجھے اداس چھوڑ کر سپُردِ خاک ہو گئی۔اس کے علاوہ ایک میری ماں وہ بھی تھی جس نے میری رُوح کو اپنی موسیقی، اپنے ترنّم اور اپنے شیریں و پُرسوز گیتوں سے اتنا مُصفّا و پاکیزہ کیا کہ میرے اندر عشق کی گرمی، مُحبت کی حِلاوت، انسان اور انسانیت کی خدمت کے بے مثال جذبات اُمڈ اور مچل پڑے، اور اس میری ماں کا نام تھا لتامنگیشکر جو آج صبح 6 فروری 2022ء بروز اتوار کو مُمبئی، انڈیا میں ٹھیک اس موقعے پر اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہے جب میری حقیقی ماں نذیر بیگم کی پہلی برسی کا آج میرے گھر موضع دھنیالہ، ضلع جہلم، پنجاب، پاکستان میں ختم رکھا ہوا ہے۔
مجھے جنم دینے والی میری ماں میرے دل میں اُس وقت تک پل پل زندہ رہے گی جب تک میں خود زندہ ہوں۔ لیکن لتامنگیشکر اُس وقت تک سُنی جاتی رہے گی جب تک اردو، ہندی اور مراٹھی، پنجابی بولنے، سمجھنے والے انسان اس دنیا میں موجود رہیں گے۔
لتا منگیشکر کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی کیونکہ میوزک/موسیقی کو کبھی موت نہیں آ سکتی۔میوزک امرت ہے اور لتامنگیشکر اَمر ہو کے اس دنیا سے رُخصت ہوئی ہے۔ایسی شہرت و محبت بہت کم لوگوں کو حاصل ہو پاتی ہے جیسی لتامنگیشکر کے حصے میں آئی ہے۔بلاشبہ میں نے اپنی اِن دونوں ماؤں سے عشق کیا ہے۔ایک نے مجھے جنم دیا اور دوسری نے میرے جنم میں سرور کا رس گھولا۔ 
میری ماں نذیر بیگم اس لئے عظیم تھی کیونکہ وہ میری ولادت کا سبب بنی۔ لیکن لتامنگیشکر اس لئے عظیم تھی کیونکہ اس نے اس دنیا کے دو ارب سے بھی زیادہ زندہ انسانوں کو پیار کے اظہار کا سُریلا انداز سکھایا اور ہم سب کو نغمگی کا جام پلایا۔بلاشبہ برصغیر کی فضاؤں میں سُر سنگیت کا سب سے پُراثر نغمہ لتامنگیشکر نے ہی بکھیرا ہے، اور لتا کا گایا ہوا ایک ایک گیت دل میں اتنی گہری تاثیر پیدا کر دیتا ہے کہ انسان کی روح میں پاکیزگی اور بالیدگی اتر آتی ہے۔جنوبی ایشیا کے خمیر میں لتامنگیشکر کے سنگیت کی تاثیر ہزاروں سالوں تک موجود رہے گی اور ایشیائی لوگوں پر لتامنگیشکر کے گیتوں کا سحر طاری رہے گا۔
لتامنگیشکر کا متبادل دنیا کو مل بھی جائے تو بھی اس کے اپنے عہد کی موسیقی، سُر، نغمگی، ترنم، ادائیگی، پُرفسوں آواز، اُس کے گلے کا سُریلا پن اور ہمارے زمانے کی اردو ہندی زبان، پنجابی بولی اور مراٹھی بھاشا کے گیتوں کا خزانہ لتامنگیشکر کے نام کو تاریخ میں ہمیشہ اُسی طرح زندہ رکھے گا جیسے مصر میں عربی گلوکارہ اُمِ کلثوم مَر کے بھی اپنے گیتوں کی شکل میں بندے بندے کے ساتھ آج بھی موجود رہتی ہے۔
کہتے ہیں کہ مصر میں دو چیزیں ہمیشہ ماضی کی یاد کے طور پہ باقی رہیں گی۔ ایک اہرامِ مصر اور دوسری کلثوم کی آواز!لیکن میں کہتا ہوں کہ میرے عہد کی دو بھارتی خواتین ہمیشہ تاریخ میں اُسی طرح زندہ رہیں گی جیسے بحرِہند کا پانی اور ہمالیہ کی چوٹیاں برقرار رہیں گی۔
اور یہ دو خواتین ہیں لتامنگیشکر اور امرتا پریتم۔لتامنگیشکر نے گلے کا جادو جگایا تھا تو امرتا پریتم نے قلم کو ایسا تیر بنایا تھا کہ اس کے ادب نے مجھ جیسے کروڑوں انسانوں کو پُرعزم انقلابی بنا کر ترقی پسندوں کا ایک لشکر اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔امرتا پریتم بھی میری ایک ماں تھی جسے مادرِ پنجابیت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
 ان سب ماؤں کی یاد ہمیشہ میرے دل میں تازہ رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔

😭

I lost my real mother last year on 12th February, 2021۔

Today is her annual KHATAM (1st Anniversary) at my home in Dhanyala, district Jhelum, Punjab, Pakistan🇵🇰

😭

I lost another my mother too today on 6th February, 2022, and she was Lata Mangeshkar!

My real mother Nazeer Begum brought my soul in this world while Lata Mangeshkar purified my soul by her melody songs which enriched me with passions of love for all human kind!

My real mother will live alive in my heart untill I die۔ But Lata Mangeshkar's voice will remain vital until the music and Urdu, Hindi, Marathi, Punjabi languages are there in the world۔

🎼🎤🎬🎹🎺🎷🪘

Sub-Continent's melodic voices are in thousand numbers but Lata Mangeshkar was the queen of South Asian Music who will be remembered forever!

Most influential music 🎶 was enriched by her melodic voice!

🌺

 


افکار و نظریات: اظہارِ تعزیت