مجلس مذاکرہ میں پڑھے گئے مقالات کے انتہائی اہم نکات

قم المقدس ایران سے  حسین عابدی  کی رپورٹ

مقبول بٹ شہید وہ پہلے کشمیری رہنما ہیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو فرسودہ طریقہ کار اور اسٹیبلشمنٹ کی ناقص پالیسیوں سے ہٹ کر بیان کیا۔


تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار قم المقدس ایران میں ایک مجلس مذاکرہ میں کیا گیا۔ مجلس مذاکرہ میں ان خیالات کا اظہار محترم نذر حافی نے اپنے تحقیقی مقالے میں کیا ہے۔

انہوں نے مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ شہید بخوبی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ  مسئلہ کشمیر کو سیاسی، عوامی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق  صرف مقامی  کشمیری قیادت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

وہ کشمیر میں باہر سے لانچ کی گئی قیادتوں اور پارٹیوں کے ذریعے اس مسئلے کو ناقابلِ حل سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقبول بٹ  اپنے اس ٹھوس موقف کی وجہ سے  بارڈر کے دونوں طرف زیرِ عتاب رہے چونکہ وہ دونوں طرف ایک ہی بات کرتے تھے ۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ مقبول بٹ کی یہ  تشخیص  بالکل درست تھی کہ کشمیر کو سوائے کشمیریوں کے کوئی بھی آزاد نہیں کرا سکتا۔

 اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ  ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی کا اصلی وطن کشمیر ہے۔ لہذا اگر  امام خمینی کے افکار و نظریات ایران میں اڑھائی سو سالہ شہنشاہیت کو شکست دے سکتے ہیں تو اُن کے  اپنے اصلی وطن میں بھی یہ افکار و نظریات ظالم و  قابض طاقت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی بنیادوں،طریقہ کار اور کامیابی کے اصولوں کو سمجھا اور سمجھایا جائے۔


مجلس مذاکرہ کے دوسرے مقالہ خوان فاضل محقق محمد بشیر دولتی تھے۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں اس نکتے کو اٹھایا کہ گلگت بلتستان کے قوم پرست یا لبرل و سیکولر حضرات گلگت و بلتستان کے حقوق کی آڑ میں کشمیریوں کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔

 انہوں نے اس رویّے کو انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان گلگت و بلتستان کو اُس کے آئینی حقوق دے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت و بلتستان کے لئے آئینی حقوق کا مطالبہ بھی مسئلہ کشمیر کی طرح ایک سنجیدہ، حقیقت پر مبنی، جائز اور جمہوری مطالبہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا  کہ جب تک کشمیریوں کو  بھارت استصوابِ رائے کا حق نہیں دیتا تب تک گلگت و بلتستان کے لوگوں کو پاکستان تو  اُن کے آئینی حقوق سے محروم نہ کرے۔ 

 یاد رہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ اور مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر اس فکری مجلس مذاکرہ کا اہتمام سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے مجلس وحدت مسلمین کے تعاون سے  کیا تھا۔

11/2/2022 بروز جمعۃ المبارک، ایران کے شہر قم المقدس سے