حجاب کی اہمیت
صادق الوعد


فادر ڈے ایک اہم دن ہے۔ ہر سال تیرہ رجب المرجب کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ یقینا باپ بننا انسان کی بڑی آرزوؤں میں سے ایک ہے ۔ باپ  جب باہرسے تھک کر  گھر پہنچتا ہے تو اپنی اولاد کے لب پر مسکان اور خوشی دیکھ  کر اس کی ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے  ۔پھر جوں جوں اولاد کے قد اور عمر میں اضافہ  ہونےلگے تو باپ ان کی تعلیم وتربیت، روزگار ، مستقبل  اور شادی  وغیرہ  کا شدت سے فکر مند  ہوجاتا ہے ۔
ایک باایمان باپ کی پریشانی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب وہ بے ایمان معاشرے میں زندگی بسر کر رہا ہو۔ اکثر غیرمسلم ممالک میں بسنے والے  مسلمان  ماں باپ اس پریشانی کے شکار رہتے ہیں۔اس کی تازہ ترین مثال چند روز پہلے ہندوستان میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔  اس  کے بعد سے ایک بار پھر حجاب وعفاف کی اہمیت اور ضرورت کو سوشل میڈیا پر اٹھایا جارہا ہے ۔سوال یہ بھی پیدا ہوتا  ہے کہ  آخر  بعض لوگ  حجاب کی اتنی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ اور کس سوچ کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں؟ 
 تاریخ کے اوراق پلٹانے سے معلوم ہوتا ہے حجاب صرف مسلمان خواتین سے مخصوص نہیں رہا ہے  بلکہ صدیوں سے ہر قوم ،ہر ملک اور ہر مسلک کی خواتین  حجاب کرتی چلی آ رہی ہیں۔اقوام و قبائل کے حجاب کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں لیکن حجاب کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔
ہمارا دعویٰ ہے  کہ تمام اسلامی احکام انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں ۔انسانی ضروریات میں سے ایک حجاب بھی ہے ۔ چنانچہ غیرمسلم حضرات بھی حجاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔چارلی چپلن نے  اپنی بیٹی کو برہنہ ہونے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ  جو خواتین اپنا تعارف کروانے کے لیے برہنہ ہوجاتی ہیں بہت جلد ان کی میعاد کی تاریخ ختم ہو جاتی ہے۔
ویلیام جیمز لکھتا ہے:جو خواتین خود کو کھلے دل سے عام لوگوں کے سامنے نمائش کے طور پر پیش کرتی ہیں ایسی خواتین لوگوں کی ملامت اور لعن طعن سے محفوظ نہیں رہ سکتیں ۔
قرآن کریم اور احادیث میں حجاب کے نفسیاتی پہلوؤں کو بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔سورہ نور آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی  فرماتا ہے : حجاب کرنے میں بھلائی ہے ۔یعنی دنیا اور آخرت بلکہ سماج کی بھلائی حجاب پہننے میں ہے ۔اسی طرح سورہ احزاب آیت 53 میں آیا ہے ۔حجاب مرد اور خواتین دونوں کی دلی پاکیزگی کا سبب بنتا ہے ۔
ماہر ینِ نفسیات کہتے ہیں کہ  جو شخص زندگی کے امور انجام دینے میں خود ارادیت اور خود مختار نہیں وہ جلد شکست سے دوچار ہوکر  ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ۔کیونکہ اس کیلیے معیار دوسروں کا سلیقے اور چاہت ہے۔ وہ اسی طرح زندگی گزارتا ہے جیسے دوسرے چاہتے ہیں کیونکہ  لوگوں کے سلیقے اور چاہتیں بدلتے رہتے ہیں تو اسے بھی ہر روز  اپنا آپ بدلنا پڑتا ہے ۔
وہ خواتین جو مختلف رنگین ملبوسات اور اپنے چہرے کی خوبصورتی کی نمائش سے لوگوں کی توجہ جلب کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا یہ کردار ظاہر کرتا ہے کہ سنگھار اور سجاوٹ نہ کریں تو سماج میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ۔دوسری طرف حجاب سماج میں ذمہ دار شخص ہونے کی عکاسی کرتا ہے ۔کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی اہم  کام ہر کسی کے سپرد نہیں کیا جاتا  بلکہ  کسی بھی انسان کی شناخت پیدا کرنے کے بعداُسے کوئی  ذمہ داری دی جاتی ہے ۔ جو خواتین حجاب نہیں کرتیں علم نفسیات کے مطابق  وہ ہمیشہ اسی فکر میں رہتی ہیں کہ لوگ انہیں  پسند کریں گے کہ نہیں۔ 
اگر مختلف ملکوں میں واقع ہونے والی طلاق اور عائلی نظام کے  درہم برہم ہونے کی اصلی وجہ کو ڈھونڈیں  تو پتا چلتا ہے کہ  اہم وجہ خواتین کا دوسرے مردوں سے باہمی تعلقات رکھنا ہے۔  اسی سے میاں بیوی کا  ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ مرد جتنا بھی بدکار ہی کیوں نہ ہو شادی اسی سے کرنا پسند کرتا ہے جو کسی نامحرم سے تعلقات نہ رکھتی ہو۔
اس بوقت دنیا کے مختلف ممالک میں  کچھ خواتین حجاب اور اسلامی اقدار کی جنگ لڑ رہی ہے۔ لیکن  اسلام کے نام پر تشکیل پانے والے ملک، وطنِ  عزیز پاکستان میں چند خواتین نے حجاب کو  پرانے دور کی پہچان اور پتھر کے دور کی ثقافت کہہ کر سڑکوں پر حجاب کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر رکھا ہے۔در حقیقت  یہ خواتین کی فطری نفسیات  اور عفت و حیا  کے خلاف احتجاج ہے ۔ یوں ایسا احتجاج گویا  خواتین جیسی مقدس صنف کی ہتک عزت کے مساوی  عمل  ہے۔ہر  معاشرے میں با حجاب خواتین کو ہر کوئی عزت کی نگاہ سے دیکھتا  ہے جبکہ بے حجاب عورت کو مالِ مُفت سمجھا جاتاہے ۔اللہ تعالی نے  اپنے دین کے ذریعے خواتین کو بے انتہا عزت اور مقام سے نوازا ہے ، ایسے میں تعجب ہے ایسی خواتین پر جو اپنے عزت، عفت، حیا اور حجاب کو چھوڑ کر دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننا چاہتی ہیں۔

 

 


افکار و نظریات: حجاب کی اہمیت