نصابِ تعلیم اور شدت پسندی

قم المقدس سے حسین عابدی کی رپورٹ


جامعہ روحانیت بلتستان ایک منفرد ادارہ ہے  ۔ ایران  کے شہر قم المقدس میں ہر پاکستانی اس کے نام سے واقف ہے۔ ادارے کا خاص امتیاز اور پہچان اس کی علمی، تحقیقی، سماجی اور رفاہی سرگرمیاں ہیں۔ یہ سرگرمیاں سارا سال انجام پاتی رہتی ہیں۔ ان کا خاص مرکز حسینیہ بلتستانیہ ہے۔ حسینیہ بلتستانیہ میں ہر وقت علمی و فکری اور تحقیقی دسترخوان بچھا رہتا ہے جس سے اربابِ دانش مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ 

گزشتہ روز  بعد از نماز مغربین بھی ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نشست کے ناظم حجۃ الاسلام محمد علی شریفی تھے۔۔

نشست کا موضوع تھا " یکساں قومی نصاب پر شیعہ مکتب کے تحفظات"۔ حاضرینِ محفل میں مختلف شعبوں کے علمائے کرام اور طلبا حضرات موجود تھے۔ نشست سے تمہیدی گفتگو جناب قبلہ شیخ  محمد علی شریفی نے کی۔ انہوں نے موضوع کی اہمیت، اس پر بحث کی ضرورت اور اس کے مختلف  پہلووں پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں موضوع پر گفتگو کرنے کیلئے  جناب نذر حافی صاحب کو دعوت دی گئی۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ایسی نشستیں صاحبانِ علم و عمل کی  ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف اقوام، مسالک اور زبانوں کے لوگ بستے ہیں لہذا ایک ہی نصابِ تعلیم کی بنیاد پر سب کو یکساں طور پر  سیراب کیا جانا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یکساں نصابِ تعلیم کسی ایک فرقے کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ سارے پاکستانیوں اور سارے مسالک کا ہونا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نصاب تعلیم میں کتابوں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ استادوں کی خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ صرف کتاب کافی نہیں ہے بلکہ  کتاب کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ استاد بھی ضروری ہے۔


انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے اساتذہ بھرتی کئے جائیں جن کاتعلق طالبان و داعش اور القاعدہ کو پروان چڑھانے والے دینی مدارس سے نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں استاد کے حُلیئے سے ہی وحشت و بربریت ٹپک رہی ہو اور اُس کی اپنی تربیت شدت پسندوں کی نرسریوں میں کی گئی ہو وہاں بچوں کے اذہان سے شدت پسندی کو نہیں نکالا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ نصابی کتب میں اہل بیت علیہ السلام کا ذکر ختم کرنا اپنی جگہ قابلِ تشویش ہے تاہم نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں شدت پسند عناصر کی بھرپور موجودگی اور زیادہ تشویشناک ہے۔ ان نہوں نے اپنے تجزیے میں بیان کیا کہ نصابِ تعلیم کے نام پر مسلماتِ تاریخ  اور قطعیات ِ کتاب و سنت  میں کمی بیشی  کرنا ایک شدت پسندانہ سوچ ہے۔ نصابی کتب میں اپنے ذاتی عقائد  کیلئے  بچوں کے اذہان کو ہموارکرنے کی خاطرحقائق کو مسخ کر نے والے ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں ہیں۔
ان کے تجزیے کے مطابق مسئلہ صرف اسلامیات کا نہیں ہے پورے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں شدت پسند شخصیات، ان کے افکار اور نظریات کی موجودگی کا ہے۔ اُنہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ ٹیکسٹ بکس کی صورت میں جو کچھ سامنے آیا ہے وہ  اس بات پر دلیل ہے کہ ہمارے  نظامِ تعلیم  اور نصابِ تعلیم کے پالیسی میکرز کے درمیان،ملک دشمن اور فرقہ پرست  عناصر  بیٹھے ہوئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ  اہلِ بیت ؑ اور صحابہ کرام ؓکا ذکر قرآن مجید اور احادیثِ رسول کی روشنی میں  ویسے ہی ہونا چاہیے جیسے کتاب و سنت میں ہوا ہے۔ مسلماتِ تاریخ  اور قطعیات ِ کتاب و سنت  میں کمی بیشی کا حق کسی کو نہیں پہنچتا۔ ایسا کرنے سے اسلام کا حقیقی چہرہ مخدوش ہوگا اور دینِ اسلام کی غلط تصویر  اجاگر ہوگی جو کہ بچوں کو مسلمان بنانے کے بجائے ملحد بنانے کا باعث بنے گی۔

تصا ویر کیلئے کلک کریں