صوتی کالم

کلک کریں

اس کالم پر ایک سوال کا جواب

جواب نمبر ایک

جواب نمبر دو

انتہائی گہرا تبصرہ پاکستانی اور بین الاقوامی ھیئت مقتدرہ establishment نیز حکومتوں کا کردار اور عمران حکومت کے گناہ کی سزا (درپردہ داستان)

........................................

پاکستان اور امریکی شکنجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ رائے یُوسُف رضا دھنیالہ،
جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ 1988ء کی بات ہے۔ اب امریکہ کو افغانستان میں ضیأالحق کی مزید ضرورت نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے ایک جدید ڈیوائس سے آرمی ہیلی کاپٹر تباہ کروا کر ضیأالحق اور اُس کے دستِ راست پاک فوج کے سینئیر جرنیلوں کا بہاولپور کی فضاوں میں صفایا کروا دیا۔

ضیأالحق کے بعد بے نظیر بھٹو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پہ بیٹھ کر پاکستان میں برسرِ اِقتدار آئیں لیکن جب اُن پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے والے سی ٹی بی ٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے امریکی پریشر بڑھنے لگا تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے 18 مہینے کے بعد ہی اُن کی حکومت ختم کر کے ملک کو پراسیس میں ڈال کر نئے انتخابات کروائے۔

اُس وقت کے صوبہ پنجاب کے چیف منسٹر نواز شریف کو ضیأالحق کی روحانی سیاسی اولاد سمجھ کر، ریاستی وسائل سے الیکشن جِتوا کر اسلامی جمہوری اتحاد کی دو تہائی اکثریت والی حکومت کا وزیراعظم بنوا دیا۔ لیکن نواز شریف نے اپنے ہی لانے والوں کو بائیسویں گریڈ کا مُلازم اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کو جب اپنا اصل حکمران مان لیا تو خطرہ پیدا ہوا کہ امریکہ نوازشریف کو خرید یا ورغلأ کر پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط کروا سکتا ہے۔ لہذا کہوٹہ پلانٹ کے حقیقی مُحافظ صدر اسحاق خان نے تین سال بعد اُسے بھی چلتا کر کے ملک کو پراسیس میں ڈال کر نئے انتخابات کروائے، جس کے نتیجے میں بینظیر دوسری بار 1993ء میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مشروط اجازت سے پھر سے اقتدار میں آئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ ویٹو پاورز کے سوا کسی کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے سے روکنے کے لئے سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط کروانے کے لئے انڈیا، پاکستان، اسرائیل، برازیل اور جنوبی افریقہ سمیت سب پر شدید دباؤ برقرار رکھے ہوئے تھا کہ وہ سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط کر کے اپنے اپنے ایٹمی پلانٹ عالمی معائنہ کاروں کے لئے کھول کر ایٹمی توانائی کمیشن کی نگرانی میں دے دیں۔
انڈیا پر چونکہ امریکہ کا سفارتی دباؤ کبھی اتنا زیادہ موثر نہیں رہا لیکن پاکستان اپنی معاشی، دفاعی اور علاقائی مجبوریوں کے سبب امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرنے والا ملک تھا، اور پاکستان میں بے حد مضبوط امریکی لابی بھی ہمیشہ سے موجود ہے، لہذا ایسے میں اپنے ایٹمی پروگرام کو بچا کے رکھنے کے لئے پاکستان کے بائیسویں گریڈ کے افسروں اور قومی سلامتی کے ادارے نے ملک کو بڑے بڑے پریشر اور خطرات سے بڑی حکمت کے ساتھ آج تک نکالا ہے اور الحمدللّٰہ آج پاکستان دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہے۔ تاہم چونکہ چوبیس کروڑ کی ایک بڑی آبادی کے لئے معاشی ترقی اور کم وسائل کا مسئلہ بدستور ہمیں دنیا کے ترقی پذیر بلکہ غریب ترین ملکوں میں شامل رکھے ہوئے ہے، لہذا پاکستان معاشی لحاظ سے ابھی بہت کمزور، عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں میں جکڑا ہوا اور ترقی یافتہ ملکوں کے تجارتی نظام کے ساتھ کچھ اِس طرح سے جُڑا ہوا ہے کہ ہم فی الحال مغرب، امریکہ اور اُس کے عالمی سرمایہ دارانہ معاشی نظام (ڈالر) کے محتاج ہیں اور عالمی سیاست کے اجارہ داروں کے مقابل بطورِ ریاست کسی بھی مزاحمتی مُہم کا کُھل کر حصہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہماری ملکی معیشت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کسی بھی قسم کی سیاسی و اقتصادی پابندیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
امریکہ کی سخت ناپسندیدگی کے باوجود ہم نے بہت حکمت کے ساتھ چائنہ کے ساتھ اپنی دوستی اور سی پیک کے منصوبوں کو دنیا سے قبول کروایا ہوا ہے لیکن اِس کے باوجود اُنہوں نے ہمیں ایف اے ٹی ایف کی عالمی مالیاتی پابندیوں میں بلاوجہ جکڑ رکھا ہے تاکہ ہم اُن کے اثر اور دباؤ میں موجود رہیں۔

ہمارے ملک کی دوسری بڑی کمزوری، مجبوری اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے الیکٹیبل سیاستدان اپنے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر امریکہ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مُہرے اور لابی کی صورت میں سیاست کے جمہوری تماشے کے مؤثر ایکٹر ہیں جن کو امریکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پہ دباؤ بڑھا کر اقتدار دلواتا آیا ہے۔

عمران خان امریکہ کی توقعات پہ پورا اُترنے کے بجائے اُلٹا ملک کو اُن کی غلامی سے نکالنے کی راہ پر تیزی سے چلنے والے حکمران کے رُوپ میں ظاہر ہونے لگا تو جوبائیڈن نے اِسے نظر انداز اور عالمی سطح پہ تنہأ کرنے کا رویہ اپنایا جس کے ردعمل کے طور پر عمران خان تیزی کے ساتھ امریکہ کے متوازی عالمی بلاک کی تشکیل والے روس، چین اتحاد کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھانے کے لئے گزشتہ ماہ ماسکو کے دورے پہ چلا گیا۔ امریکہ اور ناٹو ممالک نے عمران خان سے بازپُرس کی تو اُلٹا اُس نے مجمعٔ عام میں اُنہیں جھاڑ دیا کہ ہم تمہارے غلام نہیں ہیں کہ ہر کام تُم سے پوچھ کے کیا کریں۔ عمران خان کی یہی گستاخی اُس کے اقتدار سے محرومی کا سبب بن رہی ہے کیونکہ اُس کے بعد پھر بڑی تیزی کے ساتھ عمران خان کی پارٹی اور اتحاد میں چھید ہونے لگا اور وہ نمبر گیم کا شکار ہو کر تحریکِ عدمِ اعتماد کی سُولی پر لٹکا دیا گیا۔
عدمِ اعتماد پیش کرنے والوں نے کُھل کر یہ بیان دئیے اور عمران خان پر الزامات لگائے ہیں کہ اُس نے یورپ اور امریکہ جیسے ہمارے پُرانے دوستوں کو ناراض کر دیا ہے۔
یعنی امریکہ نے اپنی لابی کو عمران خان جیسے باغی سے نجات پانے کے لئے آگے کیا تو وہ لوگ جو ایک دوسرے کے ماضی میں سخت دشمن، اور ایک دوسرے کو ملک دشمن بھی کہتے رہے ہیں، امریکی چھتری تلے امریکی دشمن عمران خان سے نجات اور پاکستان کا اقتدار پانے کے لئے ایک ہو گئے ہیں اور اقتدار کی ریوڑیاں آپس میں کچھ اس طرح سے بانٹ رہے ہیں کہ عدمِ اعتماد کی کامیابی کے بعد جاتی عُمرا کے میاں شریف کا اب کے بار چھوٹا بیٹا شہباز شریف وزیراعظم بنے گا، زرداری کا بیٹا شہباز شریف کا وزیرِ خارجہ ہو جائے گا، مولانا فضل الرحمان کو ایوانِ صدر میں سجایا جائے گا، یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ بنوایا جائے گا، قمر زمان کائرہ کو گونر پنجاب لگایا جائے گا، اور اِسی طرح تمام عہدے اور ملکی وسائل آپس میں بانٹ کر اپنے اپنے خاندانوں کو پروٹوکول دلوا کر امریکی مفادات کا پاکستان میں تحفظ یقینی بنا کے رکھا جائے گا۔

پاکستان میں امریکی اثرورسوخ اور مُقتدر حلقوں پہ کنٹرول ہمیشہ سے رہا ہے۔ پاکستان میں امریکہ مخالف سیاستدان اقتدار میں آ نہیں سکتا اور اگر آ جائے تو پھر اقتدار میں زیادہ عرصہ ٹھہر کے رہ نہیں سکتا۔پاکستان کے ہر آرمی چیف کی نامزدگی میں امریکی عمل دخل موجود ہوتا ہے اور امریکہ اپنے کسی ناپسندیدہ جرنیل کو پاکستان میں آرمی چیف بننے ہی نہیں دیتا۔ اس کے لئے وہ وقت سے پہلے جنرلز شارٹ لسٹ کر کے رکھتا ہے کہ ہر سیاسی حکومت سے اپنی مرضی کا چیف مقرر کرواتا ہے۔۔ لیکن عمران خان نے جنرل باجوہ کے جانشین کے طور پہ جس کسی جونئیر جنرل کو ترقی دے کر آرمی چیف بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اس پر عمران خان کا خود جنرل باجوہ کے ساتھ بھی ڈیڈلاک پیدا ہو چکا ہے اور اسی لئے جنرل باجوہ نیوٹرل ہوا ہے تو امریکہ نے شہباز شریف کو آرمی کے لئے قابلِ قبول بنوا کر نیا حکومتی سیٹ اپ لانے کا اہتمام کیا ہے تاکہ مستقبل کا آرمی چیف شہباز شریف مقرر کر سکے۔
امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ کہنے سے لے کر ماسکو کے دورے تک اور اب اسلام آباد میں اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس بلا کر ان کے سامنے چینی وزیراعظم کو بٹھا دینے کے کارنامے تک ہر اقدام امریکیوں کی نظر میں عمران خان کا ناقابلِ معافی جرم بنتا جا رہا ہے، جنہیں امریکہ کبھی معاف نہیں کرتا۔

تاریخ پر ذرا نظر دوڑائی جائے تو پاکستان کے قیام کے فوراً بعد اُس وقت کے سوویت روس نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو ماسکو کے دورے کی دعوت دی جسے پہلے تو پاکستان نے قبول کر لیا لیکن پھر روس کو مُکّہ دکھا کر لیاقت علی خان امریکہ کے دورے پر روانہ ہو گئے اور یُوں تب سے ہم امریکی کیمپ کا حصہ ہیں جبکہ ہمارے برعکس ماضی میں انڈیا سوویت یونین کے زیادہ قریب رہا ہے۔
ہم امریکہ کے زیرِ سرپرستی سِیٹو اور سینٹو معاہدوں کا بھی حصہ رہے اور تب عملاً دنیا میں ہمیں امریکی بغلگیر بچہ ہی سمجھا جاتا رہا تاآنکہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت امریکی بحری بیڑے کے لالی پوپ کا انجام جب ہم نے آدھا ملک گنوا کر بُھگتا تو پھر ہم نے خود اپنے دفاع کے لئے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ لیکن جلد ہی امریکہ نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام کے بانی کی حیثیت سے عبرتناک انجام سے دوچار کرنے کے لئے ملک میں اُس کے خلاف ڈالروں کے زور اور مذہب کے نام پر بھٹو مخالف تحریک چلوائی تو اُس وقت کے بائیسویں گریڈ کے افسر نے ملکی معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر بڑی باریک بینی اور ایک لمبی حکمتِ عملی کے ذریعے بھٹو کا مشن مکمل کر کے 1984ء تک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا جس کے بدلے میں 1988ء میں اُسے خود بھی اپنی جان سے بالآخر ہاتھ دھونے پڑ گئے۔

عمران خان کُھل کے دوسرا بھٹو بننے کی راہ پہ چل رہا ہے جسے امریکہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔ لہذا عمران خان کے متبادل کے طور پہ اقتدار کے بُھوکے ایک مولوی، ایک مُنڈے اور ایک مداری خاندان نے عالمی اسٹیبلشمنٹ میں اپنے لئے زبردست لابنگ کر کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈلوایا ہے تاکہ امریکہ مخالف عمران خان سے پاکستانی اقتدار امریکی پٹھؤوں کے حوالے کروا دیا جائے۔ بدلے میں پاکستان کو مزید عالمی قرضے اور کچھ تجارتی سہولیات دی جائیں گی۔

عمران خان مغرب اور امریکہ کی نظر میں جُرم پہ جُرم کرتا جا رہا ہے۔ اُس کا حالیہ جُرم کئی عشروں بعد اسلام آباد میں مُسلم اُمہ کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا کامیاب انعقاد کروانا بھی ہے جس میں مسلمانوں کے مسائل پر اجتماعی غور وفکر اور کوئی حکمتِ عملی بنائی جائے گی۔ مسلمانوں کا اتحاد مغرب اور امریکہ کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
عمران خان کا دوسرا بڑا جرم یہ ہے کہ اُس نے پوری اسلامی دنیا کے وُزرائے خارجہ کے اجلاس میں چین کے وزیرِ خارجہ کو بھی خصوصی طور پر مدعو کر کے او آئی سی کے اجلاس میں ساری اسلامی دنیا کے سامنے بٹھا دیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں اسلامی دنیا کا اکٹھ کر کے چین کو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ملا کر امریکہ کو حواس باختہ کر دیا ہے کیونکہ امریکہ پہلے صرف پاکستان کی چین اور روس سے قربت پر پریشان تھا تو اب عمران خان نے او آئی سی میں چین کو جذب کروانے کا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے جس کی وجہ سے عمران خان اب امریکی پٹھؤوں کی نظر میں بھی اتنا قابلِ نفرت ہوتا جا رہا ہے کہ اس کی مخالف جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کھلنڈرے سے قائد بلاول بھٹو زرداری نے انتہائی غصے میں آکر عمران خان کی بُلائی ہوئی او آئی سی کانفرنس کو طالبان کی ترجمان قرار دے کر اس کانفرنس کو روکنے کے لئے قومی اسمبلی کے ہال میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا تھا جسے پاکستان کے مُقتدر حلقوں نے مداخلت کر کے روکا ہے۔
بلال بھٹو زرداری کی طرف سے او آئی سی کانفرنس کو پاکستان کی نہیں بلکہ طالبان کی کانفرنس قرار دے کر اسے قومی اسمبلی کے ہال میں روکنے کی دھمکی دینا اس بات کو پوری طرح عیاں کر دیتا ہے کہ عمران خان کو ہٹا کر اقتدار میں آنے والے کس قسم کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گے۔ کیا بلاول بھٹو زرداری چند دن بعد ہمارے ملک کا وزیر خارجہ بننے جا رہا ہے؟ شاید اسی وجہ سے امریکی خوشنودی کی خاطر او آئی سی جیسے اہم سیشن کو پاکستان کا نہیں بلکہ طالبان کا اجلاس قرار دے رہا ہے۔
یقیناً بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ بنے یا کبھی وزیراعظم، پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے زیرِ اثر ہی رکھے گا۔

سانحہء مشرقی پاکستان کے بعد ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ سے ایک سبق سیکھا ہے کہ امریکہ کی جو مسلمہ عالمی بالادستی، سیاسی حکمرانی، زبردست فوجی طاقت، کُرۂ ارض کی فضاؤں اور دنیا بھر کے سمندروں پر پہرے، سائنس وٹیکنالوجی پہ مکمل عبور، موثر عالمی اتحاد اور بدترین سرمایہ دارانہ معاشی نظام پہ کنٹرول اور غلبہ حاصل ہے اس کے پیشِ نظر پاکستان کو بحثیتِ ریاست امریکہ سے کبھی بھی کُھل کے محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی پالیسی نہیں اپنانی چاہئیے کیونکہ اِس سے پاکستان کے لئے شدید معاشی، دفاعی، علاقائی، سیاسی، انتظامی، سفارتی اور جغرافیائی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جس سے ملک کی سلامتی کو بھی خدانخواستہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ہماری کمزوری یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے عالمی مطالبے پر جب جب انتخابات ہوئے تو پاکستان کے عوام نے برادری ازم اور اپنی جاگیردارانہ نفسیات کی بدولت بڑے بڑے خاندانوں، بڑے بڑے ناموں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور اشرافیہ کو ووٹ دئیے اور یوں ہر انتخابی حلقے اور ضلعے میں تین تین، چار چار خاندان سیاسی اجارہ دار بن کر الیکٹیبلز کا روپ دھار گئے جو اب پارٹیاں بدل بدل کر نسلوں سے مستقل ہم پہ حکمران چلے آ رہے ہیں۔

چوبیس کروڑ کی آبادی پہ مسلط الیکٹیبلز خاندانوں کی تعداد بائیس سو کے لگ بھگ ہے لیکن عوام کی نفسیات اور چوائس آج بھی یہی الیکٹیبلز ہیں جس کے سبب ملک میں عام آدمی کو عام آدمی ہی اپنا نمائندہ بننے نہیں دیتا اور یوں معاشرے میں حقیقی تبدیلی اور اصل جمہوریت کا فروغ پاکستانی عوام کے لئے فائدہ مند ہو نہیں پایا۔

اشرافیہ پہ مشتمل ایسی جمہوریت امریکہ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لئے بہت مُفید ہے کیونکہ وہ پاکستان کے چند سیاسی خاندانوں اور الیکٹیبلز کو نواز کر آسانی کے ساتھ اپنا آلہ کار بنانے میں کامیاب رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے امریکہ نے بھٹو زرداری خاندان، میاں شریف کے خاندان، مُفتی محمود کے خاندان اور گجرات کے چودھری ظہور الٰہی کے خاندان کے ساتھ شراکتِ اقتدار کی ڈیل کرائی ہے تو الیکٹیبلز کی نمبر گیم امریکی لابی کے حق میں ہو گئی ہے۔ نئی حکومت کو امریکہ مزید قرضوں، این آر او، ویزے اور سیاسی پناہ کی سہولتیں اور حکمرانی کی آسائشیں مہیا کروائے گا تو یہ بھی خوش اور امریکہ بھی خوش۔
بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کے عمران خان کے خلاف اور امریکہ یورپ کے حق میں حالیہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عمران کو ہٹانے والے سیاسی خاندان امریکہ کے ایجنڈے پہ کام کر رہے ہیں۔
لیکن سوچنا یہ ہے کہ عام آدمی پھر بھی ان اجارہ دار سیاسی خاندانوں کے پیچھے کیوں لگا ہوا ہے؟
یہ امریکی پِٹّھو خود تو اپنے خاندانوں کے لئے دنیا بھر میں اثاثے بناتے رہتے ہیں لیکن اُن کے نعرے مارنے والے عام آدمی کو کیا ملتا ہے؟
عام آدمی اِن چار، پانچ خاندانوں کی نسلوں پہ مُحیط غلامی اور الیکٹیبلز کو ووٹ ڈالنے کی نفسیات سے کب آزاد ہوگا پلیز؟
میرا خیال یہ ہے کہ جب تک عام آدمی الیکٹیبلز کو ہی ووٹ دیتا رہے گا تب تک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی اجارہ دار خاندانوں پہ مشتمل امریکہ نواز حکومتوں کو چاروناچار اقتدار سونپتی رہے گی کیونکہ ان خاندانوں نے مغرب اور امریکہ میں سرمایہ کاری اور لابنگ اتنی زیادہ کر رکھی ہے کہ پاکستان میں جوں ہی اُن کا احتساب شروع کیا جائے تو یہ باہر بھاگ جاتے ہیں اور پھر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پہ شدید سفارتی اور معاشی دباؤ ڈلواتے رہتے ہیں کہ ملک کے سفارتی مفاد کی خاطر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ان کو برداشت کرنا پڑ جاتا ہے۔
دیکھنا اب وہ بھگوڑا مُجرم بھی لندن سے سُرخرو ہو کر پاکستان واپس آ جائے گا جو جیل سے دوائی لینے کئی سال پہلے کا گیا ہوا تھا۔

یقیناً پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آنے والی حکومت کو بھی کاؤنٹر اور واچ کرتی رہے گی لیکن پاکستان میں جب تک امریکی لابی سیاسی طور پر مضبوط ہے تب تک یہاں حقیقی تبدیلی مفقود ہے اور پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی جس کی طرف عمران خان نے پیش رفت کی ہے وہ عملاً ممکن نہیں ہو پائے گی۔
تاہم اگر عوام واقعی ایک خودمختار اور غیرت مند قوم بننا چاہتی ہے تو پھر بُھٹو، زرداری، لغاری، مزاری، ملک، خان، سادات، سومرو، مخدوموں، چودھریوں، میانوں، دولتانوں، نوابوں، لدھڑیوں، گھرمالیوں، راجوں، مُفتیوں، پِیروں، مولویوں، سرداروں، وڈیروں اور بڑے خاندانوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور الیکٹیبلز سیاستدانوں کے بجائے عام آدمی کو اپنے ووٹ کا استعمال عام آدمی کے حق میں کرنا ہوگا جس کی مثال اِسی سال بیس فروری کو ہونے والے بھارتی پنجاب کے عوام نے دنیا کے سامنے رکھ کر امید دلائی ہے کہ اگر پاکستانی پنجاب کا ووٹر بھی خاندانی سیاست والی اشرافیہ سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ بھی مشرقی پنجاب کے لوگوں کی طرح آئندہ انتخابات میں تمام خاندانی سیاست کے الیکٹیبلز کو جُھٹلا کر پاکستان میں مڈل کلاس اُمیدواروں کو جِتوا کر انقلاب برپا کر سکتا ہے۔

اُمید پہ دنیا قائم ہے لیکن الیکٹیبلز سے نجات ضروری ہے پلیز۔الیکٹیبلز خود اشرافیہ کے طور پہ عیش کرتے ہیں جبکہ مفلوکُ الحال لوگ انہی سیاسی خاندانوں کے نسل در نسل نعرے مارتے اور اپنے ووٹ سے انہیں اپنے اوپر مسلط کرتے آ رہے ہیں جو کہ عام آدمی کی اپنی توہین اور اپنی نسلوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔


March 22, 2022.
Rai Yusuf Raza Dhanyala,
Jhelum. Punjab. Pakistan
03022844632


افکار و نظریات: صوتی کالم