وزیراعظم اور امریکی خط

۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔کلک کریں۔۔۔۔۔۔ صوتی تبصرہ
تحریر کسی اور کی اور تبصر میرا
رائے یُوسُف رضا دھنیالہ، جہلم

👇

"پاک امریکا تعلقات اور دھمکی آمیز خط"

✍️ محمد اشفاق صاحب کی وال سے۔۔۔۔

اسد مجید خان چند روز پہلے تک امریکا میں ہمارے سفیر تھے۔ آپ کوئی ریٹائرڈ جرنیل یا ڈی ایم جی سے فارن آفس میں آنے والے پیرا ٹروپر نہیں، ایک کیرئیر ڈپلومیٹ ہیں۔
ان کا سفارتی کیرئر تین عشروں پہ محیط ہے۔ اور جناب کی سپیشیلٹی امریکا ہے۔

اسد صاحب فارن آفس میں امریکی ڈیسک کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔ امریکا میں ڈپٹی چیف آف مشن کے فرائض بھی انجام دے چکے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مختلف فورمز پہ نمائندگی کے ضمن میں بھی امریکا رہ چکے۔
جاپان میں سفیر کے فرائض انجام دے رہے تھے، جب علی جہانگیر صدیقی کی سبکدوشی کے بعد 2019 میں انہیں امریکا میں سفیر تعینات کیا گیا۔

جناب وزیراعظم کے پہلے دورہ امریکا سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو گرم جوشی پیدا ہوئی تھی وہ عارضی تھی۔ جب تک اسد مجید امریکا پہنچے، ٹرمپ انتظامیہ ہم پر افغانستان کے معاملے میں شدید دباؤ ڈال رہی تھی۔ ٹرمپ دھمکی بھی دے چکا تھا۔ خیر ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مذاکرات میں سہولت کاری مہیا کی، معاہدہ کروایا۔ اس دوران ٹرمپ کی جگہ جوبائیڈن لے چکے تھے۔

امریکی صدر عہدہ سنبھالنے کے بعد دوست ممالک سے جو رابطے کرتا ہے، اس میں ہمارے وزیراعظم کو نظر انداز کیا گیا۔ ہم نے اس پر شکوے کرنا شروع کر دئیے۔ پاکستانیوں کیلئے یہ کچھ سبکی کا باعث بھی تھا کہ وہ کال نہیں کرتا نہ کرے، پبلک فورمز پر گلے شکوے کر کے ہم کیوں اپنی عزت خود خراب کر رہے ہیں؟

خیر اسی دوران امریکی افواج کا کابل سے انخلاء عمل میں آیا۔ امریکیوں نے اپنے فوجیوں کو عملاً ٹوپی جوتیاں چھوڑ کر بھاگتے دیکھا تو انہیں شاک لگا کہ بیس سال قیام کے بعد ایسا کیوں؟

امریکی انتظامیہ نے اس کیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔ اور ہم نے بھی سفارتی سطح پر نہیں تو عوامی سطح پر ہنسی خوشی یہ کریڈٹ اپنے سر لے لیا۔ اس سے بھی باہمی تعلقات متاثر ہوئے۔

علاوہ ازیں معاہدہ اور انخلاء کروانے کے ضمن میں ہمیں جو سراہے جانے کی توقع تھی، اس کی بجائے الٹا ہمیں ہی مطعون کیا گیا۔

انہی دنوں ایک امریکی چینل کے نمائندے نے جناب عمران خان سے مفروضے پہ مبنی یہ سوال پوچھا کہ امریکیوں کو اگر اڈے درکار ہوں تو کیا پاکستان مہیا کرے گا؟
جناب نے اس کا نہایت معقول جواب دیا کہ "ایبسولوٹلی ناٹ!"

ہوا یوں کہ اب جناب کے ڈیڈھ درجن بھر ترجمانوں، ان کے حامی یوٹیوبرز اور بلاگرز نے پاؤں میں گھنگرو باندھے اور اس ایبسولوٹلی ناٹ کی دُھن پر والہانہ تھرکنے لگے۔
اسی سامبا ڈانس کے دوران انہوں نے امریکی صدر کے کال نہ کرنے کا تعلق بھی ایبسولوٹلی ناٹ سے جوڑ دیا۔

تاثر یہ بنایا گیا کہ چونکہ ہم نے اڈے دینے سے انکار کیا ہے اس لئے جو بائیڈن کال نہیں کر رہا۔
امریکیوں نے اس تاثر کو زائل کروانے کیلئے معید یوسف اور شاہ محمود قریشی کے سامنے یہ اڈے مانگنے والا سوال رکھوایا۔
ظاہر ہے دونوں نے تردید کی، کیونکہ ایسا تھا ہی کچھ نہیں۔مگر اس سے ناچنے والوں کے سٹیپس ذرا بھی متاثر نہ ہوئے۔

اسی دوران الگ الگ وجوہات کے تحت امریکا کے چین اور روس سے تعلقات بگڑ رہے تھے اور الگ الگ وجوہات کے تحت ہی ہم ان دونوں ملکوں کے قریب آ رہے تھے۔اس سے بھی ہمارے باہمی تعلقات متاثر ہوئے۔

دسمبر سے روس اور یوکرین کا باہمی تنازع بگڑنے لگا۔فروری آتے آتے روس اپنی دو لاکھ فوج یوکرین کے بارڈر پر لے آیا۔
امریکا اور یورپی یونین یوکرین کی پشت پناہی کر رہے تھے اور اس کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار کرنا چاہ رہے تھے۔ایسے میں ہمارے وزیراعظم کا دورہ روس آ گیا۔

چین اور روس کے ساتھ ساتھ امریکا سے دوستی کی بھی ہمارے لئے بہت اہمیت ہے جس کی بہت سی وجوہات آپ سب جانتے ہی ہیں۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو بھی امریکا سے بگڑتے تعلقات پر تشویش تھی۔
آپ کو یاد ہوگا کہ خان صاحب کے دورہ روس سے پہلے کئی پرو اسٹیبلشمنٹ تجزیہ کاروں نے اس دورے کی ٹائمنگ اور افادیت پر سوال اٹھائے تھے۔
مگر جانا بنتا تھا، اس پر میں پہلے لکھ چکا۔

پیوٹن نے مگر انتہائی خباثت کا مظاہرہ کیا اور سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمارے وزیراعظم کے دورے کے دوران ہی یوکرین پہ چڑھ دوڑا۔

خان صاحب کو مگر وہ پروٹوکول دیا گیا جس سے وہ اور ان کے عشاق پگھل جایا کرتے ہیں، تو وہ پگھل گئے۔
ہم نے روس کے خلاف قرارداد پر بھی رائے شماری سے اجتناب کیا۔

اب اس سب پر اسٹیبلشمنٹ اور فارن آفس میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ کہیں ہمارے اور امریکا کے تعلقات میں کوئی گہری دراڑ نہ پڑ جائے۔

اسد مجید خان صاحب کو کہا گیا کہ وہ سن گن لیں کہ امریکی کیا سوچ رہے ہیں؟

اسد صاحب نے اپنے تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے کچھ جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین جیسا کہ ولسن سنٹر کے ایک ڈائریکٹر صاحب، کچھ امریکی محکمہ خارجہ کے لوگ، ایک آدھ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں دلچسپی رکھنے والے سینیٹر اور کانگریس مین وغیرہ کو اکٹھا کیا۔

یہ ایک غیررسمی اور کسی حد تک خفیہ میٹنگ تھی جس میں یوں کہہ لیں کہ سفارتی آداب یا احتیاطوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے فرینک ڈسکشن ہوئی۔
ہر کسی نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔
پاکستان کے داخلی معاملات پر بھی ظاہر ہے بات ہوئی۔ عدم اعتماد بھی زیر بحث آئی۔

اسد صاحب نے اس میٹنگ کی جامع روداد تھرو پراپر چینل فارن آفس کو بھجوا دی۔
فارن آفس سے وہ معمول کے مطابق عسکری قیادت اور شاہ محمود قریشی کو بھیج دی گئی۔
اس سے اگلے روز عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو گئی۔

تاریخ، نیوز چینل، اخبارات گواہ ہیں کہ عدم اعتماد کی کہانی دسمبر سے چل رہی تھی۔
جنوری میں حامد میر اس کی پیشنگوئی کر چکے۔
فروری میں اپوزیشن نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا۔ اور پورا فروری کا مہینہ یہ موضوع ٹاک شوز کی زینت بنا رہا۔
تحریک پیش ہونے کے بعد آپ سب جانتے ہیں، مارچ کے مہینے میں کیا ہوا۔

مگر مارچ ہی میں اسد مجید خان کا امریکا سے برسلز تبادلہ کر دیا گیا۔
اس سے متعلق جو کہانی سننے کو ملی ہے، وہ میں نہیں بتا رہا۔ مگر پچیس کو انہوں نے الوداعی پارٹی اٹینڈ کی اور ستائیس کو وزیراعظم نے جلسے میں کاغذ لہرا کر فرمایا کہ *"ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے!"*

جبکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اسے دھمکی کے بجائے وہی سمجھ رہی تھی، جو یہ ہے۔ یعنی ہمارے سفیر کی ایک اسیسمنٹ کہ امریکی ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟

وزیراعظم کے اس بلنڈر پر بھی اسٹیبلشمنٹ خاموش بیٹھنے کو تیار تھی مگر پچھلے دو دن میں کچھ ایسا ہوا کہ اسے ایکٹولی انوالو ہونا پڑا ہے۔

کیا ہوا؟ یہ جاننے سے پہلے یہاں ذرا رک کر یہ دیکھیں کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں، خارجہ محاذ پر، خان حکومت کے کون کون سے بلنڈرز اسٹیبلشمنٹ برداشت کر چکی ہے؟


انہیں پانامہ کیس میں قطر کے شاہی خاندان پر غصہ تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے ایل این جی ڈیل پر یہ غصہ نکالا۔


حکومت سنبھالتے ہی ان کے وزیر تجارت نے کہا کہ ہمیں سی پیک ایک سال کیلئے بند کرنا پڑے گا۔ بجلی کے وزیر نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو مہنگے ریٹوں پر کانٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ مواصلات کے وزیر نے سی پیک منصوبوں میں حسب عادت اربوں کی کرپشن نکالنا شروع کر دی۔ جب تک امریکا سے کچھ ملنے کی آس رہی، سی پیک پر کام عملاً بند رہا۔ چینی صدر کو بلانے کی ڈھائی سال سے کوشش ہو رہی، وہ آ نہیں رہا۔

3۔سعودیہ کے پہلے دورے پر خان صاحب کو غیرمعمولی عزت دی گئی۔ آپ وہاں سے نکل کر ایران پہنچے۔ سعودی انٹیلیجنس کو پتہ چلا کہ زلفی بخاری نے کچھ اہم باتیں ایرانی قیادت کو بتا دیں۔ اس پر وہ خاموش رہے۔ خان صاحب کو اپنا ذاتی طیارہ دے کر امریکا بھیجا۔ طیارے میں دوران سفر سعودی طرز حکومت اور شاہی خاندان کا مذاق اڑایا گیا۔ انہوں نے طیارہ واپس لے لیا۔ نیویارک پہنچ کر ملائشیا اور ترکی سے مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کر ڈالا۔

4۔اس نئے اتحاد کو خلیجی عرب ممالک نے او آئی سی کے مدمقابل بلاک کی تشکیل سمجھا۔ وہ ناراض ہوئے تو ان کے دباؤ پر ہم اس اتحاد سے باہر نکل آئے۔ اس پر ملائشیا اور ترکی کو مایوسی ہوئی۔

5۔کشمیر کے معاملے پر اپنی ناکام سفارتکاری کا غصہ عرب ممالک پہ اتارا۔ انہوں نے اپنے پیسے واپس مانگ لئے تو سعودی عرب کے خلاف خان صاحب کی یوٹیوب سپاہ نے غلیظ ترین اور گھٹیا مہم چلائی۔

6۔جنرل قمر باجوہ نے دورے کر کر کے دوبارہ سعودیہ اور یو اے ای سے تعلقات نارمل کروائے تو انہی یوٹیوبرز نے "گھٹنے ٹیک دیے" قسم کے ٹرینڈز چلائے۔

یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ سہتی رہی کہ یہ انہی کا لگایا جہنم کا پیڑ تھا۔

اس مراسلے والے معاملے کو بھول جانے کو بھی وہ تیار تھے۔ ان کی صرف یہ خواہش تھی کہ اسے مزید پبلک میں مت اچھالا جائے۔ کیونکہ ....


یہ امریکیوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگا کہ ہمارے ہی سفیر کی دعوت پر ان کے لوگوں نے جو فِیڈبیک دیا، اسے انہی کے خلاف استعمال کیا جائے۔


جو لوگ اس میٹنگ میں شریک تھے، انہیں اپنے اپنے اداروں اور حکومت کو جواب دینا پڑے گا کہ آپ کس سے پوچھ کر، کس کو بتا کر میٹنگ میں گئے اور یہ باتیں آپ نے کس لئے وہاں کیں؟


وزیراعظم اور اسد عمر نے یہ تاثر دیا کہ خط غیرملکی حکومت نے لکھا ہے جو factually سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔


عدم اعتماد کا اس مراسلے یا امریکی حکومت سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ کئی ماہ پہلے سے یہ معاملہ چل رہا تھا۔ وزیراعظم نے اس پر بقول ان کے شکرانے کے دو نفل بھی پڑھے تھے۔ اپنی ہر تدبیر الٹی ہوتے دیکھ کر کرسی بچانے کیلئے امریکا سے تعلقات داؤ پر لگا دیے گئے۔

مگر ان دو دنوں میں فوجی قیادت کی کوششوں کے باوجود ہر حد پھلانگ لی گئی تو ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا ہے۔


شاہ محمود قریشی نے چین جا کر شکایت کی کہ امریکا ہمارا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ چینی قیادت نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کر دیا۔ اب خدشہ ہے کہ انہیں اصل بات پتہ چلے گی تو ہمیں شدید خفت اٹھانا پڑے گی۔


معاملہ حد سے گزرتا دیکھ کر امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی بیچ میں کودنا پڑا۔ انہوں نے خط کی واضح اور دو ٹوک تردید کر دی ہے۔ ہم اپنے جھوٹے موقف کے دفاع کے قابل بھی نہیں رہے۔


جیسے وزیراعظم نے کچھ چنیدہ صحافیوں کو بلا کر مراسلے کے کچھ چنیدہ حصے بتائے۔ بالکل ویسے ہی کل قوم سے خطاب میں بھی وہ کچھ juicy stuff عوام سے شئیر کرنے جا رہے تھے۔ آدھے سچ میں پورے جھوٹ کا تڑکہ لگا کر وہ جو تقریر کرتے، اس نے آنے والے مہینوں میں ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا دینا تھا۔

اس لئے کل آرمی چیف اور سپائی چیف نے دو مرتبہ وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں تقریباً مجبور کر کے ان کے بیہودہ ارادے سے باز رکھا۔

میں نے دو ڈھائی سال سے ایک بات گرہ سے باندھ رکھی تھی۔ ہماری آپس میں بات ہو رہی تھی تو مرشدی ریحان اصغر سید نے فرمایا تھا کہ "پچھلے وزرائے اعظم صبر کر جاتے تھے، خان صاحب اقتدار سے نکلے تو پتہ نہیں کون کون سا قومی راز سڑکوں پہ اگلتے پھریں گے!"

جو بات ہم دو منجی توڑ دانشوروں کو برسوں پہلے سے پتہ تھی، ہماری مسخری، سوری عسکری قیادت کو کل شام اس کا ادراک ہوا ہے۔

آج تحریک عدم اعتماد کو مزید لٹکانے کیلئے جناب پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے چلے ہیں۔ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے؟

انصافی جو مرضی سمجھتے رہیں، انہیں چھوڑ کر باقی سب کو بتا رہا ہوں کہ کل شام سے جناب عمران خان صاحب کو نیشنل سکیورٹی تھریٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اور اب انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان سے شاید تھریٹ ہی کی طرح نبٹا جائے۔

یہ بندہ کبھی بھی وزیراعظم بننے کے لائق نہیں تھا، جنہوں نے بنایا اب وہی بھگتیں اور وہی نبٹیں۔

✍️ محمد اشفاق


Copied and posted by:
Rai Yusuf Raza Dhanyala,
Jhelum

*نوٹ* (میرا تبصرہ):
یہ مضمون محمد اشفاق صاحب نے عمران خان صاحب کے قوم سے خطاب سے ایک دن پہلے لکھا تھا۔ لیکن خان صاحب نے اگلے ہی دن قوم سے خطاب کر کے امریکہ مخالف بیانیہ تو مقبول کر لیا ہے اور اپنے لئے ہمدردی حاصل کر کے خود کو مظلوم بھی شائد ثابت کر لیا ہے کہ مجھے امریکہ نے اتارا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں وہ ایک ایسی شخصیت ثابت ہو چکے ہیں جو پونے چار سال کی اپنی حکومت کے دوران معاشی لحاظ سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے بلکہ الٹا آخر پہ خطرناک حد تک چالاک بن کر پاک امریکہ تعلقات کو بگاڑ دینے کے مرتکب بھی ہوئے ہیں جنہیں آئندہ شائد ہی اقتدار سونپنے کا مقتدر حلقے رِسک لے سکیں کیونکہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ان پر اسٹیبلشمنٹ اپنا کنٹرول نہیں رکھ پائی اور وہ جھوٹے انتخابی وعدوں کے بل بوتے پہ اقتدار میں آئے اور اپنے ہی ایک سفیر کی اسیسمِنٹ کو دھمکی آمیز امریکی خط قرار دے کر سیاست میں سنسنی پھیلا کر رخصت ہو گئے۔ اور یوں جن چند خاندانوں سے چھٹکارا پانے کے لئے خان صاحب کو لایا گیا تھا، عمران خان کے متبادل کے طور پہ اب پھر وہی چار، پانچ خاندان اور پرانے اجارہ دار حکومت بنانے والے ہیں۔

خیر آنے والوں سے تو جیسے تیسے اسٹیبلشمنٹ نپٹ ہی لے گی اور ان پر اپنا کنٹرول رکھنے میں کامیاب ہو ہی جائے گی لیکن خان صاحب اپنے ہی لانے والوں کو کوئی اچھا سبق اور صلہ دے کر نہیں جا رہے۔ لہذا آئندہ عمران خان صاحب کو پرائم منسٹر بنانے والے ہزار بار ان کے پچھلے بلنڈرز کو پہلے سوچیں گے کیونکہ ان کی سیاست صرف بیان بازی پر مبنی رہی ہے اور اس بیان بازی نے امریکہ کے بارے میں خو دغرضی پہ مبنی جتنی سنسنی پھیلائی ہے، اس سے ہونے والے سفارتی نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو پتہ نہیں کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے، تو آئندہ کون عمران خان کو اقتدار میں لانے کی جرأت کرے گا پلیز؟؟؟

مجھے ذاتی طور پہ عمران خان کے متبادل چار، پانچ خاندان؛ یعنی بھٹو زرداری خاندان، میاں شریف کا خاندان، مُفتی محمود کا خاندان، باچہ خان خاندان، گجرات کے چودھری ظہور الٰہی کا خاندان اور ان کے اتحادی الیکٹیبل سیاسی اجارہ دار خاندان ہرگز قبول نہیں، لیکن سیاست کی نیرنگیاں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں کہ عمران خان صاحب نے اپنے پونے چار سال کی معاشی ناکامیوں اور انتخابی وعدے پورے نہ کر پانے کی مجبوریوں کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ گھر جاتے جاتے ایک ایسے دھمکی آمیز امریکی خط میں لپیٹ کر خود کو مظلوم بھی ثابت کر دیا ہے جو کسی امریکی نے نہیں لکھا بلکہ پاکستان کے اپنے سفیر نے وزارت خارجہ کو معمول کی ایک کیبل/ڈائری بھجوائی تھی!

جذباتی قوم نے کے پی کے میں کل پی ٹی آئی کو امریکہ مخالف بیان بازی پر بلدیاتی الیکشن جتوا دیا ہے۔

لیکن مُقتدر سیلیکٹرز کی نظر سے عمران خان صاحب گِر گئے ہیں اور آئندہ وہ ملک چلانے کے اہل نہیں سمجھے جائیں گے۔

عمران خان صاحب نے امریکہ مخالف ہائپ کریئیٹ کر کے بھٹو کی طرح جذباتی قوم میں مقبول ہو کر اقتدار سے محرومی کی خفت مٹانے کی کوشش تو کی ہے لیکن انہیں اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ بھٹو صاحب بھلے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہوں لیکن اقتدار میں دوبارہ وہ بھی نہیں آ پائے تھے بلکہ سیدھے قبر میں جا سوئے تھے۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے منع کرنے کے باوجود عمران خان صاحب نے ایک دن تو امریکہ مخالف خطاب ملتوی کر دیا تھا لیکن دوسرے دن وہ ضد کر کے ٹی وی پہ لائیو خطاب کرنے بیٹھ گئے جس میں انہوں نے امریکہ کا نام لے کر سازش کا براہ راست ذمہ دار امریکیوں کو ٹھہرا دیا جو کہ پاکستان کے وزیراعظم کی طرف سے ریاست اور سفارت کے قطعاً مفاد میں نہیں تھا۔

لہذا ایسے آؤٹ آف کنٹرول سیاستدان کو کون آئندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالنے دے گا بھلا؟

کاش عمران خان صاحب پاکستان کے اقتدار کے حصول کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دوبارہ حکومت بنانے کی تھوڑی سی گنجائش باقی رہنے دیتے تو مجھ جیسے ووٹر کو اتنی مایوسی نہ ہوتی کیونکہ بہرحال عمران خان صاحب کے مقابل جاگیر داروں، سرمایہ داروں، سیاسی اجارہ داروں، الیکٹیبل خاندانوں اور ناقابلِ قبول بھٹو زرداری، شریف برادران اور مفتی محمود کے وارثان کو میں اپنے ووٹ کا اہل نہیں سمجھتا لیکن عمران خان صاحب کی نااہلی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کے نتیجے میں وہی بھان متی کا کنبہ پھر سے اقتدار میں لوٹ آیا ہے تو سب سے زیادہ دکھ اور مایوسی بھی مجھے ہی ہو رہی ہے۔ تو کیا آئندہ میں اپنا ووٹ جماعت اسلامی کے کسی نہ جیتنے والے امیدوار کو کاسٹ کروں یا پھر انتظار کروں کہ اسٹیبلشمنٹ چار، پانچ خاندانوں (بھان متی کے کنبے) کے مقابل نیا عمران خان کس کو تیار کرتی ہے!

عمران خان صاحب اب عوام میں جائیں گے اور بڑی بڑی مسحور کن جذباتی تقریریں بھی کیا کریں گے لیکن ان کے پہلے اقتدار کی کارکردگی اور مایوس کن معاشی ترقی، اور آخر پہ بھونڈے طریقے سے مونہہ زور ہو کر خارجہ پالیسی کی نقصان دہ تشریح نے ان پر مستقبل میں اقتدار کے دروازے شائد بند کر دئیے ہیں۔
لہذا اگر وہ زندہ رہ پائے تو اپوزیشن میں تو شائد بیٹھا کریں گے لیکن دوبارہ کبھی وزیراعظم بن پائیں گے، مجھے ایسا نہیں لگ رہا۔

ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پانچ سال پورے کر بھی جاتے لیکن انہوں نے جنرل باجوہ کی جگہ اپنے بڑے محسن جنرل فیض حمید کو اگلا چیف آف آرمی سٹاف بنانے کی جو ضد بنا رکھی تھی اس سے بھی وہ مقتدر حلقوں کی پشت پناہی سے محروم ہو گئے، جس کے نتیجے میں ان کی جھولی میں اتنا بڑا چھید ہوا کہ نہ صرف ان کے اتحادی بلکہ ان کی اپنی جماعت کے اراکینِ اسمبلی بھی انہیں چھوڑ کر دوسروں کی منڈھیر پہ جا بیٹھے اور یوں عمران خان صاحب دنوں کے اندر اندر ایوان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں اور جن کی اقتدار میں واپسی ہم لوگوں کو قطعی طور پہ گوارا نہیں تھی، وہی ناپسندیدہ اجارہ دار خاندان اب اپنی حکومت بنانے والے ہیں!

بھان متی کے کنبے کی اقتدار میں واپسی کا ذمہ دار میں عمران خان صاحب کو ہی سمجھتا ہوں!
میں واقعی مایوس ہوں پلیز!

محمد اشفاق صاحب کے مندرجہ بالا مضمون سے لازمی نہیں کہ سو فیصد اتفاق کیا جائے۔ لیکن دیانت داری کے ساتھ یہ بات ماننی پڑے گی کہ عمران خان صاحب نے بطورِ وزیراعظم غیرذمہ دارانہ طریقے سے اپنے ہی سفیر کی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی کیبل/ ڈائری کو جس طرح امریکہ کی طرف سے دھمکی آمیز خط کے طور پہ بتا کر سنسنی پھیلائی اور اپنے عوام کو گمراہ اور اپنے لانے والوں کو متنفر کیا ہے اس سے ان کی سفارتی سوجھ بوجھ کُند محسوس ہوئی ہے جس سے میں کہہ سکتا ہوں کہ آئندہ ان کو کم از کم وزیراعظم کوئی بھی نہیں بننے دے گا!

عمران خان صاحب نے گبھراہٹ میں اپنے پاؤں پہ خود ہی کلہاڑی مار لی ہے!

مجھ جیسے بہت سے لوگ جن کے پاس بھان متی کے کنبے کے مقابل واحد آپشن عمران خان صاحب ہی تھے، اب ہم سب سے زیادہ متفکر ہیں کہ اگلا ووٹ کس کو کاسٹ کر کے اپنے ضمیر کا اطمینان حاصل کریں گے۔
جہاں تک ہو سکا میں نے خان صاحب کو سپورٹ اور پروموٹ کیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آ، جا کے عمران خان صاحب کے کریڈٹ میں صرف بیان بازی آتی ہے، اور وہ بھی ملک کے لئے نقصان دہ!
یہ بھی حقیقت تھی کہ ان کو الیکٹیبلز کے سہارے اقتدار میں لایا گیا تھا لیکن معاشی ترقی کے لحاظ سے ان کی حکومت کی پونے چار سال کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ لہذا مجبوراً انہوں نے اقتدار سے رخصت ہوتے وقت خارجہ پالیسی پہ بیان بازی کر کے جذباتی عوام میں وقتی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کیا ہم بھی جذبات کی رو میں بہہ جائیں اور ان کی حکومت کا تجزیہ نہ کریں پلیز؟