اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات جہلم کا "مولوی ملنگ" گزشتہ روز جہلم کی ایک ترقی پسند شخصیت پروفیسر الطاف نظامی مرحوم کی خُود نوِشت (سوانحِ حیات) "محشرِ خیال" پڑھنے کو ملی جو اُن کی زندگی کی یادداشتوں پہ مبنی تھی۔ اِس میں اُن کی ایک یادداشت مولوی عبدالمجید ملنگ جہلمی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے بارے میں بھی تھی جو تھے تو ایک نابغہ جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں لیکن اُس وقت کے عام، سادہ، اَن پڑھ اور ناقدر شناس عوامُ النّاس اُنہیں "نیم پاگل مولوی ملنگ" سمجھتے تھے۔ ایک جہلمی ہونے کے ناتے جب میں نے مولوی ملنگ کے بارے میں "محشرِ خیال" میں پڑھا تو اُن میں مُجھے اپنے مرحوم والدِ گرامی، مُجاہدِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کی بھی ایک جھلک اور مشابہت نظر آئی، اور تھوڑی تھوڑی اپنی بھی۔ میں دِین کا عالم تو نہیں ہوں لیکن اُن کی طرح کا تھوڑا تھوڑا نیم پاگل ہونے کے قریب ہی ہوں۔جیسے پروفیسروں کو لوگ "غیر حاضر دماغ" سمجھتے ہیں، ایسے ہی اب تو مُجھے بھی کچھ لوگ پاگل کہنا شروع ہو گئے ہیں۔ (میرے لئے تالیاں!) ویسے میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ میں یہ ہر کسی کے ساتھ ہمیشہ سے ہی ایسے ہوتا آیا ہے کہ اُن کی اپنی زندگی اور اُن کے زمانے کے لوگ شروع شروع میں ہر غیر معمولی، اِنقلابی اور زمانے سے الگ سوچنے اور الگ ڈگر پہ چلنے والے کو پاگل ہی کہتے ہیں، حتیٰ کہ پیغمبروں (بشمول پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کو بھی اپنے اپنے زمانے کے لوگوں کے عقائد کے خلاف بات کرنے پر شروع شروع میں ایسا ہی کہا گیا۔ لیکن آج جبکہ ایک زمانہ بِیت گیا ہے تو میں پروفیسر الطاف نظامی مرحوم کے اُستادِ محترم مولوی ملنگ جہلمی کے بارے میں اِس لئے لکھنے پہ مجبور ہو گیا ہوں کیونکہ اپنے وقت کا وہ ایک نِیم پاگل اور ملنگ میرے علاقے، ضلع جہلم کا کتنا بڑا انسان اور صاحبِ کمال مُسلمان تھا۔ "محشرِ خیال" میں مرحوم پروفیسر نظامی جہلمی نے مولوی ملنگ کے بارے میں جو کچھ بتایا، لکھا ہے، اور جو کچھ میں نے مولانا عبدالمجید ملنگ کے بارے میں دوسرے لوگوں سے مزید معلومات اکٹھی کی ہیں، اُسے میں اپنے الفاظ میں بیان کروں تو وہ کچھ یُوں ہے کہ وہ لاہور میں ہندو، سِکھ اور مُسلمان اساتذہ سے پڑھے ہوئے تھے، جنہیں انگلش، ہندی، اُردو، عربی، فارسی، سنسکرت اور پنجابی (گُرمُکھی) زبانوں اور اُن کی گرائمر پر مکمل عبور حاصل تھا۔ جب وہ لاہور سے فارغُ التحصیل ہو کر واپس آئے تو اُنہیں ریلوے لائن کے پُرانے پُل کے پہلُو میں دریائے جہلم کے پانیوں کے اندر واقع جہلم کی ایک قدیم اور خُوبصورت جامع مسجد افغاناں میں اِمام و خطِیب مُقرر کر دیا گیا۔ آپ کے عِلمی اور اِنقلابی خطابات کی وجہ سے چونکہ جہلمیوں کی ایک کثیر تعداد افغاناں مسجد میں نمازیں اور جُمعہ ادا کرتی تھی، تو آپ کے خطابات کی ڈائری لکھنے کے لئے سی۔آئی۔ڈی والے بھی افغاناں مسجد میں آپ کے پیچھے جُمعہ کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ چونکہ انگریز اپنی حکومت اور اپنے باپ (بادشاہ سلامت) کے خلاف کوئی بھی بات برداشت کر ہی نہ سکتے تھے، لہذا خُفیہ والوں نے آپ کے خطاب کی ڈائری لکھ کے اُوپر بھجوا دی، اور اِتنی سی بات پہ افغاناں مسجد کے خاکسار خطیب حضرت علامہ مولانا عبدالمجید ملنگ کے خلاف سلطنتِ برطانیہ سے بغاوت کے اِلزام پر مُقدمہ چلا، انگریز کے وفاداروں اور حکومت کے مراعات یافتہ ہمارے مُسلمان نمازی بھائیوں نے مولانا کے خلاف جہلم سے بے حیائی کے اڈّے ختم کرنے کا واعظ کرنے کی گواہی دی، اور یُوں مولوی ملنگ کو سات سال کی سزا سُنا کر مُلتان جیل بھیج دیا گیا، اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا گیا کہ آئندہ سے تاحیات مولوی ملنگ رُوئے زمین پر موجود برطانیہ عُظمیٰ کے تمام مقبُوضات میں سے کسی بھی جگہ، کسی بھی مسجد میں اِمامت اور خطابت کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ جارج ہشتم موجودہ برطانوی بادشاہ چارلس سوئم کا نانا اور حال ہی میں مرنے والی برطانوی ملکہ الزبتھ دوئم کا والد تھا۔ اور ذرا اندازہ کیجئے کہ برطانیہ کی حکمرانی نے کس قدر سختی کے ساتھ اپنے مقبوضہ جات کی عوام کو غلامی میں جکڑ کر رکھا ہوا تھا کہ محض اِتنی سی بات پہ جہلم کے ایک نامور عالمِ دین، امام، خطیب اور مُدَرس کو سات سال قید بھی سُنا دی تھی اور ساتھ ہی تاحیات کسی مسجد میں اِمامت و خطابت کرنے پہ بھی پابندی لگا دی تھی کہ اُنہوں نے ایک جُمعے کے اپنے خُطبے میں یہ کیوں کہا تھا کہ اِس ایک مثال سے آپ غُلام ہندوستان کے ہر اُس باشعور، نابغہ، سیاسی لیڈر، مذہبی راہنماؤں اور آزادی کی جنگ لڑنے والے ہندوستانیوں کی مُشکلات، مصائب اور تنگ دستی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے تب انگریز کے خلاف اِک ذرا سی بھی زُبان کھولی ہوگی تو انگریز آقا نے باغی غلام ہندوستانیوں کے ساتھ کیا کیا نہ کِیا ہوگا۔ اور جنہوں نے انگریز کی وفاداری کا دَم بھرتے ہوئے اپنی ہی دھرتی ماں کے ساتھ غداری کر کے، اپنے ہم وطن باغیوں کی جاسُوسی اور انگریز کی ٹِیسی کی ہوگی، انگریز نے اُن غداروں کو کس قدر نوازا بھی تو ہوگا۔ وہ انگریز جس نے آخری مُغل بادشاہ کے حقیقی بیٹوں کے سَر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کر اُس کے سامنے پیش کئے تھے، اور پھر ہندوستان کے اُس آخری بادشاہ کو رنگون میں ایک انگریز افسر کے گیراج میں بقایا زندگی قیدیوں جیسی گُذارنے کے لئے جلاوطن کر دیا تھا، وُہی انگریز ہمارے افغاناں مسجد جہلم کے ایک مُدبّر خطیب مولانا عبدالمجید ملنگ رحمتہُ اللّٰہ علیہ کی طرف سے انگریزوں کے اپنے بادشاہ جارج ہشتم سے جہلم میں قحبے خانے بند کرنے کے مطالبے کو برداشت نہ کر سکے، اور مولانا ملنگ کو سات سال قید کے علاوہ اُنہیں اپنے شُعبے میں آئندہ کبھی بھی مُلازمت نہ کرنے کا حکم سُنا دیا تھا۔ انگریز نے ہندوستانیوں کی طرف سے 1857ء کی جنگِ آزادی کی کوشش کرنے کے جُرم پر کم و بیش آٹھ لاکھ ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا جن میں سے اکثریت مُسلمانوں کی تھی تاہم ہندو اور سِکھ بھی انگریز کے اِنتقام کی بھینٹ چڑھے تھے جن میں سے ایک میرا اپنا خاندان بھی تھا جو 1857ء کی جنگِ آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں تخت سے تختہ ہو کر بادشاہ سے بھکاری بن کے رہ گیا تھا! 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریز نے آسام سے لے کر افغانستان کے بارڈر تک ہر بڑے درخت پر کسی نہ کسی حُریّت پسند ہندوستانی کو پھانسی پہ لٹکا کر کئی کئی دن تک اُن کی لاشوں کی نمائش (بے حُرمتی) کی تھی تاکہ باقی لوگ دہشت زدہ ہو کر انگریز کی اطاعت اور پیروی کر لیں، اور پھر ہُوا بھی یہی کہ آٹھ لاکھ لوگوں (جن میں اکثریت مُسلمان عُلماء اور اُن کے پیروکاروں کی تھی) کے عِبرتناک انجام کے بعد کُوفیوں نے انگریزی یزید کی بیعت کر لی، اور پھر مقبوضہ ہندوستان میں اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بچانے اور بنانے میں وہی کامیاب ہو پایا جس نے مصلِحت سے کام لیا اور انگریز بادشاہ کی وفاداری کا حلف اُٹھا لیا۔ مُغل سلطنت اور اسلامی ریاست کے خاتمے کا ہندوؤں نے تو فوراً خیر مَقدم کیا اور وہ مُسلمانوں کے بجائے انگریز کی غلامی کو بہتر سمجھنے لگے تھے، لہذا ہندوؤں کی اکثریت انگریز کی وفادار بن کر انگریز سے مراعات لینے اور اپنی زندگیاں سنوارنے لگ گئی تھی، لیکن جن مسلمانوں نے بھی موقع سے فائدہ اُٹھایا وہ بھی خُوشحال اور مُعتبر ہوتے گئے کیونکہ انگریز نے اپنے وفاداروں کو زمینیں اور عہدے دے دے کر ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کر دیا تھا جن کے ذریعے وہ عوامُ الناس کو قابُو رکھنے میں کامیاب رہا۔ سوچتا ہوں کہ برطانوی ہِند میں مشہور ہونے والے بڑے بڑے پِیر، گدّی نشین اور آستانے، مِیانے، بڑے بڑے مخدُوم اور خانوادے، شہانے، جاگیردار، نواب اور آج ہم پہ حاکم کالے انگریزوں کے آباؤاجداد، سب کے سب انگریز کے وفادار، ٹاؤٹ، چاپلُوس، جاسُوس اور کارِندے ہی تو تھے جنہیں بدلے میں انگریز نے مراعات، پِیری، کُرسی، زمینیں، عہدے، القاب اور اِختیارات دیئے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے اپنے مُقتدیوں، مُریدوں اور اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کو انگریز کی غُلامی پر آمادہ رکھنے میں اپنا کردار بخوبی ادا کر سکتے۔ "عوام کا دِین اُن کے ملُوک کا دین ہوتا ہے!" لہذا پاکستان بننے سے پہلے انگریز کے عہد میں برصغیر کے جتنے بھی بڑے بڑے عُلماء و مشائخ، پِیر، گدّی نشین، مخدُوم اور اُن کے دربار اور درگاہیں لوگوں میں مقبُول ہوئی تھیں، اس میں انگریز کی آشیرباد بھی اُنہیں حاصل تھی کیونکہ وہ اپنے وفادار اُن مسلمان مولویوں، پِیروں، درباروں، مزاروں، اِمام بارگاہوں، ذاکروں اور مخدُوموں کی وجہ سے عام ہندوستانیوں پہ تسلّط قائم رکھنے میں کامیاب رہتا تھا۔ اور جِتنا اُن آستانوں، مزاروں اور درگاہوں پہ عوام کا ہجُوم رہتا تھا، انگریز اُتنا ہی خوش ہوتا تھا کہ اُس کی دلالی اور وفاداری کرنے والے پِیروں کی مُریدی بڑھ رہی ہے، اور یُوں خلقِ خُدا اُس کے ایجنٹ مذہبی پیشواؤں کے قابُو میں آ رہی ہے۔ برطانوی ہِند میں ترقی پانے والے آستانوں اور درباروں پہ آج بھی جاہل عوام کا ہجُوم اِس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پاکستان پر سیاسی طور پر ہی انگریز کی باقیات کا قبضہ نہیں بلکہ مذہبی طور پر بھی انگریز کے نوازے ہُوئے آستانوں اور پِیروں کی اولادیں آج بھی عوامُ النّاس کو اپنی عقیدت کی غُلامی میں پھنسائے ہوئے بیٹھی ہیں۔ اگر وہ انگریز کے وفادار نہ ہوتے تو کبھی بھی اُن کے دربار، مزار، درگاہیں، آستانے اور پِیرخانے تب آباد نہ ہو پاتے اور اُن کا حشر بھی جہلم کے مولوی ملنگ جیسا ہی ہوتا جس کی ایک ذرا سی بات اور مطالبہ انگریز برداشت نہ کر پائے تھے کہ جہلم کے چکلے بند کرو، اور اُنہیں نہ صرف سات سال جیل کی سزا سُنا دی بلکہ آئندہ سے اِمامت اور خطابت سے بھی محروم کر دیا۔ لہٰذا یہ ثابت ہُوا کہ انگریز دور کے بڑے بڑے پِیر، مُرشد، مخدُوم اور برگزیدہ سمجھی جانے والی ہستیاں بھی اِس وجہ سے غُلام مُلک میں مقبول ہوتی رہیں کیونکہ وہ انگریز کے اِستبداد کو عوامُ النّاس پہ مُسلّط کروانے اور رکھوانے میں مشغول رہیں۔ خیر، عِلم و دانش کا عظیم اُستاد جہلم میں قحبے خانے چلانے کے خلاف مِنبرِ رسول سے آواز بُلند کرنے کی پاداش میں جیل کاٹ کر جب جہلم واپس آیا تو اُس پہ اِمامت و خطابت پہ تو تاحیات پابندی لگ چکی تھی، لہذا اُنہوں نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر1 کے مشرقی پچھواڑے، محلہ مِستریاں میں واقع اپنے گھر میں ہی ایک ہاسٹل قائم کر لیا جو ایک اسلامی مدرسہ بھی تھا، ایک سکول بھی تھا اور ایک یتیم خانہ بھی۔ لیکن عوامُ النّاس نے اُسے ملنگ خانے کا نام دے دیا۔ مولوی عبدالمجید رحمتہُ اللّٰہ علیہ کو ملنگ کا خطاب جہلم میں مجلسِ احرار کے ایک جلسۂ عام میں علامہ عطأ اللّٰہ شاہ بُخاری رحمتہُ اللّٰہ علیہ نے دیا تھا حالانکہ خود مولوی صاحب مجلسِ احرار کے ساتھ باقاعدہ وابستہ نہ تھے۔ اپنی وَضع قَطع کے لِحاظ سے آپ واقعی ملنگ مِزاج عالم لگتے بھی تھے، اور مجلسِ احرار والوں کے دئیے ہوئے خطاب پر اُنہیں کوئی اعتراض بھی نہ تھا! وہ سفید تہہ بند (چادرا) باندھتے اور اُوپر سفید رنگ کا ہی کُرتہ پہنتے تھے۔ جبکہ کُرتے کے اُوپر کھڈّی کے بنے ہوئے کھدّر کے کپڑے کی ایک، دو واسکٹیں بھی پہنے رہتے تھے۔ عام لوگ اُنہیں نِیم پاگل سا ملنگ جبکہ پروفیسر الطاف نظامی مرتے دم تک اُنہیں اپنا مُرشد کہتے رہے، حالانکہ پروفیسر نظامی جہلم کی ایک سیکولر، اِنسانیت نواز اور ترقی پسند شخصیت تھے۔ لیکن وہ مولوی عبدالمجید ملنگ ہی تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے مشرق و مغرب کے تمام نصاب پڑھ رکھے تھے، اور پروفیسر نظامی اُن کی شخصیت، عِلم و حِلم، جِدّت پسندی، تعلیمی خِدمات، حُریّت پسندی اور جدید علُوم کی طرف اُنکی رغبت کی وجہ سے مجازاً اُنہیں اپنا مُرشد گردانتے تھے، کیونکہ مولوی ملنگ یُورپی علماء اور فلاسفہ سیگل، ہیوم، مارکس، رسلی، کانت، سپونزا، روسو، دیدورژاں، پال، سارتر وغیرہ سے مکمل آگاہ تھے، اور اپنے شاگرد الطاف نظامی کو بتایا کرتے تھے کہ: الطاف نظامی نے جب ایم اے اُردو کا امتحان دینا تھا تو تب مولوی عبدالمجید ملنگ صاحب نے اُنہیں اِقبایات پر بہت درس دیئے اور الطاف نظامی صاحب کو بجا بتایا کہ: مولوی ملنگ جس طرح الطاف نظامی کو "طافا" کہہ کر پُکارتے تھے، ایسے ہی وہ علامہ اقبال کو "بالا کشمیری" کہا کرتے تھے۔ اور جیسا کہ یہ حقیقت بھی ہے کہ اِقبال اگر جرمنی نہ جاتے تو اُن میں فلسفے اور فکرو نظر اور ترقی کی تمنّا کی وہ لہر نہ اُٹھ پاتی جس نے ہِندی مُسلمانوں کو بیدار کر دیا تھا، اور یہی بات مولوی ملنگ بھی بالے کشمیری کے بارے میں فرمایا کرتے تھے۔ مولوی ملنگ بتایا کرتے تھے کہ ہِندی مُعاشرے میں اِقبال نے جب یہ دیکھا کہ یہاں کے بڑے بڑے زمیندار، جاگیردار، آستانے، مِیانے، شہانے، ٹوانے، خان اور راجپوت وغیرہ وغیرہ اپنی دھرتی ماں (ہندوستان) پہ قابض انگریز کے وفادار بن کے تاجِ برطانیہ کے زیرِ سایہ بڑے بڑے عہدوں پہ بھی فائز ہوگئے تھے، اور اِقبال کی مزاحمتی اور بیداری پیدا کرنے والی شاعری سے خائف رہا کرتے تھے تو تب اقبال نے اُنہیں بھی مُخاطب کرتے ہوئے دبأ کے شاعری کی اور لوگوں کے نسلی، گروہی اور قبائلی تعصبات کو بھی خُوب دُھتکارا: یُوں تو سیّد بھی ہو، مِرزا بھی ہو، افغان بھی ہو! مولوی عبدالمجید ملنگ نے ابنِ عربی، ابنِ تیمیہ، بُوعلی سِینا، رازی و غزالی، فِقہ و تفسیر اور قدیم فلسفہ تو باقاعدہ مکتبِ لاہور میں پڑھا تھا لیکن جب انگریز نے اُنہیں جامع مسجد افغاناں میں جُمعے کے خُطبے میں ایک جُملہ بولنے کی پاداش پر سلطنتِ اِنگلشیہ کا باغی قرار دے کر سات سال کے لئے جیل میں ڈال دیا تھا تو تب اپنی اسیری کے دوران اُنہوں نے جدید مغربی فلاسفروں کا بھی مطالعہ کیا اور دونوں عالمی جنگوں کے اسباب و واقعات اور نتائج پر غور کیا تو اُنہیں پتہ چلا کہ زندگی قدیم دور سے نکل کر جدید عہد میں داخل ہو چکی تھی، اور صنعتی ترقی کی بدولت مغربی اقوام دُنیائے عالم پر قبضہ کر چُکی تھیں اور اُنہوں نے دُنیا بھر میں زمین کے اندر پوشیدہ بے پناہ قوت کے معدنی ذخائر سے جب اِستفادہ کیا تو دُنیا کو لُوٹ لُوٹ کر اُن کے اپنے مُعاشرے بڑی تیزی کے ساتھ تعمیرِ نو اور ترقی کی منازل طے کرنے لگے جس کے باعث مزید ترقی اُنہی اقوام کا مُقدر بنتی چلی گئی۔ مولوی ملنگ کہا کرتے تھے کہ رازق (خالق) نے دُنیا میں اپنی مخلُوق کے لئے بے پناہ وسائل مُہیا کر رکھے ہیں مگر یہ زَر پرست گورے اُنہیں عام اِنسانوں تک پُہنچنے نہیں دیتے اور مصنُوعی قسم کا قحط اور کال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ غریب لوگ اُن کے سامنے دست بستہ کھڑے ہو کر روٹی کی بھِیک مانگا کریں اور گورے اُنہیں اپنے مذمُوم مقاصد کے لئے فوج میں بھرتی کر کے پُرامن دُنیا میں جنگ کا نقارہ بجانے لگیں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک آ گئی کہ امریکی گورے نے ایشیائی جاپان پر اگست 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گِرا دئیے، اور پھر فاتح اِتحادیوں نے ایک عالمی بدمعاش تنظیم اَقوامِ متحدہ کے نام سے بنا کر اپنی اپنی چودھراہٹ قائم کر لی، اور ایک نئے انداز سے دُنیا پر اپنی دھونس جما کر حکومت کرنے لگے!" ذرا غور کیجئے کہ یہ سب باتیں مولوی ملنگ تب کیا کرتے تھے جب اُن کی عمر ابھی 45 سال کے لگ بھگ تھی اور نیا نیا پاکستان بنا تھا۔ یعنی تب کے ایک جہلمی کی باتیں آج کتنی سچ ثابت ہورہی ہیں۔ مرحوم الطاف نظامی اپنے مُرشد مولوی عبدالمجید ملنگ کو "جہلم کا سُقراط" کہا کرتے تھے، یا کوئی ایسا رِشی مُنی، کوئی بھگت، کوئی سادھُو، کوئی جوگی یا بُدھ جو اپنی آتما کو مہانتا بخشنے کے لئے ہندوستان کے وسیع وعریض مُلک کے کسی ایسے حصے میں راج پاٹ تیاگ کر اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر ہمالیہ کے دامن میں کسی غار میں جٹائیں لٹکائے، کسی وِرد کا وظیفہ کر رہے ہوں۔ مولوی ملنگ وحدتُ الوجُود، وجودیت، جدِلیاتی مادیت اور اس کا معاشی اور تاریخی نظریہ، ادب کے تمام تر قدیم و جدید رُجحانات، ابنِ عربی، ابنِ تیمیہ کے فلسفوں، جنگِ عظیم کے بعد امریکیوں کی طرف سے دُنیا کی اکلوتی سُپر پاور بن کر عالمی حکمرانی کا خواب، برٹنڈر رسل اور ورلڈ پولیس مین کے نظرئیے، اور ایٹم کے پُرامن اور تباہ کُن استعمال کے مُمکنات سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ مولوی ملنگ سوالیہ انداز سے یہ بات اُجاگر کیا کرتے تھے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کا اصل اکھاڑہ تو یورپ تھا جہاں دونوں عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان خود یورپی اقوام نے اپنے ہاتھوں سے ہلاک کئے اور کروائے تھے، لیکن ایٹم بم مارنے اور اُس کی تباہ کاریوں کا تجربہ کرنے کے لئے سفید فام ظالموں نے ایشیائی جاپان کا ہی اِنتخاب کیوں کیا تھا؟ مولوی ملنگ بعد ازاں جنگِ کوریا اور وِیت نام میں امریکی مداخلت پر بھی بہترین تبصرے اور تجزئیے کرنے والے دُور اندیش جہلمی تھے۔ اُن دنوں امریکیوں نے چاند کی تسخیر کے لئے اپالو کا جو پروگرام شروع کر رکھا تھا، مولوی ملنگ اُس سے بھی پُوری طرح آگاہ تھے، اور جب کبھی اخباروں میں یہ خبریں چھپتیں کہ راکٹ چاند کے تاریک حصے میں داخل ہوا تو اُس کے برقی آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، تو اُس کی تشریح مولوی ملنگ قرآن کی آیات کی روشنی میں کرتے ہوئے اس معاملے کو رُوح کی بُلندی سے جا ملاتے، اور فرماتے کہ اگر انسان نے مُستقِل مزاجی سے خلأ نوردی کا کام جاری رکھا تو پھر انسان کے اندر پوشیدہ مُمکنات اسے اپنی کہکشاں کے پار لے جائیں گی۔ مولوی ملنگ گیلیکسی کے اصلی تصور اور نُوری فاصلے سے بھی آگاہ تھے، اور فرمایا کرتے تھے کہ گوشت پوست کا انسان اپنے موجودہ جسم کے ساتھ یہ نُوری فاصلے طے نہیں کر پائے گا بلکہ مُمکن ہے کہ عِلمُ الحیاتیات کی مدد سے اپنے موجودہ انسانی جسم میں تبدیلیاں کر کے نئی نامیاتی ساخت کے بدن کے ساتھ کائنات کے دُور دراز گوشوں تک رسائی حاصل کر کے دوسرے سیاروں کو بھی اپنا مسکن بنا لے۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ مولوی عبدالمجید ملنگ جو نُور کو روشنی سے تعبیر کرتے تھے اور عام مولویوں کی طرح اسلام اور سائنس میں تضاد یا تصادم نہیں سمجھتے تھے بلکہ ہر سائنسی اِنکشاف اور ایجادات کو وہ قرآن کے ساتھ ملا کر اُس کی تشریح اپنے شاگردوں کو تب سمجھایا کرتے تھے جب باقی مولوی سائنسی تصورات کو الحاد کہہ کر سائنس کے ماننے والوں پر کُفر کے فتوے لگایا کرتے تھے۔ مولانا عبدالمجید ملنگ نے قرآنِ پاک کی تمام مشہور تفاسیر پڑھ رکھی تھیں۔ الطاف نظامی صاحب کے والد نے چونکہ اُنہیں بچپن سے ہی مولانا ابُوالکلام آزاد رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے "ترجمانُ القرآن" کا مطالعہ شروع کروا رکھا تھا، لہذا مولوی ملنگ نے بھی اپنے ہاں ملنگ خانے میں اُنہیں ترجمان القرآن ہی پڑھانا شروع کر دیا۔ مولوی ملنگ کے بارے میں اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق فی الحال مُجھے کوئی ایک بھی ایسی شہادت یا ثبوت نہیں ملا کہ اُنہوں نے کسی دوسرے فرقے کے مُسلمان یا سائنس میں یقین رکھنے والے کسی انسان کے خلاف اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی فتویٰ دیا ہو۔ بلکہ وہ اخلاقِ حسنہ، صِلۂ رحمی، تعلیم و تربیت اور عِلم کی ہر شاخ سے آگاہی پر زور دیا کرتے تھے۔ مولوی عبدالمجید ملنگ رحمتہُ اللّٰہ علیہ میاں محمد بخش عارفِ کھڑی کے صُوفیانہ کلام کے بھی بہت مُعترِف تھے اور ہر سال سیفَ الملُوک کا پروگرام بھی مُنعقد کرواتے۔ الطاف نظامی صاحب نے محشرِ خیال میں لکھا ہے کہ 1965ء میں اُنہوں نے شمالی محلہ جہلم میں دربار بابا شاہ بُخاری کے سامنے میدان میں سیفَ الملُوک کی محفل رکھی ہوئی تھی اور وقتِ مُقررہ پر مولوی ملنگ یُوں بولنا شروع ہوئے: تو یہ تھا جہلم کا نِیم پاگل مولوی ملنگ جس نے ہمارے آج کے حسبِ حال ایسا زبردست طنز 1965ء کی ایک شام جہلم میں اپنی بُلائی ہوئی ایک محفل میں کیا تھا جو آج بھی اگر لفظ بہ لفظ درست ثابت ہو رہا ہے تو پھر مولوی عبدالمجید ملنگ کو تب نِیم پاگل سمجھنے والے لوگوں کی مغفرت کے لئے ہاتھ اُٹھا کر دُعا کر دیجئے۔ مولوی ملنگ 16 جون 1966ء کو دُنیا سے رُخصت ہوئے لیکن اُن کے سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ ملنگ خانے میں وہ محض مذہب ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ حالاتِ حاضرہ، جغرافیائی عوامل، اور امریکی چھتری تلے سِیٹو اور سَینٹو جیسے دفاعی معاہدوں کے مُضِمرات سے بھی اپنے شاگردوں کو خبردار کیا کرتے تھے۔کیا کوئی اور مولوی بھی تب جہلم میں اُن کا ہم پلہ، نِیم پاگل انقلابی موجود تھا؟ ملنگ خانہ کیا تھا، بس یُو سمجھ لیجئے کہ یتیم بچوں کے لئے ایک یتیم خانہ تھا، مُسافروں کے لئے ایک مہمان خانہ تھا، طالب علموں کے لئے ایک سکول تھا، مولویوں کے لئے ایک درس تھا، نمازیوں کے لئے ایک عبادت خانہ تھا جہاں پانچ وقت کی نماز باقاعدگی کے ساتھ ہوتی تھی، اور وہ بگڑے ہوئے بچے جن پہ والدین گھروں پہ قابو نہ ڈال سکتے تھے، مولوی ملنگ کا گھر اُن کے لئے تربیت خانہ تھا، 1947ء میں جہلم پُہنچنے والے مہاجرین کے بیشتر بچوں کے لئے پناہ خانہ تھا، اور جہلم سے باہر سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور سرکاری مُلازمین کے لئے ایک ہاسٹل تھا۔ تاہم مولوی ملنگ کے ساتھ الطاف نظامی کا باضابطہ تعلق تب بنا جب اُنہوں نے ایف اے کے بعد ادیب فاضل کی تیاری کرنی تھی مگر کورس کی کتاب "حدائقُ البلاغت" اُنہیں بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ایک دن الطاف نظامی سائیکل پر جہلم شہر سے اپنے گاؤں چک خاصہ (ٹاہلیانوالہ) آ رہے تھے کہ راستے میں اُنہوں نے مولوی ملنگ کو دیکھا جن کے پیچھے پیچھے اُن کے شاگرد اللّٰہ اللّٰہ کا وِرد کرتے کرتے سڑک کنارے چل رہے تھے۔ مولوی ملنگ چلتے چلتے تبلیغُ الاسلام سکول کے احاطے میں داخل ہوگئے جہاں بوڑھ (برگد) کے بڑے بڑے، چھتناور درختوں کی گھنی چھاؤں میں کھڑے ہو کر اُنہوں نے زمین کے نیچے گِری پڑی، بِیج کی ایک گولی اُٹھائی، اُسے کھولا اور الطاف نظامی کو دِکھاتے ہوئے یُوں گویا ہوئے: واہ، کیا بات ہے مولوی ملنگ کی! آج کی جدید نفسیات کہتی ہے کہ اگر آپ کسی ناکارہ شخص کو کارآمد اور کسی نالائق سٹُوڈنٹ کو لائق بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اُس کی حوصلہ افزائی کیجئیے اور اُسے اِس بات کا یقین دِلا دیجئے کہ وہ ہر اِمتحان پاس کر کے بہت بڑا آدمی بن سکتا ہے، اور یُوں نالائق بچوں میں بھی اتنی دلچسپی اور لگن پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ یکسُوئی کے ساتھ اپنا اچھا کیرئیر بنا سکتا ہے۔ راستے میں مولوی ملنگ نے الطاف نظامی سے نہ کتاب پکڑی، نہ اُس کا مطالعہ کیا لیکن پیدل چلتے چلتے نظامی کو حقیقت اور مجاز، دلالت، مجازِ مُرسل، تشبیہہ اور اِستعارہ اور عِلمُ البیان سمجھاتے گئے، حتیٰ کہ محلہ مِستریاں میں مولوی صاحب کے گھر، ملنگ خانے تک پُہنچتے پُہنچتے الطاف نظامی کو اِس کتاب کے اہم مضامین سے بخوبی واقفیت ہو گئی۔ مولوی ملنگ نے نظامی صاحب کو سِکھایا کہ: مولوی ملنگ کی باتوں کا الطاف نظامی پر ایسا جادُوئی اثر ہُوا کہ اُس کے بعد الطاف نظامی نے روزانہ صُبح اذان سے بھی پہلے ٹاہلیانوالہ سے مستریوں کے محلے، ملنگ خانے جانا شروع کر دیا جہاں صُبح کی باجماعت نماز کے بعد درسِ قرآن وحدیث ہوتا، پھر ناشتہ، اور پھر ہر کسی کی نصابی پڑھائی۔ ملنگ خانے میں اُس زمانے میں مختلف اساتذہ انگریزی، ریاضی اور سائنس مضامین بھی پڑھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ملنگ خانے کا پڑھا ہوا بندہ دِین و دُنیا، معلوماتِ عامہ، سیاست، تنظیم، تاریخ، فلسفہ اور دُنیاداری بھی سِیکھ جایا کرتا تھا۔ مولوی ملنگ صحیح معنوں میں ایک مُجاہد اور دبنگ آدمی تھے۔صُبح جب وہ اپنے گھر میں فجر کی اذان دیتے تو الطاف نظامی کو لگتا کہ جیسے وہ خُدائے بزُرگ وبرتر، جس کا وہ نام لے رہے ہوتے تھے، کہیں اُن کے نزدیک ہی اُن کی چھت پر ہوتا تھا، اور مولوی صاحب اُسے بُلا رہے ہوتے تھے کہ آؤ ہم تُمہارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔ پروفیسر نظامی نے لکھا ہے کہ میں نے مولوی ملنگ کے پیچھے اِسی عالم میں (خُدا کو حاضر وناظر جانتے ہوئے) تب کتنی ہی نمازیں ادا کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں پروفیسر نظامی سیکولر، سوشلسٹ، کمیونسٹ، ترقی پسند اور عقل و سائنس کے پیروکار بن گئے۔ اور کیسا اِتفاق ہے کہ میرا اپنا اِرتقاء بھی بالکل ایسے ہی ہوا ہے، اور آج میں بھی دُوسرا الطاف نظامی ہی ہوں! مولوی آج کے سائنسی زمانے میں پُوری آسائشوں کے ساتھ رہ تو رہے ہیں لیکن سائنس اور اسلام کے مابین ہم آہنگی کی کوئی تحقیق و تدریس آج کے مُسلمان عالم نہیں کر رہے بلکہ کھِسیانی بِلّی کھمبا نوچے کے مترادف، تشکِیک اور سوال کرنے والے کو لِبرل اور دھریہ کہہ کر سوال و جواب سے ہی جان چُھڑا لیتے ہیں کیونکہ مولوی عبدالمجید ملنگ جیسا ذہن، مطالعہ اور مزاج آج کے مولویوں میں مفقُود ہے! مولوی ملنگ تو وُہ تھے جنہوں نے کئی عشرے پہلے ہی بڑے وثُوق کے ساتھ پیشینگوئی کر دی تھی کہ آنے والے سالوں یا صدی میں انسان اپنے جسم میں نامیاتی تبدیلیاں کر کے دُوسرے سیاروں اور کہکشاؤں پہ جا بسیرا کرے گا، اور یہ بات آج اِس لئے درست ثابت ہو رہی ہے کہ چاند پہ شہر بسانے اور زمین کے قریب ترین سیارے مریخ پر پڑاؤ ڈالنے کے لئے وہاں کے ماحول اور زندگی کی بقاء کے لئے درکار انسانی وجود کی ساخت کے بارے میں ترقی یافتہ مُمالک پُوری تندہی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اور یقیناً آنے والے وقت میں ترقی یافتہ قومیں جینیٹِک اِنجینئرِنگ کے ذریعے دوسرے سیاروں پہ جا کے رہ پانے والے انسان تشکیل دے کر اُنہیں مریخ، چاند اور دوسری کہکشاؤں پہ آباد کروا پائیں گی، جبکہ سادہ لوح مُسلمان ایسی باتیں کرنے والے کو نِیم پاگل کہتے رہتے ہیں جیساکہ مولانا عبدالمجید ملنگ کو کہتے رہے، لیکن آج ثابت ہُوا کہ مولوی ملنگ کو نہ سمجھ پانے والے لوگ ہی اصل میں بے شعور تھے۔ ملنگ خانے میں صبح بھأ سجاد (بھائی سجاد) جو مولوی ملنگ کے چہیتے شاگرد، نائب اور تبلیغُ الاسلام سکول جہلم میں ٹیچر تھے، اپنے ہاتھوں سے لڑکوں کے لئے ایک ایک پراٹھا بنا کے، اُن کے اُوپر ایک ایک دیسی انڈہ (فرائی) رکھ کے دیتے جاتے، اور ساتھ میں لونگ، سبز الائچی، دار چینی، اور خشک پودینے کا قہوہ دیا جاتا، جو بے حد مزیدار ہوتا۔ مولوی ملنگ اور اُن کا شاگرد پہأ سجاد، دونوں "الطاف ساز" تھے۔ اور جس بندے نے پروفیسر الطاف نظامی مرحوم کو ایک شخصیت کے قالب میں ڈھالا تھا، اُس جہلمی پہ جہلم والوں کو بتانے کے لئے میری طرف سے یہ مضمون لکھا جانا واجب تھا! دیکھا جائے تو مُجھے غیر معمولی مولوی عبدالمجید ملنگ کی ذات میں اپنے مرحوم والدِ گرامی کی ایک جھلک اور مشابہت نظر آتی ہے کیونکہ میرے والدِ گرامی، حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کو بھی مُجاہدِ اہلِ سُنّت کہا جاتا تھا، جنہوں نے ضلع جہلم و میرپور آزاد کشمیر میں تمام تنظیماتِ اہلسنت کی بُنیاد رکھی اور اُنہیں مُنظّم کیا اور چلایا بھی۔ یُوں میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ بھی ایک دبنگ، نڈر، بہادُر، باعمل، باکردار، مُتّقِی و پرہیز گار، سُنی عالمِ دین، مُدرس، اِمام و خطیب اور گورنمنٹ ہائی سکول کالا ڈپو، چک جمال میں عربی ٹیچر، ایک تنظیمی، تعلیمی و دینی و سیاسی شخصیت اور ایک آزاد مَنش، اور اِنتہائی خُود دار مُسلمان تھے جو ساری زندگی نہ کسی ظالم کے سامنے جھُکے اور کسی کے آگے بِکے! میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ بھی ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اور گھر اور گاؤں میں سفید رنگ کا تہہ بند (چادرا) باندھے رکھتے، اُوپر کُرتا اور کُرتے کے اُوپر عموماً ہلکی سی کوئی واسکٹ پہنتے تھے۔ میرے والدِ گرامی بھی مولوی ملنگ کی طرح پاؤں میں عموماً چمڑے کی عام سی جُوتی پہنے رہتے تھے، جنہیں اُن کے شاگرد آج تک "حافظ صاحب کا کھولا" کہہ کے یاد کرتے ہیں کیونکہ اُن کا کوئی ایسا شاگرد نہیں ہوگا جسے کھولے نہ پڑے ہوں۔ میرے والد صاحب بھی مولوی ملنگ کی طرح ایک ہاتھ سے عموماً اپنی کالی و سفید داڑھی کھُجاتے رہتے اور تیز تیز پیدل چلنے کے عادی تھے۔ میرے والد بھی اخبارات کے مطالعے، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا اور لڑکوں کی تنظیمی تربیت کرنے والے تھے۔ خاص کرکے میرپور آزاد کشمیر و جہلم کے اضلاع میں پہلے پہل سُنی طلبہ کی تنظیم؛ "انجمن طلباء اسلام (ATI)" آپ ہی نے قائم کروائی اور پھر ساری زندگی تمام تنظیماتِ اہلسنت کی سَرپرستی بھی فرمائی۔ میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے تنظیمی ساتھی جناب حافظ نذیر احمد نقشبندی صاحب محکمہء اوقاف کے ملازم کے طور پہ برسوں جامع مسجد افغاناں میں تعینات رہے تو یُوں میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کی زیرِ سرپرستی جماعتِ اہلسنت اور انجمن طلبہ اسلام کا مرکز (دفاتر) برسوں تک افغاناں مسجد میں ہی رہا۔ مولوی ملنگ کی طرح کا سادہ رہن سہن، سادہ خوراک، بے غرضی، خود داری اور کردار کی عظمت میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ میں بھی بدرجہ اُتم موجود تھی۔ مولوی ملنگ کی طرح ہی میرے والد بھی اپنے شاگردوں کو دِین اور دُنیا دونوں کی تعلیم دیتے اور دِلواتے تھے، اور اپنے شاگردوں کو وزن اُٹھانے، دوڑیں لگوانے، کُشتی اور کبڈّی کرانے اور دریا میں تیراکی کے لئے اکثر اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ جس طرح مولوی ملنگ جہلم شہر کے بھگوڑے بچوں اور آوارہ لڑکوں کو پکڑ پکڑ کر اُنہیں اپنے ملنگ خانے میں پڑھانے کا کام کرتے رہے، اِسی طرح میرے والدِ گرامی بھی اپنے گاؤں، علاقے اور ضلع بھر کے جوانوں کو اکٹھا کر کے انجمن طلباء اسلام جیسی طلبہ تنظیم میں شامل کرتے رہتے جس کے طفیل طلبأ میں بولنے، لکھنے، سوچنے، آگے بڑھنے، قیادت کرنے اور معاشرے میں مُثبت تبدیلیاں لانے کے لئے جدوجہد اور اُمنگ پیدا ہو جایا کرتی تھی! رُومیء کشمیر حضرت میاں محمد بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ کے صُوفیانہ کلام کی محفلیں ہمارے گاؤں دھنیالہ میں بھی مُنعقد ہوا کرتی تھیں۔ الغرض، جیسے پروفیسر الطاف نظامی مرحوم نے اپنے اُستاد مولوی ملنگ کا ذِکر اپنی یادداشتوں میں کیا ہے، ایسے ہی میرے والد کے بھی شاگرد اور ضلع جہلم، گجرات، میرپور آزاد کشمیر کے ہی نہیں بلکہ مُلک بھر میں ہزاروں لوگ آج بھی موجود ہیں جو میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے تذکرے کرتے رہتے ہیں، اور اُن کے کردار اور دینی و تنظیمی خِدمات کا اعتراف کرنے والوں میں جماعتِ اسلامی والے، ہمارے دیوبندی بھائی بھی اور اہلحدیث مُسلمان بھی، سب ہی شامل ہیں! مولوی ملنگ کی طرح ہی میرے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے بھی دینی مدارس موجود تھے، اور ہمارا گاؤں دھنیالہ میرے والدِ گرامی کی زندگی میں بہت بڑا تنظیمی، سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہُوا کرتا تھا۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ مولوی ملنگ کے اِنتقال کے بعد میرے والد صاحب نے آ کر ضلع جہلم میں تقریباً ویسی ہی مُجاہِدانہ زندگی گذاری جیسے مولوی ملنگ گُذار گئے تھے۔ "گِیلی مَٹی تو مہکے گی، ویسے دیانت داری کے ساتھ اعتراف کروں تو دیوبندیوں میں بھی دینہ شہر میں ایک سیلف میڈ عالمِ دین مولوی ملنگ جیسے ہی گُذرے ہیں جو ہمارے سوبر دوست حضرت علامہ مولانا ثمینُ الرشید مدظلہُ العالی کے والدِ گرامی رحمتہُ اللّٰہ علیہ تھے جنہوں نے محلہ ٹھیکریاں میں ایک بہت بڑا دینی مدرسہ تو بنایا لیکن کاش وہاں محض مذہب رٹانے اور درویش پالنے کے بجائے، مولوی ملنگ کی طرح عصرِ حاضر کے علوم بھی پڑھائے جائیں، لیکن افسوس ایسا ہمارے دینی مدارس میں ہو نہیں پاتا ہے کیونکہ یہ لوگ سائنس وٹیکنالوجی اور نئی نئی دریافتوں کو مذہب اسلام کے ساتھ ہم آہنگ بتانے کے بجائے، اُسے اپنے مذہب کے ساتھ مُتصادم سمجھنے کی نفسیات رکھتے ہیں، اور یُوں ہمارے مدارس صرف مذہب پڑھے ہُوئے بیکار قسم کے مولوی معاشرے میں پھیلاتے جا رہے ہیں! تاہم میرے لئے آپ کی کیا تجویز ہے کہ کیا میں بھی کوئی "حافظ خانہ" نہ کھول لوں جہاں مُسلمان بچوں کو اُسی طرح عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مُطابق تعلیم و تربیت دی جائے جیسے علی گڑھ میں سر سید احمد خان رحمۃُ اللّٰہ علیہ نے برصغیر کے مسلمانوں کو جید علُوم سکھانے کے لئے سکول بنایا تھا؟ یقین کیجئے کہ مُسلمانوں کی پستی، عالمی غُلامی اور معاشی بد حالی دور کرنے کا صرف ایک ہی حل بچا ہے کہ وقت کے تقاضوں کے تحت جدید علُوم و فنُون، سائنس وٹیکنالوجی اور سوشل سائنسز کی انہیں زیادہ سے زیادہ تعلیم و تربیت دلوائی جائے! ✍️Regards, ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رائے یوسف رضا دھنیالہ کی آواز میں کچھ دلچسب حقائق
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائے یُوسُف رضا دھنیالہ،
جہلم۔ پنجاب۔ پاکستان۔
یکم اکتوبر، 2022ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ روز ہی میرے ایک دوست نے کسی اپنے دوست کو میرا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ "یُوسُف پاگل ہے!" یعنی دُوسرا مولوی ملنگ جہلمی۔
توریت، زَبُور، اِنجیل، اُوشا، شاستہ، وید، گُروگرَنتھ، بھگت کبیر اور گُرو روی داس کی شاعری، صُوفیانہ کلام، قرآن، تفسیر، حدیث، فِقہ، عِلمُ الکلام، عِلمُ البیان، قدیم اور جدید فلسفہ، تاریخ، عمرانیات، اور مغربی و سائنسی علُوم سے اُنہیں مکمل آگاہی حاصل تھی۔
جب آپ نے وہاں واعظ اور درس کا سِلسلہ شروع کیا تو پُورا شہر اُن کا دیوانہ ہو گیا۔مولانا عبدالمجید ملنگ کی کاوشوں سے ہی افغاناں مسجد کے ساتھ مُتصِل اتاتُرک لائبریری بھی بنائی گئی تھی۔
ایک دن جُمعہ کے خُطبے کے دوران آپ نے مسجد افغاناں کے قریب ہی برلبِ دریا جِسم فروشی کے ایک رجسٹرڈ اڈّے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"مَلکِ مُعظّم جارج ہشتم یُوں تو ساری رِعایا کا باپ ہے لیکن اُس نے اپنی بیٹیوں کو جسم بیچنے کا پرمٹ بھی دے رکھا ہے، اور اس چکلے پہ لگے ٹیکس کی کمائی خود کھاتا ہے!"
"شہنشاہِ مُعظّم نے جہلم میں جن عورتوں کو جسم فروشی کے پرمٹ دے رکھے ہیں، وہ جارج ہشتم کی رعایا ہونے کے ناطے اُس کی بیٹیاں بنتی ہیں، اور اپنی بیٹیوں سے دھندہ کروا کے تاجِ برطانیہ اُن کی کمائی کا ٹیکس بھی وصول کرتا ہے!"وغیرہ۔
اِس سے اندازہ کیجئے کہ سامراج کس عفرِیت کا نام ہوتا ہے۔
اور پاکستان کے عوام آج بھی انگریز کے اُنہی سیاسی اور مذہبی ایجنٹوں کی اولادوں کے چُنگل میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو برطانیہ کی عیسائی سلطنت نے اپنی وفاداری کے لئے پالا پوسا ہُوا تھا۔
بس تب سے آپ ہر خاص و عام میں ملنگ مشہور ہو گئے۔ اور آپ کے گھر کو لوگوں نے ملنگ خانہ ہی کہنا شروع کر دیا۔
ایک ہاتھ میں "کہُو" کی لچکدار لکڑی کی بِیس اِنچ خُوبصورت چھڑی ہر وقت پکڑے رکھتے، جبکہ دوسرے ہاتھ سے عموماً اپنی داڑھی کھُجاتے رہتے تھے۔ اُن کی سیاہ و سفید داڑھی "Pepper and Salt" قسم کی تھی جو اُن کے چہرے پہ بہت بھلی لگتی تھی۔ وجاہت اور وقار کی ایک دلکش شبیہہ تھے۔
اُن کے چند شاگرد ہمیشہ اُن کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے اور اللّٰہ اللّٰہ کا وِرد کرتے رہتے۔بس اِسی وجہ سے لوگ اُنہیں سچّا اور پکّا ملنگ خیال کیا کرتے تھے۔مولوی عبدالمجید ملنگ رحمتہُ اللّٰہ علیہ کا سب سے بڑا مشن اور کارنامہ یہ تھا کہ اُنہوں نے جہلم شہر کے وِہلے، نکمّے، ناکارہ، آوارہ اور بِگڑے ہوئے لڑکوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نہ صرف پڑھایا بلکہ اُنہیں معاشرے کا مُفید شہری اور کارآمد انسان بھی بنایا جن میں سے ایک پروفیسر الطاف نظامی بھی تھے۔ ملنگ خانہ اصل میں ایسے ہی لڑکوں کا ٹھِکانہ اور ایک مکمل تربیت خانہ ہُوا کرتا تھا۔
"طافے! میں نے اِن سب کو لفظ بہ لفظ پڑھا ہُوا ہے۔ مکتب میں تو مُجھے قدیم فلسفہ ہی پڑھایا گیا تھا مگر بعد میں، میں نے اِن یُورپی، خصوصاً جرمن فلاسفرز کا مطالعہ کیا تو میں نے جانا کہ اقبال کو یہ تصور کہ، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، کہاں سے ملا تھا!"
"اقبال چونکہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی سے فلسفے پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کر کے آئے تھے، لہذا اُن پر جرمن فلاسفہ کا بے حد اثر تھا، اور یہ جو مردِ مومن کا تصور ہے، یہ دراصل جرمن فلسفیوں کا سُپرمین تھا، اور شاہین کی علامت بھی اقبال نے جرمنوں سے ہی لی تھی جو کہ جنگِ عظیم کے دوران جرمنوں کا نشان بھی ہُوا کرتا تھا۔ یعنی اقبال نطشے، فطشے اور گوئٹے کا متبع تھے، اور بس!"
بتاؤ تو سہی کہ کیا تُم مُسلمان بھی ہو؟
وغیرہ۔
وہ ترجمانُ القرآن کی بڑی دِلنشیں تشریح کر کے الطاف نظامی کو مسحور کر دیتے۔چونکہ بنیادی طور پہ وہ ایک پنجابی مُسلمان عالمِ دین تھے، لہذا قرآن کو وہ ہر صورت عِلم کا مآخذ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے۔
تاہم سائنس وٹیکنالوجی اور نِت نئی ایجادات سے بھی باخبر رہتے اور اُنہیں قبول کرتے ہوئے قرآن ہی کی کسی نہ کسی آیت کی کھوج قرار دے دیتے۔
"اَلحمدُلِلّٰہ، تمام تعریفیں امریکہ بہادر کے لئے جو ہمیں کھانے کو گندم دیتا ہے۔ اور ہم اُسی سے مدد مانگتے ہیں اور اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمیں سِیدھی راہ دِکھا جو برطانیہ سے ہو کر سِیدھی امریکہ جاتی ہے، اور ہمیں اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو امریکہ کی مُخالفت کرتے ہیں اور وہ راہ دِکھا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جنہوں نے برطانیہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی اور بہت بڑی بڑی جاگیریں، کوٹھیاں اور القابات پائے اور اب تک اُن سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔"
(ویسے انگریز کے جانے کے بعد جاگیرداری نظام والے پاکستان میں انگریز کے پَروُردہ بالادست طبقات پر جہلم شہر کے مجمعءِ عام میں اِتنے بڑے طنز کرنے والے اِنقلابی مولوی کو نِیم پاگل نہیں بلکہ "فُل پاگل" کہنا بنتا تھا جس نے نہ صرف انگریز سامراج کی قید کاٹی اور مُلازمت سے محروم ہوا بلکہ پاکستانی کالے انگریز طبقات کے خلاف بھی مرتے دم تک اپنی مزاحمت برقرار اور آواز بُلند رکھی!)
اگر کوئی ہُوا تو مُجھے بھی بتا دیجئے گا پلیز کیونکہ پھر میں اُس پہ بھی ایسا ہی ایک تحقیقی مقالہ لکھوں گا۔مِستری محلہ، جہلم شہر کی ایک بند گلی میں مولوی ملنگ کا غریب پَرور گھر، جسے ملنگ خانہ کہا جاتا تھا، اپنے معمُولات کے لحاظ سے ایک بے مثال تعلیمی، تدریسی، فکری، فنی، رہائشی، اِنقلابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہُوا کرتا تھا۔
یعنی ملنگ خانہ جہلم کا ایک ایسا کیمپ تھا جہاں سب کو اُن کی ضرورت کے مُطابق مولوی عبدالمجید ملنگ کی شفقت و راہنمائی حاصل ہُوا کرتی تھی۔
ملنگ خانے کے اخراجات صاحبِ حیثیت طلباء اور وہاں مُقیم سرکاری مُلازمین سے ماہانہ 40 روپے چندہ وصُول کر کے پُورے کئے جاتے تھے، جبکہ مُستحق طلباء کے قیام و طعام کے لئے مُخیّر حضرات چندہ دِیا کرتے تھے۔
مولوی عبدالمجید ملنگ رحمتہُ اللّٰہ علیہ کے ساتھ الطاف نظامی مرحوم کا پہلا تعارف تب ہُوا جب نظامی صاحب ابھی گورنمنٹ ہائی سکول جہلم کے طالب علم تھے اور اُن کے سکول میں مولوی ملنگ اپنے شاگردوں کو کُشتی اور کبڈّی کے مُقابلے کے لئے لے کر آیا کرتے تھے۔ اُن کے شاگردوں میں ہمارے قصبے چک جمال کا ایک لطیف پہلوان (انکل لطیف ڈار رحمتہُ اللّٰہ علیہ جو بعد میں یُونین کونسل چک جمال کے نائب ناظم بھی رہے) بھی ہُوا کرتا تھا، جو تھا تو لمبے قد مگر پتلے بدن کا، مگر پُھرتِیلا اِتنا زیادہ تھا کہ جہلم کا کبڈّی کا بہترین کھلاڑی اور گورنمنٹ اِسلامیہ ہائی سکول جہلم کی کبڈّی کی ٹیم کا کپتان ہُوا کرتا تھا۔ اور چونکہ اسلامیہ ہائی سکول کی کبڈی کی ٹیم کے سرپرست اور ٹرینر مولوی ملنگ ہوا کرتے تھے، لہذا کبڈّی کا ہر میچ مولوی ملنگ کی ٹیم ہی جِیتا کرتی تھی جس کے سبب پُورے ضلع جہلم میں مولوی ملنگ کے چرچے رہتے تھے۔
نظامی صاحب نے سائیکل سے اُتر کر اُنہیں سلام کیا اور حال چال کے بعد اپنا مُدعا بیان کیا کہ ادِیب فاضل کے اِمتحان کی تیاری میں حدائق البلاغت کی مُجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی، اور میرا دل کرتا ہے کہ یہ مُشکل کتاب کسی نالے میں پھینک دوں، اور ادیب فاضل کا امتحان دینے سے توبہ کر لوں۔
"اِسے دیکھ! ایک گولی کے اندر خَشخاش کے دانوں جیسے کتنے ہی بیج ہیں۔ اِن میں سے ہر ایک اتنا ہی بڑا بوڑھ بن سکتا ہے جتنے کہ یہ سب ہیں۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا رہتا تو ہماری ساری زمین بَرگد کے پیڑوں سے پُر ہو جاتی، اور پھر بھی اِس کے بیج بچے رہتے۔ یُوں سمجھو کہ ہر بِیج میں بالقوہ Potentially یہ صلاحیت موجود تو ہے مگر بالفعل یعنی Practically ایسا ہوتا نہیں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ آپ حدائقُ البلاغت تو کیا دُنیا کی ہر کتاب پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں"
تو عشروں پہلے مولوی ملنگ نے بھی تو الطاف نظامی کے ساتھ یہی کچھ کیا تھا کہ یکدم کامیابی کی سیڑھی پہ اُس کا پہلا قدم رکھوا دیا، جس کا الطاف نظامی پہ فوری اثر یہ ہوا کہ اُس نے گھر جانے کے بجائے مولوی ملنگ کے ساتھ ساتھ ہی چلنا شروع کر دیا۔
"جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا حال سارا شہر جانتا ہے تو مُراد یہ ہوتی ہے کہ شہر کے لوگ جانتے ہیں۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ جہلم ہمارے محلے کے نزدیک بہتا ہے تو اِس سے مُراد دریا نہیں بلکہ اُس کا پانی ہوتا ہے!"
سب سے بڑی بات یہ کہ اُس خاکسار خانے سے خدمتِ خلق کے جذبے سے بھی ہر بندہ سرشار ہو کر نکلتا تھا کیونکہ ملنگ خانے سے الطاف نظامی جیسے ہی بیسیوں ایسے بگڑے ہوئے، آوارہ اور ناکارہ لڑکے بھی والدین داخل کروا جاتے تھے جن کے الطاف نظامی کی ہی طرح سُدھرنے کے ذرا امکانات نہ ہوتے، لیکن خاکسار مولوی ملنگ زنگ آلود لوہے کو بھی کُندن بنانے کا فن جانتے تھے۔ تبھی تو پروفیسر الطاف نظامی صاحب نے زندگی میں صرف ایک شخص کو اپنا مُرشد قرار دیا تھا، اور وہ مولوی عبدالمجید ملنگ رحمتہُ اللّٰہ علیہ ہی تھے۔
اقبال نے بھی اِسی کسی بے خُودی کے عالم میں یہ شعر کہے ہوں گے کہ:
کبھی اَے حقِیقتِ مُنتَظَر، نظر آ لباسِ مجاز میں،
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں!
اور ایسا ہی ایک شعر کسی اور شاعر نے بھی کہا تھا:
تُو سامنے آ، میں سجدہ کروں، پھر لُطف ہے سجدہ کرنے میں،
تُو اور کہیں، میں اور کہیں، تیرے نام کو سجدہ کون کرے!
تاہم مولوی ملنگ بذاتِ خود پراٹھے کے بجائے ایک خشک روٹی اپنے ہاتھوں میں پکڑتے اور اُس کے چار ٹکڑے کرتے اور پھر تھوڑی تھوڑی کر کے چباتے رہتے۔ یعنی نہ انڈہ، نہ سالن اور نہ قہوہ بلکہ صرف ایک ایک خشک روٹی تین ٹائم ہاتھ میں پکڑ کر پانی کے ساتھ نوالہ نوالہ توڑ کر کھا لیتے۔
وہ کہا کرتے تھے:
"دیکھو، ہمیں زندہ رہنے کے لئے کھانا چاہئیے نہ کہ کھانے کے لئے زندہ رہنا چاہئیے۔ یعنی خُوردَن برائے زِیستن نہ کہ زِیستن برائے خُوردَن!"
میں نے جب ہوش سنبھالا تو جہلم شہر میں افغاناں مسجد میں جانا شروع کیا جہاں جماعتِ اہلسنت پاکستان، جمعیت علماء پاکستان اور انجمن طلبأ اسلام کے اجلاس اور پروگرام تواتر کے ساتھ ہوتے رہتے تھے۔
یُوں سمجھئیے کہ جب تک حافظ نذیر احمد نقشبندی مدظلہُ العالی افغاناں مسجد میں تعینات رہے، برلبِ دریا ایک خوبصورت فنِ تعمیر والی یہ مسجد ہمیں اپنی ذاتی مسجد ہی لگا کرتی تھی، جہاں سے دریائے جہلم کا مسحور کُن نظارہ ہی نہیں بلکہ دریا کے اندر اُترتی ہوئی پکی سیڑھیوں پہ بیٹھ کے جہلم کے پانیوں میں ہم پاؤں لٹکا کے بھی بیٹھے رہا کرتے تھے۔
اِسی مسجد میں ہمارے انجمن طلباء اسلام فیصل آباد یونیورسٹی کے رُکنِ انجمن جناب حمایت علی چودھری صاحب (جو بعد میں انجمن طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہے اور بھارت کے قبضے والے کشمیر میں جا کر بعد ازاں شہید بھی ہو گئے تھے) تشریف لائے اور ایک مُشکل ٹیسٹ پاس کر کے میں اور دھنیالہ شاخ کے زاہد، اشتیاق اور شفقت، کارکنان سے امین بن گئے!
اِسی افغاناں مسجد کے قریب برلبِ دریا اُس زمانے میں جمعیت علماء پاکستان ضلع جہلم کے صدر جناب مِرزا مولا داد صاحب کا گھر ہُوا کرتا تھا، جہاں مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃُ اللّٰہ علیہ اور مولانا عبدالستار خان نیازی رحمتہُ اللّٰہ علیہ جیسی ہستیاں تشریف لایا کرتی تھیں اور مُجھے ذاتی طور پہ اُن سے مِلنے اور اُن کی صُحبت میں رہنے کا اکثر موقع مِلا کرتا تھا، کیونکہ بہرحال میں حافظ اسلم چشتی صاحب کا بیٹا جو ہوا کرتا تھا۔
فرق صرف یہ تھا کہ میرے والد صاحب کو پاگل کہنے کی کسی میں جُرأت نہیں تھی لیکن مُجھے لگتا ہے کہ یہ سعادت میرے حصے میں ضرور آئے گی کیونکہ میں بھی جس شِدّت کے ساتھ اپنے مُعاشرے کے فرسُودہ نظام، فرسودہ نصابِ تعلیم اور اپنے لوگوں کی تہذیبی پسماندگی کا رونا روتا رہتا ہوں، اور جس طرح کے اِنقلابی اقدامات تجویز کرتا رہتا ہوں، اور جس طرح ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلُوم کے ساتھ ڈَٹ کے کھڑا ہو جاتا ہوں، اور پرائی لڑائی اپنے گھر لے آتا ہوں، جیلیں کاٹتا ہوں اور ناانصافی اور استحصال کے خلاف شدید مزاحمت کرتے ہوئے اپنے ملک پہ قابض کالے انگریزوں کو للکارنے سے باز نہیں آتا ہوں، تو اِس وجہ سے اب تو میرے اپنے دوست بھی مُجھے نِیم پاگل کہنا شروع ہو گئے ہیں جناب!
ہاہاہاہاہاہا!
ہے یہ مٹی کی مجبوری،
لوگوں کا کیا، سمجھانے دو،
لوگوں کی اپنی مجبوری!!!"
ویسے مولوی ثمینُ الرشید بذاتِ خود بھی ایک ملنگ مزاج مولوی ہے۔ لہذا اِن دونوں باپ بیٹے پہ الگ سے لکھنے کی جسارت کروں گا!
اِس کے سوأ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے اب!
لہذا سیانے بنو مُسلمانوں اور ترقی کی راہ اختیار کر کے با اختیار ہو جاؤ پلیز!
"ورنہ تُمہاری داستاں تک نہ ہوگی، داستانوں میں!"
Rai Yusuf Raza Dhanyala,
Jhelum. Punjab. Pakistan 🇵🇰
01-10-2022.
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں