محسنِ پاکستان" ڈاکٹر عبد القدیر خان"

شازیہ منشاء،لاہور

shaziashazi885@gmail.com

ایٹمی قوت کے وجود اور طاقت کا اندازہ پورے عالم میں موجود ذی روح کو اس وقت ہوا جب6 اگست 1945ء کو جاپان کے شہر ہیروشیما میں امریکہ نے دنیا کا پہلا ایٹم بم پھینکا۔
اس ایٹم بم نے ہزاروں انسان جلا کر مار ڈالے دو لاکھ گھر اور عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ اس خوفناک بم نے ایک لمحے میں آدھا شہر تباہ کر ڈالا. پھر تین دن بعد ایک اور جاپانی شہر ناگاساکی کو بھی ایٹم بم پھینک کر امریکہ نے تباہ کر دیا۔
ایٹم بم کے زریعے جاپانیوں میں خوف و ہراس پیدا کرکے امریکی حکومت چاہتی تھی کہ جاپانی فوج ان کی طاقت کے آگے ہتھیار ڈال دے اور پھر مجبوراً جاپانی فوج کو ان کی طاقت کے سامنے سر خم کرنا ہی پڑا۔
امریکہ کی اس پیش قدمی نے دنیا کو باور کرایا کہ اپنی طاقت کا سکہ منوانے ، قابلیت کا چرچہ کرنے اور اس دنیا میں فاتح ہونے کے لیے کسی بھی ملک کے پاس ایٹمی پاوراور ایٹمی ہتھیاروں کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ایجادات سے بھری دنیا میں جو ممالک ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم جیسی ایٹمی طاقت کے مالک ہیں وہی اس دنیا میں سر اونچا کر کے جی رہے ہیں۔جو ممالک کسی ایٹمی طاقت کو سہرا اپنے سر نہیں لے سکے انہیں سپر طاقت والے ممالک نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر سرنگوں کر رکھا ہے۔
18 مئی 1974ء کو انڈیا نے اپنے ایٹم بم کا تجربہ کیا اور ان کا تجربہ کامیاب رہا ان کی کامیابی دیکھ کر تمام پاکستانی پریشانی میں مبتلا ہوگئے دشمن کے ہاتھ ایک خطرناک ہتھیار لگ گیا تھا اور وہ ایک ایٹمی ملک بن کر دنیا میں ابھرا تھا ۔جس وجہ سے پاکستان کا دفاع کمزور ہو گیا تھا۔پاک بھارت دشمنی سے سب واقف تھے۔ بھارت کا یوں ایٹمی طاقت بن کر ساری دنیا کے سامنے آنا پاکستان کو نیچا دکھانا اورکمزور ملک ثابت کرنا تھا۔
اپنے دفاع کو قائم کرنے اور دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے کی غرض سے پاکستانی حکومت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان بھی ایٹم بم بنائے گا۔پاکستانی ماہرین نے پروجیکٹ 760ء شروع کیا اس پروجیکٹ کا مقصد یورینیم سے ایٹم بم بنانا تھا ۔


17 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر خان نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا جس میں انھوں نے ایٹم بم بنانے کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کیں۔ اس خط میں ان کی رائے تھی کہ سینٹری فیوجز کو استعمال کر کے جوہری بم بنانے کا راستہ پلوٹونیم (جس سے پاکستان پہلے ہی بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا) کے ذریعے بم بنانے سے بہتر ہے کیونکہ اس میں 'جوہری ری ایکٹرز' اور 'ری پراسیسنگ' ہوتی ہے۔
بھٹو کو خط لکھنے اور ان کے ردعمل کے حوالے سے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بتایا تھا کہ "میں نے ستمبر 1974ء میں بھٹو کو خط لکھا کہ میرے پاس مطلوبہ مہارت ہے۔ بھٹو کا جواب بہت حوصلہ افزا تھا، دو ہفتوں بعد انھوں نے مجھے جوابی خط لکھا جس میں مجھے پاکستان واپس آنے کے لیے کہا"۔
ان کے مطابق دسمبر 1974ء میں پاکستان واپسی پر میں بھٹو سے ملا۔ میں نے ٹیکنالوجی کے بارے میں منیر احمد خان اور ان کی ٹیم کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہالینڈ واپسی سے قبل ان سے 'انفراسٹرکچر' کی تیاری کے لیے کہا۔
پاکستان کو1965ءمیں ہی بھارت کے ایٹمی پروگرام کا علم ہو گیا تھا بھارت اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کے غرور میں اپنے تیور بدل گیا پاکستان کے حوالے سے بھارت کے لہجے میں تلخی آتی گئی 1971ء میں جب پاکستان نے اپنا مشرقی حصہ کھو دیا تب یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت ایٹم بم بنانا ہوگا اس وقت کے وزیر اعظم ذوولفقار علی بھٹو اس سلسلے میں پرعزم ہوگئے 1974ء میں انڈیا ایٹمی تجربات کی طرف بڑھا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا۔ پھر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ ذوولفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ایٹمی پروگرام کا ذکر کیا تو ڈاکٹر صاحب نے بھٹو صاحب سے کہا "میں آپکی صداقتوں پر کیسے یقین کر لوں؟"

جس پر بھٹو صاحب نے اپنے بازو پر چھری چلا کر کہا میرے خون سے لکھ لیجئے۔۔۔۔۔۔ بس پھر ڈاکٹر صاحب نے ایٹمی پروگرام کی طرف جو قدم اٹھایا وہ کامیابیوں کی منزلوں سے گذرتا گیا۔۔۔۔۔
1975ءمیں اس منصوبے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان منسلک ہوئے وہ بیرون ملک سے ایٹم بم بنانے کی جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھ کر آئے تھے۔انہوں نے پھر کہوٹہ میں متعلقہ مشینیں لگائیں اور وہاں کام کا آغاز کر دیا۔

کہوٹہ میں لگنے والی ساری میشنری یورپ سے منگوائی گئی ۔یورپ سےمیشنری منگوانے کا یہ کام ان پاکستانیوں نے انجام دیاجن کو یورپ ممالک میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ملک و قوم کی محبت اور سلامتی کی خاطر ساری مشینری خفیہ طریقے سے پاکستان بھجوائی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھی سائنسدانوں کی کوششیں رنگ لائیں اور پاکستان ایٹم بم بنانے کے قابل ہو گیا ۔بھارت پاکستان کی خفیہ کوششوں سے انجان تھا اس نے دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے اور پاکستانیوں کو خوفزدہ کرنے کی خاطر دوبارہ سے ایٹمی دھماکہ کیا۔مگر اس بار پاکستان بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار تھا۔
28 مئی 1998ء کو وزیراعظم نواز شریف کی سرپرستی میں پاکستان نے چاغی کی پہاڑیوں کے نیچے ایک نہیں اکٹھے 5 ایٹم بم چلائے اوردشمن کے ہوش اڑا دیے۔ اس طرح پاکستان کو عالم اسلام میں پہلی ایٹمی طاقت بننے کااعزاز حاصل ہوا۔اس ترقی اور کامیابی کا سہرا ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام جاتا ہے۔ جن کی کوششوں سے پاکستان نا صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا اور دنیا کی تاریخ میں اپنی طاقت اور قابلیت منوانے کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں محسن پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا یہ محسن1936ء کو بھوپال میں پیدا ہوا جس نے اپنے کارہائے نمایاں سےایٹمی میدان میں بھونچال پیدا کر دیا۔۔۔۔۔۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں آپ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے اور ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے اور 15 برس قیام کے دوران آپ نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔

1974ء میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطہ کیا تو 1976ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر وطن واپس آگئے اور 31 مئی 1976ء کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی جسکا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاالحق نے تبدیل کر کے ان کے نام پر 'ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز' رکھ دیا تھا۔پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہر دور کے حکمران نے نمایاں کردار ادا کیا لیکن ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام ہمیشہ تابندہ رہے گا کہ قدرت نے انہیں خاص جس کام کے لئے منتخب کیا وہ اسے احسن طریقے سے مکمل کرکے ملک و قوم کی نظروں میں سرخرو ہوئے ہیں۔


ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جن کو 3بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا 2بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیااور نشان امتیاز بھی عطا کیا گیا۔۔۔۔

اٹامک انرجی میں اپنا نام بنانے والے اورپاکستان کو ایک نئی پہچان دینے والے اس عظیم انسان کی کاوشوں کو فراموش کرنا اپنے ہی منہ پر طمانچہ مارنا ہے۔ اس عظیم سائنس دان کے کارنامے سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ مگر افسوس! وہ عظیم انسان جس کی ہر سانس ہمارے لیے بطور تحفہ اور قابل فخر تھی۔ہم اسے اس کے عظیم سائنسی کارناموں پر سراہ نہ سکے۔ ہماری قوم اسے وہ مرتبہ اور عزت نہ دے سکی جس کا وہ حقدار تھا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان کو پاکستانی قوم اور حکومتی عہدیداران وہ عزت و مرتبہ نہ دیاجس کہ وہ حقدار تھے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زندگی کے وہ سیاہ ترین ایام تھے جب صدر مشرف کی حکومت میں ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری صلاحیت کی منتقلی میں ڈاکٹر خان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی خبریں شائع ہو رہی تھیں۔

دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں ڈاکٹر خان کو 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان پر قانونی کاروائی کرنے اور ایک سرکاری سطح پر انٹرویو کے ذریعے معذرت کرنے کے بعد ان کو رہا تو کر دیا گیا۔مگر رہائی کے باوجود بھی ان کو نظر بند رہنے کا حکم دیا گیا۔۔۔۔۔۔ نہایت افسوس کے ساتھ یہ محسن پاکستان اپنی مرضی سے نہ تو کسی سے مل سکتے تھے اور نہ ہی اپنی زندگی کو دوسرے عام پاکستانیوں کی طرح آزادانہ گزار سکتے تھے۔۔۔
10 اکتوبر 2021ءکو اس پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے ایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستان دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔اس جہاں میں تو انہیں ان کی کاوشوں اور کوششوں کا وہ ثمر نہ مل سکا جس کے وہ حقدار تھے ۔ اپنے دنیاوی کارہائے نامہ کا اجر و ثواب سمیٹنے اور انعام واکرام پانے کے لیے پیارے "قدیر " اس دنیا سے رخصت ہو کر اس دنیا میں کوچ کر گئے جہاں تمام دنیاوی کاوشوں اور نیکیوں کا بہترین اجرو و ثواب اور انعام واکرام ان کا منتظر ہے۔

تحقیقی مقالات

کلک کریں

پاکستان بنانے والی شخصیات


افکار و نظریات: ڈاکٹر عبد القدیر خان