انقلاب تراشی سے پہلے انقلاب شناسی
قسط ۲

نذر حافی

موضوع انتہائی اہم ہے۔ اس کی اہمیت کے پیشِ نظر دوسری قسط بھی لکھنی پڑی۔ دوسری قسط لکھنے کا مقصد کسی بھی انقلاب کی مقبولیت پر بات کرنا ہے۔ ایک حقیقی انقلاب صرف وہیں آ سکتا ہے جہاں کے مقامی لوگ اُسے پسند کریں۔ مختصراً یہ کہ کوئی بھی انقلاب چاہے کتنا ہی مفید اور بہترین کیوں نہ ہو اُسے کہیں پر بھی زبردستی ٹھونسا نہیں جا سکتا۔
بعنوانِ مثال اگر پاکستان جیسے کثیرالمسالک ملک میں یہ اعلان کیا جائے کہ یہاں پر ایران والا انقلاب یا ایران والی حکومت لاگو یا نافذ کی جائے گی تو عوامی ، سیاسی اور قانونی طور پر اس کا ردِّ عمل انتہائی شدید اور منفی ہوگا۔ نہ صرف یہ کہ اہلِ سُنّت بلکہ اہلِ تشیع کی بھی ایک بڑی تعداد ایسے انقلاب کی مخالفت کرے گی۔ پاکستان کے سرکاری ادارے اورعام لوگ اسے مُلکی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھیں گے۔ یقیناً ایسا ردِّ عمل بالکل منطقی، نیچرل اورطبعی ہے۔
آپ حزب اللہ لبنان کی مثال بھی سامنے رکھیں! ابتدا میں حزب اللہ کے پہلے سربراہ" شیخ صبحی طفیلی" کا اعلان یہی تھا کہ ساری دنیا پر ایران کا انقلاب ہی حاکم ہوگا اور ہم اسی کیلئے جدوجہد کریں گے۔ وہ اپنے پروگراموں میں ایران کا پرچم ہی اٹھاتے اور لبنان میں ایران کے اسلامی انقلاب کے نفاذ کے نعرے لگاتے تھے۔ دوسری طرف حزب اللہ کے اندر ہی ایک ایسی معقول فکر اور معتدل سوچ موجود تھی جو لبنان کی آبادی کے تناسب اور بین الاقوامی و جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں ایک معقول و معتدل طریقہ کار اپنانے پر مُصِر تھی۔
۱۹۹۲ کے اندر حزب اللہ کے سُپر انقلابیوں اور معتدل و معقول انقلابیوں کے درمیا ن پہلے سے یہ موجود خلیج واضح ہو گئی۔ ہُوا کچھ یوں کہ ۱۹۹۲میں حزب اللہ کی اُس وقت کی قیادت نے لبنان کے سیاسی عمل کا حصّہ بننے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ جب ایک سیاسی پارٹی کے طور پر لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں حصّہ لینے کی ٹھانی تو انہیں سب سے زیادہ " شیخ صبحی طفیلی" کی طرف سے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا۔ جنابِ شیخ کے نزدیک لبنان کی حکومت ایک طاغوتی حکومت تھی اور اُس کا حصّہ بننے کی جدوجہد کرنا حزب اللہ کا اُس کے نظریات سے انحراف تھا۔
اُس وقت " شیخ صبحی طفیلی" ایک بہترین سُپر انقلابی لیڈر کے طور پر ابھرے۔ استعماری طاقتیں یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ سپر انقلابیوں کے پاس بہترین نعرے اور انتھک جدوجہد کرنے کا جذبہ تو ہوتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اِن نعروں اور جذبے کو پارلیمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی کے سانچے میں کیسے ڈھالیں۔ یعنی سُپر انقلابیوں کے پاس صرف بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں جبکہ عملاً میدان میں اترنے کیلئے اُن کے پاس کوئی ڈھانچہ نہیں ہوتا۔ استعمار بھی ایسے خواب رکھنے والوں کو مزید سبزخواب دکھا کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر یہی کچھ " شیخ صبحی طفیلی" کی تحریک کے ساتھ بھی ہوا۔ انہوں نے حزب اللہ کے نظریات کے خلاف "ثورة الجیاع" نامی ایک تحریک چلائی جسے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہی موجود امریکی سفارتخانہ ایندھن فراہم کرتا رہا۔ ۱۹۹۸تک حزب اللہ کی قیادت نے کمالِ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر " شیخ صبحی طفیلی" کو حزب اللہ سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد " شیخ صبحی طفیلی" کو بڑھ چڑھ کر اظہارِ وجود کرنے کا موقع ملا لیکن اسلامی انقلاب کی سر زمین ایران سے " شیخ صبحی طفیلی" کے طریقہ کار اور نظریات کی حمایت کے بجائے حزب اللہ کی معتدل اور معقول روش کی حمایت کی گئی۔
یہ ایک واضح بات ہے کہ جو شخص اندھادھند دوڑتا ہے، اس کی سانس جلدی پھول جاتی ہے۔ سُپر انقلابی یہ نہیں سمجھتے کہ انقلاب برائے اسلام ہے یا اسلام برائے انقلاب ہے۔ انہیں یہ فرق سمجھ میں نہیں آتا کہ انقلاب ، اسلام کیلئے ہے یا پھر اسلام انقلاب کیلئے ہے۔ اگر انقلاب اسلام کیلئے ہے تو پھر اسلام ہدف اور اصل ہے جبکہ انقلاب اُس کیلئے ایک وسیلہ اور ہتھیار ہے اور اگر انقلاب ہی ہدف اور اصل ہے تو پھر اسلام اس کیلئے ایک وسیلہ اور ہتھیار ہے۔ حقیقتِ حال میں اسلام ہدف ہے اور انقلاب اُس کیلئے ایک وسیلہ و ہتھیار ہے جبکہ سُپر انقلابی ، انقلاب کو ہی ہدف سمجھ بیٹھتے ہیں۔
ایران میں بھی اسلامی انقلاب کی تاریخ میں اس طرح کے کئی لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے سوا کسی کو قبول نہیں کیا، دوسروں کو مُنحرف قرار دیا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد آخر کار وہ خود ہی زوال پذیر ہوئے اور دوسری طرف جن لوگوں پر غیر انقلابی ہونے کا الزام لگایا گیا، بعد ازاں وقت نے ثابت کیا کہ وہ زیادہ انقلاب نواز اور انقلاب پسند تھے۔ شہید مطہری ؒ کے قاتلوں کا ذکر گزشتہ قسط میں ہو چکا ہے اور اب آیت اللہ محمدرضا مهدوی کنی مرحوم کو ہی لیجئے کہ انہیں سُپرانقلابیوں نے امریکی اسلام کا مہرہ قرار دیا حالانکہ وہ اسلامی انقلاب سے پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور پہلوی حکومت کے مشہور و معروف مخالف تھے۔ انقلاب کے بعد، وہ ان پانچ علما میں سے ایک تھے جنہوں نے انقلابی کونسل کی بنیاد رکھی۔ حضرت امام خمینیؒ نے انہیں اسلامی انقلاب کی انتظامی کمیٹیوں کا سربراہ مقرر کیا ۔ علاوہ ازیں شہید رجائی اور شہیدباہنر کی حکومت میں اعلی عہدوں پر بھی فائز رہے۔
سُپر انقلابیوں یا زیادہ گرم انقلابیوں کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اہم مسائل اور بڑے دشمنوں کے مقابلے میں نہیں آتے۔ وہ اصلی دشمنوں کے خلاف محازِ جنگ کھولنے کے بجائےاُن سے خاص ادب و احترام سے بات کرتے ہیں، جبکہ اپنوں کے خلاف تند و تیز الفاظ اور نازیبا اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں جس سے انقلابیوں کی توانائیوں کا اسراف اور اُن کے درمیان دراڑوں میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ خود کو انقلاب کی ایک علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور اس زُعم میں وہ اپنے بہت سارے مخلص دوستوں سے بات نہ کرنے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔ناقدین کو برداشت نہ کرنا بھی سپر انقلابی رجحان کی ایک اور خصوصیت ہے۔ وہ کسی بھی قسم کے نقد کو اپنی فہم و فراست پر قدغن تصوّر کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک اُن کے علمی و فکری قد و کاٹھ تک کوئی دوسراپہنچ ہی نہیں سکتا لہذا رفتہ رفتہ وہ خود ہی تضادات کا مجموعہ بن جاتے ہیں۔ وہ ماضی میں جو کچھ کہہ چکے ہوتے ہیں ، حال میں عملاً اُسی کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں اور اُن کا مستقبل اپنے تضادات کی تاویل و توجیہات کی ہی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
پس کہیں پر بھی کسی بھی انقلاب کو خواب اور کتاب سے نکال کر حقیقت میں ڈھالنے اور عملی کرنے کیلئے زمینی حقائق، دوست و دشمن کی شناخت اور مختلف مذاہب و مسالک کی دینی و سیاسی ترجیحات کا ادراک ضروری ہے ۔ یاد رکھئے! وہ خیّاط ﴿درزی﴾ جو لوگوں کا ماپ لئے بغیر لوگوں کیلئے لباس تیار کرنے بیٹھ جاتا ہے وہ کبھی بھی ڈھنگ کا لباس تیار نہیں کر پاتا۔


افکار و نظریات: انقلاب تراشی سے پہلے