چاند رات کی اُداسی

بقلم: رفیق انجم

رمضان المبارک کی آخری سحری تھی۔ہاسٹل میں رہنے والوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ سحری میں چاول،لوبیا،پنیر وغیرہ کے ساتھ سب دوستان لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اچانک برادر منظور حسین نے سید مشرب سے مخاطب ہو کر کہا کہ شاہ جی عید کے لئے کوئی پروگرام بناتے ہیں کیا خیال ہے؟
سید نے کہا ابھی تک کچھ سوچا نہیں۔ منظور حسین نے کہا کہ رمضان المبارک تو ہاسٹل میں ہی کٹ گیا ہے ۔ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت سیرو فی الارض پہ عمل کرتے ہوئے عید کے دن کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنائیں ۔سب نے فوراً حامی بھرلی۔ دن بھر سب خوش تھے اور سب کے چہروں پہ مسکراہٹیں تھیں۔
چاند رات کا اپنا لطف ہوتا ہے۔ نمازِ مغرب پڑھی تو اچانک میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم دوست تو مل کے سیر و تفریح و عید کی خوشیاں منانے نکلیں گے لیکن ان سفید پوش اور غریب غربا کی عید کیسی ہو گی کہ جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کے لئے اچھا لباس نہیں۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ خدا نے تو ماہ رمضان جیسے مقدس مہینے کے روزے ہم پہ اس لیے فرض کئے تھے کہ ہمیں دوسروں کی بھوک و پیاس کا اندازہ ہو ۔ ہم لوگ تو ایک مہینے کی بھوک و پیاس برداشت کرتے ہیں لیکن فقرا و مساکین تو پورا سال بھوکا پیاسا رہنے پر مجبور ہیں ۔
مجھے خیال آیا کہ اللہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے۔اس نے جیسے ہمیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ویسے ہی اسی طرح صدقات و خیرات و زکوۃ و فطرہ کا بھی کہا ہے ۔ان میں سے بھی بعص چیزیں واجب کی ہیں کہ جنہیں حتما مستحق تک پہنچانا ہے تاکہ ان افراد کی مالی حالت بھی بہتر رہے ۔ افسوس کہ ہمیں ہر جگہ یہ صدائیں گونجتی نظر آتی ہیں کہ زکوٰۃ و فطرہ ہمیں دو لیکن کہیں بھی یہ آواز گونجتی سنائی نہیں دیتی کہ مستحقین آ جائیں، عزت و احترام کے ساتھ ہم آپ کو آپ کا حق دیتے ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ ہم شب عید قبرستانوں کا رخ تو کرتے ہیں لیکن کبھی یہ سوچا کہ جب یہ لوگ زندہ تھے اور ہماری مدد کی راہ تک رہے تھے ہم ان سے غافل رہے اور آج جب منوں مٹی تلے دب گئے ہیں تو ہم ان کی قبروں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے پھرتے ہیں۔ نہ جانے کن کن مشکلات، دکھوں، بیماریوں اور صدموں سے یہ لوگ قبر وں میں پہنچ گئے۔ دنیا جتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اسی حساب سے جذبہ انسانیت بھی مستحکم ہونا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ جس دین نے ہمیں انسانیت کا درس دیا اسکے پیرو ہونے کے باوجود انسانیت ہم سے کوسوں دور ہوتی جا رہی ہے۔ بہر الحال ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ خدا ہمیں اپنے ارد گرد موجود افراد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ سوچتے سوچتے نجانے کتنی دیر گزر گئی۔ اتنے میں کسی نے صدادی کہ بھئی چاند رات ہے ، چلو کچھ خریداری کرتے ہیں۔ باوجود کوشش کہ میرے پاوں حرکت کرنے سے قاصر تھے۔ گویا چاند کے گرد اداسی کا ایک ہالہ تھا ۔ایک ایسا ہالہ جو شاید صرف مجھے ہی دکھائی دے رہا تھا۔


مقبول ترین: نیم ملاوں کی جنّت


افکار و نظریات: چاند رات کی اُداسی